پیٹ کے سرطان کی پیشگی 5 علامتیں

پیٹ کے سرطان کی پیشگی 5 علامتیں

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکڑ سید فیصل عثمان


سرطان کی کوئی قسم اچانک منٹوں میں رونما نہیں ہوتی،اس کی کئی علامتیں وقتاََ فوقتاََ ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان علامتوں کو پہچانے کیسے؟۔کیونکہ بخار، پیٹ درد ، قے، پیٹ میں جلن وغیرہ ایک نہیں کئی امراض کی علامتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ویسے ہی بخار ہو گیا و اور یہ سرطان یا کسی دوسرے مرض کی علامت نہ ہو۔اس لئے ہر مریض کو بیماری کی علامتوں پر اچھی طرح نظر رکھنا چاہئے، اس صورت میں مریض کسی بھی بڑے مرض سے بچ سکتا ہے۔ ایک آدھ ٹیسٹ کرا لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہمارے ہاں بیماریوں کے بڑھنے کی ایک وجہ ٹیسٹوں کی کمی ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کو عام نوعیت کی دوائیں دیتے رہتے ہیں لیکن مناسب تشخیص یعنی ٹیسٹ یا ایکسریز وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے مرض بڑھتے بڑھتے لاعلاج ہو جاتا ہے۔
آج ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ دیگر امراض کی طرح پیٹ کا سرطان بھی دستک دیتا ہے۔''میو کلینک‘‘ کی تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سرطان کی یہ قسم ایک ہلکے سے ٹیومر کی شکل میں جڑ پکڑتی ہے جہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔یہ مکمل طور پر لاعلاج نہیں ہے۔ ابتدائی دورمیں اسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں پیٹ کے سرطان میں مبتلا مریضوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔پیٹ کاسرطان عمومی طور پر پیٹ کے مرکزی حصے میں پھیلتا ہے ،تاہم سرطان کی ایک قسم پیٹ کے بالائی حصے (کارڈیاکے قریب ) میں جنم لیتی ہے اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اس قسم کے سرطان کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی کم و پیش پانچ علامتیں وقتاََ فوقتاََ ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔جو یوں ہیں....پیٹ کی خرابی، وزن میں کمی، پیٹ درد،کم کھانے پر بھی پیٹ بھرا ہوا محسوس ہونا،قے اورسینے کی جلن۔
پیٹ کی خرابی
اسے سمجھنا ذرا مشکل ہے، کیونکہ کسی بھی غلط چیز کے کھانے سے بھی پیٹ خراب ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ سرطان کی اہم علامتوں میں سے ایک ہے۔اگر آپ محسوس کریں کہ پیٹ کچھ زیادہ عرصے کے لئے خراب ہو گیا ہے تو اسے ہلکا مت لیجئے اور فوری ٹیسٹ کرائیے۔
پیٹ بھرا ہوا لگنا اور وزن میں کمی
کھانے سے ہاتھ کھینچنا خاصا مشکل کام ہے۔ البتہ وزن میں کمی کے خواہش مند ہاتھ روک کر کھاتے ہیں،لیکن اگر بھوک مٹ جائے یاخوراک کی طلب میں کمی ہو جائے ، کچھ بھی کھانے کو دل نہ چاہے ، فرد اپنے پیٹ کو بھرا بھرا سا محسوس کرے،ساتھ میں وزن بھی مسلسل کم ہو رہا ہو ،وزن میں کمی کی وجہ بھی سمجھ سے باہر ہو تو سرطان کاٹیسٹ کرنا بہتر رہے گا۔ایک دو نوالے منہ میں ڈالنے کے ساتھ ہی اگر کوئی ''بار بار ‘‘ایسا محسوس کرے کہ اس کا پیٹ بھر گیا ہے تو ڈاکٹڑ سے رجوع کرنا چاہئے ۔ویسے بھوک مٹنے کی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
پیٹ درد
یہ عام شکایت ہے، کئی مرتبہ تو باتھ روم کے چکر لگانے سے ہی دماغ گھوم جاتا ہے آفس میں ہوں تومذاق الگ بنتا ہے۔ناف کے ارد گرد اچانک اور ''بار بار ‘‘ ہونے والے دردکومذاق میں مت لیجئے ۔ کیونکہ یہ درد اس وقت بھی ہوتا ہے جب پیٹ کے اس حصے میں سرطان کا باعث بننے والی سوجن ہو رہی ہو یا مادہ جمع ہو رہا ہو۔
سینے میں جلن
سینے میں جلن یا تیزابیت پاکستان میں بہت ہی عام ہے۔ ہماری تلی ہوئی مرغن غذائوں سے معدے کی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کا آسان علاج موجود ہے۔ان غذائوں سے بد ہضمی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر علاج کے باوجود یہ مرض کم نہ ہو،سینے میں جلن کی شکایت برقرا ررہے تو ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔ یاد رکھیے علاج سے آرام نہ آنے کی صورت میں ہی دوسرے مرض کی پیشگی علامت جان کر ٹیسٹ کرائیے۔
قے آنا
پیٹ سے متلی آنا عام بیماری ہیں۔ اگر اس کی وجوہات سمجھ میں نہ آئیں ،خوراک بھی ایسی نہ لی ہو جو متلی یاقے کا باعث بن سکتی ہو تو پھر مہینے میں ایک یا دو بار بھی متلی آنے پر ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے۔ سرطان کی علامت کی صورت میں قے میں خون کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریخ کے چاندوں کی پُراسرار دنیا

