سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


2026ء سمندری حیات کیلئے خطرناک قرار
دنیا بھر کے سمندروں میں پھیلی مرجانی چٹانیں، جو سمندری حیات کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں آج تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026ء وہ سال ثابت ہو سکتا ہے جب عالمی سطح پر سمندری چٹانوں کا نظام تیزی سے بکھرنے لگے گا۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سمندری پانی کی تیزابیت اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان نہ صرف سمندری حیات بلکہ کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار اور ساحلی تحفظ کیلئے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا بھر میں موجود سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران دنیا کی اندازاً 30 سے 50 فیصد سمندری چٹانیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا سمندری حیات کیلئے ایک ایسے ناقابل واپسی موڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سمندری ماحولیاتی نظام کی ماہر ڈاکٹر سمانتھا گیرارڈ (Dr Samantha Garrard)کا کہنا ہے کہ آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کا مستقبل بحرالکاہل میں گرم اور ٹھنڈے پانی کے ایک قدرتی چکر پر منحصر ہے، جسے ''ایل نینو سدرن اوسلیشن‘‘ ( El Niño-Southern Oscillation) کہا جاتا ہے۔ ہم حال ہی میں ایک انتہائی تباہ کن ایل نینو مرحلے سے گزر چکے ہیں، جس کے دوران گرم پانی نے دنیا کی 84 فیصد سمندری چٹانوں کو ایسی حد تک حرارت کے اثر میں مبتلا کر دیا جو کورل بلیچنگ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے، اس لیے ماہرین موسمیات کو خدشہ ہے کہ سمندری چٹانیں اگلے شدید اثر سے شاید دوبارہ سنبھل نہ سکیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کے مطابق یہ وہ سال ہو گا جب گرم پانی میں پائی جانے والی چٹانیں ایک ایسے موڑ پر پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کا مقدر طے ہو جائے گا، حتیٰ کہ سب سے زیادہ مضبوط اقسام بھی بحالی کے قابل نہیں رہیں گی۔
سمندری چٹانیں سمندر کی سطح کے صرف ایک فیصد حصے پر پھیلی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سمندری حیات کی تقریباً ایک چوتھائی اقسام کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم یہ حیرت انگیز قدرتی مساکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کیلئے غیرمعمولی طور پر حساس بھی ہیں۔ جب مرجانی چٹانوں کا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ان میں بلیچنگ (Bleaching) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ حرارت کے دباؤ کے باعث یہ اپنے اندر موجود رنگین الجی کو خارج کر دیتی ہیں، جس سے اس کا رنگ سفید ہو جاتا ہے۔ اگر بلند درجہ حرارت طویل عرصے تک برقرار رہے تو بڑے پیمانے پر اجتماعی بلیچنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، جن کے بعد یہ چٹانیں اکثر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتیں۔
گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی اخراج نے عالمی سطح پر سمندری درجہ حرارت کو ریکارڈ حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سمندری گرمی کی لہریں کہیں زیادہ شدید اور بار بار آنے لگی ہیں۔زیادہ اوسط درجہ حرارت ان چٹانوں کو ایل نینو سدرن اوسلیشن کے اثرات کیلئے بھی زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے کم از کم 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت کئی مہینوں تک برقرار رہتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں موسم غیرمعمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔
