یادرفتگاں: گائے کی دنیا گیت میرے۔۔۔ملکہ ترنم نورجہاں
اسپیشل فیچر
محلہ پیر گیلانیاں(اندرون لاہور) میں ایک میلہ ہوتا تھا۔پیر صاحب کی بیٹھک میں میلے کے دوران ہندوستان کے نامور گویئے حاضری دیتے اور گا کر ان سے دعائیں لیتے۔ ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم ممبئی سے آئی تھیں۔ اپنے مسحور کن گانے کے بعد پیر صاحب کی دعائیں لیں تو ان کے بعد استاد بڑے غلام علی خان نے اپنی ''مٹھاس‘‘ کا خاص رنگ جمایا۔ پھر سب کی نگاہیں ننھی منی سی دبلی پتلی لڑکی پر مرکوز ہو گئیں۔ اس نے اجازت پا کر ایک جگ اٹھایا، اسے اپنے کندھے پر رکھا اور پھرکر سریلی آواز میں گانا شروع کیا: ''شالا جوانیاں مانیں آکھانہ موڑیں پئے‘‘ یہ گانا ختم ہوا تو پیرصاحب نے فرمائش کی: ''کوئی اپنے دیس پنجاب دا گیت سنا‘‘۔ ننھی مغنیہ فکر مند ہو گئی۔ پھر یکا یک اس کے چہرے پر رونق آ گئی۔ اسے کوئی گیت یاد آ گیا تھا۔ انتہائی خوشی میں لہک کر اس نے میٹھی اور سریلی آواز میں گانا شروع کیا:
ساڈا دیس پنجاب پیارا اے
ایہہ سب دا راج دلارا اے
آواز میں سریلی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ ساری محفل جھوم اٹھی اور جب اس نے یہ انترہ ادا کیا ''ایدی گڈی اسمان تے چڑھ جاوے‘‘ تو سننے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے آواز کا ہر سر ساتویں آسمانوں کو چھو رہا ہے۔ اس جادو بھری آواز میں کچھ ایسا تاثر تھا کہ پیر صاحب نے بے ساختہ ننھی گانے والی سے کہا: '' جا تیری گڈی اسمان تے چڑھ گئی اے‘‘۔ وہ ننھی مغنیہ اس وقت کی بے بی نور جہاں تھی، جسے مرتے دم تک سُروں کی ملکہ کا مقام بلا شرکت غیر حاصل تھا اور حاصل رہے گا۔
اُردو زبان کا سب سے بڑا افسانہ نگار سعادت حسن منٹو، نور جہاں کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہے '' اس کی آواز قیامت خیز تھی، سہگل کے بعد میں نور جہاں کے گلے سے متاثر ہوا، اتنی صاف و شفاف آواز، مرکیاں اتنی واضح! کھرج اتنا ہموار!! پنچم اتنا نوکیلا!! میں نے سوچا۔ اگر یہ لڑکی چاہے تو گھنٹوں ایک سُر پر کھڑی رہ سکتی ہے، اُسی طرح جس طرح بازی گرتنے ہوئے رسے پر بغیر کسی لغزش کے کھڑے رہتے ہیں۔ نور جہاں، نور جہاں ہے۔ گولتا منگیشکر کی آواز کا جادو ہر جگہ چل رہا ہے۔ اگر کبھی نور جہاں کی آواز فضا میں بلند ہو تو کان اس سے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔ نور جہاں کے متعلق بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ وہ راگ کو اتنا ہی جانتی ہے، جتنا کوئی استاد۔ وہ ٹھمری گاتی ہے، خیال گاتی ہے، دھرپد گاتی ہے اور ایسا گاتی ہے کہ گانے کا حق ادا کرتی ہے۔ موسیقی کی تعلیم تو اس نے یقیناً حاصل کی تھی کہ وہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں کا ماحول ہی ایسا تھا، لیکن ایک چیز خدا داد بھی ہوتی ہے۔ موسیقی کے علم سے کسی کا سینہ منور ہو، مگر گلے میں رس نہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں خالی خولی علم سننے والوں پر کیا اثر کرے گا؟۔نور جہاں کے پاس علم بھی تھا، اور وہ خدا داد چیز بھی جسے ''گلا‘‘ کہتے ہیں۔ گلا ہے جو نور سے بھرا ہے۔ اس پر اگر اسے ناز ہے، تو بجا ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو قیامت کا برپا ہونا لازمی ہے۔ کھٹی اور تیل کی چیزیں گلے کیلئے تباہ کن ہیں، یہ کون نہیں جانتا۔ مگر نور جہاں پائو پائو بھر تیل کا اچار کھا جاتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب اسے فلم کیلئے گانا ہوتا ہے تو وہ خاص اہتمام سے پائو بھر اچار کھائے گی۔ اس کے بعد برف کا پانی پئے گی۔ پھر مائیکروفون کے پاس جائے گی۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ ''اس طرح آواز نکھر جاتی ہے‘‘۔یوں آواز کیونکر نکھرتی ہے؟ گلا کیسے صاف ہوتا ہے؟ اس سے متعلق نور جہاں ہی بہتر جانتی ہے۔ نور جہاں کی آواز ایک عرصے تک زندہ رہے گی،اور آنے والی نسلوں کے کانوں میں اپنا شہد ٹپکاتی رہے گی۔ کسی زمانے میں خورشید چھائی ہوئی تھی، شمشاد کے بھی چرچے تھے، مگر نور جہاں کی آواز میں سب کی آواز دب گئی‘‘۔