مریخ کے چاندوں کی پُراسرار دنیا

چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کا 5 سالہ جاپانی مشنانسان ہمیشہ سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور زمین سے باہر زندگی کے امکانات تلاش کرنے کا خواہش مند رہا ہے۔ اب جاپان نے اس سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے مریخ کے چاندوں سے نمونے زمین پر لانے کا مشن شروع کیا ہے۔ پانچ سالہ اس مہم کا مقصد مریخ کے دو قدرتی چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، میں سے ایک کے نمونے حاصل کرکے زمین تک پہنچانا ہے۔ یہ نمونے سائنس دانوں کو ان چاندوں کی تشکیل، مریخ کی ابتدائی تاریخ اور نظامِ شمسی کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو سیاروں اور ان کے چاندوں کی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، جاپانی خلائی ایجنسی ''جاکسا‘‘ کا ایم ایم ایکس مشن 20 اکتوبر 2026ء کو روانہ ہوا ہے۔ اس کا ہدف مریخ کے چاند فوبوس سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے 2031ء میں زمین پر واپس لانا ہے۔مارٹین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) کے نام سے معروف جاپانی خلائی جہاز نے ''فوبوس‘‘کی جانب 30 کروڑ میل طویل سفر کا آغاز کردیا ہے۔ فوبوس مریخ کے دو قدرتی چاندوں میں سے بڑا ہے۔ اس اہم خلائی مہم پر تقریباً 26 کروڑ 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ لاگت آئے گی۔اس مشن کا مقصد چاند کی سطح سے کم از کم 10 گرام گردوغبار اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنا اور پھر انہیں لے کر زمین پر واپس آنا ہے۔ توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ مریخ کے گردونواح سے حاصل کیے گئے نمونے زمین پر لائے جائیں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق، ان نمونوں میں شامل انتہائی باریک ذرات سائنسی معلومات کا ایک وسیع خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ماہرین کو امید ہے کہ ان نمونوں سے کئی دہائیوں پرانے اس سائنسی تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا فوبوس ایک ایسا سیارچہ ہے جسے مریخ نے اپنی کششِ ثقل کے باعث اپنے مدار میں کھینچ لیا تھا، یا یہ کسی بہت بڑے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ملبے کی باقیات ہے، جس میں سرخ سیارہ مریخ بھی شامل تھا۔جاپانی خلائی تحقیقاتی ادارے (جاکسا) کے مطابق ''فوبوس سے حاصل کردہ نمونوں کے تفصیلی مشاہدے اور تجزیے کے ذریعے یہ مشن مریخی نظام اور نظامِ شمسی کی تشکیل کے عمل کو واضح کرنے، زندگی کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے اور مستقبل میں گہری خلائی کھوج کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گا‘‘۔یم ایم ایکس خلائی جہاز تین حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا کام مختلف ہے۔ پہلے حصے میں پروپلشن نظام شامل ہے، جو ایم ایم ایکس کو مریخ تک پہنچانے میں مدد دے گا۔ دوسرا حصہ تحقیقی ماڈیول ہے، جس میں نمونے جمع کرنے کے آلات نصب ہیں، جبکہ تیسرا حصہ واپسی کا ماڈیول ہے، جو نمونوں کو زمین تک پہنچائے گا۔روانگی کے بعد راکٹ اور خلائی جہاز کئی سال تک گہری خلا میں سفر کریں گے، جس کے بعد یہ فوبوس کے گرد مدار میں داخل ہوگا۔2029ء کے اوائل میں مائیکروویو اوون کے حجم کے برابر ایک چھوٹی سی خودکار گاڑی فوبوس کی سطح پر اتاری جائے گی۔ یہ گاڑی 100 روز تک چاند کی سطح اور اس کے قدرتی خدوخال کا جائزہ لے گی۔ اس کی تحقیق سے سائنسدانوں کو اس مخصوص مقام کا تعین کرنے میں مدد ملے گی، جہاں تحقیقی ماڈیول کو اتارا جانا چاہیے۔ مقام کی تصدیق کے بعد خلائی جہاز فوبوس کی سطح پر اترے گا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرے گا۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ فوبوس کے ایک یا دو مختلف مقامات سے نمونے حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں اس چاند کی ساخت اور اس میں موجود مادّوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس مقصد کیلئے ایم ایم ایکس دو میں سے کسی ایک نمونہ جمع کرنے والے نظام کو استعمال کرے گا۔ پہلا اور بنیادی نظام سی سیمپلر کہلاتا ہے، جو فوبوس کی سطح میں 0.8 انچ (تقریباً 2 سینٹی میٹر) گہرائی تک سوراخ کرکے ایسے مادّے حاصل کر سکتا ہے جو سورج کی شعاعوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے ہوں۔دوسرا نظام پی سیمپلرکہلاتا ہے۔ یہ نائٹروجن گیس کے تیز دباؤ سے مٹی اور چھوٹی چٹانوں کو اڑا کر ایک مخصوص ذخیرہ کرنے والے خانے میں جمع کرتا ہے۔مجموعی طور پر اس خلائی جہاز میں 13 سائنسی آلات نصب ہیں، جن کی مدد سے فوبوس کا غیرمعمولی تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا جائے گا۔ٹینگو (Tengoo) اور اوروچی (Orochi) نامی ہائی ریزولیوشن کیمرے اس چاند کی سطح کی تصاویر لیں گے اور اس کے نقشے تیار کریں گے، جبکہ لیزر آلٹی میٹر اس کی شکل اور زمینی خدوخال کی سہ جہتی (3D) تصویر بنانے میں مدد دے گا۔ایم آئی آر ایس (MIRS) نامی ایک اور آلہ فوبوس میں موجود معدنیات کا تجزیہ کرے گا، جبکہ نیوٹران ڈیٹیکٹر اس چاند کی کیمیائی ساخت سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔اس مشن کے دوران مریخ کے دوسرے اور نسبتاً چھوٹے چاند ڈیموس کا بھی دور سے مشاہدہ کیا جائے گا۔کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز مریخی نظام سے نکل کر زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ 2031ء میں زمین پر پہنچے گا۔زمین کے قریب پہنچنے پر خلائی جہاز ایک خصوصی کیپسول فضا میں چھوڑے گا، جس میں یہ قیمتی نمونے موجود ہوں گے۔یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے تیزی سے نیچے آئے گا اور پھر پیراشوٹ کی مدد سے آسٹریلیا کے دور افتادہ صحرائی علاقے میں اترے گا۔ وہاں سے اسے بازیاب کرکے جاپان منتقل کیا جائے گا، جہاں سائنس دان ان نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کریں گے۔

چیونٹیوں کا قدرتی سرچ انجن!

چیونٹیوں کا قدرتی سرچ انجن!