ماضی میں گرم ایل نینو سالوں کے بعد بحرالکاہل کے چکر کے دوران نسبتاً ٹھنڈے موسم کے سال آتے تھے، جنہیں لا نینا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیرارڈ وضاحت کرتی ہیں کہ اس وقفے کے دوران ان چٹانوں کو چند سال کا موقع ملتا تھا تاکہ وہ ''سانس لے سکیں‘‘ اور دباؤ کے اثرات سے دوبارہ بحال ہو سکیں۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے گرم مراحل کو زیادہ شدید اور زیادہ بار آنے والا بنا رہی ہے، جبکہ ایل نینو اور لا نینا کے درمیان عبوری ادوار مختصر اور زیادہ گرم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کا کہنا ہے: چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو متوقع ہے، اور یہ گزشتہ مرحلے کے فوراً بعد آئے گا، اس لیے بہت سی چٹانوں کو بحالی کیلئے کافی وقت نہیں مل سکے گا۔ یہ مرحلہ مرجانی چٹانوں کے وسیع پیمانے پر انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ 2026ء دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کیلئے ایک 'ٹِپنگ پوائنٹ‘ ثابت ہو سکتا ہے، یعنی وہ حد عبور ہو جائے گی جہاں ماحولیاتی نظام میں تبدیلی اچانک اور ناقابلِ واپسی ہو جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

ناسا کا اہم ترین خلائی مشن 6فروری کو روانہ ہو گاناسا نے53 سال بعد امریکی خلا بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف خلائی تحقیق کے نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ انسانی تاریخ میں چاند اور مستقبل کے بین السیاروی سفر کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق، یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی، جدید خلائی گاڑیوں اور انسانی صلاحیتوں کے امتزاج پر مبنی ہوگا تاکہ خلا باز بغیر کسی خطرے کے چاند کی سطح پر اتر سکیں اور سائنسی تحقیق کیلئے قیمتی ڈیٹا جمع کر سکیں۔ یہ تاریخی اقدام خلائی مقابلہ اور سائنس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔''آرٹیمس II‘‘ جو 1972ء کے بعد چاند کا پہلا انسانی مشن ہوگا، 6 فروری کو روانہ ہوگا۔ ناسا کے حکام کے مطابق ''آرٹیمس II‘‘ کیلئے باضابطہ آغاز کی ونڈو 31 جنوری سے 14 فروری تک کھلی رہے گی، اور متعدد متبادل تاریخیں بھی منتخب کی گئی ہیں۔ یہ مشن ناسا کے خلا باز ریڈ ویزمین(Reid Wiseman) ، وکٹر گلوور(Victor Glover)، کرسٹینا کوچ (Christina Koch) اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے خلا باز جرمی ہینسن (Jeremy Hansen) کو لے کر چاند کے گرد 10 دن کا سفر کرے گا اور زمین پر واپس آئے گا۔ ''آرٹیمس II مشن‘‘ چاند کی سطح پر لینڈ نہیں کرے گا۔ آرٹیمس پروگرام میں پہلا قمری لینڈنگ ''آرٹیمس III‘‘ میں شیڈول ہے، جو فی الحال 2027ء میں ہونے کا امکان ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ کسی بھی دن لانچ نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تعین زمین اور چاند کی پوزیشن، راکٹ کی کارکردگی اور فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے قریب موسم کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ ممکنہ متبادل لانچ تاریخوں میں 7، 8، 10 اور 11 فروری شامل ہیں۔ اگر فروری میں کسی وجہ سے لانچ ممکن نہ ہوا تو ناسا نے مارچ اور اپریل کے ابتدائی دنوں کو بھی متبادل کے طور پر منتخب کیا ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ 53 سال بعد انسانی عملے والا پہلا مشن ہوگا جو کم زمین مدار سے آگے جائے گا۔جیسے ہی 6 فروری آئے گا، خلا باز کیپ کینیورل سے اورین اسپیس کرافٹ میں روانہ ہوں گے، جو ناسا کے طاقتور اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر وہ زمین کے گرد چند چکر لگائیں گے تاکہ لائف سپورٹ آلات کی جانچ کی جا سکے، اور پھر چاند کی فلائی بائی کیلئے روانہ ہوں گے، یعنی قریب سے گزرنا لیکن چاند کی مدار میں نہ جانا اور نہ لینڈ کرنا۔ اسپیس کرافٹ چاند کی کشش ثقل کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی طرف واپس آئے گا، جسے 'فری ریٹرن ٹریجیکٹری‘ (free-return trajectory)کہا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو اضافی انجن کے بغیر محفوظ طور پر واپس آ سکتا ہے۔ مشن کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ راکٹ، اسپیس کرافٹ اور تمام نظام انسانی عملے کے ساتھ بخوبی کام کرتے ہیں، تاکہ اگلے سال ''آرٹیمس III‘‘ کے لینڈنگ مشن کی راہ ہموار ہو سکے۔''SLS راکٹ‘‘ اور اورین اسپیس کرافٹ کو ناسا کے ویہکل اسمبلی بلڈنگ سے لانچ پیڈ 39B تک لے جایا جائے گا۔ یہ سفر تقریباً چار میل طویل ہے اور راکٹ کو لے جانے کیلئے ایک عظیم کیریئر ٹرانسپورٹر استعمال کیا جائے گا، جو مکمل ہونے میں تقریباً 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ پیڈ پر پہنچنے کے بعد ٹیمیں بجلی اور ایندھن کی لائنیں جوڑیں گی اور حتمی راکٹ ٹیسٹنگ کریں گی، اس کے بعد خلا باز فلائٹ کیلئے واک تھرو شروع کریں گے۔جب ''آرٹیمس II‘‘ لانچ پیڈ پر پہنچ جائے گا، تو ناسا کا عملہ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ اور ''ٹینکنگ‘‘ کے طریقہ کار سے گزریں گے۔ اس دوران وہ SLS راکٹ میں7 لاکھ گیلن سے زیادہ انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن بھریں گے، جو راکٹ کو خلا میں پہنچانے کیلئے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ناسا یہاں تک کہ فرضی لانچ کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی کرے گا، ہولڈز اور ری اسٹارٹس کی مشق کرے گا اور پھر ایندھن کے ٹینکوں کو محفوظ طریقے سے خالی کرے گا جب تک کہ اصل لانچ کا وقت نہ آئے۔ یہ ریہرسل ناسا کے فیولنگ طریقہ کار کو جانچنے اور راکٹ کے ممکنہ مسائل، جیسے ٹینک یا والو میں لیک، کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ناسا کو ممکنہ طور پر متعدد ریہرسل کرنی پڑیں گی اور لانچ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ستمبر 2025 میں سابق ناسا ایڈمنسٹریٹر شان ڈیفی نے اعلان کیا تھاکہ '' آرٹیمس II‘‘ مشن کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، ''آرٹیمس III‘‘ کے خلائی مشن کے ذریعے امریکی خلا باز چاند پر لینڈ کریں گے اور وہاں طویل المدتی انسانی موجودگی قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاند پر دوبارہ مشنز سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں امریکی خلا بازوں کو مریخ پر اتارنے کی کوششوں میں مدد کرے گا۔

زیوس: اساطیری کردار

زیوس: اساطیری کردار

قدیم انسانی تاریخ میں کچھ تخلیقات ایسی ہیں جو محض پتھر، لکڑی یا دھات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، مذہبی اور تہذیبی عظمت کی علامت بن جاتی ہیں۔ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کا عظیم الشان مجسمہ بھی ایسی ہی ایک لازوال تخلیق تھا جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجسمہ نہ صرف فن مجسمہ سازی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا بلکہ یونانی مذہب، عقیدت اور ثقافت کی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔یہ مجسمہ یونانیوں کی مذہبی عقیدت کا مرکز تھا بلکہ اس دور کی انجینئرنگ اور سنگ تراشی کا شاہکار بھی تھا۔ زیوس کا مجسمہ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کے مندر میں نصب کیا گیا تھا۔ اولمپیا وہ جگہ تھی جہاں ہر چار سال بعد مشہور اولمپک کھیل منعقد ہوتے تھے۔ یہ کھیل زیوس دیوتا کے اعزاز میں منعقد کیے جاتے تھے۔5 ویں صدی قبل مسیح تقریباً 435 قبل مسیح میں جب اولمپیا میں زیوس کا مندر تعمیر ہو چکا تو یونانیوں نے محسوس کیا کہ مندر کے اندر دیوتا کی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے ایسا مجسمہ ہونا چاہیے جو اپنی ساخت اور ہیبت میں بے مثال ہو۔ اس عظیم کام کیلئے اس وقت کے مشہور ترین سنگ تراش فیڈیاس کا انتخاب کیا گیا۔فیڈیاس وہ فنکار تھا جس نے ایتھنز میں ایتھینا دیوی کا مجسمہ بھی تیار کیا تھا۔ اسے سونے اور ہاتھی دانت کے کام کا ماہر مانا جاتا تھا۔ اس نے اس مجسمے کو تیار کرنے کیلئے مندر کے قریب ہی ورکشاپ قائم کی، جس کے آثار آج بھی ماہرین آثارقدیمہ کو ملتے ہیں۔زیوس کا یہ مجسمہ تقریباً 40 فٹ یعنی 12 میٹر بلند تھا۔ قدیم مورخین لکھتے ہیں کہ اگر زیوس اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوتا تو وہ مندر کی چھت پھاڑ کر باہر نکل جاتا۔ یہ مجسمہ لکڑی کے ڈھانچے پر بنایا گیا تھا جس پر جسم کیلئے ہاتھی دانت کی تہیں چڑھائی گئی تھیں اور کپڑوں اور زیورات کیلئے خالص سونے کی چادریں استعمال کی گئی تھیں۔ زیوس کو عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا جو آبنوس، سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔ زیوس کے دائیں ہاتھ میں نائیکی فتح کی دیوی کا چھوٹا مجسمہ تھا، جبکہ بائیں ہاتھ میں شاہی عصا تھا جس کے اوپر ایک عقاب بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر زیتون کی شاخوں کا تاج تھا اور اس کے سنہری لباس پر جانوروں اور پھولوں کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔یونانیوں کیلئے یہ مجسمہ زمین پر دیوتا کی تجلی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فیڈیاس نے اپنا کام مکمل کیا تو اس نے زیوس سے دعا کی کہ وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کرے۔ روایات کے مطابق، اسی لمحے آسمان سے بجلی مندر کے فرش پر گری جسے خدا کی رضا مندی کی علامت سمجھا گیا۔زائرین دور دراز سے اس مجسمے کی زیارت کیلئے آتے تھے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر لوگ سکون محسوس کرتے تھے۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ یونان کی قسمت بدلی۔ رومیوں کے غلبے اور عیسائیت کے پھیلاؤ کے بعد قدیم دیوتاؤں کی عبادت ختم ہونے لگی۔ پہلی صدی عیسوی میں رومی شہنشاہ کالیگولا نے اسے روم منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن کہا جاتا ہے کہ جب اس کے کارندے مجسمے کے قریب پہنچے تو مجسمہ زور سے ہنسا جس سے دار توبہ ہو کر وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب اولمپک کھیلوں پر پابندی لگی، تو ایک امیر تاجر اسے قسطنطنیہ موجودہ استنبول لے گیا۔ بدقسمتی سے، 475 عیسوی میں قسطنطنیہ کے محل میں لگنے والی آگ نے اس عظیم شاہکار کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ آج اس مجسمے کا کوئی حصہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ زیوس کا مجسمہ اب دنیا میں موجود نہیں، لیکن اس کا اثر فن تعمیر اور آرٹ پر آج بھی قائم ہے۔ اولمپیا میں ہونے والی کھدائیوں سے وہ ورکشاپ دریافت ہوئی جہاں فیڈیاس نے یہ مجسمہ بنایا تھا۔ وہاں سے کچھ اوزار اور سانچے بھی ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مجسمہ کتنا عظیم رہا ہوگا۔زیوس دیوتا کا مجسمہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی انتہا تھا۔ اگرچہ وقت کی بے رحم موجوں نے اسے مٹا دیا لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ آج بھی عظیم عجوبے کے طور پر زندہ ہے۔آج زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ ہمارے سامنے موجود نہیں، مگر اس کا ذکر کتابوں، تاریخی حوالوں، قدیم سکّوں اور مصوری میں محفوظ ہے۔ ماہرین آثارقدیمہ نے اولمپیا میں فیڈیاس کی ورکشاپ کے آثار دریافت کیے ہیں، جن سے اس عظیم تخلیق کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ جدید دور میں اس مجسمے کی کئی تصوری تعمیرات (Reconstruction) بھی کی گئی ہیں تاکہ لوگ اس کی ہیبت اور حسن کا اندازہ لگا سکیں۔زیوس کا مجسمہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان جب اپنے عقیدے، فن اور محنت کو یکجا کر دے تو وہ ایسی تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں بعد بھی یاد رکھی جائے۔ اگرچہ یہ مجسمہ مادی طور پر باقی نہیں رہا، مگر تاریخ کے صفحات میں اس کی عظمت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یوں زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ صرف ایک گمشدہ عجوبہ نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، عقیدت اور تہذیبی ورثے کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین، محققین اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

