پیٹرادنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک

پیٹرادنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد بخاری


1812ء میں سوئٹزر لینڈ کا ایک مہم جو جان برک ہارڈ(Johann Ludwig Burckhardt) ایک عرب سوداگر کا بھیس بدل کر اردن کے قدیم شہر میں سے گزرا۔ جب وہ قدیم آدم کی پہاڑیوں کے نزدیک پہنچا تو اس نے ان کہانیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک حقیقت کی شکل میں دیکھا جو اس نے بدوئوں سے زمین میں دفن ہو جانے والے شہر کے متعلق سنی تھیں۔
برک ہارڈ اس جگہ جانے کی خواہش کا کھلم کھلا اظہار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اس جگہ سے وابستہ قدیم داستانوں سے واقف تھا، اس لئے اس نے اس بنا پر اجازت حاصل کی کہ وہ ایرون کے مندر میں ایک قربانی دینا چاہتا ہے۔ پہاڑوں کے ایک تنگ درے سے گزر کر ''برک ہارڈ‘‘ مندروں اور گنبدوں کے اس خوبصورت شہر میں پہنچا جو چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ اس شہر کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا اور یوں اس نے پیٹرا کا قدیم شہر دوبارہ دریافت کیا، جس کے اصل مقام کو مغربی دنیا کے لوگ ایک ہزار سال قبل بھلا چکے تھے۔
پیٹرا جنوبی اردن کے چٹانی علاقوں میں واقع ہے۔ یہ شہر ایک آئوٹ ڈور میوزیم کی مانند لگتا ہے۔ قسطنطنیہ، مصری، رومی اور یونانی طرز تعمیر کا امتزاج یہ شہر دیگر قدیم شہروں سے بڑا منفرد نظر آتا ہے۔ اس کی بنیاد نباتینز نے رکھی جو کہ عرب تھے۔ دیگر قدیم شہروں کی طرح پیٹرا کی معیشت کا دارومدار بھی تجارت پر تھا۔ قدیم نباتینز نے تقریباً 300قبل مسیح میں اس شہر کو چٹانوں کو تراش کر بنایا۔ اس وقت پیٹرا پہاڑ کی نوکیلی چوٹیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اصل میں یہ شہر مشرق وسطیٰ کے قدیم راستوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اونچے پہاڑوں میں سے گزر کر یہ ہی وہ راستہ تھا جہاں سے گزر کر عربوں کے تجارتی قافلے بحیرہ روم اور بحیرہ اسود پہنچا کرتے تھے اور ان عربوں (نباتینز) کی کمائی کا اصل ذریعہ تجارتی راستوں کی حفاظت سے حاصل ہونے والا ٹول ٹیکس تھا۔