ہمارے روزمرہ معمولات میں باورچی خانہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ صبح کی چائے بناتے ہوئے چینی کے چند دانے چولہے کے نیچے گر جانا، دودھ اور سوجی کی کھیر کا کوئی قطرہ فرش پر ٹپک جانا یا بچوں کے ہاتھ سے مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا میز کے نیچے جا گرنا بظاہر معمولی واقعات ہیں۔ ہم صفائی کا کپڑا پھیر کر سمجھتے ہیں کہ ماحول صاف ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں یہی معمولی غذائی ذرات ایک ننھی مخلوق کی سرگرمیوں کا آغاز بن جاتے ہیں۔صبح بیدار ہونے پر اکثر فرش پر پڑے مٹھائی کے ذرے یا شیرینی کے قطرے کے گرد چیونٹیوں کی ایک طویل اور منظم قطار دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چیونٹیاں اتنی تیزی اور مہارت سے میٹھے کی موجودگی کا پتا کیسے لگا لیتی ہیں؟ آخر ان کا نظامِ معلومات کس قدر طاقتور ہے؟سائنسی نقطہ نظر سے چیونٹیوں کی یہ صلاحیت محض خوشبو سونگھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کیمیائی اشاروں، حسی یادداشت اور اجتماعی فیصلہ سازی پر مبنی ایک پیچیدہ نظام کام کرتا ہے۔ اگر چیونٹیوں کو فطرت کا قدیم سرچ انجن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ یہ اپنی خوراک تلاش کرنے کے لیے قدرتی سینسرز اور کیمیائی نیٹ ورک استعمال کرتی ہیں۔چیونٹیوں کی دنیا انواع کے اعتبار سے خاصی متنوع ہے۔ برصغیر میں چیونٹیوں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں، جبکہ انسانی آبادیوں اور ان کے گرد و پیش کے ماحول میں بھی متعدد انواع سرگرم رہتی ہیں۔ اگرچہ ان کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے، تاہم خوراک کی تلاش اور کیمیائی رابطے کے بنیادی اصول بڑی حد تک یکساں ہیں۔چیونٹیوں کی خوراک تلاش کرنے کی مہم کا آغاز کالونی کے معائنے سے ہوتا ہے۔ مزدور یا اسکاؤٹ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، کھڑکیوں کے فریموں، پائپوں کے راستوں اور فرش کے کناروں کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد خوراک کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس کام میں ان کے سر پر موجود دو اینٹینا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ محض سونگھنے کے اعضا نہیں بلکہ ماحول میں موجود کیمیائی مادوں اور مختلف اشاروں کو محسوس کرنے کے حساس آلات ہیں۔ ان کی مدد سے چیونٹیاں خوراک کی نوعیت اور اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگاتی ہیں۔ ان کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود مخصوص حسی ریسیپٹرز انہیں مختلف غذائی اجزا، خصوصاً شکر، کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فرش پر موجود شربت، گڑ، مٹھائی یا چائے کے داغوں میں خوراک کے آثار تلاش کر لیتی ہیں۔خوراک مل جانے کے بعد چیونٹی اسے اکیلے کھانے کے بجائے اپنی پوری کالونی تک اس کی اطلاع پہنچانے کا انتظام کرتی ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ ایک خاص کیمیائی مادہ خارج کرتی ہے جسے فیرومون (Pheromone) کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اسکاؤٹ چیونٹی خوراک کا مقام دریافت کرتی ہے تو واپس کالونی کی طرف جاتے ہوئے زمین پر فیرومون کی ایک باریک لکیر چھوڑتی جاتی ہے۔ دوسری چیونٹیاں اپنے اینٹینا کی مدد سے اس کیمیائی راستے کو محسوس کرتی ہیں اور اسی پر چلتے ہوئے خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔یہ نظام انسانوں کے گوگل میپس یا جی پی ایس نیویگیشن سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان سیٹلائٹ اور ڈیجیٹل نقشوں سے راستہ تلاش کرتے ہیں، جبکہ چیونٹیاں کیمیائی نشانات کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔ فیرومون کی یہ لکیریں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں، تاہم اگر خوراک وافر مقدار میں موجود ہو تو مسلسل آنے جانے والی چیونٹیاں ان نشانات کو تازہ کرتی رہتی ہیں، جس سے راستہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔چیونٹیوں کی زندگی میں اینٹینا کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ یہ انہیں فیرومون کی باریک لکیروں کی شناخت، اپنی کالونی کے ساتھیوں اور دشمن چیونٹیوں میں فرق کرنے، ماحول کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے اور خوراک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یوں ان کے باہمی رابطے اور اجتماعی سرگرمیوں کا پورا نظام انہی حسی صلاحیتوں پر استوار ہوتا ہے۔ چیونٹیوں کا یہ منظم طرزِ عمل قدرت کے حیرت انگیز نظام کی ایک روشن مثال ہے۔ جس چینی کے دانے یا کھیر کے قطرے کو ہم معمولی سمجھ کر فرش پر چھوڑ دیتے ہیں، وہ ان ننھے حشرات کی دنیا میں ایک بڑی غذائی نعمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چند لمحوں میں اس کی اطلاع پوری کالونی تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیوں کی ایک منظم فوج وہاں پہنچ جاتی ہے۔اگلی بار جب آپ اپنے باورچی خانے کے فرش پر چیونٹیوں کی لمبی قطار دیکھیں تو یاد رکھیے کہ یہ محض چند حشرات کی نقل و حرکت نہیں بلکہ قدرتی کیمیائی رابطے، حیاتیاتی حسّاسیت اور اجتماعی نظم و ضبط کا ایک حیرت انگیز مظاہرہ ہے، جسے سمجھنے کیلئے جدید سائنس مسلسل تحقیق کر رہی ہے۔