چلی کا تباہ کن زلزلہ24جنوری1930ء کوجنوبی وسطی چلی میں تباہ کن زلزلہ آیا ۔اس زلزلے کی شدت 8.3ریکارڈ کی گئی۔اس تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار سے زائد تھی۔اسے چلی کا مہلک ترین زلزلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔جس میں تقریباً3500گھر زمین بوس ہو گئے۔باقی بچ جانے والا شہر آفٹر شاکس سے تباہ ہو گیا۔چلی کا کتھیڈرل شہر کی اہم ترین عمارت سمجھی جاتی تھی وہ بھی اس زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہو گئی۔اقوام متحدہ اٹامک انرجی کمیشن کا قیام''اقوام متحدہ اٹامک انرجی کمیشن‘‘ (UNAEC) کی بنیاد 24 جنوری 1946ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی قرار داد کے ذریعے رکھی گئی تاکہ ایٹمی توانائی کی دریافت سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹا جا سکے۔اس کمیشن کے قیام کا مقصد اٹامک انرجی کے متعلق مخصوص تجاویز پیش کرنا، تمام اقوام کے درمیان پر امن مقاصد کیلئے بنیادی سائنسی معلومات کے تبادلے کو بڑھانا ، جوہری توانائی پرکنٹرول اور اس کے پر امن استعمال کو یقینی بناناتھا۔جاپان کے پہلے قمری مشن کی روانگی24جنوری 1990ء کوجاپان نے اپنا پہلا قمری مشن ''ہتن‘‘ (Hiten) لانچ کیا۔ یہ 1976ء میں سوویت یونین کے ''لونا 24‘‘ کے بعد پہلا روبوٹک قمری مشن تھاجبکہ یہ سوویت یونین یا امریکا کے علاوہ کسی اور ملک کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا قمری مشن بھی تھا۔ یہ مشن بنیادی طور پر زمین اور چاند کے درمیان سفر، کشش ثقل اور مداروں کے مطالعے کیلئے بھیجا گیاتھا۔ ہتن نے چاند کے گرد کامیاب پروازیں کیں اور ایک چھوٹا آلہ چاند کی سطح پر اتارا ۔ اتوچا قتل عاماتوچا کا قتل عام24جنوری1977ء کو میڈرڈ کے وسط میں دائیں بازو کے انتہا پسند وں کا ایک حملہ تھا۔ جس میں کمیونسٹ پارٹی آف سپین اور مزدوروں کی فیڈریشن کے پانچ مزدور کارکنوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ عمل ڈکٹیٹر فرانسسکو فرانکو کی موت کے بعد ہوا۔24 جنوری کی شام کو تین افراد سینٹرل میڈرڈ میں اتوچا اسٹریٹ پر کارکنوں کیلئے قانونی معاونت کے دفتر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود تمام افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ میکنٹوش کمپیوٹر کی فروخت کا آغاز1984ء میں آج کے روز ایپل کمپیوٹر نے امریکا میں میکنٹوش (Macintosh) کمپیوٹر کو فروخت کیلئے پیش کیا۔یہ پہلا کمپیوٹر تھا جس میں گرافیکل یوزر انٹرفیس اور ماؤس کا استعمال عام صارف کیلئے متعارف کرایا گیا۔ اس سے قبل کمپیوٹر صرف ماہرین تک محدود تھے۔ اس کمپیوٹر نے ڈیزائن، پبلشنگ اور تخلیقی شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔ میکنٹوش کی آمد نے مستقبل کے کمپیوٹرز، آپریٹنگ سسٹمز اور صارف دوست ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھ دی۔

طویل ترین سائنسی تجربہ

طویل ترین سائنسی تجربہ

تقریباََایک صدی سے جاری پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ کیا ہے؟سائنس کی دنیا میں اکثر تجربات چند دنوں، ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند برسوں میں مکمل ہو جاتے ہیں مگر بعض تجربات ایسے بھی ہیں جو وقت کے ساتھ خود تاریخ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حیران کن اور صبر آزما تجربہ دنیا میں تقریباً ایک صدی سے جاری ہے، جسے ''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی مادے کی نوعیت اور وقت کی رفتار پر سوالات اٹھاتا ہے۔یہ تجربہ 1927ء میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں شروع کیا گیا۔ اس کے بانی طبیعیات دان تھامس پارنیل (Thomas Parnel) تھے جن کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا تھا کہ بعض مادے جو بظاہر ٹھوس دکھائی دیتے ہیں درحقیقت مائع بھی ہو سکتے ہیں،بس ان کے بہنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔پچ کیا ہے؟پچ ایک سیاہ، چپچپا مادہ ہے جو تارکول یا اسفالٹ سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ عام درجہ حرارت پر یہ مکمل طور پر سخت دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ اگر اس پر ہتھوڑا مارا جائے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ لیکن سائنسی اعتبار سے یہ ایک انتہائی زیادہ گاڑھا مائع ہے۔ ماہرین کے مطابق پچ پانی کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، اسی لیے اس کی حرکت انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتی۔تجربے کا آغازتھامس پارنیل نے پچ کو گرم کر کے ایک شیشے کے قیف میں ڈالا اور اسے تین برس تک چھوڑ دیا تاکہ اس میں موجود ہوا کے بلبلے نکل جائیں۔ 1930ء میں قیف کے نچلے حصے کو کھولا گیا اور یوں تجربہ باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ اس کے بعد بس انتظار تھا،انتہائی طویل انتظار۔پچ کا پہلا قطرہ ٹپکنے میں آٹھ برس لگے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ پچ واقعی ایک مائع ہے، اگرچہ اس کی رفتار ناقابلِ تصور حد تک سست ہے۔ تب سے لے کر آج تک تقریباً ایک صدی میں صرف نو قطرے ٹپکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سائنسدان یا طالب علم اپنی آنکھوں سے پچ کو ٹپکتے نہیں دیکھ سکا۔ ہر بار ایسا ہوا کہ یا تو کوئی موجود نہیں تھا یا کیمرہ بند تھا یا لمحہ آنکھ جھپکنے سے بھی تیز گزر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تجربہ سائنسی دنیا میں ایک طرح کی علامت بن چکا ہے،صبر، تسلسل اور وقت کی طاقت کی علامت۔جدید دور میں نگرانیوقت کے ساتھ اس تجربے کی ذمہ داری مختلف سائنسدانوں کے پاس رہی۔ 2014ء میں نویں قطرے کے گرنے کے بعد اس تجربے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ اب اس پر ویب کیمروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ اگلا قطرہ گرتے ہوئے ریکارڈ کیا جا سکے۔ اس کے باوجود اب تک یہ تاریخی لمحہ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہی رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دسواں قطرہ اسی دہائی میں کسی وقت گر سکتا ہے مگر اس کی درست تاریخ بتانا تقریباً ناممکن ہے۔سائنسی اہمیتیہ تجربہ محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ مادے کی حالت کے بارے میں ہماری روایتی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ عام طور پر ہم مادے کو ٹھوس، مائع یا گیس میں تقسیم کرتے ہیں مگر پچ جیسے مادے اس تقسیم کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی مادے کی حالت کا تعین صرف اس کے ظاہر سے نہیں کیا جا سکتا۔وقت اور انسان''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ انسانی زندگی کے مقابلے میں وقت کے پیمانے کو بھی واضح کرتا ہے۔ جو تجربہ ایک پروفیسر نے شروع کیا وہ نہ خود اس کے انجام کو دیکھ سکا اور نہ ہی اس کے بعد آنے والی کئی نسلیں۔ یہ تجربہ آج بھی جاری ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ سو برس تک بھی جاری رہے۔یہ تجربہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ سائنس میں ہر کامیابی فوری نہیں ہوتی۔ بعض سوالات کے جواب دہائیوں یا صدیوں مانگتے ہیں۔ آج کے تیز رفتار دور میں جہاں ہر چیز فوری چاہیے پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ ہمیں صبر، تسلسل اور طویل مدتی سوچ کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچ کے یہ آہستہ آہستہ ٹپکتے قطرے صرف ایک مادے کی حرکت نہیں بلکہ وقت کے خاموش بہاؤ کی علامت ہیں۔ایسا بہاؤ جو ہمیں نظر تو نہیں آتامگر مسلسل جاری رہتا ہے۔

