تاریخ کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟ تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں اپنے ماضی اور ثقافت کا پتہ چلتا ہے
اسپیشل فیچر
تاریخ کے مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہمیں اپنے ماضی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور اس کے بدلے ہمیں اپنے حال کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے ہمیں اپنی ثقافت کی بنیاد کا پتا چلتا ہے اور عام طور پر ہمیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اسی کے ذریعے ہمیں مختلف ثقافتوں کے بارے میں بہت کچھ معلومات ملتی ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ اچھی شہریت کیلئے ضروری ہے۔ بعض اوقات شہریت کی تاریخ کے وکالت کرنے والے یہ امید کرتے ہیں کہ قومی شناخت کو تاریخ کے ذریعے اجاگر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کے ان کامیاب لوگوں کا ذکر بار بار کیا جائے جن کے کارناموں سے نسلیں متاثر ہوئیں۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوان بہت متاثر ہوں گے اور وہ بھی چاہیں گے کہ ایسا کچھ کیا جائے کہ تاریخ میں اُن کا نام درج ہو جائے۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوانوں کو ان حقائق کے بارے میں بھی پتہ چلے گا جو چھپائے گئے ہیں۔ انہیں ان لوگوں کے بارے میں بھی علم ہوگا جو اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوئے۔
تاریخ کے مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قومی ادارے کیسے وجود میں آئے اور ان کے قیام میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس قسم کی معلومات حاصل کرنے کیلئے تاریخ ایک سٹور ہاؤس کا کام دیتی ہے یعنی اس حوالے سے تمام ڈیٹا تاریخ کے پاس موجود ہے۔ علاوہ ازیں تاریخ کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کس طرح مختلف قوموں کا دوسرے معاشروں سے میل ملاپ (Interaction) ہوا۔ تاریخ کے مطالعے سے ذہن کی عادتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور یہ چیز ایک ذمہ دار عوامی رویئے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔
تاریخ کا تربیت یافتہ طالب علم سکول میں ماضی کے دستیاب مواد پر کیا کام کرتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے ماضی کو دلچسپ دیکھتا ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ مستقل کیا شکل اختیار کرے گا تو پھر اسے تاریخ کا مطالعہ کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ تاریخ ثقافتی آگہی میں اضافہ کرتی ہے اور ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کو اخلاقی طور پر سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ تاریخ پڑھنے سے آپ کو کئی چیزوں پر مہارت حاصل ہو جاتی ہے جنہیں آپ دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے حاصل ہونے والا علم آپ کیلئے نوکری کے مختلف مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ کا مطالعہ لوگوں کو یاد رکھنا، اہم تاریخوں اور جگہوں کے بارے میں علم ہونا ہے۔ یہ تصور کرنا غلط ہے۔ یہ بات زیادہ ضروری ہے کہ اہم واقعات کے بارے میں آپ کو یہ پتہ چلے کہ یہ کیسے وقوع پذیر ہوئے۔ اس لئے مؤرخ ان حقائق پر متفق ہوتے ہیں جن کے اردگرد کوئی تاریخی واقعہ گھوم رہا ہو لیکن پھر چیزوں کی تشریح (Interpretation)مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی صدر جان آف کینڈی کے قتل کا واقعہ لیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ 22نومبر 1963ء کو انہیں ڈلاس میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا لیکن کیا لی ہاروے اوسولڈ اس کے پیچھے تھا؟ اگر ایسا ہے تو کیا وہ اکیلا تھا یا گولی چلانے والا کوئی اور بھی تھا؟ مؤرخ ایسے ہی معاملات پر اپنی زندگی کے کئی برس لگا دیتے ہیں۔
تاریخ پڑھنے والوں کے لئے اپنے کیریئر کا انتخاب کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ کے مطالعے سے وہ اپنے لئے بھی طے کر لیتا ہے کہ اسے کون سا کیریئر اپنانا چاہئے۔ ان میں خارجہ امور کے محکمے، امیگریشن، تمام اقسام کی غیر سرکاری تنظمیں، درس و تدریس، میڈیا، سیاحت، عجائب گھر، لائبریریاں، عوامی تاریخ اور منصوبوں کو درست طریقے سے چلانے والے ادارے شامل ہیں۔
اس بات پر بھی غور کیجئے کہ ماہرین تاریخ دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔پروفیسر سنتیانہ کا یہ قول بہت دفعہ دہرایا جاتا ہے کہ جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھ سکتے اس دن کو دہرانے پر ان کی مذمت کی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار کیا نہیں جا سکتا کہ تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم دنیا کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ تاریخی واقعات اور رحجانات کو سمجھنا، خصوصاً گذشتہ صدی کے حوالے سے اس لئے خوش کن ہے کہ ہم موجودہ واقعات اور رحجانات کی کھل کر توصیف کر سکیں۔ اگر ہم پروفیسر سنتیانہ کے انتباہ پر توجہ دیں تو پھر تاریخ کو یاد رکھنا اور اس سے سبق حاصل کرنا ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے روک سکتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ تاریخ ایک بہت اہم اور قیمتی نصابی مضمون ہے جسے آپ کے بچے کو پڑھنا ہے۔ بچے تاریخ کا مطالعہ کر کے ان ستونوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جن پر مختلف تہذیبوں کی تعمیر کی گئی۔ تاریخ قصوں اور کہانیوں سے بھرپور ہے کچھ متاثر کن ہیں اور کچھ میں آپ کو بدنظمی کی حالت ملتی ہے۔ ایسی صورت حال بھی آپ کو بہت سی معلومات دیتی ہے۔ ابتر صورت حال (Chaotic) ایسے ہی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے خاص عوامل ہوتے ہیں۔ تاریخ پڑھنے کا یہی بنیادی مقصد ہے کہ وہ عوامل کیوں پیدا ہوئے؟ واقعات کا ظہور پذیر ہونا اتنی اہمیت کا حامل نہیں جتنا اس کے محرکات تلاش کرنا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ آپ کو وہ کچھ دیتا ہے جس کی آپ کو ہر قدم پر اشد ضرورت ہے۔