نہر ِ زبیدہ

 نہر ِ زبیدہ

اسپیشل فیچر

تحریر : امجد محمود چشتی


اسلامی تاریخ میں نہرِ زبیدہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ نہر عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ نے بنوائی تھی۔ ہارون الرشید کی وفات کے بعد ملکہ زبیدہ حج کیلئے مکہ مکرمہ گئی تو بیت اللہ ،منیٰ اور عرفات میں پانی کی شدید کمی کی وجہ سے حاجیوں کو مصائب کا شکار دیکھا ۔ ملکہ کو بہت دکھ ہوا اور اس نے مکہ اور عرفات کیلئے پانی کی فراہمی کا پختہ عہد کر لیا ۔اس نے مختلف ممالک کے اپنے وقت کے ماہر انجینئر بلوائے اور اپنے منصوبے کی تکمیل کیلئے سروے کروایا۔ مکہ سے شمال مشرق میں واقع دادی حنین سے نہر کھود کر مکہ لانے کی منصوبہ بندی ہوئی ۔یہ کام انتہائی مشکل ، مہنگا اور قریب قریب ناممکن بھی تھا۔ حنین اور نعمان کی وادیوں سے نہر کھود کر لانا بڑا کٹھن کام تھا ۔ پہاڑی اور غیر ہموار سطح زمین پہ نہر کی کھدائی عجوبے سے کم نہ تھی ۔ماہرین نے سروے کے بعد ملکہ کو اس انتہائی مہنگے منصوبے پہ اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تو ملکہ نے یہ تاریخی جملہ کہا ،’’ اگر اس نہر کی کھدائی میں کدال کی ایک ضرب پہ ایک درہم بھی خرچ ہو تو میں ادا کروں گی‘‘۔ لہٰذا نہر کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔حنین سے وادی نعمان ،پھر عرفات اورمزولفہ سے مکہ تک35 کلو میٹر لمبی نہر نکالی گئی۔حنین اور نعمان کی وادیوں میں بارشیں ہوتی تھیں اور چشمے بھی تھے جن کا پانی نہر میں ڈالا گیا۔ نہر کے پانی کی سطح قائم رکھنے کیلئے کہیں نہر سطحِ زمین کے اوپر تو کہیں نیچے رکھی گئی۔پانی کے ضیاع سے بچائو کیلئے پوری نہر پختہ کی گئی اور صفائی کیلئے مختلف فاصلوں پہ حوض اور کنویں بنائے گئے ۔نہر بنانے پر سترہ لاکھ دینار خرچ ہوئے جو ملکہ نے خوش دلی سے ادا کئے۔ یہ نہر ایک ہزار سال تک حاجیوں کیلئے پانی فراہم کرتی رہی۔ اس نہر سے روزانہ چھ سو سے آٹھ سو کیوبک پانی لایا جاتا تھا جو اس وقت کی ضروریات کے لئے کافی تھا۔1950 ء میں پانی کی ضرورت بڑھی تو لوگوں نے پمپ لگا کر پانی بھرنا شروع کردیا جس سے پانی کی سطح گرگئی اوریہ خشک ہونے لگی ۔اس نہر کی باقیات آج بھی حنین سے مکہ تک موجود ہیں۔عظیم ملکہ زبیدہ نے بغداد سے مکہ تک حجاج کیلئے ایک سڑک بھی بنوائی تھی جس پر جگہ جگہ پانی کا انتظام کیا گیا تھا ۔کچھ لوگ اسے نہرِ زبیدہ کا نام دیتے ہیں جو درست نہیںہے ۔بلکہ اس کا نام تاریخ میں ’’ردابِ زبیدہ‘‘ ہے۔ شاہ عبداللہ نے اس کی بحالی کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔سعودی حکومت نے پانی کی کمی پورا کرنے کیلئے ساحل ِ سمندر پہ پلانٹس لگادیئے اور آب ِزم زم کو توسیع دینے کا بھی انصرام کیا۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
غازی علم دین شہید