بغیر دوابلڈ پریشر کیسے کم کریں؟

بغیر دوابلڈ پریشر کیسے کم کریں؟

بلند فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ اکثر کسی واضح علامت کے بغیر دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئے ادویات، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی اہم ہیں، تاہم طبی تحقیق میں ایک ایسی ورزش کے فوائد بھی سامنے آئے ہیں جس کے دوران جسم بظاہر ساکن رہتا ہے، لیکن پٹھے دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ اس ورزش کو ''آئسومیٹرک ورزش‘‘ (Isometric Exercise) کہا جاتا ہے۔ اس میں پٹھوں کو ایک مخصوص حالت میں کچھ دیر تک سکیڑ کر رکھا جاتا ہے، مگر جسم کے متعلقہ حصوں میں نمایاں حرکت نہیں ہوتی۔ہاتھ کی گرفت سے بلڈ پریشر میں کمیاس ورزش کی ایک آسان صورت ''آئسومیٹرک ہینڈ گرپ ‘‘ ہے۔ اس میں مخصوص آلے کو ہاتھ میں پکڑ کر کچھ دیر دبایا جاتا ہے۔ اس دوران بازو کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔2023ء میں برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک بڑے تجزیے میں 270 مطالعات اور 15 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق آئسومیٹرک ورزش کرنے والوں کے سسٹولک بلڈ پریشر میں اوسطاً 8.24 اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں 4 ملی میٹر مرکری کی کمی دیکھی گئی۔ورزش کا طریقہ اور دورانیہتحقیقی مطالعات میں عموماً ہینڈ گرِپ ورزش کے چار دور تجویز کیے گئے ہیں، جن میں ہر دور دو منٹ کا ہوتا ہے اور درمیان میں آرام کیا جاتا ہے۔ بعض مطالعات میں یہ مشق ہفتے میں تین مرتبہ آٹھ ہفتوں تک کی گئی۔ تاہم دورانیہ اور دباؤ جسمانی حالت کے مطابق ہونا چاہیے۔اس کی دوسری صورت ''وال اسکواٹ‘‘ (Wall Squat)ہے، جس میں کمر دیوار کے ساتھ لگا کر گھٹنوں کو موڑتے ہوئے بیٹھنے کی حالت اختیار کی جاتی ہے اور کچھ دیر اسی پوزیشن میں رہا جاتا ہے۔احتیاط بھی ضروری !آئسومیٹرک ورزش کو بلڈ پریشر کی ادویات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ دوا استعمال کرنے والے افراد ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے بند نہ کریں۔ ورزش کے دوران سانس روکنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتا ہے۔ دل کے امراض یا بے قابو بلڈ پریشر میں مبتلا افراد ورزش شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کریں۔بلند فشارِ خون پر قابو پانے کیلئے نمک کا کم استعمال، متوازن غذا، مناسب نیند، وزن میں اعتدال اور باقاعدہ طبی معائنہ بھی ضروری ہیں۔ آئسومیٹرک ورزش ان تدابیر کے ساتھ ایک معاون طریقہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست طریقے اور طبی رہنمائی کے مطابق اپنایا جائے۔