منٹو کے بعد ہندوستان کی عظیم گلو کارہ لتا منگیشکر اعتراف کرتی ہے کہ اس نے ''ہائے‘‘ کہنا نور جہاں سے سیکھا، مگر نور جہاں نے اور کچھ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو، استاد کا احترام کرنا ضرور سیکھا تھا۔ مزنگ میں جب کبھی نور جہاں اپنے استاد سے ملنے آتی، محلے بھر میں دھوم مچ جاتی تھی۔ اسے بچشم خود دیکھنے والیاں بتاتی تھیں کہ وہ اپنے استاد کے گھر خود اپنے ہاتھوں سے جھاڑو تک لگاتی تھی اور یہ اس کے عروج کا زمانہ تھا۔ کون کہتا ہے کہ نور جہاں متکبر تھی یا نخرہ کرتی تھی؟ بات صرف یہ ہے کہ وہ ہر کسی سے حفظ مراتب کی حدود میں رہتے ہوئے ملنے کی قائل تھی۔ نور جہاں کو کچھ تو خدا نے بنایا تھا، کچھ اسے ریاض نے بنا ڈالا تھا۔ خاتون گلوکارائوں میں سے کوئی بھی (بشمول لتا) اپنی آواز کو اس حد تک اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتی جس حد تک نور جہاں لے جاتی تھی‘‘۔
ترنم کی ملکہ نور جہاں کا جنم 21ستمبر 1926ء کو حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی نگری قصور میں ہوا۔ ان کی والدہ کا نام فتح بی بی اور والد کا نام مدد علی المعروف بابا مدد تھا۔ وہ بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ جب نومولود بچی کے رونے کی پہلی آواز اس کی پھوپھی الٰہی جان نے سنی تو اپنے بھائی مدد بابا سے کہنے لگیں ''بھائیاں کڑی تے روندی وی سُر وچ اے‘‘ ۔ الٰہی جان خود اپنے وقت کی نامور مغنیہ تھیں۔ بچی کا نام اللہ وسائی رکھا گیا۔ اللہ وسائی تھوڑی سی بڑی ہوئی تو اسے موسیقی کی تعلیم دلانے کیلئے استاد غلام محمد کے سپرد کر دیا گیا اور اللہ وسائی صرف سات سال کی عمر میںہی اس قابل ہو گئی تھی کہ اپنی بڑی بہن عیدن اور کزن حیدر بائی کے ہمراہ سٹیج انٹری دے سکتی تھی۔ یوں سات سال کی عمر میں ہی نور جہاںکی فنی زندگی کا آغاز ہو گیا۔
1965ء کی جنگ کے دوران نور جہاں کا کردار قوم کو ہمیشہ یاد رہے گا۔65ء کی جنگ شروع ہوئی تو نور جہاں نے خود اسٹیشن ڈائریکٹر کو فون کرکے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جنگی ترانے ریکارڈ کرانا چاہتی ہیں۔ جنگ کے دوران ان کے دن رات ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹوڈیو میں گزرے۔ اسی دوران انہوں نے ''میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں‘‘، ''اے وطن کے سجیلے جوانو‘‘،'' کرنیل نی جرنیل نی‘‘ اور'' ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘‘ جیسے ترانے ریکارڈ کرائے۔ جب ملی نغمہ'' ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘‘ ریکارڈ ہوا تو اسے سن کر صوفی تبسم مرحوم اور ملکہ ترنم نور جہاں آبدیدہ ہو گئے۔65ء کی جنگ میں قوم کے حوصلے بلند کرنے میں سب سے نمایاں کردار نور جہاں کا تھا۔ اُنہوں نے جنگی ترانوں کے ذریعے فوجی جوانوں اور عوام میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ انہی خدمات کے صلے میں انہیں ''ملکہ ترنم‘‘ کا خطاب بھی ملا۔
ملکہ ترنم نور جہاں کو پاکستان میں سب سے زیادہ گیت گانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں گیت اور غزلیں ریکارڈ کرائیں۔ ان کاآخری مقبول ترین گیت فلم ''سخی بادشاہ‘‘ کا ''کی دم دا بھروسہ یار‘‘ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا آخری گیت ہدایتکار مسعود بٹ کی فلم ''انصاف ہو تو ایسا‘‘ کیلئے ریکارڈ کرایا۔ ملکہ ترنم نور جہاں کو ان کی بے مثال کارکردگی کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور''ستارہ امتیاز‘‘ دیا گیا۔