آج تم یاد بے حساب آئے!نصیر ترابی جداگانہ اسلوب کے شاعر (2021-1945ء)
اسپیشل فیچر
٭...نصیر ترابی ادبی دنیا کی وہ شخصیت ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔آپ اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات اور لغت نویس تھے۔
٭...15 جون 1945ء کو بھارتی ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آ کر کراچی میں مقیم ہوا۔
٭...وہ بلند پایہ شخصیت نامور ذاکر اور خطیب علامہ رشید ترابی کے فرزند تھے۔
٭...ان کے گھر میں والد کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند کی تمام بڑی ادبی و سیاسی شخصیات کی آمد و رفت تھی۔ اس فضاء نے بھی ان کی تربیت اور شخصی پرداخت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
٭...60ء کی دہائی کے اوائل میں دور طالب علمی میں ہی انہوں نے شاعری کاآغاز کر دیا تھا۔
٭... 1968ء میں جامعہ کراچی سے تعلقات عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ایک انشورنس کمپنی میں افسر تعلقات عامہ کی ملازمت کی ۔
٭...ان کا واحدشعری مجموعہ ''عکسِ فریادی‘‘ 2000ء میںشائع ہوا۔
٭... 2017ء میں ان کے نعتیہ مجموعہ' 'لاریب‘‘ کی اشاعت ہوئی، جسے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ''علامہ اقبال ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
٭...لسانیات کے تناظر میں2 اہم کتابیں 2013ء میں ''شعریات‘‘ اور 2019ء میں ''لغت العوام‘‘ شائع ہوئیں۔
٭... میر انیس، بابا بلھے شاہ سمیت کئی بڑے تاریخی و ادبی مشاہیر پر مستند تحقیقی مقالے لکھے۔
٭... 10 جنوری 2021ء کو 75 سال کی عمر میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا۔
چند مقبول اشعار
درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا
آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا
٭٭٭
ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا
دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا
٭٭٭
اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے
تو کہاں ہے مجھے تنہا کر کے
تیرگی ٹوٹ پڑی ہے مجھ پر
میں پشیماں ہوں اجالا کر کے
٭٭٭
ہم رنگیِ موسم کے طلب گار نہ ہونا
سایہ بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا
٭٭٭
غزل
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھٹرنیوالے میں سب کچھ تھا، بیوفائی نہ تھی