سنچونا۔۔ہزاروں انسانوں کی جان بچانے والا انمول درخت

سنچونا۔۔ہزاروں انسانوں کی جان بچانے والا انمول درخت

اسپیشل فیچر

تحریر : خاورنیازی


جڑی بوٹیوں کوزمانہء قدیم ہی سے ان کے اندر چھپے خواص کی بدولت انسانی جسم پر مرتب اثرات کی وجہ سے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔دنیا نے ترقی کر لی لیکن آج بھی ان ادویہ کا ماخذ یہ جڑی بوٹیاں ہی ہیں۔تصور کیجئے ماضی میں نباتات پر مناسب تحقیق نہ ہونے کے سبب بیماریوں کوقابو میں رکھنا کس قدر نقصان دہ ہوا کرتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ملیریا کی دی جاسکتی ہے۔عالمی ادارہء صحت نے دوسال قبل عالمی برادری کو ملیریا سے بچاؤ بارے متنبہ کرتے ہوئے اس کے مہلک اثرات بارے کہا تھا کہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں اب بھی ملیریا کو معمولی نوعیت کی بیماری گردانتے ہوئے اس سے بچاؤ بارے احتیاط نہیں کی جاتی۔عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی یاد کرایا تھا کہ یہ ملیریا ہی کی وبا تھی جس نے اپنے دور کی عظیم سلطنت روما کو تباہ کر دیاتھا۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہء صحت نے اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ '' بدقسمتی سے اب بھی دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی ان علاقوں میں رہائش پذیر ہے جہاں اس بیماری کا انفیکشن پایا جاتا ہے‘‘۔
یہ بات بھی تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہے کہ 20ویں صدی میں 15 سے 20 کروڑ انسان اسی ملیریا کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب دنیا میں ملیریا کا نہ تو کوئی باقاعدہ علاج دریافت ہوا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی دوا۔اس سے پہلے اس مہلک بیماری کا علاج بھی غلط طریقوں سے کیا جاتا تھا۔ایک روایت کے مطابق ملیریا کا علاج جسم سے خون نکال کر اعضاء کاٹ کر حتیٰ کہ کھوپڑی میں سوراخ کر کے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال قبل جب ملیریا کی دوا ''کونین‘‘ دریافت ہوئی تو اسے لوگوں نے اس روئے زمین پر انسانیت کے لئے مثبت قدم قرار دیا تھا اگرچہ اس دور میں بھی اس نئی دوا بارے لوگوں کے کچھ تحفظات اور شکوک وشبہات تھے۔ملیریا کی دوا کی دریافت کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے، اس دوائی کی دریافت 1631ء میں اینڈیز کے جنگلات میں ہوئی تھی۔تفصیل اس ایجاد کی کچھ اس طرح ہے۔
1631ء میں سپین سے تعلق رکھنے والی ایک امیر خاتون کاؤنٹیس آف سنچونا کی شادی پیرو کے وائسرائے سے ہوئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد وائسرائے کی اہلیہ بیمار پڑ گئیں۔تیز بخار کے ساتھ بدن میں کپکپی اور کھچاؤ محسوس ہونے لگا جسے اگرچہ اس وقت تو کوئی نام نہ دیا جا سکا تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ یہ ملیریا بخار ہی کی علامات ہیں۔وائسرائے نے اپنی اہلیہ کے علاج کی غرض سے انہیں ایک دوا پلائی جس کی بابت وہاں کے طبیبوں کا دعویٰ تھا کہ یہ دوا اس نئی بیماری (ملیریا )کا تیر بہدف علاج ہے۔چنانچہ کاؤنٹیس بہت جلد صحت یاب ہو گئیں۔وائسرائے کے استفسار پر انہیں بتایا گیا کہ یہ دوا ایک بے نام درخت کی چھال کو لونگ ،گلاب کے پتوں اور چند دیگر سوکھی جھاڑیوں کے پتوں کو پیس کر تیار کی گئی ہے۔چنانچہ اس کے بعد اس بے نام کرشماتی درخت کو باقاعدہ طور پر '' سنچونا‘‘ کانام دیا گیا۔آج یہ درخت پیرو اور ایکواڈور کے قومی درخت کی شناخت رکھتا ہے۔
ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی ماہر حیاتیات نتالی کینلس جن کا تعلق بنیادی طور پر پیرو کے علاقے ایمیزون سے ہے اور وہ سنچونا کی جینیاتی تاریخ بارے تحقیق کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ اس تحقیق کا مقصد جہاں اس انمول درخت جس سے ملیریا کی پہلی دوا کونین بنائی گئی تھی کی افادیت کی مزید تحقیق کرنا ہے وہیں تیزی سے معدومیت کا شکار اس درخت کی بقا بارے ایک رپورٹ مرتب کرنا بھی ہے۔ کینلس کا کہنا ہے کہ '' اگرچہ بہت سارے لوگ ابھی بھی اس درخت بارے شاید کچھ نہ جانتے ہوں گے لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ اس درخت سے بنائی جانے والی ایک دوا نے انسانی تاریخ میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔ کینلس نے اپنی اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ سپین کے لوگوں کے آنے سے قبل ہی کیچوا ، کینری اور چیمو قبائل کو کونین کا علم تھا اور انہوں نے ہسپانوی جیسوئٹ پجاریوں کو اس درخت کی افادیت بارے بتایا تھا۔ یہ تینوں قبائل موجودہ پیرو،ایکواڈور اور بولیویا میں رہتے ہیں۔ جیسوئٹ کے پجاریوں نے اس درخت کی دارچینی جیسی چھال کو پیس کر جو سفوف بنایا اسے '' جیسوئٹ سفوف ‘‘ کانام دیا گیا تھا۔کچھ ہی عرصہ بعد ملیریا کی اس طلسماتی دواکا شہرہ یورپ تک پھیل گیا۔رفتہ رفتہ پورے یورپ میں سنچونا کی چھال سے کونین بنانے کا کاوربار زور پکڑتا گیا۔ کہتے ہیں فرانس کے کنگ لوئس چہارم کو بخار ہوا جن کا علاج کونین ہی سے کیا گیا اور وہ صحت یاب ہو گئے۔ بلا ٓخر 1677ء میں رائل کالج آف فزیشنز انگلینڈ نے سنچونا کی چھال کو دوائی تسلیم کرتے ہوئے اسے سرکاری فہرست میں شامل کر لیا جس کے بعد پورے انگلینڈ میں ڈاکٹر سنچونا ہی سے مریضوں کا علاج کرنے لگے۔
سنچونا درخت معدومیت کا شکار کیوں ؟
17ویں صدی کے آخری عشروں میں سنچونا کی مانگ میں اچانک بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چونکہ سنچونا ایک بارانی درخت ہے اس لئے یورپ کے لوگوں نے جنگلوں کا رخ کیا اور سنچونا کی چھال دھڑا دھڑ نکال کر پیرو کی بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں تک پہنچانا شروع کر دی۔ چونکہ اس سے پہلے اس درخت کی افادیت کا کسی کو علم نہ تھا اس لئے اس کی افزائش کی طرف کسی کا دھیان ہی نہ گیا۔19ویں صدی میں سنچونا کی مانگ میں اضافہ سے بین الاقوامی طور پر اس کی قیمتوں میں اچانک بہت اضافہ ہو گیا۔جس کی سب سے بڑی وجہ نوآبادیاتی جنگوں میں شامل یورپی فوجیوں کی اموات تھیں جو اکثر ملیریا سے مر جاتے تھے۔کونین جیسی دوا نے انہیں زندہ رہنے اور جنگ جیتنے کے قابل بنا دیا۔ چونکہ یورپ میں اسے شربت کی صورت میں بھی تبدیل کر دیا گیا تو ایسے ہی ایک موقع پر ونسٹن چرچل نے کہا تھا '' اس مشروب نے جتنے انگریزوں کی جان بچائی ہے اتنی جانیں تو سلطنت کے تمام ڈاکٹروں نے بھی ملک کر نہیں بچائی ہوں گی‘‘۔
اس دوا کی مانگ کا اندازہ برطانوی حکومت کے ان اعداد و شمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 1848ء سے 1861ء کے درمیان برطانوی حکومت نے اپنی کالونیوں میں تعینات فوجیوں کے لئے سنچونا کی چھال کی درآمد پر سالانہ 64 لاکھ پاؤنڈ خرچ کئے۔ یہی وہ عوامل تھے جس سے ایک طرف سنچونا کی مانگ بڑھتی چلی گئی لیکن سنچونا کے درختوں کی حفاظت اور ان کی نئے سرے سے افزائش کی جانب کسی نے توجہ نہ دی۔''ملیریا سبجیکٹس ‘‘ کے مصنف ڈاکٹر روبن دیب رائے کہتے ہیں ''سنچونا کی چھال کے ساتھ ساتھ اس کے بیجوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوالیکن صحیح بیج کا انتخاب آسان نہیں تھا۔کیونکہ ماہرین کے مطابق سنچونا کی 23 کے قریب اقسام تھیں اور ان سب میں کونین کی مقدار مختلف تھی۔
1950 ء کی دہائی میں جب کونین کے لئے عالمی سطح پر مقابلہ تھا تو پیرو اور بو لیویا دونوں نے سنچونا کی چھال کی برآمد پر اجارہ داری قائم کر لی۔ 1970ء کی دہائی میں ''آرٹیمیسنن‘‘ کی دریافت کے بعد کونین کی طلب میں کمی واقع ہوئی لیکن اس کے باوجود کونین کا چرچا دنیا بھرمیں قائم رہا۔ صدیوں تک جاری سنچونا کی چھال کی مانگ نے اس کے جنگلات کو تباہ کر دیا۔1805ء میں ایکواڈور اور اینڈیز میں 25 ہزار سنچونا درخت تھے۔اب اس کی جگہ پوڈوکارپس نیشنل پارک بنا دیاگیا ہے جس کے بعد یہاں سنچونا کے درختوں کی تعداد صرف 29 رہ گئی ہے۔ اگرچہ اب یہ دوا درختوں کی چھال کی بجائے لیبارٹریوں میں بننے لگی ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں مستقبل میں نئی دواؤں کی دریافت کے لئے سنچونا کی پیداوار اور اہمیت کو نظر انداز کرنا ایک الیمہ ہو سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سرن میں نئی دریافت

سرن میں نئی دریافت

تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفتحالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