پیٹرا کی ایک اور اہمیت یہ تھی کہ یہاں پانی کثرت سے تھا جو ان قافلوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہوتا تھا۔ جلد ہی یہ شہر ایک عظیم تجارتی مرکز اور نباتی سلطنت کا دارالحکومت بن گیا۔ یہ سلطنت 106ء تک قائم رہی پھر رومیوں نے پیٹرا کو فتح کر لیا۔ رومی سلطنت کے ایک صوبے کی حیثیت سے پیٹرا کی اہمیت کچھ عرصہ قائم رہی۔ اس لئے اس کے طرز تعمیر پر رومیوں کا بہت گہرا اثر نظر آتا ہے۔ جب رومیوں نے دیگر تجارتی راستوں کو ترقی دی تو اس شہر کی اہمیت آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں یہ شہر بالکل ویران ہو گیا۔ آخر کار 8ویں صدی عیسوی کے وسط میں ایک خوفناک زلزلے کے نتیجے میں یہ عظیم الشان شہر مکمل طور پر زمین کے نیچے دفن ہو گیا۔
اب اس شہر کے جو کھنڈرات دریافت ہوئے ہیں اس کے مطابق اس میں داخلے کیلئے ایک تنگ گھاٹی سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ 5میٹر چوڑی اور 200 میٹر بلند ہے۔ بہت سے مندر اور گنبد جو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ اب تک اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور''کیشنی‘‘ ہے جو پیٹرا تک جانے والے تنگ درے''سق‘‘ کے اندرونی سرے کی مخالف سمت میں بنا ہے۔
پہلی صدی قبل مسیح میں بننے والی یہ عمارت کیشنی کی دو منزلیں ہیں۔ نچلی منزل کی طرز تعمیر یونانی مندروں جیسی ہے جس کے اوپر کے حصے میں مثلث نما ستون نظر آتے ہیں۔ چٹانوں کو کھود کر اس یادگار پر دلکش نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ کیشنی کی مرکزی عبادت گاہ202 مربع میٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ دو چھوٹے کمرے ہیں جو راہبوں کیلئے مخصوص تھے۔
کیشنی ایک مندر ہے اور اس کا ایک گنبد بھی ہے۔ اس لفظ کا عربی مفہوم''خزانہ‘‘ ہے۔ مقامی بدوئوں کا خیال تھا کہ اوپر کے مرکزی ہال میں جو خاکدان بنا ہوا ہے اس میں ایک مصری فرعون کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ کئی بدوئوں نے خزانہ حاصل کرنے کیلئے اس خاکدان پر گولیاں چلائیں تاکہ اسے توڑا جا سکے۔ پیٹرا میں داخلے والی تنگ گھاٹی سے آگے کئی ستونوں والے مقبرے ہیں۔ آگے کی طرف جائیں تو ایک تھیڑ آتا ہے جو چٹانوں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا اس کی تعمیر پہلی صدی قبل مسیح میں ہوئی۔
تھیڑ سے آگے کئی مقبرے ہیں۔ یہیں ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرتے ہوئے ایک گھنٹہ کی پیدل مسافت پر قدیم عبادت گاہ ہے جو رومیوں کے عہد میں بنائی گئی تھی۔ اس سے بھی اوپر قربان گاہ ہے جہاں کئی درزیں بنی ہیں جن کے ذریعے قربانی کے جانوروں کا خون نیچے گرایا جاتا تھا۔ پیٹرا سے جنوب کی طرف وسیع و عریض صحرائی لینڈ سکیپ ہے جسے وادی روم کہا جاتا تھا۔ یہاں بدو قبائل آباد ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سمندروں کی نگرانی مصنوعی ذہانت کے سپرد

