نپولین جس کے بغیر یورپی تاریخ نامکمل ہے!
اسپیشل فیچر
یورپی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انیسویں صدی میں سب سے اہم کردار نپولین بونا پارٹ کا تھا۔ نپولین 15اگست 1769ء کو فرانسیسی علاقے کورسیکا میں پیدا ہوا۔ اس وقت فرانس کی معاشی اور سیاسی حالت خراب تھی۔ تمام معاشی اور سیاسی طاقت فرانس کے بادشاہ کو حاصل تھی۔ فرانسیسی معاشرہ تین درجات میں تقسیم تھا۔ پہلا درجہ پادری، دوسرا اشرافیہ اور تیسرا درجہ عام لوگوں کیلئے مختص تھا۔ پہلے اور دوسرے درجے کے لوگوں کیلئے قانون الگ تھا اور انہیں بہت سے حقوق حاصل تھے۔ انہیں ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل تھا۔ اس کے برعکس عام لوگوں کیلئے قانون الگ تھا اور انہیں بے پناہ ٹیکسز کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ عام لوگوں کیلئے زندگی اجیرن بن چکی تھی۔ انقلاب وقت کی ضرورت بن چکا تھا لہٰذا لوگوں نے نظام بادشاہت کے خلاف کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا اور انقلاب برپا کر دیا۔ نپولین اس وقت فرانسیسی فوج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اچھی فوجی تربیت کی وجہ سے اسے ترقیاں ملتی رہیں اور وہ بریگیڈیئر جنرل کے عہدے تک پہنچا۔
1789ء کے فرانسیسی انقلاب میں بادشاہ کو نظامت سے نکال کر جمہوری فرانس کی بنیاد رکھی گئی۔ نظام حکومت کو بادشاہت سے تبدیل کر کے فرنچ ڈائریکٹری بنائی گئی۔ تاہم نپولین نے اس حکومت میں بھی اپنی فوجی خدمات جاری رکھیں اور 1795ء میں حکومت وقت کے خلاف شاہی بغاوت کو ناکام کرنے پر اسے میجر جنرل بنا دیا گیا۔ دیگر ممالک کے بادشاہ بھی خوفزدہ تھے کہ کہیں فرانسیسی انقلاب کی طرح ان کے ممالک میں بھی بغاوت نا شروع ہو جائے۔ لہٰذا وہ جمہوری فرانس کے خلاف تھے۔
1796 ء میں فرنچ ڈائریکٹری کی ہدایت پر نپولین نے آسٹریا کے خلاف جنگ جیتی۔ جمہوریہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان فسادات شروع ہو رہے تھے۔ فرنچ ڈائریکٹری نے نپولین کو برطانیہ کے خلاف لڑنے کا حکم دیا۔ تاہم اس وقت فرنچ آرمی میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ برطانوی شاہی نیوی کا مقابلہ کرے، نپولین یہ بات بخوبی جانتا تھا، سو اس نے ڈائریکٹری کو اس بات پر متفق کیا کہ وہ برطانیہ کی بجائے مصر پر حملہ کرے گا اور برطانیہ کا انڈیا تک معاشی راستہ بند کر دے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا اور مصر میں جنگ جیت لی۔
1798ء میں نپولین کو دریائے نیل میں برطانوی شاہی نیوی کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں وہ ناکام ہوا اور اس کے فوراً بعد 1799ء میں شام میں بھی فوجی مہم کے دوران وہ ناکام ٹھہرا۔ اس وقت اْدھر فرانس میں حکومت کمزور ہو چکی تھی لہٰذا نپولین واپس لوٹا اور اس نے وہاں جا کر حکومت پر قبضہ کرلیا۔ ایک دفعہ پھر 1799ء میں فرانسیسی نظام حکومت بدلا اور فرنچ ڈائریکٹری کو کونسل سے تبدیل کر دیا گیا۔ نپولین نے خود کو کونسلیٹ کا ''فرسٹ کونسل‘‘ یعنی سربراہ مقرر کرلیا۔ نپولین نے 1804ء میں فرانس کا حکمران ہونے کا اعلان کردیا۔
نپولین نے اپنی حکومت کے دوران معاشی اور معاشرتی اصلاحات کیلئے کام کیا۔ اْدھر یورپی بادشاہوں کا نپولین پر غصہ بڑھ رہا تھا لیکن نپولین معاشی اصلاحات کرتا رہا اور اُس کی حکومت کے دوران فرانس میں قدرے استحکام آیا۔ اس نے قدیم نظام حکومت بدلا، ایک نیا لیگل سسٹم متعارف کروایا جس میں تمام لوگوں کو برابر معاشی اور معاشرتی حقوق حاصل تھے۔ نسلی فرق کا خاتمہ کر دیا گیا۔ قدیم نظام حکومت کو تبدیل کرنے کے بعد اس نے جو نیا قانون متعارف کروایا اس کا نام اس نے ''کوڈ نپولین‘‘ رکھا۔قانون پاس کروا کے اس نے مساوات کا قانونی نظام لاگو کیا، لہٰذا وہ اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھنے لگا۔