ذہنی صحت پر حیران کن اثرات ،ایک سائنسی جائزہجدید دور میں نوجوانوں کی زندگی جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ کے گرد گھومتی ہے وہیں ایک اور اہم مگر نظرانداز پہلو اْن کی خوراک ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی خوراک ان کی ذہنی صحت پر ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق، جو برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، نشاندہی کرتی ہے کہ صحت مند غذا اور ذہنی سکون کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جبکہ غیر معیاری خوراک ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں تقریباً 19 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں ایک واضح رجحان سامنے آیا اور وہ یہ کہ بہتر خوراک کا نتیجہ کم ڈپریشن جبکہ غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل سامنے آنے والا سائنسی رجحان ہے اور دیگر مطالعات بھی اسی نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ جو نوجوان زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ صرف وٹامن یا سپلیمنٹس لینے سے واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر وٹامن ڈی کے حوالے سے کچھ مثبت نتائج ضرور ملے مگر وہ مستقل نہیں تھے۔اس کے برعکس مکمل غذا کا مجموعی معیار زیادہ اہم ثابت ہوا ہے یعنی متوازن خوراک اورقدرتی اجزا کا استعمال اورپراسیسڈ فوڈ سے پرہیز،یہ مجموعی طور پر ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں زیادہ مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانی وہ مرحلہ ہے جب دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں خوراک کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اگر اس دور میں غذا غیر متوازن ہو تودماغی کیمیائی عمل متاثر ہو سکتے ہیں،جذباتی توازن بگڑ سکتا ہے،ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ وہ ونڈو آف اپرچونٹی ہے جہاں بہتر خوراک کے ذریعے مستقبل کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جنک فوڈ اور ذہنی مسائلتحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنک فوڈ خاص طور پر وہ خوراک جو چکنائی اور چینی سے بھرپور ہو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایسی غذاڈپریشن کے امکانات بڑھاتی ہے،یادداشت کو متاثر کرتی ہے، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کم کرتی ہے۔کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم معیار کی غذا لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 80 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ گٹ برین کنکشنجدید سائنس ایک اور اہم پہلو پر زور دیتی ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔خوراک ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے جو براہِ راست دماغی افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ناقص غذا کے اثرات نیوروٹرانسمیٹرز (جیسے سیروٹونن) کی پیداوار متاثر،سوزش (inflammation) میں اضافہ اورموڈ میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اوریہ عوامل ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کھانے کی عادات بھی اہمصرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کیسے کھاتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ناشتہ نہ کرنا ذہنی مسائل بڑھا سکتا ہے،فیملی کے ساتھ کھانا کھانا ذہنی سکون دیتا ہے،بے ترتیب کھانے کی عادات منفی اثر ڈالتی ہیں، یعنی خوراک کا معیار اور انداز دونوں اہم ہیں۔ سماجی و معاشی عوامل کا کرداریہ تعلق اتنا سادہ بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ معاشی حیثیت،صنفی فرق، خاندانی ماحول۔مثلاً کم آمدنی والے خاندانوں میں صحت مند خوراک تک رسائی کم ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سائنسدان ابھی بھی اس تعلق کو مکمل طور پر ''سبب اور نتیجہ‘‘ کے طور پر ثابت نہیں کر سکے۔یعنی کیا خراب غذا ذہنی مسائل پیدا کرتی ہے یاکیا ذہنی مسائل خراب کھانے کی عادات پیدا کرتے ہیں؟