آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


چلی کا تباہ کن زلزلہ
24جنوری1930ء کوجنوبی وسطی چلی میں تباہ کن زلزلہ آیا ۔اس زلزلے کی شدت 8.3ریکارڈ کی گئی۔اس تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار سے زائد تھی۔اسے چلی کا مہلک ترین زلزلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔جس میں تقریباً3500گھر زمین بوس ہو گئے۔باقی بچ جانے والا شہر آفٹر شاکس سے تباہ ہو گیا۔چلی کا کتھیڈرل شہر کی اہم ترین عمارت سمجھی جاتی تھی وہ بھی اس زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہو گئی۔
اقوام متحدہ اٹامک انرجی کمیشن کا قیام
''اقوام متحدہ اٹامک انرجی کمیشن‘‘ (UNAEC) کی بنیاد 24 جنوری 1946ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی قرار داد کے ذریعے رکھی گئی تاکہ ایٹمی توانائی کی دریافت سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹا جا سکے۔اس کمیشن کے قیام کا مقصد اٹامک انرجی کے متعلق مخصوص تجاویز پیش کرنا، تمام اقوام کے درمیان پر امن مقاصد کیلئے بنیادی سائنسی معلومات کے تبادلے کو بڑھانا ، جوہری توانائی پرکنٹرول اور اس کے پر امن استعمال کو یقینی بناناتھا۔
جاپان کے پہلے قمری مشن کی روانگی
24جنوری 1990ء کوجاپان نے اپنا پہلا قمری مشن ''ہتن‘‘ (Hiten) لانچ کیا۔ یہ 1976ء میں سوویت یونین کے ''لونا 24‘‘ کے بعد پہلا روبوٹک قمری مشن تھاجبکہ یہ سوویت یونین یا امریکا کے علاوہ کسی اور ملک کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا قمری مشن بھی تھا۔ یہ مشن بنیادی طور پر زمین اور چاند کے درمیان سفر، کشش ثقل اور مداروں کے مطالعے کیلئے بھیجا گیاتھا۔ ہتن نے چاند کے گرد کامیاب پروازیں کیں اور ایک چھوٹا آلہ چاند کی سطح پر اتارا ۔
اتوچا قتل عام
اتوچا کا قتل عام24جنوری1977ء کو میڈرڈ کے وسط میں دائیں بازو کے انتہا پسند وں کا ایک حملہ تھا۔ جس میں کمیونسٹ پارٹی آف سپین اور مزدوروں کی فیڈریشن کے پانچ مزدور کارکنوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ عمل ڈکٹیٹر فرانسسکو فرانکو کی موت کے بعد ہوا۔24 جنوری کی شام کو تین افراد سینٹرل میڈرڈ میں اتوچا اسٹریٹ پر کارکنوں کیلئے قانونی معاونت کے دفتر میں داخل ہوئے اور وہاں موجود تمام افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔
میکنٹوش کمپیوٹر کی فروخت کا آغاز
1984ء میں آج کے روز ایپل کمپیوٹر نے امریکا میں میکنٹوش (Macintosh) کمپیوٹر کو فروخت کیلئے پیش کیا۔یہ پہلا کمپیوٹر تھا جس میں گرافیکل یوزر انٹرفیس اور ماؤس کا استعمال عام صارف کیلئے متعارف کرایا گیا۔ اس سے قبل کمپیوٹر صرف ماہرین تک محدود تھے۔ اس کمپیوٹر نے ڈیزائن، پبلشنگ اور تخلیقی شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔ میکنٹوش کی آمد نے مستقبل کے کمپیوٹرز، آپریٹنگ سسٹمز اور صارف دوست ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھ دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’AURA‘‘ پالتو جانوروں کا سمارٹ ساتھی

’’AURA‘‘ پالتو جانوروں کا سمارٹ ساتھی

جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے سہل بنایا ہے، اب اس کے اثرات پالتو جانوروں کی نگہداشت تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر آپ کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ گھر میں آپ کے پالتو جانور تنہا ہو جاتے ہیں تو سائنس دانوں نے آپ کی اس پریشانی کا حل ''اورا‘‘ (Aura) نامی ایک جدید روبوٹک پالتو بٹلر تیار کر کے نکال لیا ہے۔ جو مالکان کی غیر موجودگی میں جانوروں کو کھانا کھلانے، ان کے ساتھ کھیلنے اور ان کی مصروفیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''اورا‘‘ ایک روبوٹک پالتو بٹلر ہے، جسے اس مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے کہ جب آپ دفتر میں مصروف ہوں تو یہ آپ کے پیارے جانوروں کا ساتھ دے سکے۔ اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنی ''تویا‘‘ (Tuya) کی تیار کردہ یہ مسکراتی روبوٹک اسسٹنٹ گھر میں پہیوں کے ذریعے گھوم سکتی ہے، ویڈیو بنا سکتی ہے اور آپ کے پالتو جانوروں سے تعامل بھی کر سکتی ہے۔ڈیجیٹل مسکراہٹ، وائس ماڈیول اور اپنے چہرے سے ٹریٹس (خوراک) پھینکنے کی صلاحیت سے لیس ''اورا‘‘ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جانوروں کی گہری جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ اس ٹیکنالوجی کے باعث ممکن ہوتا ہے جسے تویا پالتو جانوروں کیلئے ''جذباتی مترجم‘‘ قرار دیتی ہے۔یہ روبوٹ رویّے اور آوازوں کے تجزیے کے ذریعے جانور کی جذباتی کیفیت کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعد ازاں مالکان کو سمارٹ فون پر خودکار رپورٹس موصول ہوتی ہیں، جن میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا پالتو جانور خوش، اداس، بے چین یا پُرجوش ہے۔ ''اورا‘‘ ایک خاندانی فوٹوگرافر کا کردار بھی ادا کر سکتی ہے اور آپ کی مصروفیت کے دوران خودکار طور پر آپ کے پالتو جانوروں کے یادگار لمحات محفوظ کر لیتی ہے۔لاس ویگاس میں منعقدہ کنزیومر الیکٹرانکس شو (CES) میں متعارف کرایا گیا ''اورا‘‘ ایک تین پہیوں والا روبوٹ ہے، جو کچھ اس طرح دکھائی دیتا ہے جیسے ایک آئی پیڈ کو ہیمسٹر وہیل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو۔ اس کا بڑا، چپٹا ''چہرہ‘‘ آنکھوں کے ایک جوڑے اور مسکراتے ہوئے منہ پر مشتمل ہے، جو اردگرد موجود لوگوں کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب اس کا جسم اندر سے خالی ہے، بظاہر اس لیے کہ بلیاں اس کے اندر بیٹھ کر ادھر اُدھر گھوم سکیں۔ یہ ننھا روبوٹ گہرائی کا ادراک حاصل کرنے کیلئے دو کیمروں کا استعمال کرتا ہے اور خودکار طور پر گھر میں نقل و حرکت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی صلاحیت کی بدولت ''اورا‘‘ بغیر کسی چیز سے ٹکرائے گھر میں راستہ بنا لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنے چارجنگ ڈاک پر واپس پہنچ جاتا ہے۔البتہ گھبرائی ہوئی بلیوں کیلئے یہ خبر کچھ پریشان کن ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ پورے گھر میں آزادانہ گھومتا ہے اور خود ہی پالتو جانوروں کو تلاش کر کے ان سے تعامل کرتا ہے۔ تاہم ''اورا‘‘ کی اصل کشش اس کی وہ صلاحیت ہے جس کے تحت یہ بلیوں کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے جذباتی سطح پر رابطہ قائم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگرچہ خودکار فیڈرز، کیمرے اور حتیٰ کہ ٹریٹس پھینکنے والے کھلونے پہلے ہی موجود ہیں، مگر تویا کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پالتو جانور کی تنہائی کے احساس کو کم کرنے میں واقعی مددگار ثابت نہیں ہوتا۔اپنے متحرک چہرے اور اے آئی سے تقویت یافتہ صوتی تعامل کے ذریعے ''اورا‘‘ کو ایک ''ردِعمل دینے والا اور گرم جوش‘‘ ساتھی بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ روبوٹ پالتو جانور سے جذباتی وابستگی کس طرح قائم کرے گا، تاہم اسے مختلف کھلونوں سے لیس کیا گیا ہے، جن میں لیزر پوائنٹر، ٹریٹس دینے والا آلہ اور ''فرضی پالتو جانوروں کی آوازیں‘‘ شامل ہیں۔ اپنے ''جذباتی مترجم‘‘ کی مدد سے تویا کا دعویٰ ہے کہ ''اورا‘‘ مالکان کو ان کے پالتو جانوروں کی خیریت سے باخبر رکھ سکے گا اور دلچسپ لمحات محفوظ بھی کرے گا۔''اورا‘‘ جانوروں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتا ہے، جن میں اچانک جوش و خروش، کھیل کود اور نیند کے لمحات شامل ہیں اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے مناظر مالک کی جانب سے تصویر یا ویڈیو کیلئے موزوں ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ خودکار طور پر مختصر ویڈیوز بھی تیار کر سکتا ہے تاکہ قیمتی یادوں کو محفوظ کیا جا سکے اور جذباتی رشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کمپنی نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ روبوٹ کب تجارتی طور پر دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ انوکھا پالتو بٹلر ان کے روبوٹک عزائم کی صرف ابتدا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں بزرگوں کی دیکھ بھال، گھریلو نگرانی اور خاندانی رابطے جیسے شعبوں میں مختلف ہارڈویئر شکلوں کے ساتھ نئی ایپلی کیشنز کی بنیاد رکھ رہی ہے۔مصروف طرزِ زندگی میں یہ ایجاد نہ صرف پالتو جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کی امید دلاتی ہے بلکہ انسان اور مشین کے باہمی تعلق کے ایک نئے دور کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔

عراق کی وادی ٔ السلام: دنیا کا قدیم ترین قبرستان جس میں انبیا دفن ہیں

عراق کی وادی ٔ السلام: دنیا کا قدیم ترین قبرستان جس میں انبیا دفن ہیں

عراق کی سر زمین ہر پہلو سے قدم قدم پر عجائبات اور حیرتوں کا مجموعہ ہے مگر نجف و کربلا اور کوفہ و بغداد کی عظمت و اہمیت تاریخ میں بھی الگ ہے اور عظمت میں بھی اعلیٰ۔ بصرہ اور مدین کے علاقے بھی اپنے اندر مبارک لمس بھی رکھتے ہیں عشق کا ادراک بھی۔ چار لاکھ سینتیس ہزار بہتر مربع کلومیٹر پر پھیلی دجلہ و فرات سے سیراب ہوتی وادی عراق انبیا و ایما کرام کا مسکن رہی مگر ہماری حیرت دنیا کے قدیم ترین اور وسیع قبرستان وادیٔ السلام کو موضوع تحریر بنا رہی ہے۔نجف میں ہمارا دوسرا دن وادیٔ السلام قبرستان کے نام تھا۔ نبی خدا حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں۔ انبیاء کی قبروں سے قبرستان کی قدامت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ہزاروں سال قبل کے زمانے اس مٹی کی تہہ میں پوشیدہ ہیں۔ طوفان نوح کے وقت بحر نجف سے اٹھتے طوفان میں جناب نوح علیہ السلام کی کشتی ہی واحد سہارا تھی جو زندگی کی ضامن بھی تھی اور بقا کا سبب بھی۔ جب اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے اور بیوی کو بھی کشتی میں بیٹھنے کی دعوت دو۔ باپ کے بلاوے کے باوجود جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا اپنے باپ کی کشتی پر بیٹھنے کی بجائے وادیٔ جودی پر چڑھنے کو اپنی بقا سمجھ رہا تھا اور پھر طوفان کی لہریں سب کچھ بہا کر لے گئیں، وادیٔ جودی پر چڑھے ہوئے بیٹے کو بھی اور تمام سرکش لوگوں کو بھی۔ وادیٔ السلام کی راہداریوں میں چلتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ بے شمار سرداب بنے ہیں اور زیر زمین قبریں ہیں جن پر نامور لوگوں کے نام والے کتبے لگے ہیں۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے ہمیں اپنی حیاتی میں بے پناہ مقبول رہ چکے علماء ، ناقابل شکست سائنس دان، دنیا میں مطلق العنان حاکم اور قبیلوں کے سردار آسودہ خاک ملے۔ اپنی بے وقعتی اور زندگی کا عارضی پن جو ہمیں وادیٔ السلام میں محسوس ہوا ، کبھی نہیں ہوا۔ دو ہزار بیس میں شمار کئے گئے اعداد کے مطابق نو مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ پر پھیلے قبرستان میں ساٹھ لاکھ سے زائد قبریں ہیں، جن میں ایران ، عراق ، شام ، لبنان ، پاکستان اور دیگر ممالک کے لوگ اس لئے دفن ہیں کہ یہاں پر دفن کی گئی میتوں بارے معتبر ہستیوں کے فرامین مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں فوت ہونے والے عقیدت مندوں کی وصیت کے مطابق ان کے لواحقین انہیں یہاں لا کر دفن کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب اسحق علیہ السلام کے ساتھ اسی مقام پر رہائش رکھی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ''زمین پر کوئی بھی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ اس کی روح وادیٔ السلام میں حاضر نہ ہو اور یہ جنت عدن کا ایک گوشہ ہے ‘‘۔ یہاں پر حضرت زین العابدین اور امام جعفر الصادق کا وہ مقام بھی ہے جہاں وہ عبادت کیلئے بیٹھا کرتے تھے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کا قدیم ترین اور سب سے بڑا قبرستان ہے جس میں انبیا ء، اولیاء ، مفکر ، سکالر اور مجتہد دفن ہیں۔ قبرستان کا حجم فٹ بال کے 17میدانوں کے برابر ہے۔ہم وادیٔ السلام قبرستان سے نکل کر حضرت علیؓ کے روضہ مبارک کی طرف آئے اور روضہ کے اندر مدفون حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ ساتھ علما و محققین کی قبریں جو روضہ علیؓ کے اطراف میں تھیں انہیں بھی وادیٔ السلام میں شامل کرنے پر مجبور تھے کیونکہ حرم امام علی ؓ سے قبرستان کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ وادیٔ جودی دور تھی جس کی بلندی پر چڑھ کر جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا طوفان سے بچ جانے کی بات کرتا تھا۔ نجف الاشرف میں عقیدت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہمارے دامن گیر تھی۔ ایسی حیرت جو بارش کی منتظر تھی ، ایسی بارش جس میں در نجف ایسے نگینے ہمارے سامنے وادیٔ السلام کی مٹی سے نکل کر ہمارے ہاتھ آ سکیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے! روحی بانو ٹی وی ڈرامے کے ایک عہد کا نام (2019-1951ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! روحی بانو ٹی وی ڈرامے کے ایک عہد کا نام (2019-1951ء)

٭... 10اگست 1951ء میں بھارتی شہر ممبئی میں پیدا ہوئیں۔ ٭...وہ مشہوربھارتی طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کی بیٹی تھیں ۔ والد کی دوسری شادی کے باعث ان کی والدہ بچوں کو لے کر پاکستان آگئیں۔ بھارتی طبلہ نواز استاد ذاکر علی ان کے سوتیلے بھائی تھے۔٭... انہوں نے گورنمنٹ کالج سے سائیکالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ ٭...وہ جب گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھیں تب پہلی بار ٹی وی پر جلوہ گر ہوئیں، انہیں ایک کوئز شو میں مدعو کیا گیا تھا۔٭...روحی بانو نے 1970ء کے عشرے میں بیشمار ڈراموں میں یادگاری کردار نبھائے۔٭...اشفاق احمد کی مقبول ترین ڈرامہ سیریز ''ایک محبت سو افسانے‘‘ کے کھیل ''اشتباہ نظر‘‘ میں ان کی اداکاری کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔٭... ان کے ڈرامے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بالخصوص بھارت میں بہت پسند کئے جاتے تھے۔٭...صرف چھوٹی سکرین ہی نہیں بلکہ بڑی سکرین پر بھی روحی بانو نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔٭... فلمی دنیا میں ان کا کریئر ڈبل اننگز پر مشتمل ہے۔ پہلی اننگز میں وہ فلمی ماحول میں ایڈجسٹ نہ ہو سکیں اور وہاں سے واپسی اختیار کر لی۔ ہیرے کی پہچان رکھنے والے جوہری انہیں دوبارہ فلمی صنعت میں لے آئے۔ اس اننگز میں انہوں نے کئی شاندار فلموں میں کام کیا۔٭... 1981ء میں انہیں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔٭...انہیں بہترین اداکاری پر پی ٹی وی ایوارڈ، نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اور لکس سٹائل ایوارڈ(لائف ٹائم اچیومنٹ) بھی ملا۔٭... ان کی ذاتی زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے،دو بار شادی کے بندھن میں بندھیں مگر دونوں ہی بارخوشیوں سے محروم رہیں۔٭...2005ء میں ان کے اکلوتے بیٹے فرزند علی کو کسی نے قتل کر دیا۔ ٭...ان صدمات کے باعث وہ نفسیاتی مرض ''شیزو فرینیا‘‘ کا شکار ہو کر فائونٹین ہائوس جا پہنچیں۔انہیں گردوں کا عارضہ بھی لاحق تھا۔٭ زندگی کے آخری ایام میں وہ ترکی میں اپنے بھانجے کے پاس مقیم تھیں، 2019ء میں آج کے روز وہیں ان کا انتقال ہوا اور وہیں تدفین کی گئی۔مشہور ڈرامے٭...کانچ کا پل ٭...کرن کہانی ٭...زیرزبرپیش ٭...دروازہ ٭...زرد گلاب ٭ ... دھند٭ ... سراب ٭...قلعہ کہانی ٭...حیرت کدہ ٭...پکی حویلیمقبول فلمیںپالکی، امنگ (1975ء)، انسان اور فرشتہ، راستے کا پتھر، انوکھی، گونج اٹھی شہنائی (1976ء)،زندگی، خدا اور محبت ، دشمن کی تلاش (1978ء)، ضمیر (1980ء)،دل ایک کھلونا،کرن اور کلی، بڑا آدمی (1981ء)، کائنات (1983ء)، آ ج کا انسان (1984ء)، دشمن کی تلاش (1991ء)، سمجھوتہ (1995ء)

آج کا دن

آج کا دن

بین البراعظمی ٹیلی فون سروس کاآغازگراہم بیل کو ٹیلی فون کا موجد مانا جاتا ہے اور موجودہ دور کا مواصلاتی نظام بھی اسی ایجاد کی جدید شکل ہے۔ ابتدائی طور پر ٹیلی فون کا استعمال اور اس کی حدود انتہائی کم اور محدود تھیں۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد اس میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت آتی گئی۔ 25جنوری 1915ء میں گراہم بیل نے نیویارک میں موجودگی کے دوران سان فرانسسکو میں بیٹھے اپنے ساتھی تھامس واٹسن سے ٹیلی فون پر بات کر کے بین البراعظمی ٹیلی فون سروس کا آغاز کیا۔ تھامس واٹسن کو ٹیلی فون کی ایجاد میں ایک اہم کردار تصور کیا جاتا ہے۔ آرمینیا ، کولمبیا زلزلہ''آرمینیا،کولمبیا زلزلہ‘‘25 جنوری 1999ء کو آیا۔ اس زلزلے کا مرکز کولمبیا کے جنوب مغرب میں 40 کلومیٹر مغرب کی جانب واقع تھا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے آرمینیا کو بہت زیادہ متاثر کیا جبکہ کولمبیا میں کاشت کرنے والے ایکسس ریجن، 18 قصبے، 28 دیہات اور کافی حد تک پیریر اور مانیزیلس متاثر ہوئے۔زلزلے کی شدت6.2ریکارڈ کی گئی اور یہ 16برسوں میں کولمبیا میں آنے والا سب سے تباہ کن زلزلہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں تقریباً2ہزار افراد ہلاک اور 4ہزار زخمی ہوئے جبکہ لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 3ہزار کے قریب تھی۔کلیمن ٹائن منصوبہ''کلیمن ٹائن‘‘ جسے ڈیپ سپیس پروگرام سائنس ایکسپیریمنٹ (DSPSE) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے دراصل ایک بیلسٹک میزائل ڈیفنس آرگنائزیشن اور امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے درمیان ایک مشترکہ خلائی منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کا آغاز 25 جنوری 1994ء کو کیا گیا۔ اس خلائی مشن کا مقصد سینسرز کی جانچ کرنا تھا۔خلائی جہاز میں ایسے آلات نصب کئے گئے تھے جن کی مدد سے چاند اور زمین کے قریب موجود خلائی ماحول کا جائزہ لیا جا سکے۔خلائی جہاز تکنیکی خرابی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!

