دورِ قدیم کی اہم غاریں

دورِ قدیم کی اہم غاریں

اسپیشل فیچر

تحریر : رضوان عطا


غار کرۂ ارض کے ان رخنوں یا سوراخوں کو کہا جاتا ہے جن میں انسان داخل ہو سکے۔ غاروں کی لمبائی اور چوڑائی مختلف ہوتی ہے۔ امریکا میں 17 ہزار کے قریب غاریں دریافت ہو چکی ہیں، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دنیا میں غاروں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔ پائیدار اور محفوظ پناہ گاہ ہونے کے باعث زمانہ قبل از تاریخ کا انسان انہیں اپنا ٹھکانہ بناتا تھا۔ تاہم عام خیال کے برعکس اس دور کے انسانوں کی ایک قلیل تعداد غاروں میں رہتی تھی۔ غاروں میں رہائش کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک میں ایسی غاریں موجود ہیں جن میں انسان رہتے ہیں۔ 
غاریں جانوروں کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتی رہی ہیں۔ بعض جانور ان میں عارضی طور پر رہتے ہیں لیکن جانوروں کی ایسی اقسام بھی ہیں جنہوں نے غاروں کو مستقل ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ انہیں ٹروگلوبائیٹس کہا جاتا ہے۔ بعض اقسام کے حشرات الارض صرف غاروں میں پائے جاتے ہیں۔ 
کورونا وائرس کی وجہ سے ان دنوں چمگادڑوں کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ خاکستری چمگادڑ اور میکسیکن فری ٹیلڈ چمگادڑ اکثر غاروں میں پائی جاتی ہیں۔ 
ابتدائی انسانوں کے غاروں میں رہنے کے باعث وہاں ان کی کئی نشانیاں ملتی ہیں۔ اس لیے غاروں کی اثریاتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی غاروں سے اندازاً 10 سے 30 لاکھ برس قدیم انسانوں کے فاسلز ملے ہیں۔
غاروں میں انسان کے ماضی کی نشانیاں عموماً محفوظ رہتی ہیں اس لیے ماہرین آثار قدیمہ انہیں بہت اہمیت دیتے ہیں۔ 
غاریں اس دور میں بھی آباد رہیں جب انسانوں نے بستیاں بسا لیں۔ یہ مراقبے، ذہنی سکون اور عبادت گاہ کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہیں بطور پناہ گاہ بھی استعمال کیا گیا۔ بعض غاریں ایسی ہیں جن میں پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری ہو جاتا ہے۔ بعض کی اندرونی ساخت اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ 
غاریں عموماً قدرتی عوامل سے وجود میں آتی ہیں لیکن انسانوںنے اپنی محنت سے بھی غاریں بنائی ہیں۔ غاروں میں دورقدیم کے انسان نے اپنے کئی نقوش چھوڑے ہیں جن سے ان کے رہن سہن، عادات اطوار اور ذوق کا پتا چلتا ہے۔ بعض غاروں کو مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ آئیے چند اہم غاروں کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق دورِ قدیم سے ہے۔ 
غار حضرت الیاسؑ
فلسطین؍اسرائیل میں کوہ کرمل میں وہ مقام ہے جسے مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور مسیحی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت الیاسؑ نے اس دور کے ایک بادشاہ کے عتاب سے بچنے کے لیے اس پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی تھی کیونکہ آپؑ بت پرستی سے منع فرماتے تھے اور بادشاہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس غار میں بعدازاں آپؑ نے ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ 
یہ غار 1950ء کی دہائی میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی۔ مسیحیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنے خاندان کے ساتھ جب مصری حاکم کے عتاب سے بچنے کے لیے مصر سے تشریف لائے تو انہوں نے اسی غار میں قیام کیا۔ 
اس غار کی زیارت کے لیے زائرین کی بڑی تعداد آتی ہے۔ یہاں زائرین کی کندہ کاری کے نمونے بھی ملتے ہیں جن میں سے چند خاصے قدیم ہیں۔ 
مگاؤ 
چین کے صوبے گینسو میں دریائے ڈاچوان کے پاس اور شہر ڈُنہوانگ کے جنوب مشرق میں مگاؤ غاروں کا ایک نظام موجود ہے۔ ان میں تقریباً 500 عبادت گاہیں بنائی گئی ہیں۔ 
یہ غاریں ماضی کی عظیم شاہراہ ریشم پر واقع ہیں۔ ان غاروں میں بدھ فنون کے شاندار نمونے دیکھے جا سکتے ہیں اور یہاںچوتھی صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی تک کی بدھ مت کی ایک ہزار برس کی تاریخ ملتی ہے۔
یہ غاریں شاہراہ ریشم کے مسافروں، تاجروں، بھکشوؤں اور زائرین کی آرام گاہ یا پناہ گاہ کا کام کرتی تھیں۔ ان غاروں میں مجسمہ سازی اور نقاشی کے علاوہ نایاب قلمی نسخے ملے ہیں۔
سوئی سلطنت کے دور میں بننے والی غار 302 میں شاہراہ ریشم پر تجارت کی قدیم ترین عکس بندی دیکھنے کو ملتی ہے جس میں ایک اونٹ چھکڑے کو کھینچ رہا ہے۔ تانگ سلطنت کے دور کی غار 23 اور 156 میں لوگوں کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہاں قطاروں میں جنگجو دکھائی دیتے ہیں۔ 
تانگ خاندان کی حکمرانی (618 تا 907ء) کے دوران غاروں میں کام کرنے والے فن کاروں کی مالی معاونت بھی کی گئی اور اسی دور میں یہاں دو گوتم بدھ کے بہت بڑے مجسمے بنائے گئے۔ ان غاروں میں چینی فوج اور حکمرانوں پر کی گئی مصوری بھی ملتی ہے۔ 
حیرت انگیز طور پر یہ غاریں وقت اور حملہ آوروں کی دست برد سے محفوظ رہیں۔ 1907ء میں یہاں ایک خفیہ لائبریری دریافت ہوئی جسے ایک ہزار برس قبل سربمہر کر دیا گیا تھا۔ اس میں قدیم مسودوں، ریشمی جھنڈوں اور مصوری کے نمونوں کے علاوہ خوتانی، تبتی، چینی، سنسکرت اور اویغور زبانوں میں دستاویزات ملی ہیں۔ 
لاسکو 
یہ جنوب مغربی فرانس میں غاروں کا ایک پیچیدہ نظام ہے جس کی اندرونی دیواروں اور چھتوں پر 600 سے زائد مصوری کے نمونے موجود ہیں۔ یہاں زیادہ تر بڑے جانوروں کی تصویر کشی کی گئی ہے جو اس زمانے میں پائے جاتے تھے۔
