مریخ کے چاندوں کی پُراسرار دنیا
اسپیشل فیچر
چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کا 5 سالہ جاپانی مشن
انسان ہمیشہ سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور زمین سے باہر زندگی کے امکانات تلاش کرنے کا خواہش مند رہا ہے۔ اب جاپان نے اس سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے مریخ کے چاندوں سے نمونے زمین پر لانے کا مشن شروع کیا ہے۔ پانچ سالہ اس مہم کا مقصد مریخ کے دو قدرتی چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، میں سے ایک کے نمونے حاصل کرکے زمین تک پہنچانا ہے۔ یہ نمونے سائنس دانوں کو ان چاندوں کی تشکیل، مریخ کی ابتدائی تاریخ اور نظامِ شمسی کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو سیاروں اور ان کے چاندوں کی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، جاپانی خلائی ایجنسی ''جاکسا‘‘ کا ایم ایم ایکس مشن 20 اکتوبر 2026ء کو روانہ ہوا ہے۔ اس کا ہدف مریخ کے چاند فوبوس سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے 2031ء میں زمین پر واپس لانا ہے۔
مارٹین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) کے نام سے معروف جاپانی خلائی جہاز نے ''فوبوس‘‘کی جانب 30 کروڑ میل طویل سفر کا آغاز کردیا ہے۔ فوبوس مریخ کے دو قدرتی چاندوں میں سے بڑا ہے۔ اس اہم خلائی مہم پر تقریباً 26 کروڑ 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ لاگت آئے گی۔اس مشن کا مقصد چاند کی سطح سے کم از کم 10 گرام گردوغبار اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنا اور پھر انہیں لے کر زمین پر واپس آنا ہے۔ توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ مریخ کے گردونواح سے حاصل کیے گئے نمونے زمین پر لائے جائیں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق، ان نمونوں میں شامل انتہائی باریک ذرات سائنسی معلومات کا ایک وسیع خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کو امید ہے کہ ان نمونوں سے کئی دہائیوں پرانے اس سائنسی تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا فوبوس ایک ایسا سیارچہ ہے جسے مریخ نے اپنی کششِ ثقل کے باعث اپنے مدار میں کھینچ لیا تھا، یا یہ کسی بہت بڑے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ملبے کی باقیات ہے، جس میں سرخ سیارہ مریخ بھی شامل تھا۔جاپانی خلائی تحقیقاتی ادارے (جاکسا) کے مطابق ''فوبوس سے حاصل کردہ نمونوں کے تفصیلی مشاہدے اور تجزیے کے ذریعے یہ مشن مریخی نظام اور نظامِ شمسی کی تشکیل کے عمل کو واضح کرنے، زندگی کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے اور مستقبل میں گہری خلائی کھوج کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گا‘‘۔
یم ایم ایکس خلائی جہاز تین حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا کام مختلف ہے۔ پہلے حصے میں پروپلشن نظام شامل ہے، جو ایم ایم ایکس کو مریخ تک پہنچانے میں مدد دے گا۔ دوسرا حصہ تحقیقی ماڈیول ہے، جس میں نمونے جمع کرنے کے آلات نصب ہیں، جبکہ تیسرا حصہ واپسی کا ماڈیول ہے، جو نمونوں کو زمین تک پہنچائے گا۔روانگی کے بعد راکٹ اور خلائی جہاز کئی سال تک گہری خلا میں سفر کریں گے، جس کے بعد یہ فوبوس کے گرد مدار میں داخل ہوگا۔
2029ء کے اوائل میں مائیکروویو اوون کے حجم کے برابر ایک چھوٹی سی خودکار گاڑی فوبوس کی سطح پر اتاری جائے گی۔ یہ گاڑی 100 روز تک چاند کی سطح اور اس کے قدرتی خدوخال کا جائزہ لے گی۔ اس کی تحقیق سے سائنسدانوں کو اس مخصوص مقام کا تعین کرنے میں مدد ملے گی، جہاں تحقیقی ماڈیول کو اتارا جانا چاہیے۔ مقام کی تصدیق کے بعد خلائی جہاز فوبوس کی سطح پر اترے گا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرے گا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ فوبوس کے ایک یا دو مختلف مقامات سے نمونے حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں اس چاند کی ساخت اور اس میں موجود مادّوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس مقصد کیلئے ایم ایم ایکس دو میں سے کسی ایک نمونہ جمع کرنے والے نظام کو استعمال کرے گا۔ پہلا اور بنیادی نظام سی سیمپلر کہلاتا ہے، جو فوبوس کی سطح میں 0.8 انچ (تقریباً 2 سینٹی میٹر) گہرائی تک سوراخ کرکے ایسے مادّے حاصل کر سکتا ہے جو سورج کی شعاعوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے ہوں۔دوسرا نظام پی سیمپلرکہلاتا ہے۔ یہ نائٹروجن گیس کے تیز دباؤ سے مٹی اور چھوٹی چٹانوں کو اڑا کر ایک مخصوص ذخیرہ کرنے والے خانے میں جمع کرتا ہے۔
مجموعی طور پر اس خلائی جہاز میں 13 سائنسی آلات نصب ہیں، جن کی مدد سے فوبوس کا غیرمعمولی تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا جائے گا۔ٹینگو (Tengoo) اور اوروچی (Orochi) نامی ہائی ریزولیوشن کیمرے اس چاند کی سطح کی تصاویر لیں گے اور اس کے نقشے تیار کریں گے، جبکہ لیزر آلٹی میٹر اس کی شکل اور زمینی خدوخال کی سہ جہتی (3D) تصویر بنانے میں مدد دے گا۔ایم آئی آر ایس (MIRS) نامی ایک اور آلہ فوبوس میں موجود معدنیات کا تجزیہ کرے گا، جبکہ نیوٹران ڈیٹیکٹر اس چاند کی کیمیائی ساخت سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔
اس مشن کے دوران مریخ کے دوسرے اور نسبتاً چھوٹے چاند ڈیموس کا بھی دور سے مشاہدہ کیا جائے گا۔کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز مریخی نظام سے نکل کر زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ 2031ء میں زمین پر پہنچے گا۔زمین کے قریب پہنچنے پر خلائی جہاز ایک خصوصی کیپسول فضا میں چھوڑے گا، جس میں یہ قیمتی نمونے موجود ہوں گے۔یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے تیزی سے نیچے آئے گا اور پھر پیراشوٹ کی مدد سے آسٹریلیا کے دور افتادہ صحرائی علاقے میں اترے گا۔ وہاں سے اسے بازیاب کرکے جاپان منتقل کیا جائے گا، جہاں سائنس دان ان نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کریں گے۔