یہ وہ وقت تھا جب فرانس کے دشمن یورپی ممالک کے بادشاہ، نپولین کے خلاف جمع ہونے لگے۔ اِدھر فرانسیسی انقلابی اور خود نپولین بھی فیصلہ کر چکا تھا کہ فرانسیسی انقلاب کے اثرات دیگر یورپی ممالک میں بھی محسوس کیے جانے چاہئیں اور وہاں کا فیوڈل اور شاہی نظام ختم ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو برابری کے حقوق مل سکیں۔ لہٰذا نپولین نے اپنی فوجی طاقت کے اظہار اور فرانس کی حدود کو بڑھانے کیلئے کچھ یورپی ممالک پر حملہ کر دیا۔
1803ء سے 1815ء تک نپولین کی جنگوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ادھر یورپی ممالک نے نپولین کا مقابلہ کرنے کیلئے کئی اتحاد قائم کیے لیکن انہیں تقریباً ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1805ء میں نپولین نے آسٹرلیٹز جنگ میں آسٹرینز اور رشینز کو شکست دی۔ نپولین یورپی ممالک کے خلاف یکے بعد دیگرے فتوحات حاصل کرتا رہا لیکن برطانیہ اس کیلئے کافی مشکل ٹھہرا۔ نپولین جو کئی یورپی ممالک پر قبضہ کر چکا تھا اس نے برطانیہ کا مقابلہ کرنے کیلئے کانٹی نینٹل سسٹم متعارف کروایا۔ اس نے اپنے قبضہ میں موجود تمام ممالک کو پابند کیا کہ برطانیہ سے معاشی تعلقات ختم کیے جائیں اور برطانیہ کو بین الاقوامی تجارت کیلئے کوئی بندرگاہ نہ دی جائے۔ روس کے کونٹی نینٹل سسٹم سے نکلنے کے بعد نپولین نے1812ء میں ماسکو کی طرف مہم کرتے ہوئے قبضہ کرلیا لیکن روسی بادشاہ نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ نپولین نے وہاں ایک مہینہ انتظار کیا لیکن سردی کی شدت میں اس کے بے تحاشا سپاہیوں کی موت واقع ہوئی لہٰذا اس نے واپس آنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس وقت فرانس دیگر محاذوں پر بھی یورپی ممالک کا مقابلہ کر رہا تھا۔
اسی وقت ایک بڑا یورپی اتحاد ابھرا اور اس نے نپولین کی فوج کو کافی نقصان پہنچایا اور پیرس پر قبضہ کرتے ہوئے نپولین کو 1815ء میں ایلبا جزیرے پر جلاوطن کر دیااور بادشاہ لوئسXVIII کی حکومت قائم ہوئی۔ نپولین ایک سال کے اندر ہزار لوگوں کے ہمراہ فرانس واپس لوٹا، بادشاہ لوئس ملک سے بھاگ گیا۔ نپولین نے ایک دفعہ پھر اپنی حکومت قائم کی اور دشمن ممالک پر حملہ کیا انہیں کافی نقصان بھی پہنچایا لیکن بالآخر برطانیہ نے1815ء میں واٹرلو کی جنگ میں نپولین کی فوجی مہم کو سختی سے کچل ڈالا اور ایک دفعہ پھر نپولین کو جلاوطن کر دیا گیا۔ اس مرتبہ اسے فوجی نگرانی میں سینٹ ہیلینا جزیرہ پر جلاوطن کیا گیا۔ 1821ء میں نپولین کی موت واقع ہوئی اور اسے اس کی خواہش کے برعکس اسی جزیرے پر دفن کیا گیا۔ تاہم 1840ء میں اس کی لاش کی باقیات کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دفن کرنے کیلئے لایا گیا۔
نپولین کی فوجی مہم کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ جس ملک پر قبضہ کرتا، وہاں پر اپنا بنایا ہوا کوڈ نپولین لاگو کرتا اور لوگوں کو برابر کے حقوق دیتا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نپولین کی موت تک فرانس سْکڑ کر اپنی سابقہ حدود تک واپس پہنچ چکا تھایقینا نپولین انیسویں صدی کا سب سے اہم کردار تھا۔
محمد سلمان جی سی یو فیصل آباد میں انگلش
لٹریچر کے طالب علم ہیں ، ڈرامیٹکس اینڈ پرفارمنگ آرٹس سوسائٹی کے ساتھ
بطور سکرپٹ رائٹر وابستہ ہیں ، کالج
کے رائٹرز کلب کے بھی ممبر ہیں