اس سوال کا مکمل جواب ابھی باقی ہے، اسی لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جیسا کھاؤ گے ویسا سوچو گےتاہم یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت صرف نفسیاتی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر مضبوط ہو ڈپریشن اور اینگزائٹی سے محفوظ رہے، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھے تو ہمیں ان کی خوراک پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔متوازن غذا، قدرتی اجزا اور صحت مند کھانے کی عادات نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی طاقت دیتی ہیں ،اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ جو کھاتے ہیں وہی آپ کی سوچ، مزاج اور ذہنی کیفیات کو تشکیل دیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اسلامی جمہوریہ ایران کا قیامیکم اپریل 1979ء ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا جب عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایران کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم اس انقلاب کا منطقی نتیجہ تھا جو 1978-79ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف برپا ہوا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مذہبی بنیادوں پر قائم نظام کی بنیاد رکھی۔ریفرنڈم میں ایرانی عوام سے ایک سادہ سوال پوچھا گیا: کیا آپ اسلامی جمہوریہ چاہتے ہیں؟ سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 98 فیصد ووٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یکم اپریل ایران میں یومِ جمہوریہ اسلامی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کا خاتمہیکم اپریل 1939ء کو ہسپانوی خانہ جنگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی جب جنرل فرانسسکو فرانکو کی افواج نے فتح کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 1936ء میں شروع ہوئی تھی اور اس میں جمہوری حکومت کے حامیوں (ریپبلکنز) اور قوم پرستوں (نیشنلٹس) کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔فرانکو کی قیادت میں قوم پرستوں کو جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ ریپبلکنز کو سوویت یونین اور بین الاقوامی رضاکاروں کی مدد حاصل تھی۔ یکم اپریل کو فرانکو نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔اس فتح کے بعد سپین میں ایک طویل آمریت کا آغاز ہوا جو 1975ء میں فرانکو کی موت تک جاری رہی۔ بی بی سی کا اپریل فولیکم اپریل 1957ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک مشہور اپریل فول مذاق کیا جسے تاریخ کے کامیاب ترین میڈیا ہوکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں سپیگٹی کے درخت اُگتے ہیں اور لوگ ان سے سپیگٹی توڑ رہے ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں نشر ہوئی جو عام طور پر سنجیدہ اور تحقیقی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بہت سے ناظرین نے اس خبر کو سچ مان لیا۔ نشر ہونے کے بعد بی بی سی کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ وہ سپیگٹی کا درخت کیسے اُگا سکتے ہیں۔یہ واقعہ میڈیا کی طاقت اور عوام کے اعتماد کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کس طرح معلومات کی تصدیق کے بغیر لوگ کسی بھی خبر کو سچ مان سکتے ہیں۔ فارو جزائر کی خود مختاری یکم اپریل 1948ء کو ڈنمارک کے زیر انتظام فارو جزائر کو خود مختار حیثیت دی گئی۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ نما علاقہ ہے جہاں کے عوام نے طویل عرصے تک خود حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فارو کے عوام میں قومی شناخت کا شعور مزید مضبوط ہوا۔ 1946ء میں ایک ریفرنڈم بھی ہوا جس میں معمولی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم ڈنمارک نے مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک سمجھوتہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1948ء کا ہوم رول ایکٹ نافذ کیا گیا جو یکم اپریل سے مؤثر ہوا۔اس قانون کے تحت فارو جزائر کو داخلی معاملات پر مکمل اختیار دیا گیا جبکہ خارجہ امور اور دفاع ڈنمارک کے پاس رہے۔

وادیِ سندھ کی تہذیب

وادیِ سندھ کی تہذیب