ناسا کا اہم ترین خلائی مشن 6فروری کو روانہ ہو گاناسا نے53 سال بعد امریکی خلا بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف خلائی تحقیق کے نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ انسانی تاریخ میں چاند اور مستقبل کے بین السیاروی سفر کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق، یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی، جدید خلائی گاڑیوں اور انسانی صلاحیتوں کے امتزاج پر مبنی ہوگا تاکہ خلا باز بغیر کسی خطرے کے چاند کی سطح پر اتر سکیں اور سائنسی تحقیق کیلئے قیمتی ڈیٹا جمع کر سکیں۔ یہ تاریخی اقدام خلائی مقابلہ اور سائنس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔''آرٹیمس II‘‘ جو 1972ء کے بعد چاند کا پہلا انسانی مشن ہوگا، 6 فروری کو روانہ ہوگا۔ ناسا کے حکام کے مطابق ''آرٹیمس II‘‘ کیلئے باضابطہ آغاز کی ونڈو 31 جنوری سے 14 فروری تک کھلی رہے گی، اور متعدد متبادل تاریخیں بھی منتخب کی گئی ہیں۔ یہ مشن ناسا کے خلا باز ریڈ ویزمین(Reid Wiseman) ، وکٹر گلوور(Victor Glover)، کرسٹینا کوچ (Christina Koch) اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے خلا باز جرمی ہینسن (Jeremy Hansen) کو لے کر چاند کے گرد 10 دن کا سفر کرے گا اور زمین پر واپس آئے گا۔ ''آرٹیمس II مشن‘‘ چاند کی سطح پر لینڈ نہیں کرے گا۔ آرٹیمس پروگرام میں پہلا قمری لینڈنگ ''آرٹیمس III‘‘ میں شیڈول ہے، جو فی الحال 2027ء میں ہونے کا امکان ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ کسی بھی دن لانچ نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تعین زمین اور چاند کی پوزیشن، راکٹ کی کارکردگی اور فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے قریب موسم کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ ممکنہ متبادل لانچ تاریخوں میں 7، 8، 10 اور 11 فروری شامل ہیں۔ اگر فروری میں کسی وجہ سے لانچ ممکن نہ ہوا تو ناسا نے مارچ اور اپریل کے ابتدائی دنوں کو بھی متبادل کے طور پر منتخب کیا ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ 53 سال بعد انسانی عملے والا پہلا مشن ہوگا جو کم زمین مدار سے آگے جائے گا۔جیسے ہی 6 فروری آئے گا، خلا باز کیپ کینیورل سے اورین اسپیس کرافٹ میں روانہ ہوں گے، جو ناسا کے طاقتور اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر وہ زمین کے گرد چند چکر لگائیں گے تاکہ لائف سپورٹ آلات کی جانچ کی جا سکے، اور پھر چاند کی فلائی بائی کیلئے روانہ ہوں گے، یعنی قریب سے گزرنا لیکن چاند کی مدار میں نہ جانا اور نہ لینڈ کرنا۔ اسپیس کرافٹ چاند کی کشش ثقل کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی طرف واپس آئے گا، جسے 'فری ریٹرن ٹریجیکٹری‘ (free-return trajectory)کہا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو اضافی انجن کے بغیر محفوظ طور پر واپس آ سکتا ہے۔ مشن کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ راکٹ، اسپیس کرافٹ اور تمام نظام انسانی عملے کے ساتھ بخوبی کام کرتے ہیں، تاکہ اگلے سال ''آرٹیمس III‘‘ کے لینڈنگ مشن کی راہ ہموار ہو سکے۔''SLS راکٹ‘‘ اور اورین اسپیس کرافٹ کو ناسا کے ویہکل اسمبلی بلڈنگ سے لانچ پیڈ 39B تک لے جایا جائے گا۔ یہ سفر تقریباً چار میل طویل ہے اور راکٹ کو لے جانے کیلئے ایک عظیم کیریئر ٹرانسپورٹر استعمال کیا جائے گا، جو مکمل ہونے میں تقریباً 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ پیڈ پر پہنچنے کے بعد ٹیمیں بجلی اور ایندھن کی لائنیں جوڑیں گی اور حتمی راکٹ ٹیسٹنگ کریں گی، اس کے بعد خلا باز فلائٹ کیلئے واک تھرو شروع کریں گے۔