طنز و مزاح:پابندی کی اوقات

طنز و مزاح:پابندی کی اوقات

میں وقت کا اس قدر پابند تھا کہ عین اس وقت دوسروں کے گھر پہنچتا، جب وہ کھانا شروع کرنے لگتے۔ لیکن جب سے میرے پروفیسر دوست ایک تقریب میں پابندی وقت پر تقریر کر کے لوٹے ہیں، میں نے اس پابندی سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔پروفیسر موصوف مقامی کالج میں لیکچرار ہیں۔ لیکچرار کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو دوسروں کی نیند میں بولتا ہے۔ لیکن ہمارے پروفیسر صاحب کی کلاس میں تو کوئی نہیں سو سکتا۔ بہت بلند بولتے ہیں۔ جب وہ میرے کلاس فیلو تھے، تب بھی کلاس میں کسی کو سونے نہ دیتے۔ ان کے خراٹوں کی وجہ سے پاس سوئے ہوئے کی فوراً آنکھ کھل جاتی۔ جب سے پروفیسر طاہر القادری صاحب نے لیکچرار اور پروفیسر کے فرق کو ختم کیا ہے، وہ بھی پروفیسر کہلانے لگے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہی نہیں خود کو پائے کا لیڈر بھی سمجھتے ہیں۔ یوں ہمارے ہاں چھوٹے پائے بڑے پائے کے لیڈر ہی ہیں بڑے سر کے لیڈر کم ہیں۔انہیں ایک کونسلر نے پابندی وقت پر تقریر کرنے کیلئے اپنے محلے میں بلایا۔ پروفیسر صاحب اس قدر بااصول ہیں کہ ٹریفک کی سرخ بتی پر سائیکل کو لٹا کر کپڑے جھاڑتے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بتی سبز ہوتی ہے تو سائیکل پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں، بتی پھر سرخ ہو جاتی ہے اور وہ وہیں لال پیلے ہوتے رہتے ہیں۔ اس قدر تیز چلتے ہیں کہ جب تک آپ رک نہ جائیں، آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ چل رہے ہیں۔ بال بنانے میں اتنی دیر لگاتے ہیں جتنی امجد اسلام امجد، جو ہر بال سنوارنے میں آدھ منٹ لگاتے ہیں، یوں انہیں صرف بال سنوارنے میں دس منٹ لگتے ہیں جب کہ پروفیسر صاحب کو بھی لگتے تو دس منٹ ہی ہیں مگر یہ بال سنوارنے میں نہیں، بال ڈھونڈنے میں لگتے ہیں۔ شیو یوں آہستہ آہستہ کرتے ہیں کہ جتنی دیر میں شیو مکمل کرتے ہیں، اتنی دیر میں وہ دوبارہ اتنی ہی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ''فارغ البال‘‘ ہونے کی وجہ سے انہیں منہ بھی دور تک دھونا پڑتا ہے۔ سو ابھی انہوں نے منہ دھونا شروع ہی کیا تو میں نے برین واشنگ شروع کردی، یوں بھی برین واشنگ آج کل اتنی اہمیت حاصل کرگئی ہے کہ امریکہ میں 94فیصد گھرانوں میں ٹی وی سیٹ تو موجود ہیں مگر نہانے کے ٹب صرف 91 فیصد گھرانوں میں ہیں۔ویسے بھی میں اس قدر صفائی پسند ہوں کہ جس کے پیچھے پڑتا ہوں، ہاتھ دھوکر پڑتا ہوں۔ سومیں نے انہیں قائل کیا کہ بقول شیکسپئر ''تین گھنٹے پہلے جانا ایک منٹ دیر سے جانے سے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ وہ دیر کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ یہ ان کی پیدائشی خوبی ہے۔ پیدا بھی دسویں مہینے ہوئے۔ شام کو تقریب سے لوٹے تو لوٹے کم اور لٹے زیادہ لگتے تھے، آکر خاموشی سے بیٹھ گئے۔ حالانکہ مقرر، ڈاکٹر اور بیوی کی خاموشی کوئی اچھا شگون نہیں ہوتی۔ میں نے پوچھا، ''کیا ہوا؟‘‘''بڑی بے عزتی ہوئی۔‘‘''کوئی نئی بات بتاؤ۔ تمہیں کہا تھا وقت پر نہیں پہنچوگے تو ایسا ہوگا۔‘‘''وقت پر پہنچا تھا اسی لیے تو بے عزتی ہوئی۔‘‘ہوا یوں کہ جب پروفیسر صاحب عین وقت پر جلسہ گاہ پہنچے تو جلسہ ابھی گاہ تک نہیں پہنچا تھا۔ جمعدار جھاڑو دے رہا تھا۔ ٹینٹ والے سامان اتار رہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی موصوف کو نہیں پہچانتا تھا۔ سو انہوں نے کہا، ''ذرا صاحب! دوسری طرف سے پکڑنا، آپ ہی کا کام کر رہے ہیں۔‘‘ جب تک کونسلر صاحب آئے، موصوف کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ جب تک کوئی باقاعدہ تعارف نہ کرواتا، یہ خود کو بھی نہ پہچان سکتے۔ اوپر سے شکل اللہ نے ایسی دی کہ ریلوے میں سفر کریں تو ٹکٹ چیکر سب سے پہلے ان کا ٹکٹ چیک کرتا ہے اور سمجھتا ہے اگر ان کے پاس ٹکٹ ہے تو ڈبے کے ہر مسافر کے پاس ہوگا۔ بہرحال انتظامیہ نے انہیں کرسی صدارت پر بٹھا بلکہ لٹا تو دیا مگر ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھتے رہے کہ فارغ تھے جوبہت جلدی آگئے۔ ان کے خیال میں صدارت کے شوق نے پروفیسر صاحب کو اتنی جلدی وہاں پہنچوایا تھا۔ویسے دیکھا جائے تو یہ ہے بھی ٹھیک، ہم آزاد قوم ہیں۔ پابندی چاہے وقت کی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ہمارے سامنے کیا اوقات! دیر کرنے میں تو ہم ذرا دیر نہیں کرتے۔ سابق وزیر اعظم جو نیجو تو ایسے تھے کہ شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے نکلتے تو ولیمے پر پہنچتے۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑتے بلکہ کل کا چھوڑا کام آج ہی کر لیتے۔ یوں دیکھا جائے تو آپ اکیلے جلدی کریں گے تو دیر تو ہوگی۔ اندھوں میں پہلے وہ گرتا ہے جسے تھوڑا نظر آتا ہے۔ آپ وقت کی پابندی کرکے زیادہ سے زیادہ وہ کام صرف ایک ہفتے میں کرلیں گے، جسے دوسری صورت میں پورے سات دن لگ جائیں گے۔کہاوت ہے، ''دیر آید درست آید۔‘‘ اپنی آمد درست ثابت کرنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے، دیر سے آئیں۔ جتنی دیر آپ دوسروں سے انتظار کراتے ہیں، در اصل اتنی دیر آپ ان سے اپنا ذکر کرواتے ہیں۔ اہم آدمی اس وقت آتا ہے جب سب آچکے ہوتے ہیں اور اس کی آمد کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ دیر سے آنا در اصل عام سے خاص ہونے کا عمل ہے۔ آپ دیر سے آکر کہیں کہ بہت مصروفیت تھی، صرف آپ کی خاطر چند منٹ نکال کر آیا ہوں۔ یوں انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلائیں کہ جب تک آپ خود کو اہم نہیں سمجھیں گے، کوئی آپ کو اہم نہیں سمجھے گا۔

