طویل ترین سائنسی تجربہ
اسپیشل فیچر
تقریباََایک صدی سے جاری پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ کیا ہے؟
سائنس کی دنیا میں اکثر تجربات چند دنوں، ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند برسوں میں مکمل ہو جاتے ہیں مگر بعض تجربات ایسے بھی ہیں جو وقت کے ساتھ خود تاریخ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حیران کن اور صبر آزما تجربہ دنیا میں تقریباً ایک صدی سے جاری ہے، جسے ''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی مادے کی نوعیت اور وقت کی رفتار پر سوالات اٹھاتا ہے۔یہ تجربہ 1927ء میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں شروع کیا گیا۔ اس کے بانی طبیعیات دان تھامس پارنیل (Thomas Parnel) تھے جن کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا تھا کہ بعض مادے جو بظاہر ٹھوس دکھائی دیتے ہیں درحقیقت مائع بھی ہو سکتے ہیں،بس ان کے بہنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔
پچ کیا ہے؟
پچ ایک سیاہ، چپچپا مادہ ہے جو تارکول یا اسفالٹ سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ عام درجہ حرارت پر یہ مکمل طور پر سخت دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ اگر اس پر ہتھوڑا مارا جائے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ لیکن سائنسی اعتبار سے یہ ایک انتہائی زیادہ گاڑھا مائع ہے۔ ماہرین کے مطابق پچ پانی کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، اسی لیے اس کی حرکت انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتی۔
تجربے کا آغاز
تھامس پارنیل نے پچ کو گرم کر کے ایک شیشے کے قیف میں ڈالا اور اسے تین برس تک چھوڑ دیا تاکہ اس میں موجود ہوا کے بلبلے نکل جائیں۔ 1930ء میں قیف کے نچلے حصے کو کھولا گیا اور یوں تجربہ باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ اس کے بعد بس انتظار تھا،انتہائی طویل انتظار۔پچ کا پہلا قطرہ ٹپکنے میں آٹھ برس لگے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ پچ واقعی ایک مائع ہے، اگرچہ اس کی رفتار ناقابلِ تصور حد تک سست ہے۔ تب سے لے کر آج تک تقریباً ایک صدی میں صرف نو قطرے ٹپکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سائنسدان یا طالب علم اپنی آنکھوں سے پچ کو ٹپکتے نہیں دیکھ سکا۔ ہر بار ایسا ہوا کہ یا تو کوئی موجود نہیں تھا یا کیمرہ بند تھا یا لمحہ آنکھ جھپکنے سے بھی تیز گزر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تجربہ سائنسی دنیا میں ایک طرح کی علامت بن چکا ہے،صبر، تسلسل اور وقت کی طاقت کی علامت۔
جدید دور میں نگرانی
وقت کے ساتھ اس تجربے کی ذمہ داری مختلف سائنسدانوں کے پاس رہی۔ 2014ء میں نویں قطرے کے گرنے کے بعد اس تجربے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ اب اس پر ویب کیمروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ اگلا قطرہ گرتے ہوئے ریکارڈ کیا جا سکے۔ اس کے باوجود اب تک یہ تاریخی لمحہ کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہی رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دسواں قطرہ اسی دہائی میں کسی وقت گر سکتا ہے مگر اس کی درست تاریخ بتانا تقریباً ناممکن ہے۔
سائنسی اہمیت
یہ تجربہ محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ مادے کی حالت کے بارے میں ہماری روایتی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ عام طور پر ہم مادے کو ٹھوس، مائع یا گیس میں تقسیم کرتے ہیں مگر پچ جیسے مادے اس تقسیم کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی مادے کی حالت کا تعین صرف اس کے ظاہر سے نہیں کیا جا سکتا۔
وقت اور انسان
''پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ‘‘ انسانی زندگی کے مقابلے میں وقت کے پیمانے کو بھی واضح کرتا ہے۔ جو تجربہ ایک پروفیسر نے شروع کیا وہ نہ خود اس کے انجام کو دیکھ سکا اور نہ ہی اس کے بعد آنے والی کئی نسلیں۔ یہ تجربہ آج بھی جاری ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ سو برس تک بھی جاری رہے۔یہ تجربہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ سائنس میں ہر کامیابی فوری نہیں ہوتی۔ بعض سوالات کے جواب دہائیوں یا صدیوں مانگتے ہیں۔ آج کے تیز رفتار دور میں جہاں ہر چیز فوری چاہیے پچ ڈراپ ایکسپیریمنٹ ہمیں صبر، تسلسل اور طویل مدتی سوچ کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچ کے یہ آہستہ آہستہ ٹپکتے قطرے صرف ایک مادے کی حرکت نہیں بلکہ وقت کے خاموش بہاؤ کی علامت ہیں۔ایسا بہاؤ جو ہمیں نظر تو نہیں آتامگر مسلسل جاری رہتا ہے۔