الکندی:عظیم فلسفی وسائنسدان
اسپیشل فیچر
ابویوسف یعقوب ابن اسحاق الکندی کی ولادت 801ء کے لگ بھگ ہوئی اور اس نے 866ء میں بغداد میں وفات پائی۔ اس کی وجہ شہرت فلسفہ اور سائنس ہے۔قدیم ماہرین کتابیات اور الجاحظ جیسے مصنفین نے الکندی کی زندگی کے بارے میں بہت سے قصے کہانیاں بیان کئے ہیں، لیکن مستند اور معتبر روایات بہت کم ملتی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی ولادت اور وفات کے سنین بھی حتمی طور پر معلوم نہیں۔ مختلف شواہد کو یکجا کرنے کے بعد مصطفیٰ عبدالرزاق متذکرہ بالاسنین ولادت و وفات کا تعین کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
الکندری کا تعلق یمن کے ایک معزز اور محترم قبیلے کندہ سے تھا۔ اس نے حصول علم کا آغاز عراق کے شہر کوفہ سے کیا اور تکمیل بغداد میں ہوئی۔ یہ دونوں شہر اس عہد میں ثقافتی مراکز کا درجہ رکھتے تھے۔ بغداد ہی میں الکندی پر خلیفہ المامون کی نگاہ التفات پڑی۔ خلیفہ نے اسے اپنے دربار میں طلب کیا اور بغداد کے ''دارالحکمتہ‘‘ میں اسے تعینات کر دیا۔ اسے یونانی کتب کے تراجم کی اصلاح کا فریضہ سونپا گیا جو بالعموم غلطیوں سے پر ہوتے تھے۔ المامون کے جانشین المعتصم نے الکندی کو اپنے بیٹے احمد کا اتالیق مقرر کیا، جس کے نام سے الکندی نے کئی فلسفیانہ مضامین تحریر کئے۔
المعتصم کی وفات کے بعد دربار کے ساتھ الکندی کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی اور الواثق کے عہد خلافت کے پورے عرصے میں یہ سرد مہری برقرار رہی۔ بہتری کی صورت اس وقت پیدا ہوئی جب الواثق کے بعد المتوکل نے کاروبار سلطنت سنبھالا تاہم بہت جلد الکندی کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔وہ ماہرین ریاضیات، بنو موسی اور منجم ابو مشر جیسے مخالفین کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ علاوہ ازیں معتزلہ کے ساتھ اس کی ہمدردی نے بھی اس کیلئے مشکلات پیدا کر دیں کیونکہ الکتوکل معتزلہ کے سخت خلافت تھا اور وہ انہیں چن چن کر قتل کروا رہا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں الکندی زیادہ تر گوشہ نشین رہا۔
بعض ماہرین کتابیات نے الکندی کو ''اولین عرب فلسفی‘‘ کے خطاب سے یاد کیا ہے۔ اس نے ہجری علوم کی ترویج و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مزید یہ کہ اس نے عربی کو فلسفیانہ اور بعض صورتوں میں سائنسی اصطلاحات کی حتمی تشکیل و توضیح میں اہم حصہ لیا۔ اس کے ذہنی ارتقاء کا ایک خاص پہلو قابل توجہ ہے اور وہ یہ کہ کیا وہ یونانی زبان جانتا تھا؟ قدیم سوانح نگار اور ماہرین کتابیات مثلاً ابن ابی اصیبعہ اور ابن القفطی رقمطراز ہیں کہ الکندی نے یونانی فلسفیانہ اور سائنسی کتب کے تراجم کی مہم میں بڑا فعال کردار اداکیا۔ تاہم اس کی معاونت سے جن کتابوں کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ان کے تنقیدی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا کردار مترجم سے کم درجے کا تھا۔ ارسطو کی بعض کتابوں کے تراجم، جو حنین ابن اسحاق، ابو بشر متا، قسطا ابن کوقا، یحییٰ ابن عدی وغیرہ نے کئے اور اسی طرح اقلیدس، بطلیموس اور Eutociusکی کتابوں کے تراجم کے ضمن میں الکندی نے یا تو پہلے سے ترجمہ عربی متن کی اصلاح کی یا اسی پر تبصرہ کیا اور یا پھر اس کا خلاصہ تحریر کیا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ یونانی زبان سے اس حد تک آشنا نہیں تھا کہ وہ از خود تراجم کر سکتا۔ البتہ وہ عربی میں تراجم کی اصلاح و ترمیم کا کام کر سکتا تھا۔ بالخصوص فلسفیانہ اصطلاحات کی تشکیل و تفہیم میں اسے مقابلتاً زیادہ دسترس حاصل تھی۔
