ابو نصر الفارابی:انہیں ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی مانا جاتا ہے
اسپیشل فیچر
ایک نوجوان رات کے وقت مطالعہ میں مصروف تھاکہ تیل ختم ہونے سے چراغ بجھ گیا اس نوجوان میں اتنی مالی وسعت بھی نہیں تھی کہ تیل خرید سکے۔ مگر شوقِ مطالعہ اسے کھینچ باہر لے آیا اور گشت کرتے ہوئے پہرے دار کے سامنے لاکھڑا کیا۔ اس نوجوان نے پہرے دار سے سارا ماجرا کہہ سنایا اور اسے وہاں تھوڑی دیر رکنے کی گزارش کی تاکہ وہ اپنا سبق یاد کر لے۔ پہرے دار اس دن مان گیا مگر دوسرے دن اس نے رکنے سے صاف انکار کر دیا مگر اس نوجوان نے پھرگزارش کی کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا تاکہ اس کی لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کر سکے۔ کچھ دنوں تک یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا مگر ایک دن پہرے دارنے اس کی علمی لگن اور جستجو سے متاثر ہوکر اسے نئی لالٹین لا کر دی۔
یہ ابونصر الفارابی تھے! فارابی کی ابتدائی زندگی نہایت ہی غربت اور تنگدستی میں گزری، مگر غربت و تنگدستی ان کے علم و جستجو پر غالب نہ ہو سکی۔ فارابی کے حصول علم کا یہ بے مثال واقعہ رہتی دنیا تک ایک مشعلِ راہ ہے انہوں نے تقریباً پچاس سال حصول ِعلم میں صرف کئے۔ فارابی نے مسیحی طبیب یوحنا بن حیلان سے بھی استفادہ لیا اس کے بعد تحقیق و تدریس کی طرف متوجہ ہو کر سیف الدولہ ہمدانی کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ علم ریاضی، طب، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر منطق یعنی لاجک (Logic) کی علمی گروہ بندی کی۔ انہیں ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ فارابی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے علم طبعیات میں وجود خلا پر اہم تحقیقات کیں۔ اس کے علاوہ ماہر عمرانیات، سیاسیات و موسیقیات بھی تھے۔ فارابی نے ارسطو کی اکثر کتابوں کی بسیط شرح لکھیں اسی وجہ سے ان شرحوں میں فارابی کو ''مُعلم ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی ''شرح ایسا غوجی‘‘ اور بطلیموس کی''المجسطی‘‘ بہت مشہور ہیں۔ فارابی ایک بہترین شاعر بھی تھے، ان کی ایک طویل دعا بھی بہت مشہور و معروف ہے جسے بعض تذکرہ نگاروں نے نقل کیا ہے۔
قدیم اجماع کی پیروی کرتے ہوئے فارابی کا بھی یہی تصور تھا کہ کائنات ایک دوسرے میں مدغم متعد د شفاف کُرہوں کی حاصل ہے جو مسلسل زمین کے گرد دائروں کی صورت میں گھوم رہی ہے۔ چلیں آپ کو ایک مثال سے سمجھاتے ہیں۔
''شیشے کی گیندوں سے بنے ایک ایسے کُرے کا تصور کریں جن میں تمام گیندیں ایک دوسری کے اندر ہوں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو، ان کُروں میں انسان کودکھائی دینے والے ستارے اور سیارے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی حرکت سے ہم روز رات کو یہ اجرامِ فلکی دیکھ سکتے ہیں‘‘۔
فارابی نے انسانی عقل کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلی عقلِ عملی: عقلِ عملی ہمیں عمل کے بارے میں بتاتی ہے یعنی ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
دوسری عقلِ نظری: عقل ِنظری ہمیں حاصل کرنے Perfection میں مدد دیتی ہے۔ فارابی نے عقلِ نظری کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ (1)عقلِ ہیولون، (2)عقل ِنالفعل، (3) عقلِ مستفاد۔
فارابی نے عقلِ نظری کو عقلِ عمل پر ترجیح دی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شے کا علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا یا اس کے مطابق اپنے کردار کو نہیں ڈھالتا تو وہ شخص بہرحال بہتر ہے جو اعمال تو نیک بجا لاتا ہے لیکن اس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ فارابی نے یہ بات سقراط کے زیرِاثر کہی تھی یعنی سوچ سمجھ کر برائی کرنا بلا سوچے سمجھے نیکی کرنے سے بدرجہ بہتر ہے کیونکہ علم انسان کو نتائج اور عواقب سے بچاتا ہے۔
فارابی نے سائنس، فلسفہ، طبعیات، منطق، کیمیاء، سحر اور ریاضی کے علوم کے علاوہ موسیقی کا علم سیکھا، علمی موسیقی پر ایک مستند کتاب تحریر کی اور ایک آلہ ''رباب‘‘ بھی ایجاد کیا۔