لباس کا آغاز
اسپیشل فیچر
آپ نے شاید دیکھا ہو گا کہ بعض پرندے جو برسات کے موسم میں ہرے بھرے درختوں اور شگوفوں سے لدی ڈالیوں پر چہچہاتے نظر آتے ہیں، جاڑا شروع ہوتے ہی ایکاایکی گم ہو جاتے ہیں، انہیں اپنے جسم کو سردی سے بچانے کے لیے دنیا کے ان حصوں میں جانا پڑتا ہے جہاں سردی کم ہوتی ہے۔ آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان درندوں کی طرح پہاڑوں کے غاروں اور درختوں کے کھوکھلے تنوں میں رہتا اور جنگل کے پھل پھول کھا کر اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ خوراک کی تلاش میں دوسرے جانداروں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جاتا، اسی طرح گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے اسے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانا پڑتا تھا۔ جب اس نے جنگلی زندگی ترک کر کے میدانوں میں آباد ہونا شروع کیا تو اسے اپنے بدن کو کڑاکے کی سردی سے بچانے کے لیے اچھی طرح تن ڈھانپنے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی۔ چنانچہ وہ مدتوں درختوں کے پتے، چھال اور جانوروں کی کھال پہنتا رہا۔ جانوروں کی کھالیں جہاں شکل اور صورت میں پتوں سے زیادہ دلکش تھیں وہاں وہ زیادہ مضبوط اور گرم بھی تھیں۔ آج بھی برفانی ملکوں کے لوگ اپنے آپ کو بے پناہ سردی سے بچانے کے لیے رینڈیئر، لومڑی اور چیتے وغیرہ کی کھالیں پہنتے ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ جنگلی پرندوں کے نرم نرم پروں سے بھی تن ڈھانپنے کی چیزیں تیار کرتے تھے۔ براعظم افریقہ اور امریکا کے جنگلوں میں آج بھی ایسے وحشی نظر آتے ہیں جو تن پر جانوروں کی کھالیں اور سر پر پرندوں کے پروں سے بنی ہوئی ٹوپیاں پہنتے ہیں۔ جب کسان نے زمین میں ہل چلا کر اور بیج بو کر اناج پیدا کرنے کے طور طریقے معلوم کر لیے اور روئی کا پودا بھی دریافت کر لیا تو اس نے روئی کو کات کر سوت بنایا اور سوت سے کپڑا بُننے لگا۔ ابتدا میں سخت محنت کرنے کے بعد ہاتھ سے اتنا سوت تیار کیا جاتا تھا جس سے گز بھر کپڑا بنایا جا سکے۔ لیکن بعد میں انسان نے سوت کاتنے کے لیے چرخہ جیسی کل بنالی اور اس کے ساتھ ہی کھڈی بھی بنائی جس پر جولاہے کپڑے بُنتے تھے۔ موجودہ زمانے میں کپڑے کی ملوں میں سوت کاتنے اور کپڑا بُننے کی جو بڑی بڑی مشینیں کام کرتی ہیں، وہ اسی پرانے چرخے اور کھڈی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں۔ اس کے بعد انسان نے سوچا کہ جس طرح روئی کات کر سوت تیار کیا جاتا ہے اسی طرح جانوروں کی اون کو کات کر دھاگا تیار کرنا چاہیے۔ اس نے جانوروں کی اون کات کر ایسے عمدہ اور گرم کپڑے بنائے جو کڑاکے کی سردی میں بھی جسم کو گرم رکھتے ہیں۔ پہلے پہلے چین والوں نے یہ بات دریافت کی کہ ایک خاص قسم کا کیڑا ریشم پیدا کرتا ہے۔ ان لوگوں نے اس کیڑے سے ریشم حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے باغ لگائے جہاں ان کیڑوں کو پالا جاتا تھا۔ ان سے ریشم حاصل کر کے انسان نے کپڑا بنانا سیکھا۔ ریشمی لباس دوسرے لباس سے کہیں زیادہ ملائم اور چمک دار ہوتا ہے۔ اب تو لباس سازی کے میدان میں بڑی انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اب سوت اور ریشم کے علاوہ پٹ سن اور مصنوعی ریشے (نائیلون، ٹیٹرون) کے لباس بننے لگے ہیں، جن کو سوتی کپڑوں کی طرح نہ تو بھٹی پر رکھنا پڑتا ہے اور نہ استری کی خاص ضرورت پڑتی ہے۔ بس دھویا اور پہن لیا۔ لباس کی وضع قطع کا دارومدار کسی ملک کی آب و ہوا پر ہوتا ہے۔ جب دنیا کے لوگوں میں میل جول بڑھ گیا تو بول چال اور رہنے سہنے کے طور طریقوں کی طرح ایک ملک کے لباس اور وضع قطع کا اثر دوسرے ملک پر بھی پڑا۔ اب لوگ پوشاک کو نہ صرف تن ڈھانپنے بلکہ سجاوٹ کے لیے بھی پہننے لگے۔ ہوتے ہوتے لباس دنیا بھر کے ملکوں میں اپنا اپنا قومی نشان بن گیا۔ اگرچہ دیکھنے میں یورپ والوں کا لباس ایک سا ہی نظر آتا ہے لیکن ہر ملک کے لباس کی وضع قطع میں کچھ فرق ہے۔ مشرق میں چین، جاپان اور بھارت کے باشندوں کے لباس ہی میں نمایاں فرق نہیں، پاکستان کے لوگ بھی اپنے اپنے علاقوں کے خاص لباس ہی سے پہچانے جاتے ہیں۔