سمندروں کی نگرانی مصنوعی ذہانت کے سپرد

نئی ٹیکنالوجی''فی یو 1.0‘‘ سے موسمیاتی تبدیلی کی بروقت پیشگوئی ممکنمصنوعی ذہانت کے میدان میں چین نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اسمارٹ سمندری پیش گوئی کیلئے ایک جدید اور انقلابی اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سائنسی و تکنیکی دنیا میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ، سمندری وسائل کے بہتر استعمال اور قدرتی آفات سے بروقت بچاؤ کے امکانات کو بھی نئی جہت فراہم کرتی ہے۔ سمندر، جو زمین کے موسمی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اب جدید ڈیجیٹل ذہانت کی مدد سے زیادہ درست اور قابلِ اعتماد انداز میں سمجھے اور پیش گوئی کیے جا سکیں گے۔ یہ ماڈل موسمیاتی تبدیلی، سمندری طوفانوں، لہروں اور درجہ حرارت میں آنے والی تبدیلیوں کی پیشگی اطلاع دے کر انسانی جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں چین نے ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ سمندری تحقیق اور موسمی پیش گوئی کے شعبے میں ایک جدید اور انقلابی مصنوعی ذہانت ماڈل ''فی یو۔1.0‘‘ (Feiyu-1.0) کا باضابطہ اجرا جنوبی چین کے شہر گوانگژو میں کیا گیا، جسے ماہرین مستقبل کی سمندری پیش گوئی کا نیا رخ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور سمندری وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔''فی یو۔1.0‘‘ دراصل ایک دو طرفہ مربوط ہواو سمندر (Air-Sea Coupled) مصنوعی ذہانت ماڈل ہے، جسے خصوصی طور پر بحیرہ جنوبی چین کی جغرافیائی، موسمی اور سمندری خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کی تیاری میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت کام کرنے والے ساؤتھ چائنا سی انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانولوجی اور چائنا یونیورسٹی آف پیٹرولیم (ایسٹ چائنا) نے مشترکہ طور پر تحقیق اور جدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق، روایتی سمندری پیش گوئی کے ماڈلز عموماً پیچیدہ ڈیٹا، محدود رفتار اور کم درستگی جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں، تاہم ''فی یو۔1.0‘‘ ان تمام کمزوریوں پر قابو پانے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس ماڈل میں جدید مصنوعی ذہانت الگورتھمز کو استعمال کرتے ہوئے سمندر اور فضا کے باہمی تعلق کو بیک وقت سمجھنے اور پیش گوئی کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، جو اسے دیگر ماڈلز سے ممتاز بناتی ہے۔''فی یو۔1.0‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ یہ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت، پانی میں نمکیات، سمندری دھاراؤں اور بڑے پیمانے پر سمندری گردش کو نہایت درست انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔ یہی عوامل سمندری موسم، طوفانوں اور ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی پیش گوئیاں نہ صرف زیادہ درست ہیں بلکہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔اس جدید اے آئی ماڈل کے استعمال کے امکانات انتہائی وسیع ہیں۔ موسمیات کے شعبے میں فی یو۔1.0 طوفانوں، سمندری آندھیوں اور شدید موسمی تبدیلیوں کی بروقت پیش گوئی کر کے قدرتی آفات سے بچاؤ کے اقدامات کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو پیشگی خبردار کیا جا سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ماہی گیری کے شعبے میں بھی یہ ماڈل ایک نعمت ثابت ہو سکتا ہے۔ ''فی یو۔1.0‘‘ ماہی گیروں کو محفوظ سمندری حالات کے بارے میں درست معلومات فراہم کر کے ان کی روزی روٹی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سمندری حادثات کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح بحری جہاز رانی اور سمندری تجارت کیلئے بھی یہ ماڈل راستوں کی حفاظت اور موسمی خطرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ''فی یو۔1.0‘‘ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ماڈل پانی کے درجہ حرارت اور نمکیات جیسے عوامل کی نقل (Simulation) کر کے مرجانی چٹانوں (Coral Reefs) اور ماحولیاتی نظاموں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے بروقت انتباہات جاری کر کے ان قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے، جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔''فی یو۔ 1.0‘‘ کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ متحرک سمندری علمی نقشے (Dynamic Ocean Knowledge Graphs) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نقشے نہ صرف ماہرین اور محققین کیلئے مفید ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی سمندروں کے پیچیدہ نظام کو آسان انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ماڈل سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔افتتاحی تقریب کے موقع پر موجود ماہرین اور سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا کہ ''فی یو۔1.0‘‘ محض ایک تکنیکی ایجاد نہیں بلکہ ذہین سمندری پیش گوئی کا ایک نیا تصور ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل مستقبل میں عالمی سطح پر سمندری تحقیق، موسمیاتی مطالعات اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، سمندری آلودگی اور قدرتی آفات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں ''فی یو۔1.0‘‘ جیسے جدید اے آئی ماڈلز نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہیں بلکہ انسانیت کیلئے ایک امید کی کرن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین کی یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اگر درست سمت میں استعمال کیا جائے تو قدرتی نظام کو سمجھنے اور محفوظ بنانے میں انقلابی کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ''فی یو۔1.0‘‘ سمندری سائنس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کی ایک شاندار مثال ہے، جو مستقبل میں نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لیے سمندروں کے بہتر، محفوظ اور پائیدار استعمال کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

