جھیلوں کی سرزمین:سانگھڑ تاریخ اور ثقافت کا امتزاج
اسپیشل فیچر
جھیلوں کی سرزمین کہلانے والا ضلع سانگھڑ نہ صرف قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے بلکہ تاریخی ورثے کا بھی خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سانگھڑ کی سب سے دلکش پہچان چوٹیاری ڈیم ہے جو محض ایک جھیل نہیں بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی بن چکا ہے۔ یہاں صوبائی محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے ریسٹ ہاؤس اور موٹر بوٹ کی سہولت دی گئی ہے جو سیاحوں کو پانی کے سفر کے دوران حیرت انگیز مناظر دکھاتی ہے۔سانگھڑ کی مشہور سوغات مچھلی ہے جو مختلف انداز سے پکائی جاتی ہے۔ چوٹیاری ڈیم کے پانی کے کنارے بیٹھ کر مچھلی کی لذت اور جھیل کے حسین مناظر کا لطف ایک الگ ہی تجربہ ہیں۔
جزیرے اور صحرائی خوبصورتی
چوٹیاری ڈیم دراصل 120 جھیلوں کا مجموعہ ہے جو سانگھڑ، نوابشاہ اور خیرپور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ کبھی مکھی جنگل کہلاتا تھا، جہاں کا شہد خاص شہرت رکھتا تھا۔ ڈیم کی تعمیر کے بعد کئی علاقے زیرِ آب آگئے مگر کچھ بلند ریتلے ٹیلے جزیرے بن گئے جو آج سانگھڑ کی خوبصورتی میں ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔اسی ڈیم کے ایک جزیرے ‘ بقار جھیل کے بلند ٹیلے پر تقریباً ایک صدی پرانی حویلی موجود ہے جو جیسلمیر (بھارت) کے جونیجو خاندان کی ملکیت رہی۔ تین منزلہ یہ عمارت فنِ تعمیر کا شاہکار ہے جس کے داخلی حصے میں خوبصورت راہداری اور دالان واقع ہیں۔ اگرچہ کھڑکیاں، دروازے، الماریاں اور چھتیں وقت کے ساتھ اُتر گئیں مگر دیواروں کا ڈھانچہ آج بھی اپنی شان دکھاتا ہے۔ موٹر بوٹ کے ذریعے سیاح صرف تیس منٹ میں جزیرے تک پہنچ سکتے ہیں اور راستے میں صحرائی ٹیلوں اور پانی کے حسین مناظر سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔
کلاچ اور بوتار جھیلیں
چوٹیاری ڈیم کے اچھڑے تھر میں واقع کلاچ جھیل مگرمچھوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ روایت کے مطابق حضرت شاہ مردان شاہ جب یہاں نہانے آتے تو مگرمچھ اُن کے اردگرد جمع ہو جاتے اور وہ ان پر سواری بھی کیا کرتے تھے۔ اسی علاقے میں بوتار جھیل ہے جو میٹھے پانی کا ذخیرہ ہے اور کنول کے پھولوں سے سجی ہوئی یہ جھیل قدرتی ماحول میں ایک جنت کی مانند نظر آتی ہے۔بقارجھیل سے نارا کینال تک کا پانی جب بل کھا کر سفر کرتا ہے تو اژدہے کی طرح کا منظر پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کے لیے انتہائی دلکش اور یادگار تجربہ ہے۔
تاریخی مقامات اور ورثہ
سانگھڑ میں تاریخی ورثے کا بھی ایک وسیع سلسلہ موجود ہے۔ میاں نور محمد کلہوڑو کی زوجہ مائی جاماں نے سرائیں اور مساجد بنوائیں جو آج تزئین و آرائش کے بعد محفوظ ہیں۔ گوٹھ سرنواری میں واقع مسجدِ تجل تقریباً تین سو سال پرانی ہے جس کے گنبد زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اسی مسجد کے احاطے میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی عمر کا آخری حصہ گزارا اور قریب واقع تکیے پر وہ اشعار تخلیق ہوئے، جو آج بھی راگ راہن کی محفلوں میں پڑھے جاتے ہیں۔سانگھڑ شہر کے حُر مجاہد قبرستان میں مختلف دور کے مقبرے موجود ہیں جو وقت کے ساتھ مخدوش ہو رہے ہیں۔ تلہ شاہ خراسانی قبرستان سپہ سالار کی یادگار کے طور پر اہمیت رکھتا ہے جہاں زائرین کی آمد و رفت سے میلے کا سماں رہتا ہے۔ اسی قبرستان میں مری بلوچ کے بڑے مقابر بھی موجود ہیں جو کلہوڑو دور میں عسکری ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ ان مقبروں کی تعداد کبھی تیس تھی مگر اب صرف نو باقی ہیں اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے انہیں محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
سانگھڑ قدرت، تاریخ اور ثقافت کا امتزاج
چوٹیاری ڈیم کے جھیلوں سے لے کر صحرائی جزائر، قدیم حویلیاں، مساجد اور مقبرے سانگھڑ کو ایک منفرد پہچان دیتے ہیں۔ یہ ضلع نہ صرف سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے بلکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کا بھی ایک زندہ گواہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت رکھتا ہے۔