عالمگیر تمدن،سامی رابطہ اور الہامی روایت آثارِ قدیمہ کے ممتاز محقق رچرڈ ایچ میڈوز ( Richard H. Meadow) کے مطابق قدیم سندھی تہذیب محض ایک محدود جغرافیائی یا علاقائی تمدن نہیں بلکہ ایک طویل اور ہمہ گیر ثقافتی عہد کا نام ہے جس کی وسعت وادی سندھ اور ہاکڑا کے میدانوں سے نکل کر بلوچستان، چولستان، تھر، ساحلِ مکران، گجرات اور اس سے ملحقہ جزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیگر عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق بھی اس تہذیب کے اثرات مغرب کی جانب فارس اور عراق سے ہوتے ہوئے ترکیہ کے آخری خطوں تک پہنچے، حتیٰ کہ جارجیا اور آرمینیا میں ملنے والے کھنڈرات میں بھی اس کے نقوش نمایاں ہیں۔مارک کینویر اور جم شیفر نے قدیم سندھی تہذیب کو چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلا دور حجری یا نو حجری (Neolithic) کہلاتا ہے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وادیِ سندھ کی تہذیب اب تک معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین شہری تہذیب قرار پاتی ہے، جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کا عمومی اتفاق موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں مصر کی فراعینی تہذیب تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کی ہے جبکہ یونان (ایتھنز اور سپارٹا)، جنوبی امریکہ کی انکا، مایا اور ازٹیک تہذیبیں، نیز میسوپوٹیمیا (سومر اور بابل) اور عیلامی تہذیبیں اپنی تمام تر عظمت کے باوجود قدامت میں وادیِ سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔سات شہری ریاستیں اور بادِ ایمن کا تصوروادیِ سندھ کی تہذیب میں سات عظیم شہری ریاستوں کا ذکر ملتا ہے جن کے لیے بعض مؤرخین نے بادِ ایمن (Bad Imin) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان ریاستوں میں موئن جو دڑو، چہنوں جو دڑو، نال، آمری، ہڑپہ، نصیرآباد اور مہرگڑھ شامل ہیں۔ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زراعت اور تجارت اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ رزق کی فراوانی عام تھی اور غربت یا پسماندگی کے منظم آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غالباً اسی معاشی خوشحالی، امن اور سماجی توازن کے باعث ان ریاستوں نے مشترکہ تہذیبی شناخت کے طور پر ''بادِ ایمن‘‘ کو قبول کیا۔ویدک، غیر ویدک اور عربی روایاتسندھی تہذیب کو محض ویدک رشیوں کی پیداوار کہنا درست نہیں بلکہ یہ ویدی اور غیر ویدی عناصر کا ایک پیچیدہ اور بامعنی امتزاج ہے۔ مہا بھارت کے واقعات بالخصوص کوروؤں کی حمایت کرنے والے قبائل کے نام اگر عربی لسانی و تاریخی تناظر میں دیکھے جائیں تو قدیم تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو روشن ہوتے ہیں۔مثلاً شیمی قبیلہ جس کا ذکر شورکوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ملنے والی قدیم تحریروں میں شیمی پورہ کے نام سے ملتا ہے، عربی اور سبائی روایات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عربوں میں دادا کا نام پوتے کو دینا عام روایت تھی جس سے ہندی اوس اور عربی اوس (فرزندانِ سبا) کے مابین نسلی ربط واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح مہا بھارت کے شکست خوردہ فریق کے سردار راجہ کرن کا عربی متبادل ملکِ قرن بنتا ہے جو عربی تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔سید سلیمان ندوی نے سوامی دیانند سرسوتی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مہا بھارت کے زمانے تک ہندوستان میں عربی زبان نہ صرف سمجھی جاتی تھی بلکہ بولی بھی جاتی تھی جو برصغیر اور عرب کے مابین قدیم لسانی ربط کا واضح ثبوت ہے۔جغرافیائی ناموں کی تاریخی گردشہند اور سند محض نسلی نہیں بلکہ جغرافیائی اصطلاحات ہیں جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں۔ چوتھی صدی عیسوی تک جنوبی عرب کے بعض حصے ارضِ ہند کہلاتے تھے جبکہ ابلہ اور بصرہ جیسے مقامات بھی اسی نام سے معروف رہے۔ اوستائی دور میں ایران کا جنوبی حصہ بومِ ہندواں کہلاتا تھا اور عیلام کے بادشاہ کدراَدا کورماکو کو کدرتانِ ہندی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام شواہد ہند، سندھ اور عرب کے باہمی تاریخی ربط کو تقویت دیتے ہیں۔