یونان:دنیا کا پہلا جمہوری ملک

یونان:دنیا کا پہلا جمہوری ملک

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


یونان، یورپ کا جنوبی حصہ ہے جو تین اطراف سے بحیرہ روم میں گھرا ہوا ہے۔اسے عرف عام میں '' جزیرہ بلقان‘‘ کانام دیا جاتا ہے۔ یورپ میں یونان کو عام طور پر ''گریس‘‘ اور اس کے باشندوں کو ''گریک‘‘ کہتے ہیں۔جہاں تک اس نام کی ابتدا کا تعلق ہے ، بنیادی طور پر اہل روما (رومنز ) کو سب سے پہلے یونان کے جس قبیلے سے واسطہ پڑا وہ ''گرائیہ‘‘ ( Grecians) تھے۔ رومیوں نے انہیں اور پھر یہاں کے تمام باشندوں کو ''گریسی‘‘(Graeci)کہنا شروع کر دیا۔ حالانکہ یونانی اس وقت بھی خود کو'' ہیلنز‘‘ (Hellen`s) اور اپنے ملک کو'' ہیلاس‘‘ (Hellas)کہتے تھے۔
یونان اپنے دور کا ایک طلسماتی ملک تھا۔ قدیم دور کی اس سحر انگیز سرزمین نے مختلف ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے اپنے سب سے عظیم شہر میں اگر ایک طرف فاتح عالم سکندر اعظم کو جنم دیا تو دوسری طرف معروف فلسفی افلاطون ، ارسطو، سقراط، معروف شاعر ہومر اور نہ جانے کتنے ہی نابغہ روزگار شخصیات کو جنم دیا تھا۔ دراصل یونان ایک شہر یا ریاست کا نام نہیں تھا بلکہ یہ وسیع و عریض خطے پر پھیلی ایک تہذیب کا نام تھا۔
یونانی تہذیب عظیم فکری، ثقافتی اور فنکارانہ کامیابیوں کا دور تھا۔ قدیم یونانیوں نے فلسفہ، جمہوریت اور فنون لطیفہ کی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ وہ اولمپک گیمز جیسے اچھوتے تصور کے بھی بانی ہیں۔یونانی فن تعمیر، مجسمہ سازی، مصوری ، ادب ، فلسفہ اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں کو پروان چڑھانے اور جدت کا رنگ دینے میں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
محققین کے مطابق معروف فلسفی افلاطون، سقراط کا شاگرد تھا جبکہ ارسطو،افلاطون کا شاگرد تھا۔ سقراط نے یونان کے شہر ایتھنز میں اپنے زمانے کی سب سے بڑی علمی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس سے بعد میں ارسطو جیسے دانشور اور فلسفی نے تحصیل علم کیا۔ یونان کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ یہی وہ ریاست تھی جہاں جمہوریت کا تصور سب سے پہلے دیا گیا جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیلتی چلی گئی۔
موجودہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز کواقتصادی، تجارتی،صنعتی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مرکزیت حاصل ہے۔ چوتھی اور پانچویں صدی قبل مسیح میں یورپ کی ریاستوں پر یونان کے گہرے ثقافتی اور علمی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیلتے چلے گئے اور یورپ سمیت دیگر تہذیبوں میں رچ بس گئے۔ یونان کی ثقافت نے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین یونان کی ثقافت کو صدیوں کے اعتبار سے مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ یونان نے سب سے زیادہ ترقی ''کلاسیکی دور‘‘ میں کی ۔یہ وہ دور تھا جب یونانی ثقافت نے تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ تعلیم، فلسفہ،سائنس ، ریاضی ، فنون لطیفہ اور دیگر علوم میں غیر معمولی ترقی کی۔
یونانی تہذیب کا ارتقا
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی یونانی تہذیب بحیرہ روم کے جزیرے کریٹ میں لگ بھگ2200قبل مسیح میں پھیلی۔ اس تہذیب کو ''مینو‘‘ نامی ایک مشہور حکمران کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔منوین افراد کاشتکاری ، ماہی گیری کے پیشوں سے وابستہ تھے جبکہ ان کے حکمران عالیشان ، وسیع و عریض محلات میں شان و شوکت سے رہتے تھے۔ اس زمانے کے ایک محل ''شاہ مینوس محل‘‘ کا تاریخی اوراق میں بڑا تذکرہ ملتا ہے جو شاہ مینوس نے انتہائی چاہت سے تعمیر کرایا تھا۔یہ تہذیب لگ بھگ سات سو سال تک جاری رہی،1500قبل مسیح کے بعد اس تہذیب کے آثار نہیں ملتے۔