غازی علم دین شہید

ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجوبرصغیر کی تاریخ میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ بن کر نہیں رہتے بلکہ اجتماعی یادداشت، مذہبی جذبات اور قومی شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کی داستان بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے جس میں عقیدت، نوآبادیاتی نظامِ انصاف، عوامی احتجاج اور تاریخ کے مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زندگی اور مقدمے سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کا بیان کافی نہیں بلکہ ان کے پس منظر، محرکات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی یادداشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی داستان ایک طرف رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مسلمانوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ مذہبی جذبات، قانون اور انصاف کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس تاریخ کو خلوص، احترام اور فکری دیانت کے ساتھ پڑھنا ہی اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کا راستہ ہے۔توہین آمیز کتاببیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے زیر اثر تھا۔ آزادی کی تحریک مختلف صورتوں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی ماحول میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی شدت اختیار کی۔اس زمانے میں شائع ہونے والی ایک توہین آمیز کتاب نے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ یہ کتاب ناشر مہاشے راجپال سے منسوب تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے اس پر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ راجپال کیخلاف ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں مئی 1927ء میں سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ عام گھرانے سے تاریخ کے مرکز تکغازی علم دین 4 دسمبر 1908ء کو لاہور کے سریانوالہ بازار میںپیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں طالع مند لکڑی کے کام سے وابستہ تھے جبکہ والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد دین اور بہن معراج بیگم تھیں۔ خاندانی روایات کے مطابق ان کا تعلق شیخو جٹ برادری سے تھا اور خاندان کو احتراماً ''میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ والد نے انہیں خاندانی پیشہ بھی سکھایا اور وہ لکڑی کے کام میں عملی مہارت حاصل کرنے لگے۔ شہر میں مذہبی ادارے، سیاسی تحریکیں، اخبارات اور عوامی اجتماعات معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک عام نوجوان بھی اپنے گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوسکتا تھا۔ 6 اپریل 1929ء کا واقعہگستاخ راجپال کی عدالتی بریت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مذہبی علما اور سیاسی رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس امر پر تشویش ظاہر کرتے کہ موجودہ قانونی نظام مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے ناکافی ہے۔ اس سے قبل غازی عبدالعزیز خان اور غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ غازی علم دین نے لاہور میں راجپال کیخلاف ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور تقاریر کا اثر قبول کیا۔ ان روایات کے مطابق، بعض مقررین نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص رسول اکرمﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں؟ 6اپریل 1929ء کوغازی علم دین راجپال کی دکان پر گئے اور چھری کے وار سے اس کا کام تمام کردیا۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان کیخلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمہ اور قانونی دفاعغازی علم دین کے مقدمے کی کارروائی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ 25 اپریل 1929ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ای ایس لیوس کی عدالت میں ان کیخلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ 22 مئی 1929ء کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح اس قانونی کارروائی سے وابستہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق قائد اعظم نے غازی علم دین کو ایسا دفاع اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس سے ان کی جان بچنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھالیکن انہوںنے اپنے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید قانونی کوششوں کیلئے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم ہوئی اور مالی وسائل جمع کیے گئے۔ بعض روایات کے مطابق برطانیہ کی پریوی کونسل میں اپیل کیلئے بھی رقم خرچ کی گئی لیکن ان کوششوں سے سزا تبدیل نہ ہوسکی۔میانوالی جیل اور وصیت 31اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں غازی علم دین کی سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کی آخری ملاقات، وصیت اور آخری لمحات سے متعلق تفصیلات اس زمانے کے اخبارات اور بعد کی روایات میں محفوظ ہیں۔ روزنامہ ''انقلاب‘‘ میں ان کی والدہ سے ملاقات کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔ ان سے منسوب وصیت میں نماز، نیک کردار، ذاتی اعمال کی جوابدہی اور خاندان کیلئے نصیحتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔غازی علم دین کی شہادت کے بعد انہیں میانوالی میں امانتاًدفن کیا گیا۔اس دوران لاہور میں میت واپس لانے اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس معاملے نے عوامی احتجاج کو ایک نئی جہت دی اور مذہبی و سیاسی شخصیات اس کی پیروی کیلئے سامنے آئیں۔لاہور واپسی اور تاریخی جنازہغازی علم دین کا جسد خاکی لاہور واپس لانے کی کوششوں میں علامہ محمد اقبالؒ، سر محمد شفیع، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد بخش مسلم اور دیگر اہم شخصیات کے نام نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کمیٹی نے برطانوی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی سبیل کی۔ حکام کو خدشہ تھا کہ بدامنی پیدا ہوسکتی ہے تاہم یقین دہانیوں کے بعد اجازت مل گئی۔14 نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کی قبر کشائی کی گئی اور ان کے جسد خاکی کو دو روزہ سفر کے بعد لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد وزیر خان کے امام محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ خاندانی روایت کے مطابق پورے برصغیر سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے لاہور پہنچے ۔ علامہ اقبالؒ کی جنازے میں شرکت اور ان سے منسوب یہ جملہ بھی مشہور ہے: ''اسی گلاں ای کردے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یہ جنازہ محض ایک فرد کی تدفین کا موقع نہیں تھا بلکہ مذہبی وابستگی، اجتماعی جذبات اور نوآبادیاتی دور کے سیاسی ماحول کی علامت بن گیا۔ اسی عوامی یادداشت نے غازی علم دین شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ سے حاصل ہونے والا سبقغازی علم دین شہید کی داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی عقیدت، تاریخی حقائق اور قانونی اصولوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کیلئے مسلمانوں کی محبت اور ان کی تاریخی یادداشت میں مقام ایک حقیقت ہے ۔ اس واقعے کو سمجھنے کیلئے مقدمے کی کارروائی، اس دور کے حالات اور قانون کے تقاضوں کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔غازی علم دین شہید کا واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہبی احترام اور انصاف کے تقاضوں کو معاشرے میں کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ماضی کے واقعات کو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علمی دیانت سے سمجھنا ہی تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی رویہ ہمیں اپنے ماضی کی قدر کرنے، اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل کیلئے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہےزندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