ماؤنٹ رش مور

ماؤنٹ رش مور

چار صدور، ایک پہاڑ ، قومی وحدت کی داستاندنیا میں کچھ یادگاریں ایسی ہوتی ہیں جو محض پتھر یا اینٹوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم کی تاریخ، نظریات اور جدوجہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور بھی ایسی ہی ایک عظیم الشان یادگار ہے، جہاں پہاڑ کی بلند و بالا چٹانوں پر چار امریکی صدور کے چہرے تراش کر انہیں ابدی دوام بخشا گیا ہے۔ یہ سنگی شاہکار نہ صرف فن تعمیر اور مجسمہ سازی کا نادر نمونہ ہے بلکہ امریکی قومی تشخص، جمہوری اقدار اور تاریخی ارتقا کی بھرپور عکاسی بھی کرتا ہے۔امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور دنیا کے مشہور ترین قومی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔یہ مشہور قومی یادگار پہاڑ کی گرینائٹ چٹان کو تراش کر بنائی گئی ہے۔ جس پر چار ممتاز صدورجارج واشنگٹن (George Washington)، تھومس جیفرسن (Thomas Jefferson)، تھیوڈور روز ویلٹ(Theodore Roosevelt) اور ابراہم لنکن(Abraham Lincoln) کے 60 فٹ (18 میٹر) بلند سروں کی نقش گری کی گئی ہے۔ ان صدور کا انتخاب بالترتیب قوم کی بنیاد، توسیع، ترقی اور تحفظ کی نمائندگی کے طور پر کیا گیا۔یہ عظیم الشان سنگی مجسمے نہ صرف امریکہ کی سیاسی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ قومی وحدت، جمہوریت اور آزادی کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ماؤنٹ رش مور ہر سال دو ملین (20 لاکھ) سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یادگاری پارک کا رقبہ 1,278 ایکڑ (تقریباً 2 مربع میل) پر محیط ہے، جبکہ پہاڑ کی بلندی سطح سمندر سے 5725 فٹ (1745 میٹر) ہے۔بورگلم (Borglum)نے ماؤنٹ رش مور کا انتخاب جزوی طور پر اس لیے کیا کیونکہ یہ جنوب مشرق کی سمت رخ کیے ہوئے ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ دھوپ حاصل ہوتی ہے۔ اس یادگار کا خیال ساؤتھ ڈکوٹا کے ریاستی مورخ ڈوان رابنسن نے پیش کیا تھا۔ ابتدا میں رابنسن چاہتے تھے کہ اس مجسمے میں امریکی مغرب کے ہیروز جیسے لیوس(Lewis) اور کلارک(Clark)، ان کی رہنما ساکاگاویہ (Sacagawea)، ریڈ کلاؤڈ( Red Cloud)، بفیلو بل کوڈی (Buffalo Bill Cody)اور کریزی ہارس(Crazy Horse) کو شامل کیا جائے۔ تاہم بورگلم نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ یادگار علاقائی کے بجائے قومی سطح کی ہونی چاہیے اور یوں چار صدور کا انتخاب کیا گیا۔ساؤتھ ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر پیٹر نوربیک نے اس منصوبے کی سرپرستی کی اور وفاقی فنڈنگ حاصل کی۔ تعمیراتی کام 1927ء میں شروع ہوا اور صدور کے چہرے 1934ء سے 1939ء کے درمیان مکمل کیے گئے۔ مارچ 1941ء میں بورگلم کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے لنکن نے تعمیراتی منصوبے کی قیادت سنبھالی۔ ابتدا میں ہر صدر کو سر سے کمر تک دکھانے کا ارادہ تھا، مگر فنڈز کی کمی کے باعث 31 اکتوبر 1941ء کو تعمیر روک دی گئی، اور صرف جارج واشنگٹن کے مجسمے میں ٹھوڑی سے نیچے کچھ تفصیل موجود ہے۔ماؤنٹ رش مور کی یہ یادگار اس زمین پر تعمیر کی گئی جو 1870ء کی دہائی میں سیوکس قوم ( Sioux Nation) سے لے لی گئی تھی۔ سیوکس آج بھی اس زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 1980ء میں امریکی سپریم کورٹ نے'' United States v. Sioux Nation of Indians‘‘ مقدمے میں فیصلہ دیا کہ بلیک ہلز کا قبضہ غیر منصفانہ تھا اور بطور معاوضہ 102 ملین ڈالر دینے کا حکم دیا۔ تاہم سیوکس قوم نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے زمین کی واپسی کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔ یہی تنازع آج بھی جاری ہے، جس کے باعث بعض ناقدین اس یادگار کو ‘‘منافقت کا مزار'' بھی قرار دیتے ہیں۔مجموعی طور پر ماؤنٹ رش مور ایک ایسا فن پارہ ہے جو سنگِ گراں میں تراشی گئی تاریخ کی کتاب کی مانند ہے۔ یہ یادگار آنے والی نسلوں کو ماضی کی جدوجہد، قیادت اور قومی تعمیر کے اسباق یاد دلاتی رہے گی۔