اس کے بعد یہاں کے ایک قدیم شہر میسینی کے آثار ملے تھے ۔ میسینیوں کی اس تہذیب کے آثار کی شروعات ''منوینوں‘‘ کے بعد ہوئی تھی۔ میسینئین لوگ بڑے مالداراور جنگجو تھے جو لگ بھگ پانچ صدیوں تک شریک اقتدار بھی رہے۔ انہوں نے نہ صرف شاندار محلات تعمیر کرائے بلکہ سلاطین کی قبروں سے سونے اور جواہرات کے آثار بھی ملے ہیں۔ یہ پیدائشی جنگجو تھے اس لئے یہ اکثر و پیشتر نہ صرف دست و گریباں رہتے بلکہ دور دراز بھی جا کر جنگیں لڑا کرتے تھے۔
نئے دور کا آغاز
اپنے اسلاف کے ورثے دیکھتے ہوئے نئی یونانی نسل کو اس امر کا شدت سے ادراک ہونے لگا تھا کہ وہ ایک بہت بڑی تہذیب اور ورثے کے امین ہیں۔ چنانچہ رفتہ رفتہ یونان ایک مرتبہ پھر کامیاب ریاست کے طور پر ابھرنا شروع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب یونا ن میں شہری سطح پر حکومتوں کا، رواج شروع ہوا جسے یہاں کے عوام نے سراہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ شہری ریاستیں سکڑتی گئیں اور 500 قبل مسیح کے آس پاس یونان دو ریاستوں تک محدود ہو گیا۔ ایک سپارٹا کے نام کی شناخت اور دوسرا ایتھنز کے نام سے پہچانا جانے لگا۔سپارٹا کے لوگ بنیادی طور پر جنگجوانہ فطرت کے مالک تھے ان کے پاس ایک طاقتور حکمران کونسل،خفیہ پولیس اور طاقتور خفیہ نیٹ ورک تھا ۔ان کی خواتین سمیت بچوں کو جنگی تربیت سے بھی گزرنا پڑتا تھا۔اس کے برعکس ایتھنز کے لوگ جمہوریت پسند اور ترقی یافتہ سوچ کے مالک تھے۔ یہاں بالغ حق رائے دہی کا قانون تھا۔عوام جمہوری طریقے سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے تھے۔ان کی ترجیحات تعلیم اور فنون کی ترویج و ترقی تھا۔ انہوں نے دنیا بھر کے اعلیٰ دماغ معلموں، دانشوروں، فلاسفروں، معماروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو ایتھنز میں کام کرنے کی دعوت دی۔
404 قبل مسیح تک ایتھنز اور سپارٹا نے مل کر فارس کے حملہ آوروں سے مقابلہ کیا۔اس کے بعد دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف ہو گئیں۔ 490 قبل مسیح سے 431 قبل مسیح تک دونوں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوتی رہیں، نتیجتاًدونوں ریاستیں کمزور ہوتی چلی گئیں جسے 338 قبل مسیح میں مقدونیہ نے فتح کر لیا۔ یہاں مثبت بات یہ تھی کہ یونانی فلاسفروں، ریاضی دانوں اور سائنس دانوں نے مقدونیائی حکمرانوں کی زیر نگرانی اپنے تحقیقاتی عمل جاری رکھے جن کے دوررس نتائج برآمد ہوئے۔
146 قبل مسیح میں رومن فوج نے یونان پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ لیکن یہاں بھی خوش آئند بات یہ تھی کہ رومن سلاطین یونان کی ترقی دیکھ کر اس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے یونانی نظریات ، یونانی فنون لطیفہ اور یہاں کی سائنسی کاوشوں کو مزید آگے بڑھایا۔395 ہجری میں یونان ، بازنطینی سلطنت کا حصہ بن گیا۔اس پر قسطنطنیہ (جو اب استنبول کے نام سے جانا جاتا ہے ) کی حکومت قائم ہو گئی۔
1453 ہجری میں جب یونانی بازنطینیوں اور فرانسیسی و اطالوی صلیبیوں کے درمیان جنگ ہوئی جس سے یونان کی سرزمین کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ 1458 عیسوی میں سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد فاتح نے شہر کو فتح کر لیا۔
1821ء اور 1831ء کے دوران یونان نے جنگ آزادی میں عثمانیوں کو کمزور کیا اور 1834ء میں ایتھنز کو آزاد یونان کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ اگلی چند دہائیوں کے دوران اس شہر کی جدید بنیادوں پر تعمیر اور مرمت کا کام شروع کر کے اس تاریخی ورثے کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع ہوا۔ 1896 میں اس شہر نے پہلے گرمائی اولمپک گیمز کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔آج کا ایتھنز جدید اور قدیم تعمیراتی ورثے کا ایک ایسا شاہکار ہے جو سارا سال دنیا کے کونے کونے سے آئے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