فضائی سفر کا سیاہ بابمیٹرو جیٹ ایئر لائنز کی پرواز 9268، 2015ء میں آج کے روز مصر کے شمالی جزیرہ نما سینا کے اوپر پرواز کے دوران دہشت گردانہ بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔ اس انتہائی ہولناک فضائی حادثے اور دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں طیارے پر سوار عملے کے ارکان سمیت تمام 224 مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واقعہ اس خطے اور بین الاقوامی ہوابازی کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔سوئز نہرکی بندش31اکتوبر1956ء کو مصری صدر جمال ناصر نے سوئز نہرکے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت بند کر دی۔ جس پربرطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کر دیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے نہر سویز کو مصر کا حق قرار دیا ۔ابتدا میں نہر سوئز سے بحری جہازوں کی یکطرفہ ٹریفک ممکن نہ تھی لیکن 2015ء میں کی جانے والی توسیع کے بعد اب سویز کینال سے بیک وقت تین کانوائے میں 97جہاز گزر سکتے ہیں۔ جاوید میانداد کی ڈبل سینچری 1976ء میں آج کے روز جاوید میانداد نے ڈبل سینچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس وقت ان کی عمر 19سال 141دن تھی۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں انہوں نے 206 رنز بنا کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ جاوید میانداد نے اپنے پورے کریئر میں 6 بار ڈبل سینچریاں بنائیں۔ مہاتیر محمد مستعفی ہوئے31اکتوبر 2003ء کو ملائیشیا کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی موڑ اس وقت آیا جب طویل عرصے تک ملک کی قیادت کرنے والے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی جگہ نائب وزیراعظم عبداللہ احمد بدوی کو نیا وزیراعظم مقرر کیا گیا، جس کے ساتھ ہی ملائیشیا کی سیاست پر مہاتیر محمد کے مسلسل 22 سالہ طویل، اثر انگیز اور ترقی پسند اقتدار کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا۔سویوز کی روانگی2000ء میں آج کے روز ''سویوز ٹی ایم 31‘‘ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کیلئے پہلا مستقل مسکن اور عملہ لے کر گیا۔ اس تاریخی خلائی مشن نے انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ اس دن کے بعد سے لے کر اب تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مسلسل خلاباز موجود چلے آ رہے ہیں، اور وہاں خلائی تحقیق و رہائش کا یہ تسلسل بغیر کسی تعطل کے کامیابی سے جاری ہے۔شین کونری: جیمز بانڈ 007جیمز بانڈ سیریز کی فلموں کے پہلے ہیرو سر سین کونری 2020ء میں آج کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 90برس کی عمر پانے والے اداکار نے پچاس سال تک ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری پر راج کیا۔برطانوی سیکریٹ ایجنٹ جیمز بانڈ پر بننے والی پہلی فلم ''ڈاکٹر نو‘‘ 1962ء میں سینما گھروں کی زینت بنی اور اس نے پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کردار کو زندہ و جاوید کرداربنانے میں ان کا اہم کردارہے۔بانڈ سیریز کی 6 فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے آسکر ایوارڈ، گولڈن گلوب، بافٹا اور بہت سارے دوسرے ایوارڈ جیتے۔

 مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت ( AI) اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔ آج یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص میں معاونت فراہم کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کا یہ سفر چند سالوں کی کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق، تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔اس سفر میں بارہ ایسے اہم مراحل آئے جنہوں نے AI کی ترقی کو نئی سمت دی۔ ابتدائی تصورات سے عملی مصنوعی ذہانت تکمصنوعی ذہانت کی تاریخ میں پہلا اہم سنگِ میل 1950ء میں آیا جب برطانوی ریاضی دان اور کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹیورنگ نے اپنے مقالے میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے ایک تجربہ کیا جسے بعد میں ''ٹیورنگ ٹیسٹ‘‘ کہا گیا۔ اس تصور کے مطابق اگر کوئی مشین گفتگو کے دوران انسان کی طرح جواب دے اور مبصر قابلِ اعتماد طریقے سے مشین اور انسان میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذہانت کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے چھ سال بعد، 1956ء میں امریکہ کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں محققین کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اسی موقع پر ''مصنوعی ذہانت‘‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے میدان کے طور پر متعارف کرانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ جان میکارتھی، مارون منسکی اور دیگر محققین نے اس پر غور کیا کہ مشینوں کو سیکھنے، مسائل حل کرنے اور انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی نقل کرنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔1966ء میں جوزف وائزن بام نے ELIZA نامی پروگرام متعارف کرایا جو ابتدائی چیٹ بوٹس میں سے ایک تھا۔ یہ پروگرام صارف کے الفاظ میں مخصوص اشارے تلاش کرکے پہلے سے طے شدہ جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ اس کی صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اس نے دکھایا کہ کمپیوٹر کے ساتھ بامعنی محسوس ہونے والی گفتگو ممکن ہے۔ ناکامیوں سے مشین لرننگ تک 1974ء سے 1980ء کے درمیان AI کے شعبے کو پہلی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین کے بلند دعوؤں کے باوجود کمپیوٹر اس دور میں متوقع نتائج فراہم نہیں کر پا رہے تھے نتیجتاً حکومتوں اور تحقیقی اداروں نے مالی معاونت کم کر دی۔ اس مرحلے کو ''AI winter‘‘ کہا جاتا ہے۔تاہم تحقیق مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ 1980ء کے آس پاس Expert Systems نے کاروباری دنیا میں توجہ حاصل کی۔ یہ ایسے کمپیوٹر پروگرام تھے جو مخصوص شعبوں کے قواعد اور ماہرین کے علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتے تھے۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی میں تیار کردہ R1 سسٹم نے صنعتی استعمال کے امکانات نمایاں کیے۔1986ء میں مشین لرننگ کی ترقی کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، اس کے باوجود 1987ء سے 1993ء کے درمیان مصنوعی ذہانت کو ایک بار پھر مالی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپرٹ سسٹمز کی کمزورویوں اور مہنگے ہارڈویئر نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم کر دی۔ یہ دوسرا AI Winter تھا جس نے واضح کیا کہ محض بلند توقعات کافی نہیں؛ ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مفید بھی ہونا چاہیے۔ ڈیپ لرننگ سے جدید AI تک 1997ء میں IBM کے شطرنج کھیلنے والے کمپیوٹر Deep Blue نے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو چھ مقابلوں کی سیریز میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ کمپیوٹر انتہائی پیچیدہ کھیل میں بھی عالمی سطح کے انسانی کھلاڑی کو مات دے سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام مخصوص قواعد اور حسابی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس نے مصنوعی ذہانت کی عملی قوت کو نمایاں کیا۔2012ء میںAlexNet نامی ڈیپ لرننگ ماڈل نے تصاویر کی شناخت کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کا اہم کردار تھا۔ اس پیش رفت نے ڈیپ لرننگ کو عملی میدان میں آگے بڑھایا اور تصویر شناسی، آواز کی شناخت اور دیگر شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔2016ء میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے نظام AlphaGoنے جنوبی کوریا کے ممتاز کھلاڑی لی سیڈول کو قدیم چینی کھیل ''گو‘‘ میں شکست دی۔ اس کھیل میں ممکنہ چالوں کی تعداد شطرنج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ AlphaGo کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ مشینیں سیکھنے، حکمتِ عملی بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے کے ایسے طریقے اپنا سکتی ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔2017ء میں ٹرانسفارمر (Transformer) نامی نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہوا۔ اس نے زبان کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات سمجھنے اور بڑے متنی ڈیٹا سے سیکھنے کے طریقوں میں اہم تبدیلی پیدا کی۔ بعد میں یہی طرزِ تعمیر متعدد جدید زبان ماڈلز کی بنیاد بنا۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا مستقبلنومبر 2022ء میں ChatGPT کی لانچنگ نے مصنوعی ذہانت کو عام لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس تبدیلی نے تعلیم، کاروبار، صحافت، طب اور سافٹ ویئر کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سائنسی ترقی ایک سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ ایلن ٹیورنگ کے ابتدائی سوال سے لے کر ٹرانسفارمر ماڈلز اور ChatGPT تک ہر پیش رفت نے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ مستقبل میں AI کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی رفتار یا ذہانت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے کتنی ذمہ داری، شفافیت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