مصوری کے یہ نمونے کئی نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ یہ مصوری کتنی قدیم ہے اس پر مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ یہ تقریباً 17 ہزار برس قدیم ہے۔ 
لاسکو غاریں حادثاتی طور پر دریافت ہوئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ 12 ستمبر 1940ء کو مارسل راویڈٹ نامی 18 سالہ لڑکے کا روبوٹ نامی کتا ایک سوراخ میں گر گیا۔ وہ اپنے تین دوستوں کو وہاں لے آیا۔ وہ 50 فٹ گہرے سوراخ میں داخل ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی خفیہ راستہ ہے۔ ان لڑکوں نے دیکھا کہ غار کی دیواروں پر جانوروں کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ ان کے غار میں پہنچنے پرزمانہ قبل از تاریخ کے فن کے نمونوں سے دنیا آگاہ ہوئی۔
غاروں کے اس نظام میں 25 غاروں کو مصوری سے سجایا گیا ہے۔ یہاں طرح طرح کی مصوری کی گئی ہے۔ یہ کیوں کی گئی؟ اس بارے میں ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اظہار فن اور نمائش کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور اس کا تعلق اس زمانے کے لوگوں کے عقائد سے بھی ہو سکتا ہے۔ 
دوسری عالمی جنگ کے بعد 1948ء میں غاروں کے اس نظام کو عوام کے لیے کھول دیا گیا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ یہاں آنے لگے۔ 
ایک اندازے کے مطابق روزانہ 12 سو افراد غار کی سیر کرتے تھے۔ اس سے پیدا شدہ ماحول میںغار اور مصوری کو نقصان پہنچنے لگا۔ نتیجتاً 1963ء میں سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ غار اور مصوری کی نقول بنا کر نمائش کے لیے پیش کر دی گئیں۔ 
اس غار میں صرف جانوروں کی تصاویر نہیں بنائی گئیں۔ دراصل اس مصوری کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جانور، انسان اور تجرید۔ غار میں ارد گرد کے علاقوں یا وہاں کے نباتات کی تصویر کشی نہیں کی گئی۔ 
واردزیا
جارجیا کے دوردراز مقام اسپندزا میں کوہ ارشتی کو دور سے دیکھا جائے تو کئی سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔ قریب آنے پر پتا چلتا ہے کہ یہاں غاریں بنائی گئی ہیں جنہیں واردزیا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پاس ہی دریائے کُرا بہتا ہے۔ 
یہ غاریں تقریباً پانچ سو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ غاریں اوپر نیچے اور کئی منزلہ ہیں۔ ان کی دیواروں پر مصوری کے اعلیٰ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ 
سولہویں صدی میں جب یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں آیا تو یہاں کے لوگ نقل مکانی کر گئے اور غاریں بے آباد ہو گئیں۔ 
سوویت یونین کے دور میں اس علاقے میں ہونے والی کھدائیوں سے پتا چلتا ہے کہ اس علاقے میں لوگ کانسی کے عہد میں آباد تھے۔
دریائے کُرا کے ساتھ غاروں کی کھدائی کم از کم پانچویں صدی میں شروع ہوئی تاہم چٹانوں کو کاٹ کر بنائی جانے والی غاروں کا آغاز جارجیا کی مسیحی سلطنت نے چھٹی صدی عیسوی میں کیا۔ 
جن غاروں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے انہیں بارہویں صدی عیسوی میں بنایا گیا۔ یہ مقام ترکی اور آرمینیا کی سرحد کے قریب تھا اس لیے جارجیا کے مسیحی بادشاہ جیارجی سوم نے اسے عسکری طور پر اہم جانا۔ اسے مسلمانوں کے حملوں کا ڈر رہتا تھا۔ اسی نے اس شہر کو بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا۔ 1184ء میں اس کی موت کے بعد اس کی بیٹی شہزادی تمار نے منصوبے پر کام جاری رکھا۔ اس شہر کی تعمیر اس کی بصیرت اور طرز تعمیر سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ 
غاروں کے شہر میں چند ہزار کمرے بنائے گئے تھے جن میں 50 ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش تھی۔ اس میں شادی کے ہال، اصطبل، لائبریریاں، بیکریاں اور غسل خانے تھے۔ آس پاس کاشتکاری کے لیے فراہمی آب کا عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔ اس شہر کا مرکزی مقام ڈورمیشن کلیسا تھا۔ یہ 27 فٹ چوڑا اور 48 فٹ لمبا ہے جبکہ اس کی اونچائی 30 فٹ ہے۔ اس میں مصوری کے شاندار نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ 
1200ء کے اواخر میں آنے والے ایک زلزلے سے شہر کو جزوی نقصان پہنچا۔ غاروں کا یہ شہر 1290ء کی دہائی میں منگولوں کے حملوں سے محفوظ رہا۔ سولہویں صدی میں اہل فارس نے یہاں تباہ کن حملہ کیا جسے سے شہر کے انحطاط کا عمل تیز ہو گیا جو 1578ء میں عثمانیوں کی آمد پر انجام کو پہنچا۔ 
اجنتا
چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی 30 کے قریب اجنتا غاریں دوسری صدی قبل مسیح سے 480 صدی عیسوی کے درمیان بنائی گئیں۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں واقع ان غاروں میں مصوری اور مجسمہ سازی کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ 
یہ برصغیر کے قدیم فن کا شاندار نمونہ ہیں۔ انہیں دو مراحل میں تعمیر کیا گیا۔ بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ غاریں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تیسری اور چھٹی صدی عیسوی میں یہ غاریں مزید نمایاں ہوئیں کیونکہ یہاں سے ایک اہم تجارتی شاہراہ گزرنے لگی۔ 
بدھ تاجر، زائرین، دستکار اور فن کار یہاں آنے لگے۔ وہ یہاں ملتے اور مباحث میں حصہ لیتے ۔ یوں اجنتا برصغیر میں بدھ مت کے فروغ میں اہمیت اختیار کر گیا۔ اس کے بعد ان غاروں کو بھلا دیا گیا۔ 1819ء میں شکار میں مصروف برطانوی سپاہیوں نے انہیں ازسر نو دریافت کیا۔ 