دنیا کے وہ شہر جو فاصلے میں دور مگرایک ہی لائن(عرض بلد) پر واقع ہیںدنیا کے مختلف شہر اگرچہ اپنی ثقافت، موسم اور طرزِ زندگی میں ایک دوسرے سے بہت مختلف نظر آتے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ شہر جغرافیائی طور پر ایک ہی عرضِ بلد (Latitude) پر واقع ہوتے ہیں۔ جدید نقشہ جات اور سا ئنسی تحقیق یہ دلچسپ حقیقت سامنے لائی ہے کہ بظاہر دور دکھائی دینے والے شہر دراصل زمین کے ایک ہی فرضی خط پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر نیویارک اور میڈرڈ جیسے بڑے شہر ایک ہی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جس سے ان کے موسم اور دن رات کے اوقات میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ انکشاف جغرافیہ اور انسانی رہائش کے درمیان تعلق کو سمجھنے کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے آبائی شہر کو نقشے پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کے کونسے شہر اسی عرضِ بلد پر واقع ہیں؟ ایک نیا انٹر ایکٹونقشہ: (vicnaum.github.io/parallel-cities) یہ دلچسپ امکان فراہم کرتا ہے کہ آپ دیکھ سکیں کہ دنیا بھر میں آپ کے شہر کے برابر کون کونسے مقامات موجود ہیں۔اس نقشے کے مطابق لاہور، شنگھائی اور قاہرہ31° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جبکہ کراچی اور تائیوان کا دارالحکومت تے پائی 25.1° شمالی عرضِ بلد پر ایک ہی خط میں آتے ہیں۔اسی طرح نیویارک اور میڈرڈ 40.9° شمالی عرضِ بلد پر موجود ہیں، جن کے ساتھ نیپلز، استنبول اور بیجنگ بھی اسی لائن میں شامل ہیں۔جنوبی نصف کرے میں بوئنوس آئرس اور پرتھ 32.2° جنوبی عرضِ بلد پر ایک دوسرے کے متوازی واقع ہیں۔یہ نقشہ ایک ایکس صارف(@vicnaum) کی تخلیق ہے جن کا کہنا ہے کہ ا س سادہ ویب سائٹ کے ذریعے لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے شہر ایک ہی متوازی خط پر ہیں، اور ساتھ ہی دوسرے نصف کرے میں اس کا عکس بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آپ ان مقامات پر تقریباً یکساں سورج کی روشنی کے اوقات کی توقع کر سکتے ہیں (یعنی دن اور رات کی لمبائی میں مشابہت)۔ اس نقشے کو آزمانے والے صارفین نے اپنی دلچسپ آرا آن لائن شیئر کی ہیں۔ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ انہیں انٹارکٹیکا جتنی ہی سورج کی روشنی ملتی ہے۔ایک صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اورلینڈو اور دہلی ایک ہی عرضِ بلد پر ہیں۔ ایک اور شخص نے لکھا کہ جب آپ شکاگو میں سردی سے کانپ رہے ہوں تو یاد رکھیں کہ یہ میڈرڈ کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔ دیگر متوازی مقامات میں لندن اور کینیڈا کا شہر سسکاٹون شامل ہیں، دونوں 52.1° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں۔ اسی طرح اینڈورا ، شکاگو کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو آسٹریلوی شہر ایلس اسپرنگز کے متوازی ہے۔ایک ہی عرضِ بلد پر واقع مقامات پر عموماً دن یکساں طوالت کے ہوتے ہیں تاہم ان مقامات پر سورج طلوع اور غروب ایک ہی وقت پر نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں لازمی طور پر سورج کی ایک جیسی روشنی ملتی ہے کیونکہ اس کا انحصار موسمی حالات پر بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر جیسے جیسے آپ خطِ استوا سے دور جاتے ہیں دن اور رات کے اوقات میں موسمی تبدیلیاں زیادہ واضح اور شدید ہوتی جاتی ہیں۔ اسی طرح سورج کے طلوع اور غروب کا اصل وقت اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ کوئی جگہ مشرق یا مغرب میں کتنی دور ہے۔دوسری جانب ماہرین نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ Mercator Projection جو دنیا بھر میں عام طور پر تجارتی اور تعلیمی نقشوں کیلئے استعمال ہوتا ہے، دراصل زمین کی اصل جسامت کو درست انداز میں ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس میں کافی بگاڑ پایا جاتا ہے۔اس نقشے میں شمالی امریکہ اور روس کو افریقہ کے برابر یا اس سے بڑا دکھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں افریقہ شمالی امریکہ سے تقریباً تین گنا بڑا ہے اور روس سے بھی کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔ برطانوی سائنسدانوں کا نیا نقشہ دکھاتا ہے کہ کئی ممالک جن میں روس، کینیڈا اور گرین لینڈ شامل ہیں حقیقت میں اس قدر بڑے نہیں جتنے عام طور پر محسوس ہوتے ہیں۔