سندھی مہریں، رسم الخط اور مغربی تعصبسر جان مارشل نے 1925ء میں سندھی مہروں کا مطالعہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کا تعلق عراق کے اکدی دور تک جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہروں کو بائیں سے دائیں نہیں بلکہ دائیں طرف سے پڑھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بعد کے اکثر مغربی محققین نے دانستہ طور پر ان نوشتوں کو سامی، عربی یا عبرانی تناظر میں پڑھنے سے گریز کیا تاکہ وادیِ سندھ کی تہذیب کو الہامی روایت سے جوڑنے سے بچا جا سکے۔مولانا ابوالجلال ندوی اور ڈاکٹر خالد حسن قادری کا دوٹوک مؤقف ہے کہ قدیم سندھی نوشتے عربی کی ابتدائی صورت ہیں۔ مولانا ندوی کے مطابق چین کے سوا دنیا کی اکثر ابجدوںیونانی، لاطینی، عبرانی، عربی، اردو اور دیوناگری کا سلسلۂ نسب ہڑپہ کے نوشتوں سے جا ملتا ہے۔ اہرامِ مصر، موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار محض اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس علم کی یادگار ہیں جو نسلِ انسانی کو منتقل ہوا۔ مغرب آج بھی ان تہذیبوں کے کئی اسرار حل کرنے سے قاصر ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قدیم دنیا محض ابتدا نہیں بلکہ گہری روحانی اور علمی بنیادوں پر قائم تھی۔

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

صحت اور نفسیات کا اہم سوالڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ایک اہم سوال تیزی سے زیرِ بحث آ رہا ہے کہ بچوں کو سمارٹ فون کس عمر میں دیا جائے؟ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری میں سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشروں میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون عام ہوتے جا رہے ہیں۔ایک جامع تحقیق، جس میں 10 ہزار سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل تھا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر تک سمارٹ فون تھا، ان میں کئی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں ڈپریشن کی شرح زیادہ تھی۔ تقریباً 5.7 فیصد سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ڈپریشن پایا گیا جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سکرین ٹائم، سوشل میڈیا کا دباؤ اور آن لائن دنیا میں موازنہ کرنے کی عادت بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی زیادہ پایا گیا اور تقریباً 16 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے بجائے سکرین پر وقت گزارتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سمارٹ فون رکھنے والے بچے اوسطاً روزانہ تقریباً 17 منٹ کم سوتے ہیں۔ یہ معمولی فرق لگ سکتا ہے مگر مسلسل نیند کی کمی بچوں کی نشوونما، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جتنی کم عمر میں بچے کو سمارٹ فون دیا جائے اتنے ہی زیادہ صحت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے 12 سال کی عمر کے بعد فون لیتے ہیں ان میں بھی نیند کی کمی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگرچہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ صرف سمارٹ فون ہی مسائل کی وجہ ہے۔ کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کو فون کب ملا بلکہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر استعمال متوازن ہو، والدین کی نگرانی ہو، اور سکرین ٹائم محدود ہو تو خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں صورتحالپاکستان میں یہ مسئلہ کچھ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے ، مثال کے طور پرشہری علاقوں میں بچوں کو کم عمری میں موبائل فون مل جاتا ہے۔آن لائن کلاسز اور یوٹیوب نے سمارٹ فون کو ''تعلیمی ضرورت‘‘بنا دیا ہے اوروالدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے فون دے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ) کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بچوں میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ یہ تمام عوامل بچوں کے سکرین ٹائم کو بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور سماجی میل جول سے دور ہو رہے ہیں۔والدین کیا کریں؟