کامیابی کی دوڑ اور بڑھتا ہوا حسد

کامیابی کی دوڑ اور بڑھتا ہوا حسد

انسانی معاشرہ بظاہر ترقی، خوشحالی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے باطن میں بعض منفی جذبات بھی پائے جاتے ہیں جو فرد اور سماج دونوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطرناک جذبہ حسد ہے، جو دل کی گہرائیوں میں جنم لے کر رفتہ رفتہ انسان کے سکون، تعلقات اور اخلاقی قدروں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی نعمت، کامیابی یا خوش حالی کو دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا اور اس کے زوال کی تمنا کرنے لگتا ہے۔حسد دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی کامیابی یا خوش حالی دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ یہ جذبہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت اور ظاہری چمک دمک بن جائے تو لوگ اپنی ذات کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ یہی تقابل رفتہ رفتہ احساسِ کمتری اور پھر حسد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات، کامیابیاں اور آسائشیں نمایاں انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ مشکلات اور ناکامیاں پس منظر میں رہتی ہیں۔ نتیجتاً دیکھنے والا اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہے اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ شعور کمزور پڑتا ہے تو دل میں حسد کے بیج اگنے لگتے ہیں۔حسد نہ صرف دوسروں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ حسد کرنے والے کیلئے بھی ایک اندرونی عذاب ہے۔ یہ دل کا سکون چھین لیتا ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو مسلسل بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔ حسد کرنے والا کبھی مطمئن نہیں رہتا، کیونکہ اسے ہر جگہ کوئی نہ کوئی خود سے آگے نظر آتا ہے۔ یوں وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے بجائے منفی خیالات میں الجھا رہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے حسد کا علاج کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں کامیابی کے مفہوم کو درست کرنا ہوگا۔ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ کردار کی بلندی، اطمینانِ قلب اور معاشرے کیلئے مفید ہونا بھی کامیابی ہے۔ جب ہم اپنی توجہ دوسروں سے ہٹا کر اپنی ذات کی بہتری پر مرکوز کریں گے تو حسد کی گنجائش کم ہو جائے گی۔شکر گزاری بھی حسد کا مؤثر علاج ہے۔ جو شخص اپنی نعمتوں پر غور کرتا اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، وہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جلنے کے بجائے ان کے لیے خوش ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح مثبت سوچ، خود اعتمادی اور محنت پر یقین انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر کسی کا نصیب اور وقت مختلف ہے تو وہ تقابل کے جال سے نکل آتا ہے۔والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی اہم ہے کہ وہ بچوں کو صرف اوّل آنے یا دوسروں سے آگے بڑھنے کی تعلیم نہ دیں، بلکہ اخلاق، برداشت اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کا درس بھی دیں۔ اگر معاشرے میں تعاون اور ہمدردی کی فضا قائم ہو تو کامیابی کی دوڑ صحت مند مقابلے میں بدل سکتی ہے۔

کرکٹ!

کرکٹ!