گزشتہ سال افریقی ممالک نے مطالبہ کیا کہ دنیا کے بگڑے ہوئے نقشے کو دوبارہ بنایا جائے تاکہ براعظم افریقہ کا اصل حجم درست طور پر ظاہر ہو سکے۔ افریقن یونین نے اس مہم کی حمایت کی ہے جس کا مقصد حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے 16ویں صدی کے Mercator Projection کے استعمال کو ختم کرنا ہے اور اس کی جگہ ایسا نقشہ اپنانا ہے جو افریقہ کے اصل سائز کو زیادہ درست انداز میں دکھا سکے۔ 55 ممالک پر مشتمل اس بلاک نے اس نقشے پر اعتراض کیا ہے کہ یہ براعظموں کے سائز کو غلط پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ نقشہ قطبین کے قریب علاقوں، جیسے شمالی امریکہ اور گرین لینڈ کو غیر حقیقی طور پر بڑا دکھاتا ہے جبکہ افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے بڑے براعظموں کو نسبتاً چھوٹا ظاہر کرتا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ بگاڑ افریقہ کے اصل حجم اور اہمیت کو کم کرتا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ کو غیر متناسب طور پر بڑا دکھا کر ان کی وسعت کو حقیقت سے زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تصورات میڈیا، تعلیم اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مہم چلانے والوں کے مطابق نقشے میں افریقہ کا کم دکھایا جانا اس کے جغرافیائی اور معاشی کردار کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے، جو عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

دنیا بھر میں ہر سال 25 مئی کو ‘‘ٹاول ڈے'' منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ دن ایک عام تولیے سے منسوب محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ادب، مزاح، سائنس فکشن اور تخلیقی سوچ کی ایک دلچسپ داستان موجود ہے۔ یہ دن معروف برطانوی مصنف Douglas Adams کے مداحوں کی جانب سے ان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ڈگلس ایڈمز نے اپنی مشہور تصنیف '' The Hitchhikers Guide To The Galaxy‘‘ کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور لاکھوں قارئین کو اپنے منفرد اندازِ تحریر سے متاثر کیا۔ٹاول ڈے کی ابتدا 2001ء میں ہوئی، جب ڈگلس ایڈمز اچانک دل کا دورہ پڑنے سے 49برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے مداحوں نے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا اور فیصلہ کیا کہ ہر سال 25 مئی کو لوگ اپنے ساتھ تولیہ رکھ کر ان کی یاد تازہ کریں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ روایت دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہوگئی اور آج سوشل میڈیا، ادبی حلقوں اور سائنس فکشن کے شائقین میں بھرپور جوش و خروش سے منائی جاتی ہے۔ڈگلس ایڈمز کے ناول میں تولیہ ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کائنات میں سفر کرنے والے شخص کیلئے تولیہ سب سے کارآمد چیز ہے۔ یہ نہ صرف روزمرہ استعمال میں آتا ہے بلکہ مشکل حالات میں مددگار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تصور نے تولیے کو محض ایک عام کپڑے سے بڑھا کر ذہانت، تیاری اور مزاح کی علامت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاول ڈے پر لوگ اپنے کندھوں یا گردن پر تولیہ ڈال کر گھومتے ہیں اور اس ادبی روایت سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔''ٹاول ڈے‘‘ صرف ایک ادبی دن نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مطالعے کے شوق اور فنونِ لطیفہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات میں کھو چکی ہے، ایسے مواقع انہیں کتابوں کی دنیا کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ڈگلس ایڈمز کی تحریروں میں مزاح کے ساتھ ساتھ فلسفہ، سائنس اور انسانی رویوں پر گہری سوچ بھی پائی جاتی ہے، جو قاری کو تفریح کے ساتھ علم بھی فراہم کرتی ہے۔