التامیرا
التارمیرا سپین میں واقع ہے جسے 1868ء میں دریافت کیا گیا لیکن اس میں کی گئی مصوری کی نشاندہی دریافت کے 11 برس بعد ایک 5 سالہ لڑکی نے کی۔ اس کے والد مارسیلینو ڈی ساؤٹولا نے اس مقام کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنے نتائج کو شائع کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان غاروں میں کی گئی مصوری پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ تب اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا لیکن اس کی موت کے بعد اس امر کی تصدیق ہو گئی اور اسے تسلیم کر لیا گیا۔ 
یہاں 36 ہزار برس تک قدیم مصوری موجود ہے۔ یہاں کی گئی مصوری یورپ میں غاروں میں کی گئی سب سے قدیم انسانی مصوری ہے۔ 
غار کی کل لمبائی 33 سو فٹ ہے۔ اس کے راستے بھول بھلیوں کی طرح ہیں جن میں کئی ''کمرے‘‘ ہیں۔ غار کے فرش سے تقریباً ساڑھے 18 ہزار سے 14 ہزار برس قدیم برتن بھی ملے ہیں۔ اس غار میں جنگلی جانور بھی رہتے رہے ہیں۔یہاں سے اردگرد کی سرسبز پہاڑیوں میں پائی جانے والی جنگلی حیات اور سمندر تک رسائی آسان تھی اس لیے انسانوں نے رہائش کے لیے اسے چنا۔
التامیرا میں ''بیسن‘‘(جنگلی بھینسا)، ہرن، خوک اور گھوڑے کی اعلیٰ مصوری کی گئی ہے۔ فن کاروں نے صرف تین بادامی، سرخ اور سیاہ رنگ استعمال کیے گئے ہیں۔ سیاحوں سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے اس مصوری کی نقول تیار کی گئی ہیں جہاں لوگ جا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

کیا ''جراسک پارک‘‘ حقیقت بننے جا رہا ہے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی صرف فلموں اور افسانوں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، آج حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے مکمل مصنوعی انڈے سے زندہ چوزوں کی پیدائش ممکن بنا کر حیاتیاتی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی کو بعض ماہرین ''حقیقی جراسک پارک‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے معدوم یا ناپید ہوتی انواع کو دوبارہ زندہ کرنے یعنی ''ڈی ایکسٹنکشن‘‘ (De-Extinction) کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت طب، حیاتیات اور زرعی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، ماحولیاتی اور انسانی تحفظ سے متعلق کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔کمپنی ''کولوسل بائیوسائنسز (Colossal Biosciences)، جو برفانی دور کے عظیم الجثہ ''وُولی میمتھ‘‘ (woolly mammoth)کو دوبارہ دنیا میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کے ماہرین نے پہلی بار ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں بغیر خول کے مصنوعی انڈے کو قدرتی انڈے کے ممکنہ حد تک مشابہ بنایا گیا۔ تحقیقی ٹیم نے ابتدائی مرحلے کے پرندوں کے جنین لے کر انہیں مصنوعی خول میں منتقل کیا اور 18 دن تک ان کی افزائش اور نشوؤنما جاری رکھی۔ جب چوزے مکمل طور پر تیار ہو گئے تو وہ اپنے مصنوعی اور محفوظ گھر سے باہر نکل آئے اور اب صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جنوبی جزیرے کے دیو ہیکل ''موآ‘‘ (moa) پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ ناپید پرندہ تقریباً 11.8 فٹ (3.6 میٹر) بلند اور 507 پاؤنڈ (230 کلوگرام) وزنی تھا۔یہ تحقیق مستقبل میں مصنوعی رحم (Artificial Womb)کی تیاری کیلئے بھی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق: یہ آلہ ہر چیز بدل دیتا ہے۔ ہم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ہم انڈے کے خول کے بغیر بھی مکمل پرندے کی افزائش ایک انکیوبیٹر میں کر سکتے ہیں۔ یہ واقعی ایک انقلابی کامیابی ہے۔ زندگی اپنا راستہ خود تلاش کر لیتی ہے۔مصنوعی انڈے کا یہ آلہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ایک مضبوط بیرونی خول پر مشتمل ہے، جسے جالی نما ساخت دی گئی ہے تاکہ یہ حفاظت اور مضبوطی فراہم کر سکے۔ اس تہہ کے اندر سلیکون کی ایک جھلی موجود ہے جو آکسیجن کو نظام کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔گزشتہ چالیس برسوں کے دوران مصنوعی انڈے تیار کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن ان میں خالص آکسیجن کی بڑی مقدار شامل کرنا پڑتی تھی، جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا اور جانوروں کی طویل مدتی صحت متاثر ہوتی تھی۔ اس نئے ڈیزائن میں استعمال ہونے والی نفوذ پذیر جھلی فضا سے آکسیجن کو قدرتی انداز میں انڈے کے اندر منتقل ہونے دیتی ہے۔ یہ عمل حقیقی انڈوں میں موجود باریک سوراخوں کے ذریعے آکسیجن کے داخل ہونے کے قدرتی نظام سے مشابہ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم قدرت کے نظام کی نقل کیسے کریں اور اسے مزید بہتر کیسے بنائیں؟ مصنوعی انڈوں کے بنیادی انجینئرنگ مسئلے کو پہلی بار حل کیا گیا ہے۔مصنوعی انڈے میں اوپر کی جانب ایک ''کھڑکی‘‘ بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے جنین کی افزائش کے ہر مرحلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ آلہ عام تجارتی انکیوبیٹرز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے، اور ہر سائز کے انڈوں کیلئے ڈھالا جا سکتا ہے۔اس عمل کے آغاز میں ماہرین نے مرغیوں کے اصلی انڈے فوراً اس وقت جمع کیے جب وہ دیے گئے تھے۔ ایمبریالوجی کی ٹیم نے ہر انڈے کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان جنینزکا انتخاب کیا جن کے کامیابی سے نکلنے کے امکانات زیادہ تھے۔ اس کے بعد انڈے کو نہایت احتیاط سے توڑا گیا اور اس کے اندر موجود مواد کو مصنوعی انڈے میں منتقل کر دیا گیا، جسے بعد ازاں ایک انکیوبیٹر میں رکھا گیا۔ سائنس دانوں نے ایک خاص غذائی مادہ بھی شامل کیا جس نے جنین کی افزائش جاری رکھنے میں مدد دی۔ تقریباً 18 دن بعد چوزے نے انڈے پر چونچ مارنا شروع کی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ باہر آنے کیلئے تیار ہے۔ باہر نکلنے کے بعد تمام چوزوں کو گروپوں میں رکھا گیا، پھر انہیں ایک ''گریجویشن پین‘‘ یعنی کھلے تربیتی حصے میں منتقل کیا گیا اور آخرکار ایک بڑے فارم میں بھیج دیا گیا۔کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق اس ڈیزائن سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا میں پرندوں کی نصف سے زیادہ اقسام کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں لیبارٹریوں میں سینکڑوں یا ہزاروں انڈوں کے ذریعے نایاب اور شدید خطرے سے دوچار انواع کی افزائش کی جا رہی ہو۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کا مصنوعی رحم تعمیر کیا جائے گا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ دیو ہیکل پرندے ''موآ‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا منصوبہ انکیوبیشن کے ایسے چیلنج سے دوچار ہے جو ان کے دیگر منصوبوں سے بالکل مختلف ہے۔ اندازوں کے مطابق موآ کا انڈہ ایک مرغی کے انڈے سے تقریباً 80 گنا بڑا اور ایمو کے انڈے سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ حجم رکھتا تھا، جس کی وجہ سے موجودہ دور کے کسی بھی پرندے کو اس کے متبادل میزبان کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں موجود کوئی زندہ پرندہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اس جنین کی پرورش کر سکے، اسی لیے اس معدوم نسل کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے بڑے سائز کے مصنوعی انڈے کی تیاری انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ کولوسل بائیوسائنسز ''موآ‘‘ کی ہڈیوں سے حاصل کیے گئے جینز استعمال کرتے ہوئے جدید پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرے گی تاکہ وہ معدوم ''موآ‘‘ سے انتہائی مشابہ ہو جائیں۔ یہ پرندہ تقریباً 500 سے 600 سال قبل نیوزی لینڈ سے ناپید ہو گیا تھا۔یہی تکنیک اس سے پہلے سرمئی بھیڑیوں کو قدیم ''ڈائر وولف‘‘ سے مشابہ جانوروں میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ ترمیم شدہ جنینز کو بعدازاں مصنوعی انڈوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں وہ نشوؤنما پا کر بالآخر انڈے سے باہر آئیں گے۔معدوم ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن منصوبہاپنی نوعیت کے مشہور ترین معدوم جانوروں میں شمار ہونے والا ڈوڈو پرندہ انسانوں کے بے رحمانہ شکار کے باعث صرف چند دہائیوں میں ہمیشہ کیلئے دنیا سے ختم ہوگیا تھا۔اب سائنس دان اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے اس معدوم پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور وہ اس مشہور پرندے کو اس کے اصل وطن ماریشس واپس لانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اور جینوم ایڈیٹنگ کی مدد سے ڈوڈو پرندے کی جدید شکل دوبارہ تخلیق کرنے پر کام کر رہی ہے۔ 225 ملین ڈالر سے زائد لاگت والے اس منصوبے کے تحت کمپنی ماریشس سے تقریباً 350 سال قبل یورپی مہم جوؤں کے ہاتھوں معدوم ہونے والے ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سائنس دان پہلے ہی ہڈیوں کے نمونوں اور دیگر باقیات کی مدد سے اس معدوم پرندے کے مکمل جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔اگلا مرحلہ اس کے قریبی زندہ رشتہ دار پرندے''Nicobar pigeon‘‘کے جلدی خلیے میں جینیاتی تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ اس کا جینوم معدوم ڈوڈو کے جینوم سے مطابقت اختیار کر سکے۔

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

برش کب کرنا بہتر، ماہرین نے معمہ سلجھا دیا روزمرہ زندگی کی چھوٹی عادات بھی ہماری صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، اور دانت صاف کرنے کا درست وقت بھی انہی میں سے ایک اہم سوال ہے۔ اکثر لوگ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ دانت ناشتے سے پہلے برش کیے جائیں یا بعد میں۔ ماہرین دندان سازی کے مطابق اس معمولی دکھائی دینے والے فیصلے کے پیچھے سائنسی وجوہات موجود ہیں، جو نہ صرف دانتوں کی حفاظت بلکہ مجموعی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق اور ماہرین کی رائے نے اس دیرینہ بحث کو ایک نئی جہت دی ہے، جس سے یہ جاننا مزید ضروری ہو گیا ہے کہ درست طریقہ کیا ہے اور ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔کیا آپ کو دانت ناشتے سے پہلے برش کرنے چاہئیں یا بعد میں؟ ایک دندان ساز نے اس بحث کو بالآخر ختم کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط طریقہ اختیار کرنے سے دانتوں کے اینامل کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا پسند کرتے ہیں، ڈاکٹر دیپا چوپڑا وضاحت کرتی ہیں کہ دراصل صبح سب سے پہلے دانت صاف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ناشتے سے پہلے برش کرنے سے وہ پلاک اور بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں جو رات بھر دانتوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سے دانتوں پر فلورائیڈ کی ایک حفاظتی تہہ بھی بن جاتی ہے، جو کھانا کھانے سے پہلے دانتوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا صارفین کیلئے حیران کن ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا ہی درست طریقہ ہے۔ ٹک ٹاک پر ایک صارف نے لکھا کہ میں پہلے ناشتہ کرتا ہوں اور پھر دانت صاف کرتا ہوں، یہ زیادہ سمجھ میں آنے والا طریقہ لگتا ہے۔ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ناشتے سے پہلے برش کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے، آپ کی سانس سارا دن سیریل اور دودھ جیسی ہی رہے گی۔ڈاکٹر چوپڑا، جو وائٹ ڈینٹل میں کام کرتی ہیں، وضاحت کرتی ہیں کہ ناشتے کے فوراً بعد دانت صاف کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ نے کھٹے (acidic) کھانے جیسے پھل یا پھلوں کا رس لیا ہو۔ یہ چیزیں عارضی طور پر دانتوں کے اینامل کو نرم کر دیتی ہیں، اور اس وقت برش کرنے سے اینامل آسانی سے گھس سکتا ہے۔ ناشتے سے پہلے دانت صاف کرنا دراصل تیزاب اور چینی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جو ناشتے کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔ڈاکٹر کے مطابق جب آپ پہلے برش کرتے ہیں تو آپ اپنے دانتوں پر ایک اضافی حفاظتی تہہ بنا دیتے ہیں، جو کھٹے یا میٹھے کھانوں سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو ڈاکٹر چوپڑا مشورہ دیتی ہیں کہ کم از کم 30 منٹ کا وقفہ ضرور دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آپ کے اینامل کو تیزاب کے اثر کے بعد بحالی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ فوراً برش کرتے ہیں تو آپ دراصل نرم شدہ اینامل کو صاف کر رہے ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ حساسیت اور کٹاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم 30 منٹ انتظار کرنا ضروری ہے۔ اس سے آپ کے لعاب (saliva) کو وقت ملتا ہے کہ وہ تیزابیت کو کم کر دے اور اینامل کو دوبارہ سخت ہونے کا موقع ملتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''جاوا‘‘ پروگرامنگ کی لانچنگ23مئی 1995ء میں ''جاوا‘‘ پروگرامنگ منظر عام پر آئی۔ ''جاوا‘‘ ایک اعلیٰ سطحی پروگرامنگ لینگوئج ہے۔ اس کا مقصد پروگرامرز کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ پروگرام کو کہیں بھی لکھا اور چلایا جاسکے یعنی مرتب کردہ جاوا کوڈ ان تمام پلیٹ فارمز پر چل سکتا ہے جو جاوا کو دوبارہ کمپائل کرنے کی ضرورت کے بغیر سپورٹ کرتے ہیں۔ ''جاوا‘‘ ایپلی کیشنز کو عام طور پر بائی کوڈ پر مرتب کیا جاتا ہے جو کمپیوٹر کے بنیادی اصولوں سے قطع نظر کسی بھی جاوا ورچوئل مشین (JVM) پر چل سکتا ہے۔چین تبت معاہدہسترہ نکاتی معاہدہ، سرکاری طور پر مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی مقامی حکومت کے درمیان ایک امن معاہد ہ تھا۔یہ معاہدہ عوامی جمہوریہ چین کے اندر تبت کی حیثیت سے متعلق ایک اہم دستاویز تھی۔ اس پر 23 مئی 1951ء کو مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی حکومت نے بیجنگ میں دستخط کیے تھے۔ 24 اکتوبر 1951 ء کو ٹیلی گراف کی شکل میں معاہدے کی توثیق کی گئی۔ تقریباً آٹھ سال بعد 18 اپریل 1959ء کو اس معاہدے کو مسترد کر دیا گیا اور ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔کچھوؤں کا عالمی دن23مئی کو کچھوئوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد کچھوے کی اہمیت اوراس کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ کچھوے دیگر جانوروں سے اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ ان میں پانی اور خشکی دونوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کچھوے قدیم وقتوں سے آج تک مختلف ماحول میں اور حادثوں کے باوجود اپنی نسل کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھوؤں نے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ اپنی عادات بھی بدلی ہیں۔ایک کچھوے کی اوسط عمر بھی بہت طویل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔نیویارک پبلک لائبریری کا قیام23 مئی 1895 ء کو آسٹر اور لینوکس لائبریریوں اور ٹلڈن ٹرسٹ کے وسائل کو یکجاں کر کے ایک نیاادارہ قائم کیا گیا جسے دی نیویارک پبلک لائبریری (The New York Public Library) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لائبریری کا شمار دنیا کی قدیم لائبریریز میں کیا جاتا ہے ۔یہ امریکہ کی دوسری اور دنیا کی چوتھی سب سے بڑی لائبریری ہے۔اس میں موجود کتابوں کی تعداد تقریباً52ملین ہے ۔ امریکہ کی ریاست بننے کا اعزاز1788ء میں جنوبی کیرولائنا نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی توثیق کرنے والی آٹھویں ریاست بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ تاریخی اقدام امریکی وفاقی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ امریکی آئین 1787ء میں تیار کیا گیا تھا تاکہ نوآزاد ریاستوں کو ایک مضبوط مرکزی حکومت کے تحت متحد کیا جا سکے۔ جنوبی کیرولائنا کی منظوری نے آئین کی قبولیت کو مزید تقویت دی اور دیگر ریاستوں کو بھی اس کی توثیق کی ترغیب ملی۔ اس وقت امریکہ ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہا تھا، اور اس آئین نے ملک میں قانون، حکومت اور شہری حقوق کے اصول متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

انٹارکٹکا کی برف میں خطرناک کمی  دنیا کیلئے نیا موسمیاتی خطرہ