مرزا کو کرکٹ سے کتنی دلچسپی اور اس کی باریکیوں سے کس حد تک واقفیت ہے، ہمیں اس کا تھوڑابہت اندازہ پانچ سال قبل ہوا۔ ٹسٹ کا چوتھا دن تھا اور ایک سلو بولر بولنگ کر رہا تھا۔ اس کی کلائی ایک ادنیٰ اشارے، انگلیوں کی ایک خفیف سی حرکت پر گیند ناچ ناچ اٹھتی اور تماشائی ہر گیند پر کرسیوں سے اٹھ اٹھ کر داد دیتے اور داد دے کر باری باری ایک دوسرے کی گود میں بیٹھ جاتے۔ ہمارے پاس ہی ایک میم کے پیچھے کرسی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا، بوڑھا پارسی تک، اپنے پوپلے منہ سے سیٹی بجا بجا کر بولر کا دل بڑھا رہا تھا۔ ادھر اسٹیڈیم کے باہر درختوں کی پھننگوں سے لٹکے ہوئے شائقین ہاتھ چھوڑ چھوڑ کر تالیاں بجاتے اور کپڑے جھاڑ کر پھر درختوں پر چڑھ جاتے تھے۔ ہر شخص کی نظریں گیند پر گڑی ہوئی تھیں۔ ایک بارگی بڑے زور سے تالیاں بجنے لگیں۔''ہائے! بڑے غضب کی گگلی ہے!‘‘ ہم نے جوش سے مرزا کا ہاتھ دبا کر کہا۔''نہیں یار! مدراسن ہے!‘‘ مرزا نے دانت بھینچ کر جواب دیا۔ہم نے پلٹ کر دیکھا تو مرزا ہی کی رائے صحیح نکلی، بلکہ بہت خوب نکلی۔ان کی دلچسپی کا اندازہ اس اہتمام سے بھی ہوتا ہے جو پچھلے تین برس سے ان کے معمولات میں داخل ہو چکا ہے۔ اب وہ بڑے چائو سے لدے پھندے ٹسٹ میچ دیکھنے جاتے ہیں۔ ڈیڑھ دو سیر بھنی مونگ پھلی، بیٹری کا ریڈیو اور تھرماس! (اس زمانے میں ٹرانزسٹر عام نہیں ہوئے تھے) یہاں ہم نے ناشتے دان، سگریٹ، دھوپ کی عینک اور اسپرو کی ٹکیوں کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ تو ان لوازمات میں سے ہیں جن کے بغیر کوئی دور اندیش آدمی کھیل دیکھنے کاقصد نہیں کرتا۔ یوں تو تازہ اخبار بھی ساتھ ہوتا ہے مگر وہ اس سے چھتری کا کام لیتے ہیں۔ خود نہیں پڑھتے البتہ پیچھے بیٹھنے والے بار بار صفحہ الٹنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ دن بھر ریڈیو سے چمٹے کمنٹری سنتے رہتے ہیں بلکہ ہمارا خیال ہے کہ انہیں کمنٹری سننے سے زیادہ سنانے میں لطف آتا ہے۔ البتہ کمنٹری آنا بند ہو جائے تو کھیل بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یا پھر اس وقت سر اٹھاکر فیلڈ کی طرف دیکھتے ہیں جب ریڈیو پر تالیوں کی آواز سے کانوں کے پردے پھٹنے لگیں۔ میچ کسی اور شہر میں ہورہا ہو تو گھر بیٹھے کمنٹری کے جوشیلے حصوں کوٹیپ پر ریکارڈ کرلیتے ہیں اور آئندہ ٹسٹ تک اسے سنا سنا کر اپنا اور دوسرے مسلمان بھائیوں کاخون کھولاتے رہتے ہیں۔جاہلوں کا ذکرنہیں، بڑے بڑوں کوہم نے اس خوش فہمی میں مبتلا دیکھا کہ زیادہ نہ کم پورے بائیس کھلاڑی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ہم قواعد و ضوابط سے واقف نہیں لیکن جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسی کی قسم کھاکر عرض کرتے ہیں کہ در حقیقت کرکٹ صرف ایک ہی شخص کھیلتا ہے۔ مگر اس کھیل میں یہ وصف ہے کہ بقیہ اکیس حضرات سارے سارے دن اس مغالطے میں مگن رہتے ہیں کہ وہ بھی کھیل رہے ہیں۔ حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ یہ حضرات شام تک سارس کی طرح کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں اور گھر پہنچ کر اس تکان کو تندرستی سمجھ کر پڑ رہتے ہیں۔مرزا کہتے ہیں (ناممکن ہے کرکٹ کا ذکر ہواور بار بارمرزا کی دہائی نہ دینی پڑے) کہ کھیل، علی الخصوص کرکٹ، سے طبیعت میں ہار جیت سے بے نیازی کا جذبہ پید ا ہوتا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جیتنے کیلئے واقعی کاوش و مزادلت درکار ہے۔ لیکن ہارنے کیلئے مشق و مہارت کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ مشکل مخالف ٹیم بالعموم خود آسان کر دیتی ہے۔اچھے اسکولوں میں شروع ہی سے تربیت دی جاتی ہے کہ جس طرح مرغابی پر پانی کی بوند نہیں ٹھیرتی، اسی طرح اچھے کھلاڑی پر ناکامی کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض کمزور طبیعتیں اس نصیحت کا اس قدر اثر لیتی ہیں کہ ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر ہم کھلے خزانے یہ اعتراف کر لیں کہ ہمیں جیت سے رنج اور ہار سے خوشی نہیں ہوتی تو کون سی عیب کی بات ہے؟ انگلستان کا بادشاہ ولیم فاتح اس سلسلہ میں کمال کی بے ساختگی و صاف دلی کی ایک مردہ مثال قائم کر گیا ہے جو آج بھی بعضوں کے نزدیک لائق توجہ وتقلید ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ جب وہ شطرنج کی بازی ہار گیا تو آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ چوبی بساط جیتنے والے کے سر پر دے ماری، جس سے اس گستاخ کی موت واقع ہو گئی۔ مورخین اس باب میں خاموش ہیں، مگر قیاس کہتا ہے کہ درباریوں نے یوں بات بنائی ہوگی، ''سرکار! یہ تو بہت ہی کم ظرف نکلا۔ جیت کی ذرا تاب نہ لا سکا۔ شادی مرگ ہو گیا‘‘۔یہی قصہ ایک دن نمک مرچ لگا کرہم نے مرزا کوسنایا۔ بگڑ گئے، کہنے لگے، ''آپ بڑافلسفہ چھانٹتے ہیں مگر یہ ایک فلسفی ہی کا قول ہے کہ کوئی قوم سیاسی عظمت کی حامل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس نے کسی نہ کسی عہد میں اپنے کھیل کا لوہا نہ منوایا ہو‘‘۔ہم نے چھیڑا، ''مگر قومیں پٹ پٹ کرہی ہیکڑ ہوتی ہیں‘‘۔قوموں کو جہاں کا تہاں چھوڑ کر ذاتیات پر اتر ائے، جس شخص نے عمر بھراپنے دامن صحت کو ہرقسم کی کسرت اور کھیل سے بچائے رکھا، وہ غریب کھیل کی اسپرٹ کو کیا جانے،میں جانتا ہوں، تم جیسے تھڑو لے محض ہار کے ڈر سے نہیں کھیلتے۔ ایسا ہی ہے تو پرسوں صبح بغدادی جمخانہ آجائو، پھر تمہیں دکھائیں کرکٹ کیا ہوتا ہے‘‘۔