اس دن مختلف ممالک میں تقریبات، ادبی نشستیں، کتابوں کی نمائشیں اور آن لائن مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ ڈگلس ایڈمز کی کتابوں سے اقتباسات شیئر کرتے ہیں، ان کے مشہور جملوں کو یاد کرتے ہیں اور سائنس فکشن ادب پر گفتگو کرتے ہیں۔ بعض تعلیمی ادارے طلبہ کو مطالعے کی اہمیت سمجھانے کیلئے بھی اس دن کو استعمال کرتے ہیں۔ یوں ''ٹاول ڈے‘‘ ادب اور تعلیم دونوں کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔ٹاول ڈے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بظاہر چھوٹی اور سادہ چیزیں بھی بڑی معنویت رکھ سکتی ہیں۔ ایک عام تولیہ جو روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتا ہے، ادب کے ذریعے عالمی ثقافتی علامت بن گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تخلیقی سوچ انسان کو عام چیزوں میں بھی غیر معمولی معنی تلاش کرنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نوجوان نسل اب سائنس فکشن ادب کی طرف دلچسپی لینے لگی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں اس صنف کو ماضی میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور عالمی ادب تک آسان رسائی نے نوجوانوں میں نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ ٹاول ڈے جیسے عالمی دن نوجوانوں کو مطالعے، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں، جو ایک مثبت رجحان ہے۔ڈگلس ایڈمز کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی سوچ کو وسیع کرنے کا طاقتور وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے اپنے مزاحیہ انداز میں انسانی کمزوریوں، سماجی رویوں اور کائناتی تصورات کو اس مہارت سے بیان کیا کہ قاری ہنستے ہوئے بھی گہری بات سمجھ لیتا ہے۔ یہی کامیاب ادب کی پہچان ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ''ٹاول ڈے‘‘ محض ایک تفریحی یا غیر رسمی دن نہیں بلکہ ادب، تخلیقی صلاحیت اور علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک منفرد روایت ہے۔ یہ دن ہمیں کتابوں سے محبت اور علم کی قدر کا احساس دلاتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ادبی اور ثقافتی مواقع کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

دھوبی

دھوبی

علی گڑھ میں نوکرکوآقا ہی نہیں ''آقائے نامدار‘‘ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جو آج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ! اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ نوکرکا کیا درجہ ہے۔ پھرایسے آقا کا کیا کہنا ''جو سپید پوش‘‘ واقع ہو۔ سپید پوش کا ایک لطیفہ بھی سن لیجئے۔ آپ سے دور اور میری آپ کی جان سے بھی دور ایک زمانے میں پولیس کا بڑا دور دورہ تھا اسی زمانہ میں پولیس نے ایک شخص کا بدمعاشی میں چالان کر دیا کلکٹر صاحب کے یہاں مقدمہ پیش ہوا۔ ملزم حاضر ہوا تو کلکٹر صاحب دنگ رہ گئے۔ نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے صورت شکل سے مرد معقول بات چیت نہایت نستعلیق کلکٹر صاحب نے تعجب سے پیشکار سے دریافت کیا کہ اس شخص کا بدمعاشی میں کیسے چالان کیا گیا دیکھنے میں تو یہ بالکل بدمعاش نہیں معلوم ہوتا! پیشکار نے جواب دیا حضور! تامل نہ فرمائیں یہ سفید پوش بدمعاش ہے!‘‘ لیکن میں نے یہاں سفید پوش کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں نے آج تک کسی دھوبی کو میلے کپڑے پہنے نہیں دیکھا۔ اور نہ اس کو خود اپنے کپڑے پہنے دیکھا۔ البتہ اپنا کپڑا پہنے ہوئے اکثر دیکھا ہے بعضوں کو اس پر غصہ آیا ہوگا کہ ان کا کپڑا دھوبی پہنے ہو۔ کچھ اس پر بھی جز بز ہوئے ہوں گے کہ خود ان کو دھوبی کے کپڑے پہننے کا موقع نہ ملا۔ میں اپنے کپڑے دھوبی کو پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ کہ دیکھئے زمانہ ایسا آگیا کہ یہ غریب میرے کپڑے پہننے پر اتر آیا گو اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اپنی قمیص دھوبی کو پہنے دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں افتخار بھی محسوس کیا ہے۔ اپنی طرف سے نہیں تو قمیص کی طرف سے۔ اس لیے کہ میرے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس قمیص کو پہنے دیکھ کر مجھے در پردہ کسی نے اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو گا۔ ممکن ہے خود قمیص نے بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو۔دھوبی کپڑے چراتے ہیں بیچتے ہیں کرائے پر چلاتے ہیں، گم کرتے ہیں، کپڑے کی شکل مسخ کردیتے ہیں، پھاڑ ڈالتے ہیں یہ سب میں مانتا ہوں اور آپ بھی مانتے ہوں گے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے آپ کے کپڑے اکثر ایسی حالت میں اترتے ہیں کہ دھوبی کیا کوئی دیوتا بھی دھوئے تو ان کو کپڑے کی ہیئت و حیثیت میں واپس نہیں کرسکتا۔ مثلاً غریب دھوبی نے ہمارے آپ کے ان کپڑوں کو پانی میں ڈالا ہو میل پانی میں مل گیا اللہ اللہ خیر سلا جیسے خاک کا پتلا خاک میں مل جاتا ہے خاک خاک میں آگ آگ میں پانی پانی میں اور ہوا ہوا میں۔ البتہ ان کپڑے پہننے والوں کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے کپڑے کو تو اپنی شخصیت میں جذب کر لیا اور شخصیت کو کثافت میں منتقل کر دیا۔ مثلاً لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی! اور یہی کثافت ہم دنیا داروں کو قمیص، پگڑی اور شلوار میں نظر آتی ہو۔ یہ بات میں نے کچھ یوں ہی نہیں کہہ دی ہے۔ اونچے قسم کے فلسفے میں آیا ہے کہ عرض بغیر جوہر کے قائم رہ سکتا ہے اور نہ بھی آیا ہو تو فلسفیوں کو دیکھتے یہ بات کبھی نہ کبھی ماننی پڑے گی۔دھوبی کے ساتھ ذہن میں اوربہت سی باتیں آتی ہیں مثلاً گدھا، رسی، ڈنڈا، دھوبی کا کتا، دھوبن (میری مراد پرند سے ہے) استری (اس سے بھی میری مراد وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں) میلے ثابت پھٹے پرانے کپڑے وغیرہ۔ ممکن ہے آپ کی جیب میں بھولے سے کوئی ایسا خط رہ گیا ہو جس کو آپ سینے سے لگا رکھتے ہوں لیکن کسی شریف آدمی کو نہ دکھا سکتے ہوں اور دھوبی نے اسے دھو پچھاڑ کر آپ کا آنسو خشک کرنے کیلئے بلاٹنگ پیپر بنا دیا ہو یا کوئی یونانی نسخہ آپ جیب میں رکھ کر بھول گئے ہوں اوردھوبی اسے بالکل ''صاف نمودہ‘‘ کر کے لایا ہو۔لڑائی کے زمانے میں جہاں اور بہت سی دشواریاں ہیں۔ وہاں یہ آفت بھی کم نہیں کہ بچے کپڑے پھاڑتے ہیں عورتیں کپڑے سمیٹتی ہیں۔ دھوبی کپڑے چراتے ہیں دوکاندار قیمتیں بڑھاتے ہیں اور ہم سب کے دام بھگتے ہیں۔ لڑائی کے بعد زندگی کی ازسر نو تنظیم ہو یا نہ ہو کوئی تدبیرایسی نکالنی پڑے گی کہ کپڑے اوردھوبی کی مصیبتوں سے نوع انسانی کو کلیتہً نجات نہ بھی ملے تو بہت کچھ سہولت میسر آ جائے۔کپڑے کا مصرف پھاڑنے کے علاوہ حفاظت، نمائش اور ستر پوشی ہے میراخیال ہے کہ یہ باتیں اتنی حقیقی نہیں ہیں جتنی ذہنی یا رسمی۔ سردی سے بچنے کی ترکیب تویونانی اطبا اور ہندوستانی سادھو جانتے ہیں ایک کشتہ کھاتا ہے دوسرا جسم پر مل لیتا ہے۔ نمائش میں ستر پوشی اور ستر نمائی دونوں شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ستر کے رقبہ پر کنٹرول عائد کر دیا جائے تو کپڑا یقیناً کم خرچ ہو گا اور دیکھ بھال میں بھی سہولت ہو گی۔ جنگ کے دوران میں یہ مراحل طے ہو جاتے تو صلح کا زمانہ عافیت سے گزرتا۔لیکن اگرایسا نہ ہو سکے تو پھردنیا کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تمام سائنس دانوں اور کاریگروں کو جمع کر کے قوم کی اس مصیبت کو ان کے سامنے پیش کریں کہ آئندہ سے لباس کے بجائے ''انٹی دھوبی ٹینک‘‘ کیوں کر بنائے اوراوڑھے پہنے جا سکتے ہیں۔ اگریہ ناممکن ہے اوردھوبیوں کے پھاڑنے پچھاڑنے اور چرانے کے پیدائشی حقوق مجروح ہونے کا اندیشہ ہو جس کو دنیا کی خدا ترس حکومتیں گوارا نہیں کر سکتیں یا بعض بین الاقوامی پیچیدگیوں کے پیش آنے کا اندیشہ ہے تو پھر رائے عامہ کو ایسی تربیت دی جائے کہ لباس پہننا ہی یک قلم موقوف کر دیا جائے۔ اورتمام دھوبیوں کو کپڑا دھونے کے بجائے بین الاقوامی معاہدوں اورہندوستان کی تاریخوں کودھونے پچھاڑنے اور پھاڑنے پرمامورکردیا جائے۔

حکایات سعدی:اپنے آپ پر بھروسہ کرو

حکایات سعدی:اپنے آپ پر بھروسہ کرو

