قصہ ’’بُلبلِ دکن ‘‘ کاجوہندو ،مسلم اتحاد کے گن ُ گاتی تھی ، سروجنی نائیڈو نے کانگریس کی مخالفت کے باوجود آزادی کیلئے مسلمانوں کا ساتھ دیا
اسپیشل فیچر
آج ہم آپ کو ایک ایسی خاتون کا قصہ سنائیں گے جنہیں تاریخ مختلف ناموں سے یاد کرتی ہے کہیں انہیں ''ریاست حیدرآباد کا دمکتا ستارہ‘‘ کہا گیا ، کہیں انہیں ''بلبلِ دکن ‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تو کہیں انہیں وہ''کافرہ ‘‘ قرار دیا گیا جو مخالفت کے باوجود تحریک پاکستان میں مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑی رہیں جی ہاں ! ہم بات کر رہے ہیں مسز سروجنی نائیڈو کی ۔۔۔آپ کا نام متحدہ ہندوستان کی سیاست، تحریکِ آزادی، سماجی حالات اور علم و ادب میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے نیا نہیں۔ آپ نے انگریز دور میں سیاسی قیدی بن کر خود کو خاتونِ آہن ثابت کیا ہے لیکن بطور ادیبہ و کہنہ مشق شاعرہ آپ کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
آپ کے والد ڈاکٹر اگھورناتھ چٹوپادیائے بنگال کے باشندے تھے۔ نواب مختار الملک اول کے زمانہ میں (1877ء ) حیدرآباد آئے، حیدرآباد کالج کے پرنسپل بنے، اس کے بعد نظام کالج میں پروفیسر کیمیا کی حیثیت سے برسوں سرکاری خدمت پر مامور رہے۔1894ء کی ہر علمی تحریک میں ڈاکٹر صاحب کا عملی حصہ ہوتا ،حیدرآباد میں مدرسہ نسواں کے قیام کے بانی تھے۔ سروجنی نائیڈو 1879ء میں حیدرآباد میں پیدا ہوئیں ابتدائی تعلیم و تربیت بھی حیدر آباد میں ہی حاصل کی اس کے بعد یورپ گئیں اور مدینۃ العلم آکسفورڈ میں شریک ہوئیں، اسی مقام سے آپ کی شاعری کا آغاز ہوا۔ 1898ء میں آپ کی شادی مدراس کے ڈاکٹر نائیڈو سے ہوئی۔
آپ کی شاعری کا آغاز انگلستان سے ہوا آپ کی نظموں کے 3 مجموعے'' طلائی آستانہ ‘‘،'' طائر وقت ‘‘ اور'' شکستہ پر‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ان نظموں کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ذریعے مشرقی خیالات و جذبات کا مغربی رنگ میں اظہار ہوتا ہے۔ آپ کی نظموں میں حب الوطنی، انسانی ہمدردی، شفقت مادری اور دورِ قومی کے ایسے ایسے انمول نگینے نظر آتے ہیں، جن کی درخشانی اور تابناکی حساس دلوں کو متعجب و متحیر کر دیتی ہے۔ ان نظموں میں کہاروں کے گانے، پالکی بردار کے گیت، فقیر کی صدا اورسنگترہ بیچنے والی کی آواز کو بھی لطیف اور پاکیزہ مضمون کی صورت میں بدل دیاگیا ہے ۔شاعری کی طرح آپ کی نثر بھی فصاحت و بلاغت آمیزتھی۔
آپ کی شخصیت کا ایک اور اہم اور تاریخی پہلو بھی ہے جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی اور وہ ہے بہترین مقررہ کا یعنی آپ زورِ خطابت کے کمال درجہ پر فائز تھیں ۔ آپ نہ صرف ایک جادو بیاں شاعرہ تھیں بلکہ فصیح و بلیغ مقررہ بھی تھیں ۔ آپ کی تقریرمیں الفاظ کی آمد اور بیان کی سلاست کا سیلاب ہوتا جو دلوں میں جوش و جذبہ بپا کر دیتا تھا۔ انگریزی زبان پر بھی ملکہ حاصل تھااس لئے خطابت کے پورے گُر بخوبی جانتی تھیں۔ آپ صرف حیدرآباد ہی کی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کی ایسی خاتون تھیں جنہوں نے امریکہ اور انگلستان میں اپنے زورِ خطابت اور خیالات سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا یا۔
انگریزی کیساتھ ساتھ آپ اردو میں بھی تقریر کیا کرتی تھیں ، اب ذ کر کرتے ہیں مسز سروجنی نائیڈو کی سیاسی خدمات کا ، آپ کی سیاسی خدمات کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے، کُل ہند کانگریس کی روح رواں ر ہیں، اس کی صدارت کے فرائض بھی نبھائے طویل عرصے تک انتظامی کمیٹی کی رکن رہیں کئی مرتبہ بطور سیاسی قیدی جیل بھی کاٹی ۔ آپ نے عورتوں کی سماجی اور معاشرتی ترقی کیلئے بہت جدوجہد کی ۔