 28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

تخیل، فن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا عالمی دندنیا میں بعض فنون ایسے ہیں جو زبان، رنگ و نسل اور جغرافیائی سرحدوں کی پابندیوں سے آزاد ہو کر انسانی ذہنوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اینیمیشن بھی ایسا ہی ایک فن ہے جو بے جان تصاویر کو حرکت، خیالات کو کردار اور تخیل کو ایک ایسی بصری حقیقت میں تبدیل کر دیتا ہے جسے بچے، نوجوان اور بڑے یکساں دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ کارٹون فلموں سے لے کر جدید سنیما، ویڈیو گیمز، تعلیمی پروگراموں، اشتہارات اور ڈیجیٹل میڈیا تک اینیمیشن نے انسانی زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ اسی فن کی تاریخی خدمات، تخلیقی امکانات اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 28 اکتوبر کو International Animation Day منایا جاتا ہے۔یہ محض تفریحی فلموں اور کارٹون کرداروں کا جشن نہیں بلکہ ان فنکاروں، مصوروں، ہدایت کاروں، تکنیکی ماہرین اور تخلیق کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے جن کی محنت سے تصاویر حرکت کرتی، کہانیاں جنم لیتی اور پیچیدہ خیالات لوگوں کیلئے قابلِ فہم بنتے ہیں۔تاریخی پس منظرانٹر نیشنل اینیمیشن ڈے کی تاریخ انیسویں صدی کے آخری عشرے سے جڑی ہوئی ہے۔ 28 اکتوبر 1892ء کو فرانسیسی موجد اور فنکار ایمیل ریناؤڈ (Émile Reynaud) نے پیرس کے گریوین میوزیم میں اپنے ایجاد کردہ آلے تھیٹر آپٹیک (Theatre Optique) کے ذریعے متحرک تصاویر کی ایک نمائش پیش کی۔ اس واقعے کو اینیمیشن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔ ریناؤڈ کے اس آلے میں ہاتھ سے تیار کردہ تصاویر کو ایک مخصوص طریقے سے ترتیب دے کر روشنی، آئینوں اور پروجیکشن کی مدد سے پردے پر دکھایا جاتا تھا۔ تصاویر کو تیزی سے یکے بعد دیگرے پیش کرنے سے دیکھنے والوں کو حرکت کا احساس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں نہ تو کمپیوٹر تھے اور نہ ڈیجیٹل کیمرے لیکن انسانی تخیل اور سائنسی تجربے نے ایسی بصری تفریح کی بنیاد رکھ دی جو آنے والی صدیوں میں ایک وسیع صنعت کی شکل اختیار کرنے والی تھی۔ریناؤڈ کی یہ کاوش اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نے متحرک تصاویر کو محض ایک تکنیکی تجربے کے بجائے عوامی تفریح اور کہانی سنانے کے مؤثر وسیلے کے طور پر پیش کیا۔ یہی تصور آگے چل کر اینیمیٹڈ فلموں، کارٹون سیریز اور جدید ڈیجیٹل تخلیقات کی ترقی میں اہم ثابت ہوا۔انٹرنیشنل اینیمیٹڈ فلم ایسوسی ایشن(ASIFA) نے 2002ء میں 28 اکتوبر کو اینیمیشن ڈے کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔ اس کا بنیادی مقصد اینیمیشن کے فن کو دنیا بھر میں فروغ دینا، مختلف ممالک کے فنکاروں کے درمیان تعاون بڑھانا اور عوام کو اس فن کی تاریخ اور امکانات سے روشناس کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ دن نمائشوں، فلمی پروگراموں، ورکشاپس اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے منایا جانے لگا۔