الکندی کی تقریباً پندرہ فلسفیانہ تصانیف محفوظ ہیں۔ اگرچہ ان کا انداز بیان عام طور پر پیچیدہ ہے، لیکن اس کے باوصف انہیں موضوعات کے لحاظ سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ الکندی کی کتاب ''بک آف فرسٹ فلاسفی‘‘ کے محض چار ابواب دستبرد زمانہ سے محفوظ رہے۔ اس کا آغاز فلسفے کے دفاع سے ہوتا ہے( خصوصاً اس فلسفے کے دفاع سے جو یونانیوں کے زیر اثر پروان چڑھا)۔ بعد میں الکندی محسوسات اور معقولات کے اختلاف پر بحث کرتا ہے اور اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے کہ حصول علم کے طریقہ ہائے کار کیا ہیں۔ پھر ابدیت اور جسم سے متعلق سوالوں پر گفتگو کرتا ہے۔ آخری دو ابواب میں وحدت و کثرت کی جدلیات کو مکمل طور پر پیش کرتے ہوئے ''الواحد الحق‘‘ یعنی ذات حقیقی کے اثبات تک اظہار خیال کرتا ہے۔ اس متن کے ساتھ رسالہ صداقت، رسالہ اوّل اور کامل ہستی کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ جس میں تخلیق، سلسلہ علل، عناصر خمنسہ یعنی سادہ، صورت ، مکاں، حرکت اور زماں جیسے مباحث درج ہیں۔
الکندی نے تین رسائل اس بات کو ثابت کرنے کیلئے لکھے کہ عالم نہ صرف یہ کہ مکاں میں بلکہ زماں میں بھی محدود ہے۔(اس نکتے پر اس نے یونانی فلسفیوں سے برملا اختلاف کا اظہار کیا)۔یہ سائل درج ذیل ہیں۔کتاب رسالہ فی تناہی جرم العالم، کتاب رسا لہ فیانہ الایمکن ان یکون جرم العالم بلانہاتہ، کتاب الفلفتہ الاولی فیما دون الطبیعیات و التوحید۔
الکندی کی دو تحریریں کائنات کو اس کی ساخت اور تعلیل کی نمایاں مشمولہ اقسام کے لحاظ سے بیان کرتی ہیں۔ مندرجہ ذیل پانچ رسالے روح اور عقل کے بارے میں لکھے گئے۔ (1) کتاب رسالہ فی ان النفس جوہر بسیط غیر دائرہ موثر فی الاجسام،(2) کتاب رسالہ ماہیتہ الانسان والعضو الرئیس منہ، (3) کتاب رسالہ فی خبر اجتماع الفلاسفتہ علی الرموز العشقیہ، (4)کتاب رسالہ فی ماللنفس ذکرہ دی فی عالم العقل قبل کو نہافی العالم الحسن، (5)کتاب رسالہ فی علت المنوم والرو یا ومایرمزبہ النفس ۔
روح پر جو رسالہ افلاطون، ارسطو اور دیگر فلاسفہ سے متاثر ہو کر لکھا گیا وہ نہایت فلسفیانہ اور متصوفانہ پیرائے میں روح اور بدن کے تعلقات اور ان کی تقدیر کی وضاحت کرتا ہے۔ روح سے متعلق رسالہ روح کائنات کے بارے میں مختصر مگر موثر بحث پیش کرتا ہے۔ نیند اور خواب سے متعلق لکھا گیا رسالہ ان ہر دو مظاہرہ کی نفسیات اور عضویات بیان کرتا ہے۔ عقل پر رسالہ ارسطو کی عقلیات کی نو فلاطونی تشریح پر مبنی ہے۔ اداسی دور کرنے کے طریقے پر رسالہ اس بات کی سفارش کرتا ہے کہ مریض کو محض عالم عقل سے رابطہ استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس میں الکندی نے اس نظریے کا اظہار کیا ہے کہ اداسی کو عقلی جدلیات اور ایسے کردار کی معرفت دور کیا جا سکتا ہے جس میں توکل، تدبر اور اداسی کے حالات سے بچنے کی سبیل موجود ہو۔ یہ ایک ایسی نصیحت ہے جو قدیم علما نے اخلاق کے متبع کے عین مطابق ہے۔