قدیم ترین مذاہب
اسپیشل فیچر
جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیںاو راس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ ذیل میں زمانہ ماقبل تاریخ کے چند مذاہب اورا ن کے عقائد ونظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔
زرتشتیت
''زرتشت‘‘ بنیادی طور پر ایک قدیم آریائی مذہب ہے۔جس کے ظہور کے شواہد 3500قبل مسیح میں فارس میں ملتے ہیں۔اگرچہ یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے لیکن اب اس کے ماننے والوں کی تعداد پوری دنیا میں ایک لاکھ30 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1500قبل مسیح کے دوران اس مذ ہب کی بنیاد ایک ایرانی پیغمبر زرتشت نے رکھی۔ اس سے پہلے قدیم فارس والے پرانے ایران اور آریائی مذہب کے دیوتاؤں کی پوجا کیا کرتے تھے۔
اس کو عام طور پر پارسی مذہب،آتش پرستوں کا مذہب یا مجسوسیت بھی کہا جاتا ہے۔ زرتشتی لوگ بنیادی طور پر آگ کی پوجا کرتے تھے تاہم ان کی کتابوں میں ایک خدا کا تصور بھی موجود ہے۔زرتشتیت میں خدا کیلئے ''اہور مزدا‘‘ کا نام استعمال کرتے ہیں۔ '' اہور‘‘ کے لفظی معنی ''آقا‘‘ اور'' مزدا‘‘ کے معنی ''دانا‘‘ کے ہیں۔یعنی ''اہورمزدا‘‘ کا مطلب دانا آقا کے ہیں۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب اسلام، یہودیت اور مسیحیت کی طرح ایک خدا کا نظریہ ہی زرتشتوں کاعقیدہ نہیں تھا بلکہ سزا و جزا ،جنت اور جہنم ، یوم حساب، فرشتے اور جنات دنیا میں انسانوں کا نزول بھی زرتشتی عقائد کا حصہ ہیں۔
زرتشتیت میں عبادت کیلئے کثرت پرستی یعنی ایک سے زیادہ آقاؤں کی پرستش سے منع کیا گیا ہے۔نیک طاقتوں میں سب سے اونچا مقام اور مرتبہ ''اہور مزدا‘‘ کا تھا۔ ان کے معاون چھ چھوٹے دیوتا بھی ہوتے تھے۔نیک اہور کے مقابلے میں بدروحیں بھی تھیں جنہیں دیو کہا جاتا تھا، جن کاسربراہ ''اہرمن‘‘ کہلاتا تھا۔ مرنے کے بعد زرتشتی اپنے مردوں کو اونچی جگہ پر پرندوں کے کھانے کیلئے چھوڑ دیتے تھے۔ پارسیوں کی مقدس کتابوں میں ''دساتیر‘‘ اور ''آوستا‘‘ قابل ذکر ہیں۔ایک زمانے میں ''زرتشتی‘‘ ایران کا ریاستی مذہب تھا اور فارس (افغانستان، تاجکستان اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک) کے باشندوںمیں یہ بڑے پیمانے پر رائج تھا۔ آج ایران میں یہ اقلیتی مذہب کی حیثیت سے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
یزیدیت
یزیدی یا ایزدی بنیادی طور پر میسوپوٹیمیا کا ایک کرد مذہبی اقلیتی گروہ ہے جو میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق ) کے علاقے محافظہ نینوی میں آباد ہے۔بنیادی طور پر یہ قبیلہ قدیم اشوریہ کا حصہ ہے۔ یزیدیوں کا مذہب ایک توحیدی مذہب ہے جو دوسرے توحیدی مذاہب زرتشتیت، مسیحت، یہودیت اور صوفی تصوف کا ملاپ ہے۔ ایزدیوں کا دعویٰ ہے کہ لفظ ایزد کا مطلب ''خدا‘‘ ہے جبکہ ایزدیز کا مطلب ''خدا کی عبادت کرنے والے‘‘ کے ہیں۔چنانچہ اسی مناسبت سے اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو ''یزیدی‘‘ کہلاتے ہیں۔ مورخین تاحال اس نقطے پر یکسو نہیں ہیں کہ یزیدیت کی شروعات کب اور کہاں سے ہوئی۔ اگرچہ یہ معاملہ ابھی تک متنازع ہے تاہم دستیاب شواہد کے مطابق بیشتر مورخین کا کہنا ہے کہ یزیدیت کی بنیاد 5000 قبل مسیح کے آس پاس رکھی گئی تھی۔