اینیمیشن کیا ہے؟اینیمیشن دراصل ایسا تخلیقی عمل ہے جس میں تصاویر، اشکال، کرداروں یا اشیا کو اس انداز میں یکے بعد دیگرے دکھایا جاتا ہے کہ وہ حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوں۔ روایتی اینیمیشن میں ہر منظر ہاتھ سے بنایا جاتا تھا جبکہ جدید دور میں کمپیوٹر سافٹ ویئر، 3D ماڈلنگ اور ڈیجیٹل تکنیکوں نے اس عمل کو زیادہ متنوع اور مؤثر بنا دیا ہے۔اینیمیشن کی مختلف اقسام میں2D اینیمیشن، 3Dاینیمیشن، سٹاپ موشن، کٹھ پتلیوں کی مدد سے تیار کردہ متحرک فلمیں اور کمپیوٹر سے تخلیق کردہ مناظر شامل ہیں۔ ہر طریقے کی اپنی خصوصیات اور تخلیقی امکانات ہیں۔آج کسی فلم میں خیالی دنیا کی تخلیق، کسی اشتہار میں مصنوعات کی خصوصیات کی وضاحت، کسی تعلیمی ویڈیو میں انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کی تشریح یا کسی ویڈیو گیم میں حقیقت سے قریب کرداروں کی حرکت، یہ سب اینیمیشن کے مختلف استعمال ہیں۔ اس طرح اینیمیشن فن اور سائنس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرتی ہے۔ تعلیم اور آگاہی میں کرداراینیمیشن کی مقبولیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ مشکل معلومات کو آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ بچوں کے لیے بنائے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں حروفِ تہجی، اعداد، سائنسی تصورات، اخلاقی اقدار اور سماجی رویوں کو کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے۔اسی طرح طبی تعلیم میں انسانی جسم کے اندرونی نظام، انجینئرنگ میں مشینوں کے طریقہ کار اور سائنس میں ایسے مظاہر کی وضاحت کے لیے اینیمیشن استعمال ہوتی ہے جنہیں براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، قدرتی آفات اور صحتِ جیسے موضوعات پر آگاہی پیدا کرنے میں بھی متحرک تصاویر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔اینیمیشن کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے کسی مخصوص زبان پر مکمل عبور ضروری نہیں۔ مناسب بصری علامتوں، کرداروں اور مناظر کے ذریعے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک بھی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے عالمی رابطے اور ثقافتی تبادلے کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے۔اینیمیشن میں مہارت حاصل کرنے اور اسے بطور پیشہ اپنانے کے لیے آپ کو چند سافٹ ویئرز سیکھنے ہوں گے جیسا کہ 3D اینیمیشن اور ماڈلنگ کے لیےAutodesk Maya؍Blender (بلینڈر بالکل مفت ہے)۔ موشن گرافکس اور وی ایف ایکس کے لیےAdobe After Effects اور2Dکارٹون اور اینیمیشن کے لیے Adobe Animate ؍Toon Boom Harmony۔