کسی باغ میں ایک کبوتر نے اپنا آشیانہ بنایا ہوا تھا۔ جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کو دانہ چگاتا۔ بچوں کے بال و پر نکل رہے تھے۔ ایک دن کبوتر دانہ چونچ میں دبائے باہر سے آیا تو سارے بچوں نے انہیں تشویش سے بتایا کہ اب ہمارے آشیانے کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ آج باغ کا مالک اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا کہ پھل توڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔ کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور ان سے پھل توڑنے کا کام لوں گا۔ خود میں اپنے بازو کی خرابی کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکوں گا۔کبوتر نے اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ باغ کا مالک کل اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں آئے گا۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ حقیقتاً ایسا ہی ہوا اور باغ کا مالک دوسرے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ پھل توڑنے نہ آیا۔ کئی روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ باغ میں آیا اور کہنے لگا کہ میں اس دن پھل توڑنے نہ آ سکا کیونکہ میرے دوست وعدے کے باوجود نہ آئے لیکن میرے دوبارہ کہنے پر انہوں نے پکا وعدہ کیا ہے کہ کل وہ ضرور آئیں گے اور پھل توڑنے باغ میں جائیں گے۔کبوتر نے یہ بات بچوں کی زبانی سن کر کہا کہ گھبراؤ نہیں، باغ کا مالک اب بھی پھل توڑنے نہیں آئے گا۔ یہ کل بھی گزر جائے گی۔ اسی طرح دوسرا روز بھی گزر گیا اور باغ کا مالک اور اس کے دوست باغ نہ آئے۔ آخر ایک روز باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ پھر باغ میں آیا اور بولا: میرے دوست تو بس نام کے ہمدرد ہیں۔ ہر بار وعدہ کرکے بھی ٹال مٹول کرتے ہیں اور نہیں آتے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنا کام میں خود کروں گا اور کل باغ سے پھل توڑوں گا۔کبوتر نے یہ بات سن کر پریشانی سے کہا بچو! اب ہمیں اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔ باغ کا مالک کل یہاں ضرور آئے گا کیونکہ اس نے دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔حاصل کلام: دوسروں پر بھروسہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اپنا کام خود کرنا چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!جعفر طاہر:اردو کے ممتاز شاعر  (1977-1917ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جعفر طاہر:اردو کے ممتاز شاعر (1977-1917ء)

٭...29 مارچ 1917ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام سید جعفر علی شاہ تھا۔٭...ابتدائی تعلیم علاقائی اسکول میں حاصل کی ، پرائیویٹ بی اے کیا اور فوج میں بھرتی ہوگئے۔٭... 1966ء میں فوج کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستگی اختیار کی اور اپنی وفات تک یہ تعلق برقرار رکھا۔٭...جعفر طاہر کے شعری مجموعے ''ہفت کشور، ہفت آسمان اور سلسبیل‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ ٭...جعفر طاہر کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے غزل کو روایتی دائرے سے نکال کر تازگی بخشی اور اس صنف سخن کو تخلیق کے نئے آہنگ کے ساتھ وسعت عطا کی۔٭...جعفر طاہر کی غزلوں کے موضوعات اور ان کا اسلوب بھی اپنی انفرادیت کے سبب انھیں تخلیقی وفور سے مالا مال اور ثروت مند ظاہر کرتا ہے۔٭...انہوں نے غزلوں کے علاوہ نظمیں بھی کہیں، ساتھ ہی انہوں نے ایک نئی صنف 'کینٹو‘(Canto) کو متعارف کرایا۔٭... ان کے 'کینٹو‘ کا پہلا مجموعہ ''ہفت کشور‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کیلئے انہیں آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ٭... 25 مئی 1977ء کو راولپنڈی میں وفات پائی۔اردو کے اس ممتاز شاعر کو جھنگ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔چند اشعاراے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلادیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا٭٭٭٭٭٭آپس کی گفتگو میں بھی کٹنے لگی زباںاب دوستوں سے ترک ملاقات چاہئے٭٭٭٭٭٭اک عمر بھٹکتے ہوئے گزری ہے جنوں میںاب کون فریب نگہ یار میں آئے٭٭٭٭٭٭طاہر خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیں٭٭٭٭٭٭اٹھی تھی پہلی بار جدھر چشم آرزووہ لوگ پھر ملے نہ وہ بستی نظر پڑی٭٭٭٭٭٭عرصہ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹے٭٭٭٭٭٭اے زلف خم بہ خم تجھے اپنا ہی واسطہہموار ہونے پائے نہ عمر رواں کی راہ٭٭٭٭٭٭ناز ہر بت کے اٹھا پائے نہ جعفر طاہرچوم کر چھوڑ دیے ہم نے یہ بھاری پتھر٭٭٭٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

