آج کا دن
اسپیشل فیچر
لوئی شانزدہم کی سزا
21 جنوری 1793 کو فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم کو عوامی عدالت کے فیصلے کے بعد پیرس میں گیلوٹین کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا سب سے فیصلہ کن اور علامتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔لوئی شانزدہم پر الزام تھا کہ اس نے عوام کے مفادات کے خلاف کام کیا، غیر ملکی طاقتوں سے سازباز کی اور انقلاب کو کچلنے کی کوشش کی۔ انقلاب کے بعد بننے والی نیشنل کنونشن نے اسے غدار قرار دے کر سزائے موت سنائی۔اس کی سزا نے یورپ بھر کے شاہی خاندانوں میں خوف کی لہر دوڑا دی اور فرانس کے خلاف جنگوں کا آغاز ہوا۔
لینن کی وفات
21 جنوری 1924ء کو ولادیمیر الیچ لینن جو سوویت یونین کا بانی اور بالشویک انقلاب کا قائد تھا، انتقال کر گیا۔لینن نے 1917 ء کے روسی انقلاب کی قیادت کی اور زار شاہی نظام کا خاتمہ کر کے اشتراکی ریاست قائم کی۔ اس کی قیادت میں مزدوروں، کسانوں اور فوجیوں کو اقتدار میں شریک کیا گیا جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک نیا سیاسی و معاشی ماڈل پیش کیا گیا۔لینن کی موت کے بعد سوویت قیادت میں طاقت کی کشمکش شروع ہوئی جس کا نتیجہ آخرکار جوزف سٹالن کے اقتدار میں آنے کی صورت میں نکلا۔ لینن کو دنیا بھر میں انقلابی سیاست، اشتراکیت اور سامراج مخالف تحریکوں کی ایک بڑی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
پہلی ایٹمی آبدوز
21 جنوری 1954ء کو امریکہ نے دنیا کی پہلی ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوز USS Nautilus کو سمندر میں اتارا۔ اس سے قبل آبدوزیں ڈیزل یا بیٹری پر انحصار کرتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں بار بار سطحِ سمندر پر آنا پڑتا تھا لیکن ایٹمی توانائی نے آبدوزوں کو مہینوں تک زیرِ آب رہنے کے قابل بنا دیا۔ USS Nautilus نے سرد جنگ کے دوران امریکہ کو سٹریٹجک برتری فراہم کی۔1958ء میں اس آبدوز نے شمالی قطب کے نیچے سے گزر کر ایک اور تاریخ رقم کی۔21 جنوری 1954ء کو شروع ہونے والا یہ سفر جدید بحری جنگ، ایٹمی توازن اور عالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت بن گیا۔
ویتنام محاصرہ
21 جنوری 1968ء کو ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم اور خونریز مرحلہ شروع ہوا جسے خے سان محاصرہ کہا جاتا ہے۔ شمالی ویتنامی افواج نے جنوبی ویتنام میں واقع امریکی فوجی اڈے کا محاصرہ کر لیا۔یہ محاصرہ تقریباً 77 دن جاری رہا اور اسے ویتنام جنگ کی سب سے شدید جھڑپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ یہ محاصرہ 1954ء کی فرانسیسی شکست جیسا ثابت ہو سکتا ہے اس لیے اس نے بے پناہ فضائی بمباری اور فوجی وسائل استعمال کیے۔اگرچہ امریکی افواج نے آخرکار اڈا برقرار رکھا لیکن بھاری جانی و مالی نقصان نے امریکہ کے اندر جنگ کے خلاف عوامی رائے کو مزید مضبوط کر دیا۔
کونکورڈ کی پرواز
21 جنوری 1976ء کو دنیا کے پہلے سپرسونک مسافر طیارے کونکورڈ نے اپنی باقاعدہ پروازوں کا آغاز کیا۔ برطانیہ اور فرانس کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ طیارہ لندن سے بحرین اور پیرس سے ریو ڈی جنیرو روانہ ہوا۔کونکورڈ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا تھا جس سے بین الاقوامی سفر کے اوقات آدھے رہ گئے۔ یہ طیارہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور انسانی جدت کی شاندار مثال تھا۔ 2003ء میں اس کی سروس ختم ہو گئی مگر اس کی تاریخی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