جب ''آرٹیمس II‘‘ لانچ پیڈ پر پہنچ جائے گا، تو ناسا کا عملہ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ اور ''ٹینکنگ‘‘ کے طریقہ کار سے گزریں گے۔ اس دوران وہ SLS راکٹ میں7 لاکھ گیلن سے زیادہ انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن بھریں گے، جو راکٹ کو خلا میں پہنچانے کیلئے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ناسا یہاں تک کہ فرضی لانچ کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی کرے گا، ہولڈز اور ری اسٹارٹس کی مشق کرے گا اور پھر ایندھن کے ٹینکوں کو محفوظ طریقے سے خالی کرے گا جب تک کہ اصل لانچ کا وقت نہ آئے۔ یہ ریہرسل ناسا کے فیولنگ طریقہ کار کو جانچنے اور راکٹ کے ممکنہ مسائل، جیسے ٹینک یا والو میں لیک، کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ناسا کو ممکنہ طور پر متعدد ریہرسل کرنی پڑیں گی اور لانچ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ستمبر 2025 میں سابق ناسا ایڈمنسٹریٹر شان ڈیفی نے اعلان کیا تھاکہ '' آرٹیمس II‘‘ مشن کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، ''آرٹیمس III‘‘ کے خلائی مشن کے ذریعے امریکی خلا باز چاند پر لینڈ کریں گے اور وہاں طویل المدتی انسانی موجودگی قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاند پر دوبارہ مشنز سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں امریکی خلا بازوں کو مریخ پر اتارنے کی کوششوں میں مدد کرے گا۔

زیوس: اساطیری کردار

زیوس: اساطیری کردار

قدیم انسانی تاریخ میں کچھ تخلیقات ایسی ہیں جو محض پتھر، لکڑی یا دھات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، مذہبی اور تہذیبی عظمت کی علامت بن جاتی ہیں۔ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کا عظیم الشان مجسمہ بھی ایسی ہی ایک لازوال تخلیق تھا جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجسمہ نہ صرف فن مجسمہ سازی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا بلکہ یونانی مذہب، عقیدت اور ثقافت کی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔یہ مجسمہ یونانیوں کی مذہبی عقیدت کا مرکز تھا بلکہ اس دور کی انجینئرنگ اور سنگ تراشی کا شاہکار بھی تھا۔ زیوس کا مجسمہ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کے مندر میں نصب کیا گیا تھا۔ اولمپیا وہ جگہ تھی جہاں ہر چار سال بعد مشہور اولمپک کھیل منعقد ہوتے تھے۔ یہ کھیل زیوس دیوتا کے اعزاز میں منعقد کیے جاتے تھے۔5 ویں صدی قبل مسیح تقریباً 435 قبل مسیح میں جب اولمپیا میں زیوس کا مندر تعمیر ہو چکا تو یونانیوں نے محسوس کیا کہ مندر کے اندر دیوتا کی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے ایسا مجسمہ ہونا چاہیے جو اپنی ساخت اور ہیبت میں بے مثال ہو۔ اس عظیم کام کیلئے اس وقت کے مشہور ترین سنگ تراش فیڈیاس کا انتخاب کیا گیا۔فیڈیاس وہ فنکار تھا جس نے ایتھنز میں ایتھینا دیوی کا مجسمہ بھی تیار کیا تھا۔ اسے سونے اور ہاتھی دانت کے کام کا ماہر مانا جاتا تھا۔ اس نے اس مجسمے کو تیار کرنے کیلئے مندر کے قریب ہی ورکشاپ قائم کی، جس کے آثار آج بھی ماہرین آثارقدیمہ کو ملتے ہیں۔زیوس کا یہ مجسمہ تقریباً 40 فٹ یعنی 12 میٹر بلند تھا۔ قدیم مورخین لکھتے ہیں کہ اگر زیوس اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوتا تو وہ مندر کی چھت پھاڑ کر باہر نکل جاتا۔ یہ مجسمہ لکڑی کے ڈھانچے پر بنایا گیا تھا جس پر جسم کیلئے ہاتھی دانت کی تہیں چڑھائی گئی تھیں اور کپڑوں اور زیورات کیلئے خالص سونے کی چادریں استعمال کی گئی تھیں۔ زیوس کو عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا جو آبنوس، سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔ زیوس کے دائیں ہاتھ میں نائیکی فتح کی دیوی کا چھوٹا مجسمہ تھا، جبکہ بائیں ہاتھ میں شاہی عصا تھا جس کے اوپر ایک عقاب بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر زیتون کی شاخوں کا تاج تھا اور اس کے سنہری لباس پر جانوروں اور پھولوں کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔یونانیوں کیلئے یہ مجسمہ زمین پر دیوتا کی تجلی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فیڈیاس نے اپنا کام مکمل کیا تو اس نے زیوس سے دعا کی کہ وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کرے۔ روایات کے مطابق، اسی لمحے آسمان سے بجلی مندر کے فرش پر گری جسے خدا کی رضا مندی کی علامت سمجھا گیا۔زائرین دور دراز سے اس مجسمے کی زیارت کیلئے آتے تھے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر لوگ سکون محسوس کرتے تھے۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ یونان کی قسمت بدلی۔ رومیوں کے غلبے اور عیسائیت کے پھیلاؤ کے بعد قدیم دیوتاؤں کی عبادت ختم ہونے لگی۔ پہلی صدی عیسوی میں رومی شہنشاہ کالیگولا نے اسے روم منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن کہا جاتا ہے کہ جب اس کے کارندے مجسمے کے قریب پہنچے تو مجسمہ زور سے ہنسا جس سے دار توبہ ہو کر وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب اولمپک کھیلوں پر پابندی لگی، تو ایک امیر تاجر اسے قسطنطنیہ موجودہ استنبول لے گیا۔ بدقسمتی سے، 475 عیسوی میں قسطنطنیہ کے محل میں لگنے والی آگ نے اس عظیم شاہکار کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ آج اس مجسمے کا کوئی حصہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ زیوس کا مجسمہ اب دنیا میں موجود نہیں، لیکن اس کا اثر فن تعمیر اور آرٹ پر آج بھی قائم ہے۔ اولمپیا میں ہونے والی کھدائیوں سے وہ ورکشاپ دریافت ہوئی جہاں فیڈیاس نے یہ مجسمہ بنایا تھا۔ وہاں سے کچھ اوزار اور سانچے بھی ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مجسمہ کتنا عظیم رہا ہوگا۔زیوس دیوتا کا مجسمہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی انتہا تھا۔ اگرچہ وقت کی بے رحم موجوں نے اسے مٹا دیا لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ آج بھی عظیم عجوبے کے طور پر زندہ ہے۔آج زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ ہمارے سامنے موجود نہیں، مگر اس کا ذکر کتابوں، تاریخی حوالوں، قدیم سکّوں اور مصوری میں محفوظ ہے۔ ماہرین آثارقدیمہ نے اولمپیا میں فیڈیاس کی ورکشاپ کے آثار دریافت کیے ہیں، جن سے اس عظیم تخلیق کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ جدید دور میں اس مجسمے کی کئی تصوری تعمیرات (Reconstruction) بھی کی گئی ہیں تاکہ لوگ اس کی ہیبت اور حسن کا اندازہ لگا سکیں۔زیوس کا مجسمہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان جب اپنے عقیدے، فن اور محنت کو یکجا کر دے تو وہ ایسی تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں بعد بھی یاد رکھی جائے۔ اگرچہ یہ مجسمہ مادی طور پر باقی نہیں رہا، مگر تاریخ کے صفحات میں اس کی عظمت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یوں زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ صرف ایک گمشدہ عجوبہ نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، عقیدت اور تہذیبی ورثے کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین، محققین اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے۔