جھیلوں کی سرزمین:سانگھڑ تاریخ اور ثقافت کا امتزاج

جھیلوں کی سرزمین:سانگھڑ تاریخ اور ثقافت کا امتزاج

جھیلوں کی سرزمین کہلانے والا ضلع سانگھڑ نہ صرف قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے بلکہ تاریخی ورثے کا بھی خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سانگھڑ کی سب سے دلکش پہچان چوٹیاری ڈیم ہے جو محض ایک جھیل نہیں بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی بن چکا ہے۔ یہاں صوبائی محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے ریسٹ ہاؤس اور موٹر بوٹ کی سہولت دی گئی ہے جو سیاحوں کو پانی کے سفر کے دوران حیرت انگیز مناظر دکھاتی ہے۔سانگھڑ کی مشہور سوغات مچھلی ہے جو مختلف انداز سے پکائی جاتی ہے۔ چوٹیاری ڈیم کے پانی کے کنارے بیٹھ کر مچھلی کی لذت اور جھیل کے حسین مناظر کا لطف ایک الگ ہی تجربہ ہیں۔جزیرے اور صحرائی خوبصورتیچوٹیاری ڈیم دراصل 120 جھیلوں کا مجموعہ ہے جو سانگھڑ، نوابشاہ اور خیرپور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ کبھی مکھی جنگل کہلاتا تھا، جہاں کا شہد خاص شہرت رکھتا تھا۔ ڈیم کی تعمیر کے بعد کئی علاقے زیرِ آب آگئے مگر کچھ بلند ریتلے ٹیلے جزیرے بن گئے جو آج سانگھڑ کی خوبصورتی میں ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔اسی ڈیم کے ایک جزیرے ‘ بقار جھیل کے بلند ٹیلے پر تقریباً ایک صدی پرانی حویلی موجود ہے جو جیسلمیر (بھارت) کے جونیجو خاندان کی ملکیت رہی۔ تین منزلہ یہ عمارت فنِ تعمیر کا شاہکار ہے جس کے داخلی حصے میں خوبصورت راہداری اور دالان واقع ہیں۔ اگرچہ کھڑکیاں، دروازے، الماریاں اور چھتیں وقت کے ساتھ اُتر گئیں مگر دیواروں کا ڈھانچہ آج بھی اپنی شان دکھاتا ہے۔ موٹر بوٹ کے ذریعے سیاح صرف تیس منٹ میں جزیرے تک پہنچ سکتے ہیں اور راستے میں صحرائی ٹیلوں اور پانی کے حسین مناظر سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔کلاچ اور بوتار جھیلیںچوٹیاری ڈیم کے اچھڑے تھر میں واقع کلاچ جھیل مگرمچھوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ روایت کے مطابق حضرت شاہ مردان شاہ جب یہاں نہانے آتے تو مگرمچھ اُن کے اردگرد جمع ہو جاتے اور وہ ان پر سواری بھی کیا کرتے تھے۔ اسی علاقے میں بوتار جھیل ہے جو میٹھے پانی کا ذخیرہ ہے اور کنول کے پھولوں سے سجی ہوئی یہ جھیل قدرتی ماحول میں ایک جنت کی مانند نظر آتی ہے۔بقارجھیل سے نارا کینال تک کا پانی جب بل کھا کر سفر کرتا ہے تو اژدہے کی طرح کا منظر پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کے لیے انتہائی دلکش اور یادگار تجربہ ہے۔تاریخی مقامات اور ورثہسانگھڑ میں تاریخی ورثے کا بھی ایک وسیع سلسلہ موجود ہے۔ میاں نور محمد کلہوڑو کی زوجہ مائی جاماں نے سرائیں اور مساجد بنوائیں جو آج تزئین و آرائش کے بعد محفوظ ہیں۔ گوٹھ سرنواری میں واقع مسجدِ تجل تقریباً تین سو سال پرانی ہے جس کے گنبد زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اسی مسجد کے احاطے میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی عمر کا آخری حصہ گزارا اور قریب واقع تکیے پر وہ اشعار تخلیق ہوئے، جو آج بھی راگ راہن کی محفلوں میں پڑھے جاتے ہیں۔سانگھڑ شہر کے حُر مجاہد قبرستان میں مختلف دور کے مقبرے موجود ہیں جو وقت کے ساتھ مخدوش ہو رہے ہیں۔ تلہ شاہ خراسانی قبرستان سپہ سالار کی یادگار کے طور پر اہمیت رکھتا ہے جہاں زائرین کی آمد و رفت سے میلے کا سماں رہتا ہے۔ اسی قبرستان میں مری بلوچ کے بڑے مقابر بھی موجود ہیں جو کلہوڑو دور میں عسکری ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ ان مقبروں کی تعداد کبھی تیس تھی مگر اب صرف نو باقی ہیں اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے انہیں محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔سانگھڑ قدرت، تاریخ اور ثقافت کا امتزاجچوٹیاری ڈیم کے جھیلوں سے لے کر صحرائی جزائر، قدیم حویلیاں، مساجد اور مقبرے سانگھڑ کو ایک منفرد پہچان دیتے ہیں۔ یہ ضلع نہ صرف سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے بلکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کا بھی ایک زندہ گواہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت رکھتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