انٹارکٹکا کی برف میں خطرناک کمی دنیا کیلئے نیا موسمیاتی خطرہ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں قدرتی نظام تیزی سے بدل رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہیں، کہیں بے وقت بارشیں اور سیلاب تباہی مچا رہے ہیںجبکہ قطبی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق نے انٹارکٹکا کے سمندری برفانی علاقے کے بارے میں ایک نہایت تشویشناک انکشاف کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق انٹارکٹکا کی سمندری برف میں اچانک اور غیر معمولی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ شمالی قطب یعنی آرکٹک کے مقابلے میں انٹارکٹکا کی برف نسبتاً مستحکم ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا تھا لیکن جنوبی قطب کے گرد موجود سمندری برف کئی دہائیوں تک زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ تاہم 2015ء کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔ چند ہی برسوں میں برف کا رقبہ تیزی سے کم ہونے لگا اور 2023ء میں یہ کمی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔سائنسدانوں کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بڑی وجہ سمندر کی گہرائی میں موجود گرم پانی ہے۔ عام حالات میں انٹارکٹکا کے اردگرد سطح پر ٹھنڈا اور نسبتاً کم نمکین پانی موجود رہتا ہے جو نیچے موجود گرم پانی کو اوپر آنے سے روکے رکھتا ہے لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ مسلسل بدلتے موسمی نظام، تیز ہواؤں اور سمندری طوفانوں نے اس قدرتی رکاوٹ کو کمزور کر دیا ہے جس کے باعث گہرائی میں موجود گرم پانی سطح تک پہنچنے لگا ہے۔جب یہ گرم پانی سطح کے قریب آیا تو اس نے سمندری برف کو نیچے سے پگھلانا شروع کر دیا۔ نتیجتاً برف کی موٹائی اور پھیلاؤ کم ہونے لگے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ایک خطرناکFeedback Loop شروع ہو چکا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی زیادہ برف پگھلے گی اتنا ہی سمندر سورج کی حرارت جذب کرے گا اور جتنی زیادہ حرارت جذب ہوگی، اتنی ہی مزید برف پگھلے گی۔ یوں یہ عمل خود کو مسلسل تیز کرتا چلا جائے گا۔یہ صورتحال صرف انٹارکٹکا تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔قطبی برف زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے جس سے زمین نسبتاً ٹھنڈی رہتی ہے۔ لیکن جب برف کم ہو جاتی ہے تو نیچے موجود گہرا سمندر زیادہ حرارت جذب کرنے لگتا ہے جس سے عالمی حدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔انٹارکٹکا کی سمندری برف سمندری حیات کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہاں موجود برفانی ماحول لاکھوں جانداروں کی زندگی کا حصہ ہے۔ خاص طور پر کرِل نامی چھوٹے سمندری جاندار اس نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ مچھلیاں، سیل، وہیل اور پینگوئن انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر برف کم ہوتی رہی تو یہ پورا ایکو سسٹم متاثر ہو سکتا ہے۔تحقیق میں پینگوئنز کی مثال بھی دی گئی ہے جن کی افزائش نسل سمندری برف پر ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی مقامات پر برف وقت سے پہلے ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں پینگوئن بچے سمندر میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مستقبل میں بعض اقسام کے پینگوئن شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں کے بہت سے موسمیاتی ماڈلز بھی اس تیز رفتار تبدیلی کی پیش گوئی نہیں کر سکے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا موسمی نظام شاید ہماری توقعات سے کہیں زیادہ حساس اور غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ اگر انٹارکٹکا میں برف پگھلنے کا عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔سمندری برف میں کمی کا ایک بڑا نتیجہ سمندری سطح میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اگرچہ سمندری برف خود پانی میں تیر رہی ہوتی ہے اور اس کے پگھلنے سے فوری طور پر سمندر کی سطح زیادہ نہیں بڑھتی لیکن یہ برف زمینی گلیشیئرز کے لیے حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتی ہے۔ جب سمندری برف کمزور پڑتی ہے تو انٹارکٹکا کے بڑے برفانی تودے زیادہ تیزی سے سمندر کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔پاکستان جیسے ممالک بھی اس عالمی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ اگرچہ انٹارکٹکا ہم سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے لیکن موسمیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ پاکستان میں شدید گرمی، غیر متوقع بارشوں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور زرعی مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔اس تمام صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو کاربن کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، جنگلات کے تحفظ اور ماحول دوست پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو زیادہ گرم،غیر مستحکم اور خطرناک دنیا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انٹارکٹکا کی برف میں اچانک کمی پوری انسانیت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ قدرتی توازن بگڑ رہا ہے۔

 شہد کی مکھیوں کا عالمی دن

شہد کی مکھیوں کا عالمی دن

ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں شہید کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد شہد کی مکھیوں اور دیگر پولینیٹرز یعنی پولن افشانی کرنے والے کیڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اینٹون جانشا کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منتخب کیا گیا تھا‘ جو جدید مگس بانی کے اولین علمبردار وں میں شمار ہوتے ہیں۔ جانشا 1734ء میں سلووینیا میں پیدا ہوئے جہاں شہد کی مکھیوں کو پالنا ایک اہم زرعی سرگرمی ہے جس کی ایک طویل روایت ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ایف اے او) کے مطابق شہد کی مکھیاں دنیا کے غذائی نظام، زرعی پیداوار اور حیاتیاتی تنوع کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر شہد کی مکھیوں کی تعداد میں کمی جاری رہی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی خوراک، معیشت اور ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔سائنسی تحقیق کے مطابق شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرتے وقت ایک پودے سے دوسرے پودے تک پولن منتقل کرتی ہیں۔ یہی عمل پھلوں، سبزیوں، بیجوں اور کئی فصلوں کی افزائش کے لیے ضروری ہے۔ایف اے او کے مطابق دنیا کی تقریباً 75 فیصد غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک پولینیٹرز پر انحصار کرتی ہیں۔ ان میں سیب، آم، بادام، سورج مکھی، ٹماٹر، کھیرا، تربوز اور کافی جیسی فصلیں شامل ہیں۔ اگر شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو ان فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پھلوں اور تیل دار فصلوں کی بہتر پیداوار میں شہد کی مکھیوں کا اہم کردار ہے۔ خاص طور پر آم، کینو، سورج مکھی اور سرسوں کی فصلیں پولینیشن سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔شہد کی صنعت اور پاکستانپاکستان میں شہد کی پیداوار گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ پوٹھوہار، چکوال، سوات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقے قدرتی شہد کے لیے مشہور ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود مختلف اقسام کے جنگلی پودے شہد کی اعلیٰ کوالٹی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔شہد کی مکھی پالنے کوApiculture کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صنعت ہے جس میں کم سرمایہ کاری کے ساتھ اچھا منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں نوجوان اس شعبے میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔سائنسی ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں کی موجودگی صرف شہد تک محدود نہیں بلکہ یہ زرعی پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں کسان فصلوں کے قریب شہد کی مکھیاں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔شہد کی مکھیوں کو درپیش خطراتدنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی تعداد کم ہونے پر سائنسدان تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی کئی بڑی وجوہات ہیں مثال کے طور پرزرعی ادویات،موسمیاتی تبدیلی،جنگلات کی کمی اورآلودگی۔فصلوں پر استعمال ہونے والے کیمیکل اور جراثیم کش ادویات شہد کی مکھیوں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ بعض زہریلے سپرے ان کی موت کا سبب بھی بنتے ہیں۔درجہ حرارت میں اضافہ، بے وقت بارشیں اور خشک سالی پھولوں کے موسم کو متاثر کرتی ہیں۔ جس سے شہد کی مکھیوں کو خوراک کم ملتی ہے۔شہروں اور دیہات میں درختوں اور پھولدار پودوں کی کمی نے ان کے قدرتی ماحول کو محدود کر دیا ہے۔فضائی آلودگی بعض اوقات پھولوں کی خوشبو کو متاثر کرتی ہے جس سے شہد کی مکھیاں خوراک تلاش کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے زرعی سپرے کے محفوظ استعمال کی تربیت،پھولدار درختوں اور پودوں کی شجرکاری،شہد کی مکھی پالنے والوں کو جدید تربیت ،قدرتی جنگلات اور سبز علاقوں کا تحفظ اورسکولوں اور کالجوں میں ماحولیاتی آگاہی پروگرام کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ زرعی تحقیقاتی اداروں کو نئی اقسام کی شہد کی مکھیوں اور بہتر پولینیشن ٹیکنالوجی پر کام کر نا چاہیے تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔شہد کی مکھی ایک چھوٹا سا جاندار ضرور ہے لیکن اس کا کردار پوری دنیا کے غذائی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ان کا تحفظ نہایت اہم ہے۔ اگر شہد کی مکھیاں محفوظ رہیں گی تو زرعی پیداوار، ماحول اور معیشت بھی مضبوط ہوں گے۔عالمی یومِ شہد کی مکھی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتی ماحول کی حفاظت صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال بھی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کیوبا کی آزادی20 مئی 1902ء کو کیوبا نے باضابطہ طور پر آزادی حاصل کی۔ اس سے پہلے کیوبا پر سپین کی حکومت تھی، لیکن امریکی ہسپانوی جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ کئی برسوں کی سیاسی کشمکش اور جدوجہد کے بعد آخرکار کیوبا ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔کیوبا کی آزادی لاطینی امریکہ کی تاریخ میں اہم سنگِ میل تھی۔ اگرچہ آزادی کے بعد بھی امریکہ کا اثر و رسوخ کافی عرصے تک برقرار رہا لیکن اس واقعے نے کیوبا کے عوام میں قومی شناخت اور خودمختاری کا جذبہ مستحکم کیا۔ بعد میں یہی سیاسی حالات 1959ء کے کیوبن انقلاب کی بنیاد بنے، جس کی قیادت فیڈل کاسترو نے کی۔کیوبا کی آزادی کے بعد وہاں جمہوری حکومت قائم کی گئی مگر بیرونی مداخلت کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کے مسائل موجود رہے۔ 