آج کا دن

آج کا دن

ہارورڈ کالج کا قیام28 اکتوبر 1636ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی نوآبادیاتی اسمبلی نے ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے مالی وسائل مختص کیے جس سے ہارورڈ کالج کی بنیاد پڑی۔ یہ ادارہ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ہارورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو مذہبی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 1638ء میں جان ہارورڈ نامی ایک مذہبی رہنما نے اپنے اثاثوں اور کتابوں کا ایک اہم حصہ اس ادارے کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارے کا نام ہارورڈ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کالج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا اور سائنس، طب، قانون، سیاست، معاشیات اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔آزادی کے مجسمے کا افتتاح28 اکتوبر 1886ء کو امریکہ کے صدر گروور کلیولینڈنے نیویارک میں آزادی کے مجسمے(Statue of Liberty)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی، جمہوریت اور دوستی کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا تھا۔Liberty Enlightening the World کے عنوان سے یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی اور انسانی وقار کی علامت بن گئی۔ اس کی تعمیر فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آؤگست بارتھولدی نے کی جبکہ اس کا ڈھانچہ مشہور انجینئر ایفل (Eiffel) نے تیار کیا۔ وقت کے ساتھ یہ امریکہ کی قومی پہچان بن گئی۔ 1984 ء میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔مارچ آن روم 28 اکتوبر 1922ء کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنان کے ہمراہ اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا جس کے نتیجے میں بادشاہ وکٹر ایمینوئل سوم نے حکومت برطرف کر کے مسولینی کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ یہ دن اٹلی میں فاشزم کے آغاز کاثابت ہوا جس نے آنے والے برسوں میں یورپ کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مسولینی کی آمرانہ حکومت نے اٹلی کو نازی جرمنی کے قریب کیا اور بالآخر ملک دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ ''مارچ آن روم ‘‘کو آج بھی انتہا پسند سیاست کے ابھرنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جمہوری نظام کمزور قیادت کے باعث آمریت میں بدل سکتا ہے۔کیوبا میزائل بحران کاخاتمہ28 اکتوبر 1962ء کو سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین کیوبا میں نصب کیے گئے میزائل واپس لے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیوبن میزائل بحران ختم ہوا، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے کیوبا میں سوویت بیلسٹک میزائل تنصیبات کا سراغ لگایا۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بحری ناکہ بندی کا حکم دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ 13 دن تک دنیا بھر میں خوف و ہراس کا عالم رہا۔ بالآخر خفیہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ سوویت یونین کیوبا سے میزائل ہٹائے گا اور امریکہ ترکی سے اپنے میزائل واپس لے گا۔ یہ بحران سرد جنگ کے دوران سفارتی فہم و فراست کی ایک کامیاب مثال بن گیا ۔جس نے عالمی سطح پر ایٹمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے۔انڈونیشیا کا یومِ نوجوانان28 اکتوبر 1928ء کو انڈونیشیا کے نوجوانوں نے جکارتہ میں منعقدہ یوتھ کانگرس میں ایک تاریخی عہد کیا جسے (Sumpah Pemuda) یعنی ''نوجوانوں کا عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں نوجوانوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک قوم، ایک وطن اور ایک زبان رکھتے ہیں ۔اس اتحاد نے انڈونیشیا کی قومی تحریک کو نئی جان بخشی۔ اُس وقت ملک ڈچ نوآبادیاتی تسلط میں تھا مگر نوجوانوں کے اس اتحاد نے آزادی کی راہ ہموار کی۔ یہی نظریہ بعد ازاں 1945 ء میں آزادی کے اعلان کی بنیاد بنا۔ آج بھی 28 اکتوبر کو انڈونیشیا میں یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے جو حب الوطنی، اتحاد اور زبان و ثقافت کے احترام کی یاد دلاتا ہے۔