حکایت سعدیؒ:روح کا روگ

حکایت سعدیؒ:روح کا روگ

ایک بادشاہ درویشوں کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔ ایک نڈر درویش نے اس سے کہا:''اے بادشاہ! تیرے پاس بے شک لشکر ہے۔ خزانہ ہے۔ اور تو ہم سے زیادہ اس دنیا میں عیش کرتا ہے اور خوش رہتا ہے۔ لیکن یاد رکھ، ہمارے پاس قناعت جیسی نعمت موجود ہے۔ بے شک ہم تجھ سے دنیاوی لحاظ سے کمتر ہیں لیکن روز محشر تم سے برتر ہوں گے۔ مرنے میں ہم سب برابر ہیں‘‘۔درویش کی اس بات سے بادشاہ بہت شرمندہ ہوا اور آئندہ کبھی کسی بھی درویش کو حقارت بھری نظروں سے نہ دیکھا۔حاصل کلام:روح کا روگ نفرت و حقارت ہوتا ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ خدا کی نظر میں ساری مخلوق ایک سی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کیوٹو پروٹوکول کا نفاذ2005ء میں آج کے روز ماحولیاتی تحفظ سے متعلق عالمی معاہدہ کیوٹو پروٹوکول باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا، جس کی اہم وجہ روس کی جانب سے اس کی توثیق تھی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد صنعتی ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا پابند بنانا تھا تاکہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکا جا سکے۔ کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت دیگر مضر گیسوں کے اخراج کیلئے مخصوص اہداف مقرر کیے گئے۔ انقلاب کیوبا اور فیدل کاسترو 16فروری 1959ء کو فیدل کاسترو انقلاب کیوبا کے نتیجے میں ملک کا صدر بنا۔ انہوں نے آتے ہی ملک میں بڑھتی قیمتوں اور کرائیوں میں کمی لانے کا فیصلہ کیا اور اراضیاں سرکاری تحویل میں لے کر کسانوں میں تقسیم کر دیں۔1962ء میں کاسترو نے ممکنہ امریکی جارحیت کیخلاف سوویت یونین کو ملک میں میزائل نصب کرنے کی اجازت دی۔2008ء میں اپنے منصب سے علیحدہ ہوئے ۔فرعون توتن خامون 16فروری1923ء میں مشہور برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے مصر کی وادیٔ ملوک میں واقع قدیم مصری فرعون توتن خامون کے مقبرے کے سب سے اہم حصے، یعنی تدفینی حجرے کی مہر کو کھولا۔ حجرے میں فرعون کا سونے سے بنا تابوت، قیمتی زیورات، مذہبی علامات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء موجود تھیں، جو قدیم مصری تہذیب، ان کے عقائد، فن تعمیر کو سمجھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوئیں۔ ترکی: ہوا بازی کی صنعت کا قیام1925ء میں آج کے دن ترکی میں ہوا بازی کی صنعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہر قسم کی ہوا بازی کے فروغ کیلئے مصطفی کمال اتاترک کی ہدایت پر ''ترک جمعیت برائے طیارہ سازی‘‘ قائم کی گئی۔ جسے 1935ء میں تبدیل کر کے ''ادارہ برائے ترک ہوا بازی‘‘ کا نام دیا گیا۔ انجینئر صلاح الدین رشید نے پہلی بار طیارے کے تمام پرزہ جات مقامی طور پر تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ امریکہ کا ٹوکیو پر حملہ 1945ء میں آج کے روز جنگ عظیم دوئم کے دوران امریکہ نے ٹوکیو پر فضائی حملہ کیا۔ اس جنگ کا باقاعدہ آغاز یکم ستمبر 1939ء کو ہوا، جب پولینڈ پر جرمنی حملہ آور ہوا اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اس جنگ میں 61ممالک نے حصہ لیا۔ دو شہروں پر ایٹمی حملہ کے بعد 14 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد 1945ء میں اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔ مصر میں بادشاہت کا قیام 16 فروری 1923 کو مصر کا پہلا آئین نافذ کیا گیا، جس نے بادشاہ فؤاد اول کی قیادت میں ایک آئینی بادشاہت کی بنیاد رکھی۔28 فروری 1922ء کو برطانیہ نے مصر کو آزاد مملکت تسلیم کرتے ہوئے آزاد کر دیا تھا۔مصر 1882ء سے برطانوی قبضے میں تھا، حالانکہ رسمی طور پر یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔مصر کو جزوی آزادی ملی تھی کیونکہ برطانیہ نے سوئز کینال، دفاع، اقلیتوں کے حقوق اور سوڈان پر کنٹرول برقرار رکھاتھا۔