طاعون: علامات اور علاج
اسپیشل فیچر
حال ہی میں چین میں ببونک (خیارکی) طاعون کے کیسز کی اطلاعات آئی ہیں لہٰذا طاعون کے بارے میں جان کاری اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس لیے طاعون کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔
طاعون (پلیگ) بیکٹیریا سے ہونے والی ایک خطرناک انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر پسوؤں سے پھیلتی ہے۔ طاعون کو پھیلانے والا جرثومہ ''یرسینیا پیسٹس‘‘ ان چوہوں میں رہتا ہے جو افریقہ، ایشیا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ انسانوں میں یہ جرثومہ اس پسو کے کاٹنے سے داخل ہوتا ہے جو انفیکٹڈ ہو یا اس جانور سے جو انفیکٹڈ ہو اور انسان اس کے قریب جائے۔
عہد وسطیٰ میں اسے ''بلیک ڈیتھ‘‘ یعنی سیاہ موت کا نام دیا جاتا تھا۔ آج کل دنیا میں طاعون کے کیسز بہت کم ہو گئے ہیں۔ اگر طاعون کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے نہ کیا جائے تو یہ مہلک ہو سکتا ہے۔ طاعون کے نتیجے میں عام طور پر لمف نوڈز پھول جاتے ہیں، جنہیں ببویز کہا جاتا ہے۔ یہ بغل، گردن یا ران میں پیدا ہوتے ہیں۔ طاعون کی مہلک ترین قسم پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور یہ ایک سے دوسرے فرد میں پھیل سکتی ہے۔ البتہ اس قسم کا طاعون بہت کم ہوتا ہے۔
اقسام اور علامات:طاعون کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ببونک، سپٹیسیمک اور نمونک طاعون۔ قسم کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ جسم کا کون سا حصہ متاثر ہوا ہے۔
ببونک طاعون: سب سے عام ہے۔ اس کا نام پھولے ہوئے لمف نوڈز (ببویز) سے اخذ کیا گیا ہے جو انفیکشن کے پہلے ہفتے میں سوج جاتے ہیں۔ ببویز ران، بغل یا گردن میں، مرغی کے انڈے جتنے اور چھونے پر نرم اور پائیدار محسوس ہو سکتے ہیں۔ ببونک طاعون کی دیگر علامات میں شامل ہیں؛ اچانک بخار ہونا اور ٹھنڈ لگنا۔ سردرد۔ تھکاوٹ یا بے قراری۔ پٹھوں میں درد۔
سپٹیسیمک طاعون: سپٹیسیمک طاعون اس وقت ہوتا ہے جب طاعون کا بیکٹیریا دوران خون میں تقسیم در تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں؛ بخار اور ٹھنڈ لگنا۔ بہت زیادہ کمزوری، پیٹ میں درد۔ اسہال اور قے۔ منہ، ناک یا پاخانے سے خون آنا۔ صدمہ یا جھٹکا۔ خصوصاً انگلیوں، پاؤں کے پنجوں اور ناک کی بافتوں کا سیاہ ہونا یا مر جانا۔
نمونک طاعون: نمونک یا نمونیائی طاعون پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ دیگر دو کی نسبت یہ طاعون بہت کم ہوتا ہے لیکن سب سے خطرناک ہے کیونکہ یہ ایک سے دوسرے فرد میں کھانسی سے نکلنے والے چھینٹوں سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی علامات انفیکشن کے چند گھنٹوں بعد ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ علامات میں شامل ہیں؛ کھانسی اور خونی بلغم۔ سانس لینے میں دشواری۔ متلی اور قے۔ شدید بخار۔ سردرد۔ کمزوری۔ سینے میں درد۔
نمونک طاعون تیزی سے بیمار کرتا ہے اور دو دن کے اندر اس سے سانس بند ہو سکتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے پر ایک روز کے اندر ہی نمونک طاعون کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے شروع کر دیا جاتا ہے ورنہ جان جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر کے پاس کب جانا چاہیے: اگر آپ اس علاقے میں بیمار پڑ جائیں جہاں طاعون کی اطلاعات ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔ علاج سے آپ خطرناک پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں ورنہ موت کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا میں متعدد مغربی اور جنوب مغربی ریاستوں، بالخصوص نیو میکسیکو، اریزونا، کیلی فورنیا اور کولوراڈو، میں طاعون کی منتقلی کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ دنیا میں طاعون افریقہ کے دیہی اور نیم دیہی علاقوں، (خاص طور پر مڈغاسکر)، جنوبی امریکا اور ایشیا میں زیادہ عام ہے۔