آزادی کی یہ متوالی، عظیم رہنما، دانشور و مدبّر خاتون جو اردو اور انگریزی پر یکساں عبور رکھتی تھیں اور ہندو مسلم اتحاد کی زبردست حامی تھیں، ایک موقع پر مسلم یونیورسٹی کے جلسے میں شریک ہوئیں۔ اس موقع پران کا زبردست استقبال کیا گیا اور پورے اسلامی تمدّن اور تہذیب کے ساتھ ان کو صفِ اوّل میں بٹھایا گیا ۔ اس پورے منظر کو مختار مسعود صاحب بھی تحریر کر چکے ہیں، طلباء کے استقبال کا انداز اور سروجنی جی کی تقریر کا جوش اور اس میں حق و صداقت سے پُر آواز کا انہوں نے بھرپور نقشہ کھینچا،اُن کے قلم سے جلسے کی کیفیت اور تقریر کے انداز کو ملاحظہ کیجیے:
''میں آج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں کئی لوگوں کے مشورے کے خلاف اور چند لوگوں کی دھمکی کے باوجود حاضر ہوئی ہوں، مجھے علی گڑھ کی ضلعی اور یو پی کی صوبائی کانگریس نے پہلے مشورہ اور پھر حکم دیا کہ تم مسلم یونیورسٹی کا دورہ منسوخ کر دو۔ انہیں یہ بات بھو ل گئی کہ گورنر کی حیثیت سے میں اب کانگریس کی ممبر نہیں رہی لہٰذا نہ ان کی رائے کی پابند ہوں نہ ان کے ضابطے سے مجبور، اور میں کسی کی دھمکیوں کو کب خاطر میں لاتی ہوں۔ میں حاضر ہوگئی ہوں، بلبل کو چمن میں جانے سے بھلا کون روک سکتا ہے؟،،
ایک دوسرے مقام پر وہ اسلام کے پیغامات کی صداقت اور حقانیت کا اعلان کرتے ہوئے یوں گویا ہوتی ہیں''اگرچہ میں تمہارے دوش بدوش کھڑے ہونے کے باوجود تمہاری نظروں میں ایک کافرہ ہوں مگر میں تمہارے سارے خوابوں میں شریک ہوں، میں تمہارے خوابوں اور بلند خیالوں میں بھی تمہارے دوش بدوش ہوں کیوں کہ اسلام کے نظریات بنیادی اور حتمی طور پر اتنے ترقّی پسند نظریات ہیں کہ کوئی انسان جو ترقّی سے محبّت کرتا ہو ان پر ایمان لانے سے انکار نہیں کر سکتا۔‘‘
1920 ء میں ہندوستان میں تحریک خلافت کا زور تھا۔ اسی درمیان برطانوی حکومت کیخلاف تحریک عدم تعاون کا اعلان کیا گیا۔ اس تحریک میں سروجنی نائیڈو نہ صرف تحریک چلانے والے رہنمائوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں بلکہ انہوں نے ''قیصر ہند‘‘ کا طلائی تمغہ بھی لوٹا دیا، جو انہیں حیدرآباد کے سیلاب کے دوران ان کی انسانی خدمات کے صلے میں 1908ء میں دیا گیا تھا۔
''قیصر ہند‘‘ کا تمغہ لوٹاتے ہوئے 31 اگست 1920ء کو انہوں نے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ کو جوخط لکھا اسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا''میں نے ہندوستانی خلافت وفد کو یہ کام سونپا ہے کہ وہ اس ''قیصر ہند‘ ‘میڈل کو واپس دیدے، جس پر مجھے فخر معلوم ہوتا تھالیکن اب میں اس کو ترک کر دینا چاہتی ہوں تاکہ اپنے ملک اور ملک کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ان پر کیے جانیوالے تشدد کیخلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکوں ۔ اب تو ان ناانصافیوں کی حد ہو گئی، جب ہندوستانی مسلمانوں کو خلافت کے متعلق دئیے ہوئے وعدے توڑے گئے اور پنجاب میں معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا۔‘‘
1922 ء میں بہار کے شہر'' گیا‘‘ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی 37ویں میٹنگ میں سروجنی نائیڈو نے قرارداد پیش کی کہ ''کانگریس کمال پاشا اور ترک قوم کو ان کی حالیہ کامیابیوں پر مبارکباد دیتی ہے اور ہندوستانی عوام کے اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ وہ اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک برطانیہ سرکار ترک قوم کو اس کی آزاد اور خود مختار حیثیت بحال کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات نہیں کرتی ‘‘۔
ہمارا سلام ایسی انصاف پسند آوازوں اور بلبلوں کو جنہوں نے غلامی اور جبر کے سائے میں آزادی کے نغمے بلا خوف و خطر گائے ۔