ماہرین کے مطابق سمارٹ فون دینا کوئی غلط فیصلہ نہیں، لیکن اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ممکن ہو تو بچوں کو کم از کم 13 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سمارٹ فون دیں۔روزانہ استعمال کا وقت مقرر کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔بچوں کو سونے کے وقت فون سے دور رکھیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔ کھیل کود، واک اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔حقیقی زندگی میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سمارٹ فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنے کا ایک عمل ہے جس میں بچوں اور والدین دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حالیہ تحقیق واضح طور پر یہ اشارہ دیتی ہے کہ بچوں کو کم عمری میں سمارٹ فون دینا ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے ہو رہی ہے، والدین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط فیصلہ کریں۔اہم سوال یہ نہیں کہ بچے کو فون دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس حد تک دینا ہے۔اور یہی فیصلہ بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایفل ٹاور کا افتتاح 31 مارچ 1889ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی شاہکاروں میں سے ایک، ایفل ٹاور کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ٹاور فرانسیسی انجینئر گوستاو ایفل کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے فرانسیسی انقلاب کے 100 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ایفل ٹاور کی تعمیر 1887ء میں شروع ہوئی اور دو سال، دو ماہ اور پانچ دن میں مکمل ہوئی۔ابتدائی طور پر پیرس کے کئی ادیبوں اور فنکاروں نے اس کی مخالفت کی اور اسے شہر کے حسن کے خلاف قرار دیا مگر وقت کے ساتھ یہ نہ صرف پیرس بلکہ پورے فرانس کی پہچان بن گیا۔ آئزک نیوٹن کا انتقال 31 مارچ 1727ء کو عظیم برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا لندن میں انتقال ہوا۔ نیوٹن کو جدید سائنس کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، خصوصاً طبیعیات اور ریاضی کے میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین پیش کیے جنہوں نے کائنات کے طبعی نظام کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی کتاب Philosophiæ Naturalis Principia Mathematicaکو سائنس کی تاریخ کی سب سے اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کی دریافتوں نے نہ صرف سائنسی تحقیق کو نئی سمت دی بلکہ صنعتی انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی رکھی۔جارجیا ریفرنڈم31 مارچ 1991ء کو جارجیا میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں عوام نے سوویت یونین سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم میں تقریباً 99 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جو اس بات کا واضح اظہار تھا کہ جارجیا کے عوام سوویت کنٹرول سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد 9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔یہ واقعہ نہ صرف جارجیا بلکہ دیگر سوویت ریاستوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں آزادی کی تحریکیں تیز کر دیں۔یہ ریفرنڈم سرد جنگ کے خاتمے اور دنیا کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ٹیری شیاوو کا انتقال 31 مارچ 2005ء کو امریکہ میں ایک خاتون ٹیری شیاوو کا انتقال ہوا، جو ایک طویل قانونی اور اخلاقی تنازعے کا مرکز بنی رہی۔ وہ 1990ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد مستقل کومے کی حالت میں چلی گئی تھی۔اس کے شوہر اور والدین کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پیدا ہوا کہ آیا اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھا جائے یا نہیں۔ یہ معاملہ امریکی عدالتوں، سیاستدانوں، حتیٰ کہ امریکی کانگریس تک پہنچ گیا۔بالآخر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کی خوراک کی نالی ہٹا دی جائے جس کے بعد 31 مارچ 2005ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے اور طبی اخلاقیات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