دورِ قدیم کی اہم غاریں
اسپیشل فیچر
غار کرۂ ارض کے ان رخنوں یا سوراخوں کو کہا جاتا ہے جن میں انسان داخل ہو سکے۔ غاروں کی لمبائی اور چوڑائی مختلف ہوتی ہے۔ امریکا میں 17 ہزار کے قریب غاریں دریافت ہو چکی ہیں، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دنیا میں غاروں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔ پائیدار اور محفوظ پناہ گاہ ہونے کے باعث زمانہ قبل از تاریخ کا انسان انہیں اپنا ٹھکانہ بناتا تھا۔ تاہم عام خیال کے برعکس اس دور کے انسانوں کی ایک قلیل تعداد غاروں میں رہتی تھی۔ غاروں میں رہائش کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک میں ایسی غاریں موجود ہیں جن میں انسان رہتے ہیں۔
غاریں جانوروں کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتی رہی ہیں۔ بعض جانور ان میں عارضی طور پر رہتے ہیں لیکن جانوروں کی ایسی اقسام بھی ہیں جنہوں نے غاروں کو مستقل ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ انہیں ٹروگلوبائیٹس کہا جاتا ہے۔ بعض اقسام کے حشرات الارض صرف غاروں میں پائے جاتے ہیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے ان دنوں چمگادڑوں کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ خاکستری چمگادڑ اور میکسیکن فری ٹیلڈ چمگادڑ اکثر غاروں میں پائی جاتی ہیں۔
ابتدائی انسانوں کے غاروں میں رہنے کے باعث وہاں ان کی کئی نشانیاں ملتی ہیں۔ اس لیے غاروں کی اثریاتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی غاروں سے اندازاً 10 سے 30 لاکھ برس قدیم انسانوں کے فاسلز ملے ہیں۔
غاروں میں انسان کے ماضی کی نشانیاں عموماً محفوظ رہتی ہیں اس لیے ماہرین آثار قدیمہ انہیں بہت اہمیت دیتے ہیں۔
غاریں اس دور میں بھی آباد رہیں جب انسانوں نے بستیاں بسا لیں۔ یہ مراقبے، ذہنی سکون اور عبادت گاہ کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہیں بطور پناہ گاہ بھی استعمال کیا گیا۔ بعض غاریں ایسی ہیں جن میں پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری ہو جاتا ہے۔ بعض کی اندرونی ساخت اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔
غاریں عموماً قدرتی عوامل سے وجود میں آتی ہیں لیکن انسانوںنے اپنی محنت سے بھی غاریں بنائی ہیں۔ غاروں میں دورقدیم کے انسان نے اپنے کئی نقوش چھوڑے ہیں جن سے ان کے رہن سہن، عادات اطوار اور ذوق کا پتا چلتا ہے۔ بعض غاروں کو مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ آئیے چند اہم غاروں کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق دورِ قدیم سے ہے۔
غار حضرت الیاسؑ
فلسطین؍اسرائیل میں کوہ کرمل میں وہ مقام ہے جسے مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور مسیحی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت الیاسؑ نے اس دور کے ایک بادشاہ کے عتاب سے بچنے کے لیے اس پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی تھی کیونکہ آپؑ بت پرستی سے منع فرماتے تھے اور بادشاہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس غار میں بعدازاں آپؑ نے ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔
یہ غار 1950ء کی دہائی میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی۔ مسیحیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنے خاندان کے ساتھ جب مصری حاکم کے عتاب سے بچنے کے لیے مصر سے تشریف لائے تو انہوں نے اسی غار میں قیام کیا۔
اس غار کی زیارت کے لیے زائرین کی بڑی تعداد آتی ہے۔ یہاں زائرین کی کندہ کاری کے نمونے بھی ملتے ہیں جن میں سے چند خاصے قدیم ہیں۔
مگاؤ
چین کے صوبے گینسو میں دریائے ڈاچوان کے پاس اور شہر ڈُنہوانگ کے جنوب مشرق میں مگاؤ غاروں کا ایک نظام موجود ہے۔ ان میں تقریباً 500 عبادت گاہیں بنائی گئی ہیں۔
یہ غاریں ماضی کی عظیم شاہراہ ریشم پر واقع ہیں۔ ان غاروں میں بدھ فنون کے شاندار نمونے دیکھے جا سکتے ہیں اور یہاںچوتھی صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی تک کی بدھ مت کی ایک ہزار برس کی تاریخ ملتی ہے۔