20 مئی کو کیوبا کی تاریخ میں آزادی اور قومی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ واسکو ڈے گاما کی ہندوستان آمد 20 مئی 1498ء کو پرتگالی مہم جو واسکو ڈے گاما سمندری راستے سے ہندوستان کے شہر کالی کٹ پہنچا۔ یہ واقعہ دنیا کی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ یورپ سے ہندوستان تک براہ راست سمندری راستہ دریافت ہوا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا تک زمینی راستوں یا عرب تاجروں کے ذریعے پہنچتے تھے جس میں بہت وقت اور خرچ آتا تھا۔ واسکو ڈے گاما کے اس سفر نے عالمی تجارت، سیاست اور نوآبادیاتی نظام کو مکمل طور پر بدل دیا۔واسکو ڈے گاما جولائی 1497ء میں پرتگال سے روانہ ہوا تھا۔ اُس نے افریقہ کے جنوبی کنارے راس امید (Cape of Good Hope) کو عبور کیا اور بحرِ ہند کے ذریعے ہندوستان پہنچا۔ اس کامیابی کے بعد پرتگال کو مصالحہ جات کی تجارت میں بے پناہ فائدہ حاصل ہوا۔ یورپی طاقتیں براہِ راست ہندوستان اور ایشیا سے تجارت کرنے لگیں۔ بعد میں پرتگالیوں نے گوا سمیت کئی علاقوں میں اپنی حکومت بھی قائم کی۔اس واقعے کے بعد یورپی اقوام مثلاً برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی ایشیا کی طرف متوجہ ہوئیں۔ اس طرح نوآبادیاتی دور کا آغاز ہوا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک ایشیا اور افریقہ کی سیاست پر اثر ڈالا۔ مورخین کے مطابق 20 مئی 1498ء عالمی تاریخ میں تجارت، بحری سفر اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے دور کی شروعات تھی۔ نیلی جینز کا پیٹنٹ 20 مئی 1873ء کو Levi Strauss اور Jacob Davisنے نیلی جینز کے ڈیزائن کا باقاعدہ پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ بظاہر ایک سادہ تجارتی واقعہ تھا لیکن بعد میں یہ دنیا کی سب سے مشہور لباس صنعتوں میں شمار ہونے لگا۔ ابتدا میں یہ پتلون مزدوروں، کان کنوں اور کسانوں کے لیے تیار کی گئی تھی کیونکہ انہیں مضبوط اور دیرپا لباس کی ضرورت تھی۔جیکب ڈیوس نے خیال پیش کیا کہ پتلون کے کمزور حصوں، خاص طور پر جیبوں کے کناروں، پر تانبے کے Rivets لگائے جائیں تاکہ کپڑا جلد نہ پھٹے۔ لیوائی سٹراس نے اس خیال کو مالی مدد فراہم کی اور دونوں نے مل کر پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہی ڈیزائن بعد میں بلو جینزکے نام سے پوری دنیا میں مقبول ہوگیا۔اب جینز صرف مزدوروں کا لباس نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور عوام کا پسندیدہ لباس بن گئی، جس نے ایک کلچر کو جنم دیا۔ ہالی وڈ فلموں اور امریکی ثقافت نے بھی اس لباس کو عالمی شہرت دی۔ آج دنیا بھر میں مختلف رنگوں اور انداز کی جینز پہنی جاتی ہے لیکن اس کی اصل بنیاد 20 مئی 1873ء کے اسی پیٹنٹ میںہے۔ یہ واقعہ صنعتی ترقی، فیشن اور عالمی ثقافت کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ایک عام کام کے لباس نے بعد میں فیشن کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ آشوٹز کیمپ میں قیدیوں کی آمد20 مئی 1940ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے حراستی کیمپ آشوٹز میں پہلے قیدی لائے گئے۔ یہ کیمپ پولینڈ میں قائم کیا گیا تھا جہاںلاکھوں افراد خصوصاً یہودیوں کو قید کیا گیا اور قتل کیا گیا۔آشوٹز کیمپ ابتدا میں سیاسی قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا لیکن جلد ہی یہ نازی نسل پرستانہ پالیسیوں کا مرکز بن گیا۔ یہاں گیس چیمبرز بھی بنائے گئے جہاں قیدیوں کو اجتماعی طور پر قتل کیا جاتا تھا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً گیارہ لاکھ افراد اس کیمپ میں مارے گئے جن میں زیادہ تر یہودی تھے۔ اس کے علاوہ پولش شہری، خانہ بدوش، معذور افراد اور جنگی قیدی بھی اس حراستی مرکز میں قید رہے۔20 مئی 1940ء کی تاریخ اس لیے اہم ہے کیونکہ اسی دن سے آشوٹز کے ظلم و بربریت کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں اتحادی افواج نے 1945ء میں اس کیمپ کو آزاد کروایا، اور دنیا کے سامنے نازی مظالم کی ہولناک حقیقت آئی۔یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ چارلس لنڈبرگ کی تاریخی پرواز20 مئی 1927ء کو امریکی ہوا باز چارلس لنڈ برگ نے دنیا کی پہلی اکیلی اور بغیر رکے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے والی پرواز شروع کی۔ وہ نیویارک سے ایک چھوٹے جہاز میں روانہ ہوا اور تقریباً 33 گھنٹے بعد پیرس پہنچا۔ یہ ہوا بازی کی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔اس زمانے میں ہوائی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور طویل فاصلے کی پروازیں انتہائی خطرناک سمجھی جاتی تھیں۔ لنڈبرگ نے اکیلے سفر کرکے یہ ثابت کیا کہ طویل فضائی سفر ممکن ہے۔ اس کامیابی کے بعد پوری دنیا میں ہوائی سفر کے شعبے میں زبردست ترقی ہوئی۔ لوگوں کا اعتماد بڑھا اور نئی ایئر لائنز قائم ہونے لگیں۔لنڈبرگ کی کامیابی نے امریکہ کو بھی عالمی سطح پر سائنسی اور تکنیکی طاقت کے طور پر نمایاں کیا۔ اسے عالمی شہرت ملی اور وہ قومی ہیرو بن گیا۔ اس کے جہاز کو آج بھی امریکہ کے عجائب گھر میں محفوظ رکھا گیا ہے۔20 مئی 1927ء کی یہ پرواز جدید فضائی سفر کی بنیادوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ آج ہوائی سفر عام بات ہے، لیکن اس کامیابی نے اس میدان میں نئی راہیں کھولیں اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