اس مذہب کے لوگ خدا کو ''یزدان‘‘ کہتے ہیں اوران کے ہاں اس کا اتنا بلند مرتبہ ہوتا ہے کہ اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ ''یزدان‘‘ کو متحرک طاقت کا مالک سمجھا جاتا ہے اور ان کے نزدیک وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ زمین کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ خدا نے دنیا کی بہبود سات روحانی رہنماؤں کے سپرد کر رکھی ہیں۔ جن میں سب سے اہم امور فرشتہ ملک طاؤس ہے۔ جس کا کام احکام خداوندی پر عمل درآمد کرانا ہے۔یہ لوگ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کرتے ہیں۔لالش یزیدی مذہب کا سب سے مقدس مقام ہے۔لالش شمالی عراق کے ضلع شیخان میں ایک چھوٹی سی پہاڑی وادی پر واقع ہے۔اس کی وجہ شہرت شیخ عدی بن مسافر کا مزار ہے جو یزیدی فرقے کا ایک اہم مقدس مقام ہے۔یہی وجہ ہے کہ یزیدی سال میں کم از کم ایک مرتبہ عدی بن مسافر کے مزار پر حاضری دینا ضروری سمجھتے ہیں۔عقیدت مندوں کیلئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقامات مقدسہ میں ننگے پاؤں داخل ہوں اور ان کا لباس سادگی کی علامت ہو۔ اگر کوئی یزیدی کسی غیر یزیدی سے شادی کر لے تو اس کو دائرہ یزیدیت سے خارج کر دیاجاتا ہے اور اس شخص سے یزیدی کہلوانے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ جمعہ کا دن یزیدیوں کیلئے مقدس دن تصور ہوتا ہے۔اس دن یہ لوگ وسیع پیمانے پر جمع ہو کر لالش میں عبادت کرتے ہیں۔
ہر یزیدی کے پاس لالش کی مقدس مٹی لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔یہ مٹی ہر یزیدی کی آخری رسومات کا ایک حصہ تصور ہوتی ہے۔مٹی اور مقدس پانی کا مرکب بنا کر اسے مرنے والے شخص کے منہ، کانوں اور آنکھوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بابل کی قدیم روایات کے مطابق ہر مرنے والے شخص کے تابوت میں کچھ سکے بھی رکھے جاتے ہیں تاکہ مرنے والا جنت میں انہیں خرچ سکے۔ یزیدی فرقے کے لوگ دن میں کم از کم دو مرتبہ یعنی طلوع اورغروب کے وقت سورج کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے ہیں۔مغرب کے وقت یہ لوگ زیتون کے تیل کے 365 چراغ جلاتے ہیں جو سال کے ہر دن کی علامت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سورج اور اس کی روشنی کا ان کے مذہب میں انتہائی اہم مقام ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر یزیدی کو مرتے وقت سورج کے رخ کے مطابق دفن کیا جاتا ہے۔ یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام کرتے ہیں جبکہ ان کی اپنی روایات زبانی ہیں۔یزیدی اس الزام کو سختی سے جھٹلاتے ہیں کہ ان کے فرقے کا یزید بن معاویہ یاایران کے شہر یزد سے کوئی تعلق ہے۔
یارسان مذہب
یارسان ایران کا ایک قدیم مذہب ہے۔ کرد اکثریتی علاقے،مغربی ایران میں آباد اس فرقے کے پیروکاروں کی تعداد 20 سے 30 لاکھ ہے۔ اس فرقے کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ پیروکار عراق میں بھی آباد ہیں، جنہیں ''کاکائی‘‘ کہا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس فرقے کے پیروکاروں کو '' اہل حق ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یارسانی مرد حضرات بڑی بڑی مونچھیں رکھتے ہیں اور انہیں کبھی نہیں کاٹتے۔ یارسانی عبادت گاہ کو ''جام خانہ‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ ''پردیوار‘‘جام خانہ کاسب سے مقدس مقام ہوتا ہے۔اس کے تقدس کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ پردیوار کی طرف پیٹھ نہیں کی جاسکتی۔ یارسانی ہر ماہ یہاں جمع ہو کر اجتماعی عبادت کرتے ہیں۔ یارسانی ہر سال اکتوبر اور نومبر میں تین روزے رکھتے ہیں۔روزوں کے ان ایام میں یہ اپنے اپنے علاقے میں اکٹھے ہو کر غروب آفتاب کے بعد اجتماعی طور پر روزہ افطار کرتے ہیں۔