یہ غاریں شاہراہ ریشم کے مسافروں، تاجروں، بھکشوؤں اور زائرین کی آرام گاہ یا پناہ گاہ کا کام کرتی تھیں۔ ان غاروں میں مجسمہ سازی اور نقاشی کے علاوہ نایاب قلمی نسخے ملے ہیں۔
سوئی سلطنت کے دور میں بننے والی غار 302 میں شاہراہ ریشم پر تجارت کی قدیم ترین عکس بندی دیکھنے کو ملتی ہے جس میں ایک اونٹ چھکڑے کو کھینچ رہا ہے۔ تانگ سلطنت کے دور کی غار 23 اور 156 میں لوگوں کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہاں قطاروں میں جنگجو دکھائی دیتے ہیں۔
تانگ خاندان کی حکمرانی (618 تا 907ء) کے دوران غاروں میں کام کرنے والے فن کاروں کی مالی معاونت بھی کی گئی اور اسی دور میں یہاں دو گوتم بدھ کے بہت بڑے مجسمے بنائے گئے۔ ان غاروں میں چینی فوج اور حکمرانوں پر کی گئی مصوری بھی ملتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر یہ غاریں وقت اور حملہ آوروں کی دست برد سے محفوظ رہیں۔ 1907ء میں یہاں ایک خفیہ لائبریری دریافت ہوئی جسے ایک ہزار برس قبل سربمہر کر دیا گیا تھا۔ اس میں قدیم مسودوں، ریشمی جھنڈوں اور مصوری کے نمونوں کے علاوہ خوتانی، تبتی، چینی، سنسکرت اور اویغور زبانوں میں دستاویزات ملی ہیں۔
لاسکو
یہ جنوب مغربی فرانس میں غاروں کا ایک پیچیدہ نظام ہے جس کی اندرونی دیواروں اور چھتوں پر 600 سے زائد مصوری کے نمونے موجود ہیں۔ یہاں زیادہ تر بڑے جانوروں کی تصویر کشی کی گئی ہے جو اس زمانے میں پائے جاتے تھے۔
مصوری کے یہ نمونے کئی نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ یہ مصوری کتنی قدیم ہے اس پر مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ یہ تقریباً 17 ہزار برس قدیم ہے۔
لاسکو غاریں حادثاتی طور پر دریافت ہوئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ 12 ستمبر 1940ء کو مارسل راویڈٹ نامی 18 سالہ لڑکے کا روبوٹ نامی کتا ایک سوراخ میں گر گیا۔ وہ اپنے تین دوستوں کو وہاں لے آیا۔ وہ 50 فٹ گہرے سوراخ میں داخل ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی خفیہ راستہ ہے۔ ان لڑکوں نے دیکھا کہ غار کی دیواروں پر جانوروں کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ ان کے غار میں پہنچنے پرزمانہ قبل از تاریخ کے فن کے نمونوں سے دنیا آگاہ ہوئی۔
غاروں کے اس نظام میں 25 غاروں کو مصوری سے سجایا گیا ہے۔ یہاں طرح طرح کی مصوری کی گئی ہے۔ یہ کیوں کی گئی؟ اس بارے میں ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اظہار فن اور نمائش کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور اس کا تعلق اس زمانے کے لوگوں کے عقائد سے بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد 1948ء میں غاروں کے اس نظام کو عوام کے لیے کھول دیا گیا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ یہاں آنے لگے۔
ایک اندازے کے مطابق روزانہ 12 سو افراد غار کی سیر کرتے تھے۔ اس سے پیدا شدہ ماحول میںغار اور مصوری کو نقصان پہنچنے لگا۔ نتیجتاً 1963ء میں سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ غار اور مصوری کی نقول بنا کر نمائش کے لیے پیش کر دی گئیں۔
اس غار میں صرف جانوروں کی تصاویر نہیں بنائی گئیں۔ دراصل اس مصوری کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جانور، انسان اور تجرید۔ غار میں ارد گرد کے علاقوں یا وہاں کے نباتات کی تصویر کشی نہیں کی گئی۔
واردزیا
جارجیا کے دوردراز مقام اسپندزا میں کوہ ارشتی کو دور سے دیکھا جائے تو کئی سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔ قریب آنے پر پتا چلتا ہے کہ یہاں غاریں بنائی گئی ہیں جنہیں واردزیا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پاس ہی دریائے کُرا بہتا ہے۔
یہ غاریں تقریباً پانچ سو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ غاریں اوپر نیچے اور کئی منزلہ ہیں۔ ان کی دیواروں پر مصوری کے اعلیٰ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔
سولہویں صدی میں جب یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں آیا تو یہاں کے لوگ نقل مکانی کر گئے اور غاریں بے آباد ہو گئیں۔
سوویت یونین کے دور میں اس علاقے میں ہونے والی کھدائیوں سے پتا چلتا ہے کہ اس علاقے میں لوگ کانسی کے عہد میں آباد تھے۔