اسلحہ ڈپو میں دھماکہ25 مئی 1865ء کو امریکی ریاست الاباما میں ایک اسلحہ گودام کے خوفناک دھماکے کے نتیجے میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ امریکی خانہ جنگی کے اختتامی دنوں میں پیش آیا اور اسے اُس دور کے بدترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور دور دور تک آگ پھیل گئی۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ کارلو کی لڑائی25مئی 1798ء کو آئر لینڈ کے شہر کارلو میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب کارلو باغی 1798 ء کی بغاوت کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بغاوت کائونٹی کلڈیرے میں ایک دن پہلے شروع ہوئی تھی۔ کارلو میں یونائیٹڈ آئرش مین آرگنائزیشن کی قیادت ایک نوجوان کر رہا تھا جس کا نام مک ہیڈن تھا۔ اس نوجوان کو پچھلے رہنما پیٹر آئورز کی گرفتاری کے بعد قیادت دی گئی تھی۔ سابق رہنما کو مارچ میں اولیور بانڈ کے گھر سے متحدہ آئرلینڈ کے کئی دیگر سرکردہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔انقلاب مئی''انقلاب مئی‘‘ ریو ڈی لا پلاٹا کے وائسرائیلٹی کے دارالحکومت بیونس آئرس میں 18 سے 25مئی 1810ء تک ہونے والے واقعات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اس ہسپانوی کالونی میں تقریباً موجودہ ارجنٹائن، بولیویا، پیراگوئے، یوراگوئے اور برازیل کے کچھ حصے شامل تھے۔ نتیجتاً 25 مئی کو وائسرائے بالتاسر ہائیڈالگو ڈی سیسنیروس کی برطرفی ہوئی اورنئی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اسے وہاں سے نکال دیا گیا اور اس کی حکومت کو صرف ان علاقوں تک محدود کر دیا گیاجو ارجنٹائن سے تعلق رکھتے تھے۔ایکسپلورر32کی لانچنگ''ایکسپلورر32‘‘کو 25مئی 1966ء کو ڈیلٹا سی1وہیکل کیپ کینورل کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ لانچ کئے جانے والے پانچ ایکسپلوررز میں سے ایک تھااور اس کا نمبر دوسرا تھا۔ اس سے پہلے '' ایکسپلورر17‘‘ کو لانچ کیا گیا تھا۔ اگرچہ اسے خرابی کی وجہ سے توقع سے زیادہ مدار کے قریب رکھا گیا تھا۔ اپنی لانچ وہیکل پر دوسرے مرحلے میں، ایکسپلورر 32 نے ناکام ہونے سے پہلے دس ماہ تک ڈیٹا بھیجا۔''دی اوپرا ونفرے شو‘‘ کا اختتام25مئی2011ء کو معروف امریکی میزبان اور میڈیا شخصیت اوپرا ونفری نے اپنے مشہور پروگرام ''دی اوپرا ونفری شو‘‘کی آخری قسط نشر کی، جس کے ساتھ ہی 25 سالہ کامیاب سفر اختتام پذیر ہوا۔ یہ پروگرام دنیا کے مقبول ترین ٹاک شوز میں شمار کیا جاتا تھا اور اس نے لاکھوں ناظرین کے دل جیتے۔ اوپرا ونفری نے اپنے منفرد انداز، سماجی موضوعات اور متاثر کن انٹرویوز کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ آخری پروگرام کے موقع پر جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا اور مداحوں نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔چائنہ فضائی حادثہ2002ء میں آج کے روز چائنہ ایئر لائنز کی پرواز 611 فضا میں ہی ٹکڑوں میں بکھر گئی اور آبنائے تائیوان میں جا گری، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 225 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ ایشیا کی بدترین فضائی تباہیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارے کے ڈھانچے میں پرانی خرابی اور ناقص مرمت اس سانحے کی بڑی وجہ بنی۔ اس المناک واقعے نے عالمی فضائی صنعت کو حفاظتی معیارات مزید سخت کرنے اور جہازوں کی بروقت جانچ کی اہمیت کا احساس دلایا۔