درختوں کی حفاظت بھی کریں
اسپیشل فیچر
حامد نے جب سے ہوش سنبھالا درخت لگانے کے فوائد سنتا آ رہا تھا اس نے سکول سے ،والدین سے،ٹی وی پر الغرض ہر ایک سے درختوں کے فوائد پر لمبی لمبی تقاریر سنی تھیں ۔چند سال سے سبھی درخت لگانے پر زور دے رہے تھے ۔وہ سوچتا اگر یہ سب کہنے والوں نے اپنی بات پر عمل کیا ہوتا تو آج ملک کا نقشہ بدل گیا ہوتا ۔اس سوال کا جواب اسے کون دے سکتا تھا ۔وہ سوچتا اگر یہ سب کہنے کی بجائے عمل کریں تو آج ملک میں درختوں کی بہتات ہوتی کوئی شجر کاری مہم چلانے کی ضرورت نہ ہوتی ۔درخت لگانے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ایک درخت ایک سال میں 10 ایئرکنڈیشنرز کے برابر مسلسل ہوا دیتا ہے،750گیلن برساتی پانی کو جذب کرتا ہے، 60پونڈآلودہ ہوا کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے، درختوں کی کمی کی وجہ سے آلودگی پھیل رہی ہے اور مختلف امراض پیدا ہورہے ہیں جبکہ درخت لگانے سے آلودگی میں کمی ہوتی ہے ۔ایک درخت 36 بچوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے دوسری بات جو حامد نے شدت سے محسوس کی وہ یہ تھی کہ درخت لگانے سے بڑا کام درخت بچانا ہے ہر سال ہزاروں درخت لگائے جاتے ہیں لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب آ دھے سے زیادہ ضائع ہو جاتے ہیں ۔
شجر کاری کا مقصد درخت لگانا ہی نہیں بلکہ درخت اگانا بھی ہے لہٰذا ان کی دیکھ بھال بھی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔حامد کو شروع سے ہی قدرتی و فطری ماحول پسند تھا ۔اس کے سکول میں کافی سارے درخت لگے ہوئے تھے ۔وہ سکول سے واپسی پر بھی اکثر کتاب اٹھا کر کھیتوں میں نکل جاتا اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا رہتا تھا۔
حامد رات کو اپنے گھر کی چھت پر چارپائی پر لیٹے آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا۔''مجھے بھی شجرکاری مہم میں شامل ہونا چاہیے بلکہ ہر پاکستانی کو اس میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے ،آنے والی نسلوں کی خوشحالی کا ذریعہ ہے۔وہ لوگ جو صرف کہتے ہیں عمل نہیں کرتے انہیں اپنی باتوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ایسے الجھے ہوئے خیالات میں وہ کافی دیر تک الجھا ہی رہا ۔پھر اچانک اسے خیال آیا ''میں دوسروں کی بجائے خود ہی اس پر عمل کیوں نہ کروں ۔‘‘ وہ اٹھ بیٹھا ،اس نے اپنے گھر میں،سارے گائوں اور قریبی علاقوں میں درخت لگانے کو بلکہ اگانے کو مہم بنانے کا سوچا ۔کافی دیر تک وہ اس بارے سوچتا رہا اس کی آنکھوں کے سامنے وہ ساری جگہیں تھیں جہاں جہاں درخت لگائے جا سکتے تھے ۔یہ فیصلہ کرنے کے بعد ہی وہ سو گیا ۔دوسرے دن اس نے درخت لگانے کی مہم کا آغاز اپنے گھر سے شروع کیا ۔ صبح ناشتے سے بھی پہلے وہ گھر کے ایک کونے میں کیاری بنا رہا تھا ۔شام تک اس نے اپنے گھر میں تین مختلف جگہوں پر چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنا لیں ۔ہمیں چاہیے کہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت بھی کریں کیونکہ یہی درخت کل کو آپ کو سایہ دیں گے ،تسکین دیں گے اور مدتوں یاد رہیں گے ۔