وجوہات: طاعون کا بیکٹیریا یرسینیا اس پسو کے کاٹنے سے منتقل ہوتا ہے جو متاثرہ جانور کو کاٹ چکا ہو۔ ان جانوروں میں شامل ہیں؛
مختلف اقسام کے چوہے، گلہری، خرگوش، سگ مرغزار، امریکی گلہری (Chipmunk)۔
اگر متاثرہ جانور کے خون سے ربط ہوتو بیکٹیریا پھٹی ہوئی جلد سے بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ پالتو بلیاں اور کتے بھی متاثرہ پسو کے کاٹنے یا طاعون زدہ چوہے کھانے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والانمونک طاعون متاثرہ جانور یا انسان کی کھانسی سے باہر نکلنے والے چھینٹوں کو سانس کے ذریعے اندر لے جانے سے منتقل ہو سکتا ہے۔
خطرہ: طاعون میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ صرف چند ہزار افراد طاعون سے متاثر ہوتے ہیں۔ البتہ خطرے کا انحصار اس امر پر خاصا ہوتا ہے کہ آپ کس علاقے میں ہیں۔
مقام: طاعون ان دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں زیادہ عام ہوتا ہے جو گنجان آباد ہوں، جہاں نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہو اور جہاں چوہے زیادہ پائے جاتے ہوں۔ طاعون کے سب سے زیادہ کیسز افریقہ، خصوصاً مڈغاسکر میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم ایشیا اور جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں بھی طاعون کے مریضوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اگرچہ طاعون کی اطلاعات خال خال آتی ہیں لیکن مغربی اور جنوب مغربی ریاستیں، خاص طور پر میکسیکو، اریزونا، کیلی فورنیا اور کولوراڈو اس سے متاثر ہوتی ہیں۔
ملازمت: ماہرین امراض حیوانات اور ان کے معاون عملے کو طاعون سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ پالتو بلیوں اور کتوں کا علاج کرتے رہتے ہیں۔ یہ جانور طاعون سے متاثرہ ہو سکتے ہیں۔ ان کام کرنے والوں کو بھی زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو طاعون سے متاثرہ جانوروں کے علاقوں میں جاتے ہیں۔
شوق: وہ علاقے جہاں کے جانور طاعون سے متاثر ہوں وہاں کیمپنگ، شکار یا ہائیکنگ کرنے والوں کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔
مسائل: ببونک طاعون کا اینٹی بائیوٹکس سے مناسب علاج ہو تو جان بچ سکتی ہے۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں موت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
طاعون سے گینگرین یا فسادِ نسیج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انگلیوں اور پاؤں کے پنجوں میں خون کی چھوٹی چھوٹی شریانیوںمیں خون کے لوتھرے جمنے سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور اس سے بافتیں مر جاتی ہے۔ اگر انگلیوں اور پنجوں کی بافتوں کا ایک حصہ یو ں متاثر ہو تو انہیں کاٹنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے سرسام بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ عام نہیں۔ سرسام دماغ اور حرام مغز کے گرد جھلی میں سوزش سے ہوتا ہے۔
بچاؤ:طاعون کی کوئی مؤثر ویکسین موجود نہیں، لیکن سائنس دان اسے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس اس کی انفیکشن سے بچاؤ فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر آپ اس علاقے میں ہیں تو مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر اپنائیں؛
ایسے گھر میں رہیں جہاں چوہے نہ آ سکیں۔ ان کے چھپنے کے مقامات مثلاً جھاڑیاں، کوڑا کرکٹ یا پتھر وغیرہ ہٹا دیں۔ چوہوں کے کھانے کی چیزیں باہر نہ پھینکیں۔
اپنے پالتو جانوروں کو پسوؤں سے محفوظ رکھیں اور اس سلسلے میں مشورے کے لیے ماہرحیوانات سے رابطہ کریں۔
متاثرہ جانوروں کو ہینڈل کرتے ہوئے دستانے پہنیں، اس سے نقصان دہ بیکٹیریا کا جلد سے رابطہ نہیں ہو گا۔
متاثرہ علاقوں میں یا جہاں چوہے زیادہ ہوں باہر نکلتے وقت بچوں اور پالتو جانوروں پر نظر رکھیں اور حشرات الارض کو بھگانے والے لوشن استعمال کریں۔
(ماخذ: ''میوکلینک ڈاٹ کام‘‘)