حکایت سعدی:جگنو کا بیان

حکایت سعدی:جگنو کا بیان

رات کے وقت باغوں، سبزہ زاروں اور سیرگاہوں میں ایک چھوٹا سا چمکدار کیڑا نظر آتا ہے جس کو جگنو کہتے ہیں۔ کسی نے ایک دن اس کیڑے سے کہا، اے رات کو روشن کرنے والے کیڑے! کیا بات ہے تو دن کو کبھی نظر نہیں آیا؟ ذرا غور کرنا اس مٹی سے بنے ہوئے ننھے سے آتشیں کیڑے نے کیا جواب دیا؟ اس نے جواب میں کہا: میں تو دن رات جنگل کے علاوہ کہیں نہیں ہوتا۔ بات دراصل یہ ہے کہ سورج کے سامنے میری حیثیت ہی کیا ہے کہ روشنی لٹا سکوں؟اس حکایت سے فضیلت اور مراتب کا سبق ملتا ہے۔ شاگرد جب استاد کے سامنے ہوتا ہے اپنے کمالات کے جوہر نہیں دکھا سکتا اور استاد کا ادب بھی مانع ہوتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایتھوپیا میں امن معاہدہ2 نومبر 2022ء کو افریقی ملک ایتھوپیا کی حکومت اور ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد ملک کے شمالی علاقے میں جاری طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنا تھا۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔خلائی سٹیشن پر انسان پہنچا2 نومبر 2000ء کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلی مستقل انسانی ٹیم پہنچی، جس سے انسانی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔یہ ٹیم ''ایکسپیڈیشن1‘‘ کہلائی اور اس میں تین خلا نورد شامل تھے۔یہ خلا نورد روسی خلائی جہاز ''سویوز ٹی ایم 31 ‘‘کے ذریعے 31 اکتوبرکو خلا میں روانہ ہوئے اور 2 نومبر کو ''آئی ایس ایس‘‘ پر پہنچے۔بی بی سی ٹی وی کا آغاز2 نومبر 1936ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دنیا کی پہلی باقاعدہ ٹیلی وژن سروس کا آغاز کیا۔یہ نشریات لندن کے الیگزینڈرا پیلس سے شروع کی گئیں۔ ابتدائی طور پر یہ نشریات روزانہ چند گھنٹوں کیلئے ہوا کرتی تھیں اور صرف لندن کے قریب رہنے والے ناظرین ہی انہیں دیکھ سکتے تھے۔ عرب اسرائیل تنازع شام، اردن اور لبنان، اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازعات ختم کرنے میں ناکام رہے تو 2نومبر 1953ء کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور یہ منصوبہ بنایا کہ شام ،اردن اور لبنان کے ساتھ ایک الگ معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔دریائے اردن کے کنارے کسی بھی ترقیاتی کام کیلئے ایک امن معاہدے کی ضرورت تھی،اس لئے امریکہ نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔برطانیہ مخالف مظاہرے2نومبر1951ء کو مصر میں برطانیہ مخالف مظاہروں نے زور پکڑ لیا۔ ہنگامہ آرائی کو ختم کرنے کیلئے 6ہزار برطانوی فوجی مصر کے کینال زون میں پہنچے۔ یہ لڑائی 2 سال تک جاری رہی۔ 1953ء میں آئینی بادشاہت کا آغاز ہوا اور 1954ء میں عرب قوم پرست عبدالناصر برسراقتدار آئے۔اولو آگ2نومبر1882ء کو اولو میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے فن لینڈ کے شہر اولو کے ساتھ ساتھ 27 عمارتوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان عمارتوں میں شہریوں کی لاکھوں روپے مالیت کی املاک جل کر راکھ ہو گئیں۔ تہہ خانے کا استعمال آتش گیر مواد کو ذخیرہ کرنے کیلئے کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے آگ قابو سے باہر ہو گئی۔لولو برگس کی لڑائیلولو برگس کی لڑائی سلطنت بلغاریہ اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان ہونے والی ایک خونریز جنگ تھی۔ اسے پہلی بلقان کی جنگ کی سب سے خوفناک لڑائی بھی کہا جاتا ہے۔یہ جنگ 28 اکتوبر1912ء کو شروع ہوئی اور2نومبر 1912ء تک جاری رہی۔مورخین کے مطابق یہ فرانکو،پرشین جنگ کے خاتمے اور پہلی عالمی جنگ کے آغاز کے درمیان میں یورپ میں لڑی جانے والی سے بڑی جنگ تھی۔