کیا ویسٹ انڈیز ایک ملک ہے؟
اسپیشل فیچر
ویسٹ انڈیز کا نام سنتے ہی کسی طاقتور اور بڑے ملک کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ مگرآپ سن کر حیران ہوں گے کہ ویسٹ انڈیز کوئی ملک نہیں بلکہ بحر اوقیانوس میں carribean sea کے آس پاس بکھرے ہوئے سات ہزارجزیروںپر مشتمل علاقے اورایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے ۔ ان جزیروں کے صرف دو فی صد علاقہ پر انسانی آبادی ہے جولگ بھگ ساڑھے چار کروڑ ہے۔ یہاں 13 آزاد اور 18 محکوم ریاستیں آباد ہیں جو جنوبی امریکا کے شمالی ساحل پر پھیلی ہوئی ہیں۔ان ریاستوں میں جمیکا ، بارباڈوز ، کیوبا ، ہیٹی ،انگوئلا ،مونٹسیرٹ ،ڈومینیکا ، اروبا ، بونیر ، گیانا ، سینٹس کِٹس ، گرینیڈا ، ٹوباگو ٹرینیڈاڈ اور با ہا ماس شامل ہیں ۔ 1492 ء میں کولمبس دنیا کے مشرقی حصے '' انڈیز ‘‘یعنی بھارت وغیرہ کی تلاش میں دنیا کے مغربی حصے میں جا پہنچا اور اسے ہی انڈیا سمجھ لیا ۔ تاہم جب علم ہوا تو اسے ویسٹ انڈیز( غرب الہند) کا نام دے دیا ۔ اسے carribean بھی کہتے ہیںکیونکہ یہاں carib نام کا قبیلہ آباد تھا۔اسی نسبت سے وہاں کے سمندر کو carribean sea کہتے ہیں۔ نئے براعظم امریکہ میں برطانیہ نے قدم جمائے توان دنوں کرکٹ کا سحر دنیا پر چھایا ہوا تھالہٰذا اس خطے میں بھی کرکٹ کا کھیل مقبول ہونے لگا ۔تاہم کسی ایک ریاست یا جزیرے کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم بنانا مشکل تھا۔اس لیے پہلی مرتبہ باربا ڈوز ، گیانا اور ٹرینیڈاڈ کی ریاستوں نے 1900ء میں کرکٹ ٹیم تیار کرکے انگلینڈ بھیجی ۔ بعد ازاں 1926 ء میں انگلینڈ نے بارباڈوز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا جو انگلینڈ نے بآسانی جیت لیا۔1950ء میں خطہ کے تمام جزائر سے اچھے اچھے کھلاڑیوں کا انتخاب کرکے ایک مضبوط ٹیم تشکیل پائی۔ستر کی دہائی میں اس مشترکہ ٹیم کو بین لاقوامی طور پر تسلیم کرلیا گیا اور اس ٹیم نے1975ء میں دنیا کو پچھاڑ کرپہلا کرکٹ ورلڈکپ جیت لیا۔1990ء تک ویسٹ انڈینز ٹیم ناقابل تسخیر تھی اور اسے کالی آندھی کہا جاتا تھا۔ویسٹ انڈیز چونکہ ایک قوم نہیں بلکہ قوموں کا مجموعہ ہے اور اس کی سب سے بڑی پہچان کرکٹ ہے لہٰذا اس کے جھنڈے پرگیند،بلا اور وکٹ کی علامات بنی ہوئی ہیں ۔ بین الاقوامی مقابلوں میں میچ کے آغاز پر کرکٹ ٹیموں کے قومی ترانے پڑھے جاتے ہیں مگر ویسٹ انڈیز کے لیے کرکٹ اینتھم گایا جاتا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے بھی ویسٹ انڈیزپسندیدہ جگہ ہے ۔