سنچونا۔۔ہزاروں انسانوں کی جان بچانے والا انمول درخت
اسپیشل فیچر
جڑی بوٹیوں کوزمانہء قدیم ہی سے ان کے اندر چھپے خواص کی بدولت انسانی جسم پر مرتب اثرات کی وجہ سے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔دنیا نے ترقی کر لی لیکن آج بھی ان ادویہ کا ماخذ یہ جڑی بوٹیاں ہی ہیں۔تصور کیجئے ماضی میں نباتات پر مناسب تحقیق نہ ہونے کے سبب بیماریوں کوقابو میں رکھنا کس قدر نقصان دہ ہوا کرتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ملیریا کی دی جاسکتی ہے۔عالمی ادارہء صحت نے دوسال قبل عالمی برادری کو ملیریا سے بچاؤ بارے متنبہ کرتے ہوئے اس کے مہلک اثرات بارے کہا تھا کہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں اب بھی ملیریا کو معمولی نوعیت کی بیماری گردانتے ہوئے اس سے بچاؤ بارے احتیاط نہیں کی جاتی۔عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی یاد کرایا تھا کہ یہ ملیریا ہی کی وبا تھی جس نے اپنے دور کی عظیم سلطنت روما کو تباہ کر دیاتھا۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہء صحت نے اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ '' بدقسمتی سے اب بھی دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی ان علاقوں میں رہائش پذیر ہے جہاں اس بیماری کا انفیکشن پایا جاتا ہے‘‘۔
یہ بات بھی تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہے کہ 20ویں صدی میں 15 سے 20 کروڑ انسان اسی ملیریا کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب دنیا میں ملیریا کا نہ تو کوئی باقاعدہ علاج دریافت ہوا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی دوا۔اس سے پہلے اس مہلک بیماری کا علاج بھی غلط طریقوں سے کیا جاتا تھا۔ایک روایت کے مطابق ملیریا کا علاج جسم سے خون نکال کر اعضاء کاٹ کر حتیٰ کہ کھوپڑی میں سوراخ کر کے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال قبل جب ملیریا کی دوا ''کونین‘‘ دریافت ہوئی تو اسے لوگوں نے اس روئے زمین پر انسانیت کے لئے مثبت قدم قرار دیا تھا اگرچہ اس دور میں بھی اس نئی دوا بارے لوگوں کے کچھ تحفظات اور شکوک وشبہات تھے۔ملیریا کی دوا کی دریافت کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے، اس دوائی کی دریافت 1631ء میں اینڈیز کے جنگلات میں ہوئی تھی۔تفصیل اس ایجاد کی کچھ اس طرح ہے۔
1631ء میں سپین سے تعلق رکھنے والی ایک امیر خاتون کاؤنٹیس آف سنچونا کی شادی پیرو کے وائسرائے سے ہوئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد وائسرائے کی اہلیہ بیمار پڑ گئیں۔تیز بخار کے ساتھ بدن میں کپکپی اور کھچاؤ محسوس ہونے لگا جسے اگرچہ اس وقت تو کوئی نام نہ دیا جا سکا تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ یہ ملیریا بخار ہی کی علامات ہیں۔وائسرائے نے اپنی اہلیہ کے علاج کی غرض سے انہیں ایک دوا پلائی جس کی بابت وہاں کے طبیبوں کا دعویٰ تھا کہ یہ دوا اس نئی بیماری (ملیریا )کا تیر بہدف علاج ہے۔چنانچہ کاؤنٹیس بہت جلد صحت یاب ہو گئیں۔وائسرائے کے استفسار پر انہیں بتایا گیا کہ یہ دوا ایک بے نام درخت کی چھال کو لونگ ،گلاب کے پتوں اور چند دیگر سوکھی جھاڑیوں کے پتوں کو پیس کر تیار کی گئی ہے۔چنانچہ اس کے بعد اس بے نام کرشماتی درخت کو باقاعدہ طور پر '' سنچونا‘‘ کانام دیا گیا۔آج یہ درخت پیرو اور ایکواڈور کے قومی درخت کی شناخت رکھتا ہے۔
ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی ماہر حیاتیات نتالی کینلس جن کا تعلق بنیادی طور پر پیرو کے علاقے ایمیزون سے ہے اور وہ سنچونا کی جینیاتی تاریخ بارے تحقیق کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ اس تحقیق کا مقصد جہاں اس انمول درخت جس سے ملیریا کی پہلی دوا کونین بنائی گئی تھی کی افادیت کی مزید تحقیق کرنا ہے وہیں تیزی سے معدومیت کا شکار اس درخت کی بقا بارے ایک رپورٹ مرتب کرنا بھی ہے۔ کینلس کا کہنا ہے کہ '' اگرچہ بہت سارے لوگ ابھی بھی اس درخت بارے شاید کچھ نہ جانتے ہوں گے لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ اس درخت سے بنائی جانے والی ایک دوا نے انسانی تاریخ میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔ کینلس نے اپنی اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ سپین کے لوگوں کے آنے سے قبل ہی کیچوا ، کینری اور چیمو قبائل کو کونین کا علم تھا اور انہوں نے ہسپانوی جیسوئٹ پجاریوں کو اس درخت کی افادیت بارے بتایا تھا۔ یہ تینوں قبائل موجودہ پیرو،ایکواڈور اور بولیویا میں رہتے ہیں۔ جیسوئٹ کے پجاریوں نے اس درخت کی دارچینی جیسی چھال کو پیس کر جو سفوف بنایا اسے '' جیسوئٹ سفوف ‘‘ کانام دیا گیا تھا۔کچھ ہی عرصہ بعد ملیریا کی اس طلسماتی دواکا شہرہ یورپ تک پھیل گیا۔رفتہ رفتہ پورے یورپ میں سنچونا کی چھال سے کونین بنانے کا کاوربار زور پکڑتا گیا۔ کہتے ہیں فرانس کے کنگ لوئس چہارم کو بخار ہوا جن کا علاج کونین ہی سے کیا گیا اور وہ صحت یاب ہو گئے۔ بلا ٓخر 1677ء میں رائل کالج آف فزیشنز انگلینڈ نے سنچونا کی چھال کو دوائی تسلیم کرتے ہوئے اسے سرکاری فہرست میں شامل کر لیا جس کے بعد پورے انگلینڈ میں ڈاکٹر سنچونا ہی سے مریضوں کا علاج کرنے لگے۔
سنچونا درخت معدومیت کا شکار کیوں ؟
17ویں صدی کے آخری عشروں میں سنچونا کی مانگ میں اچانک بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چونکہ سنچونا ایک بارانی درخت ہے اس لئے یورپ کے لوگوں نے جنگلوں کا رخ کیا اور سنچونا کی چھال دھڑا دھڑ نکال کر پیرو کی بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں تک پہنچانا شروع کر دی۔ چونکہ اس سے پہلے اس درخت کی افادیت کا کسی کو علم نہ تھا اس لئے اس کی افزائش کی طرف کسی کا دھیان ہی نہ گیا۔19ویں صدی میں سنچونا کی مانگ میں اضافہ سے بین الاقوامی طور پر اس کی قیمتوں میں اچانک بہت اضافہ ہو گیا۔جس کی سب سے بڑی وجہ نوآبادیاتی جنگوں میں شامل یورپی فوجیوں کی اموات تھیں جو اکثر ملیریا سے مر جاتے تھے۔کونین جیسی دوا نے انہیں زندہ رہنے اور جنگ جیتنے کے قابل بنا دیا۔ چونکہ یورپ میں اسے شربت کی صورت میں بھی تبدیل کر دیا گیا تو ایسے ہی ایک موقع پر ونسٹن چرچل نے کہا تھا '' اس مشروب نے جتنے انگریزوں کی جان بچائی ہے اتنی جانیں تو سلطنت کے تمام ڈاکٹروں نے بھی ملک کر نہیں بچائی ہوں گی‘‘۔
اس دوا کی مانگ کا اندازہ برطانوی حکومت کے ان اعداد و شمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 1848ء سے 1861ء کے درمیان برطانوی حکومت نے اپنی کالونیوں میں تعینات فوجیوں کے لئے سنچونا کی چھال کی درآمد پر سالانہ 64 لاکھ پاؤنڈ خرچ کئے۔ یہی وہ عوامل تھے جس سے ایک طرف سنچونا کی مانگ بڑھتی چلی گئی لیکن سنچونا کے درختوں کی حفاظت اور ان کی نئے سرے سے افزائش کی جانب کسی نے توجہ نہ دی۔''ملیریا سبجیکٹس ‘‘ کے مصنف ڈاکٹر روبن دیب رائے کہتے ہیں ''سنچونا کی چھال کے ساتھ ساتھ اس کے بیجوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوالیکن صحیح بیج کا انتخاب آسان نہیں تھا۔کیونکہ ماہرین کے مطابق سنچونا کی 23 کے قریب اقسام تھیں اور ان سب میں کونین کی مقدار مختلف تھی۔
1950 ء کی دہائی میں جب کونین کے لئے عالمی سطح پر مقابلہ تھا تو پیرو اور بو لیویا دونوں نے سنچونا کی چھال کی برآمد پر اجارہ داری قائم کر لی۔ 1970ء کی دہائی میں ''آرٹیمیسنن‘‘ کی دریافت کے بعد کونین کی طلب میں کمی واقع ہوئی لیکن اس کے باوجود کونین کا چرچا دنیا بھرمیں قائم رہا۔ صدیوں تک جاری سنچونا کی چھال کی مانگ نے اس کے جنگلات کو تباہ کر دیا۔1805ء میں ایکواڈور اور اینڈیز میں 25 ہزار سنچونا درخت تھے۔اب اس کی جگہ پوڈوکارپس نیشنل پارک بنا دیاگیا ہے جس کے بعد یہاں سنچونا کے درختوں کی تعداد صرف 29 رہ گئی ہے۔ اگرچہ اب یہ دوا درختوں کی چھال کی بجائے لیبارٹریوں میں بننے لگی ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں مستقبل میں نئی دواؤں کی دریافت کے لئے سنچونا کی پیداوار اور اہمیت کو نظر انداز کرنا ایک الیمہ ہو سکتا ہے۔