لوئی شانزدہم کی سزا21 جنوری 1793 کو فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم کو عوامی عدالت کے فیصلے کے بعد پیرس میں گیلوٹین کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا سب سے فیصلہ کن اور علامتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔لوئی شانزدہم پر الزام تھا کہ اس نے عوام کے مفادات کے خلاف کام کیا، غیر ملکی طاقتوں سے سازباز کی اور انقلاب کو کچلنے کی کوشش کی۔ انقلاب کے بعد بننے والی نیشنل کنونشن نے اسے غدار قرار دے کر سزائے موت سنائی۔اس کی سزا نے یورپ بھر کے شاہی خاندانوں میں خوف کی لہر دوڑا دی اور فرانس کے خلاف جنگوں کا آغاز ہوا۔ لینن کی وفات 21 جنوری 1924ء کو ولادیمیر الیچ لینن جو سوویت یونین کا بانی اور بالشویک انقلاب کا قائد تھا، انتقال کر گیا۔لینن نے 1917 ء کے روسی انقلاب کی قیادت کی اور زار شاہی نظام کا خاتمہ کر کے اشتراکی ریاست قائم کی۔ اس کی قیادت میں مزدوروں، کسانوں اور فوجیوں کو اقتدار میں شریک کیا گیا جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک نیا سیاسی و معاشی ماڈل پیش کیا گیا۔لینن کی موت کے بعد سوویت قیادت میں طاقت کی کشمکش شروع ہوئی جس کا نتیجہ آخرکار جوزف سٹالن کے اقتدار میں آنے کی صورت میں نکلا۔ لینن کو دنیا بھر میں انقلابی سیاست، اشتراکیت اور سامراج مخالف تحریکوں کی ایک بڑی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ پہلی ایٹمی آبدوز21 جنوری 1954ء کو امریکہ نے دنیا کی پہلی ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوز USS Nautilus کو سمندر میں اتارا۔ اس سے قبل آبدوزیں ڈیزل یا بیٹری پر انحصار کرتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بار بار سطحِ سمندر پر آنا پڑتا تھا لیکن ایٹمی توانائی نے آبدوزوں کو مہینوں تک زیرِ آب رہنے کے قابل بنا دیا۔ USS Nautilus نے سرد جنگ کے دوران امریکہ کو سٹریٹجک برتری فراہم کی۔1958ء میں اس آبدوز نے شمالی قطب کے نیچے سے گزر کر ایک اور تاریخ رقم کی۔21 جنوری 1954ء کو شروع ہونے والا یہ سفر جدید بحری جنگ، ایٹمی توازن اور عالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت بن گیا۔ویتنام محاصرہ21 جنوری 1968ء کو ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم اور خونریز مرحلہ شروع ہوا جسے خے سان محاصرہ کہا جاتا ہے۔ شمالی ویتنامی افواج نے جنوبی ویتنام میں واقع امریکی فوجی اڈے کا محاصرہ کر لیا۔یہ محاصرہ تقریباً 77 دن جاری رہا اور اسے ویتنام جنگ کی سب سے شدید جھڑپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ یہ محاصرہ 1954ء کی فرانسیسی شکست جیسا ثابت ہو سکتا ہے اس لیے اس نے بے پناہ فضائی بمباری اور فوجی وسائل استعمال کیے۔اگرچہ امریکی افواج نے آخرکار اڈا برقرار رکھا لیکن بھاری جانی و مالی نقصان نے امریکہ کے اندر جنگ کے خلاف عوامی رائے کو مزید مضبوط کر دیا۔کونکورڈ کی پرواز21 جنوری 1976ء کو دنیا کے پہلے سپرسونک مسافر طیارے کونکورڈ نے اپنی باقاعدہ پروازوں کا آغاز کیا۔ برطانیہ اور فرانس کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ طیارہ لندن سے بحرین اور پیرس سے ریو ڈی جنیرو روانہ ہوا۔کونکورڈ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا تھا جس سے بین الاقوامی سفر کے اوقات آدھے رہ گئے۔ یہ طیارہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور انسانی جدت کی شاندار مثال تھا۔ 2003ء میں اس کی سروس ختم ہو گئی مگر اس کی تاریخی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