دریائے کُرا کے ساتھ غاروں کی کھدائی کم از کم پانچویں صدی میں شروع ہوئی تاہم چٹانوں کو کاٹ کر بنائی جانے والی غاروں کا آغاز جارجیا کی مسیحی سلطنت نے چھٹی صدی عیسوی میں کیا۔
جن غاروں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے انہیں بارہویں صدی عیسوی میں بنایا گیا۔ یہ مقام ترکی اور آرمینیا کی سرحد کے قریب تھا اس لیے جارجیا کے مسیحی بادشاہ جیارجی سوم نے اسے عسکری طور پر اہم جانا۔ اسے مسلمانوں کے حملوں کا ڈر رہتا تھا۔ اسی نے اس شہر کو بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا۔ 1184ء میں اس کی موت کے بعد اس کی بیٹی شہزادی تمار نے منصوبے پر کام جاری رکھا۔ اس شہر کی تعمیر اس کی بصیرت اور طرز تعمیر سے وابستگی کا ثبوت ہے۔
غاروں کے شہر میں چند ہزار کمرے بنائے گئے تھے جن میں 50 ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش تھی۔ اس میں شادی کے ہال، اصطبل، لائبریریاں، بیکریاں اور غسل خانے تھے۔ آس پاس کاشتکاری کے لیے فراہمی آب کا عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔ اس شہر کا مرکزی مقام ڈورمیشن کلیسا تھا۔ یہ 27 فٹ چوڑا اور 48 فٹ لمبا ہے جبکہ اس کی اونچائی 30 فٹ ہے۔ اس میں مصوری کے شاندار نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔
1200ء کے اواخر میں آنے والے ایک زلزلے سے شہر کو جزوی نقصان پہنچا۔ غاروں کا یہ شہر 1290ء کی دہائی میں منگولوں کے حملوں سے محفوظ رہا۔ سولہویں صدی میں اہل فارس نے یہاں تباہ کن حملہ کیا جسے سے شہر کے انحطاط کا عمل تیز ہو گیا جو 1578ء میں عثمانیوں کی آمد پر انجام کو پہنچا۔
اجنتا
چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی 30 کے قریب اجنتا غاریں دوسری صدی قبل مسیح سے 480 صدی عیسوی کے درمیان بنائی گئیں۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں واقع ان غاروں میں مصوری اور مجسمہ سازی کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ برصغیر کے قدیم فن کا شاندار نمونہ ہیں۔ انہیں دو مراحل میں تعمیر کیا گیا۔ بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ غاریں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تیسری اور چھٹی صدی عیسوی میں یہ غاریں مزید نمایاں ہوئیں کیونکہ یہاں سے ایک اہم تجارتی شاہراہ گزرنے لگی۔
بدھ تاجر، زائرین، دستکار اور فن کار یہاں آنے لگے۔ وہ یہاں ملتے اور مباحث میں حصہ لیتے ۔ یوں اجنتا برصغیر میں بدھ مت کے فروغ میں اہمیت اختیار کر گیا۔ اس کے بعد ان غاروں کو بھلا دیا گیا۔ 1819ء میں شکار میں مصروف برطانوی سپاہیوں نے انہیں ازسر نو دریافت کیا۔
التامیرا
التارمیرا سپین میں واقع ہے جسے 1868ء میں دریافت کیا گیا لیکن اس میں کی گئی مصوری کی نشاندہی دریافت کے 11 برس بعد ایک 5 سالہ لڑکی نے کی۔ اس کے والد مارسیلینو ڈی ساؤٹولا نے اس مقام کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنے نتائج کو شائع کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان غاروں میں کی گئی مصوری پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ تب اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا لیکن اس کی موت کے بعد اس امر کی تصدیق ہو گئی اور اسے تسلیم کر لیا گیا۔
یہاں 36 ہزار برس تک قدیم مصوری موجود ہے۔ یہاں کی گئی مصوری یورپ میں غاروں میں کی گئی سب سے قدیم انسانی مصوری ہے۔
غار کی کل لمبائی 33 سو فٹ ہے۔ اس کے راستے بھول بھلیوں کی طرح ہیں جن میں کئی ''کمرے‘‘ ہیں۔ غار کے فرش سے تقریباً ساڑھے 18 ہزار سے 14 ہزار برس قدیم برتن بھی ملے ہیں۔ اس غار میں جنگلی جانور بھی رہتے رہے ہیں۔یہاں سے اردگرد کی سرسبز پہاڑیوں میں پائی جانے والی جنگلی حیات اور سمندر تک رسائی آسان تھی اس لیے انسانوں نے رہائش کے لیے اسے چنا۔
التامیرا میں ''بیسن‘‘(جنگلی بھینسا)، ہرن، خوک اور گھوڑے کی اعلیٰ مصوری کی گئی ہے۔ فن کاروں نے صرف تین بادامی، سرخ اور سیاہ رنگ استعمال کیے گئے ہیں۔ سیاحوں سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے اس مصوری کی نقول تیار کی گئی ہیں جہاں لوگ جا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