زیوس: اساطیری کردار
اسپیشل فیچر
قدیم انسانی تاریخ میں کچھ تخلیقات ایسی ہیں جو محض پتھر، لکڑی یا دھات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، مذہبی اور تہذیبی عظمت کی علامت بن جاتی ہیں۔ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کا عظیم الشان مجسمہ بھی ایسی ہی ایک لازوال تخلیق تھا جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مجسمہ نہ صرف فن مجسمہ سازی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا بلکہ یونانی مذہب، عقیدت اور ثقافت کی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔یہ مجسمہ یونانیوں کی مذہبی عقیدت کا مرکز تھا بلکہ اس دور کی انجینئرنگ اور سنگ تراشی کا شاہکار بھی تھا۔
زیوس کا مجسمہ یونان کے شہر اولمپیا میں واقع زیوس کے مندر میں نصب کیا گیا تھا۔ اولمپیا وہ جگہ تھی جہاں ہر چار سال بعد مشہور اولمپک کھیل منعقد ہوتے تھے۔ یہ کھیل زیوس دیوتا کے اعزاز میں منعقد کیے جاتے تھے۔
5 ویں صدی قبل مسیح تقریباً 435 قبل مسیح میں جب اولمپیا میں زیوس کا مندر تعمیر ہو چکا تو یونانیوں نے محسوس کیا کہ مندر کے اندر دیوتا کی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے ایسا مجسمہ ہونا چاہیے جو اپنی ساخت اور ہیبت میں بے مثال ہو۔ اس عظیم کام کیلئے اس وقت کے مشہور ترین سنگ تراش فیڈیاس کا انتخاب کیا گیا۔
فیڈیاس وہ فنکار تھا جس نے ایتھنز میں ایتھینا دیوی کا مجسمہ بھی تیار کیا تھا۔ اسے سونے اور ہاتھی دانت کے کام کا ماہر مانا جاتا تھا۔ اس نے اس مجسمے کو تیار کرنے کیلئے مندر کے قریب ہی ورکشاپ قائم کی، جس کے آثار آج بھی ماہرین آثارقدیمہ کو ملتے ہیں۔
زیوس کا یہ مجسمہ تقریباً 40 فٹ یعنی 12 میٹر بلند تھا۔ قدیم مورخین لکھتے ہیں کہ اگر زیوس اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوتا تو وہ مندر کی چھت پھاڑ کر باہر نکل جاتا۔ یہ مجسمہ لکڑی کے ڈھانچے پر بنایا گیا تھا جس پر جسم کیلئے ہاتھی دانت کی تہیں چڑھائی گئی تھیں اور کپڑوں اور زیورات کیلئے خالص سونے کی چادریں استعمال کی گئی تھیں۔
زیوس کو عظیم الشان تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا جو آبنوس، سونے اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔ زیوس کے دائیں ہاتھ میں نائیکی فتح کی دیوی کا چھوٹا مجسمہ تھا، جبکہ بائیں ہاتھ میں شاہی عصا تھا جس کے اوپر ایک عقاب بیٹھا ہوا تھا۔
اس کے سر پر زیتون کی شاخوں کا تاج تھا اور اس کے سنہری لباس پر جانوروں اور پھولوں کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔
یونانیوں کیلئے یہ مجسمہ زمین پر دیوتا کی تجلی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب فیڈیاس نے اپنا کام مکمل کیا تو اس نے زیوس سے دعا کی کہ وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کرے۔ روایات کے مطابق، اسی لمحے آسمان سے بجلی مندر کے فرش پر گری جسے خدا کی رضا مندی کی علامت سمجھا گیا۔
زائرین دور دراز سے اس مجسمے کی زیارت کیلئے آتے تھے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر لوگ سکون محسوس کرتے تھے۔ صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ یونان کی قسمت بدلی۔ رومیوں کے غلبے اور عیسائیت کے پھیلاؤ کے بعد قدیم دیوتاؤں کی عبادت ختم ہونے لگی۔ پہلی صدی عیسوی میں رومی شہنشاہ کالیگولا نے اسے روم منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن کہا جاتا ہے کہ جب اس کے کارندے مجسمے کے قریب پہنچے تو مجسمہ زور سے ہنسا جس سے دار توبہ ہو کر وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
چوتھی صدی عیسوی میں جب اولمپک کھیلوں پر پابندی لگی، تو ایک امیر تاجر اسے قسطنطنیہ موجودہ استنبول لے گیا۔ بدقسمتی سے، 475 عیسوی میں قسطنطنیہ کے محل میں لگنے والی آگ نے اس عظیم شاہکار کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ آج اس مجسمے کا کوئی حصہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ زیوس کا مجسمہ اب دنیا میں موجود نہیں، لیکن اس کا اثر فن تعمیر اور آرٹ پر آج بھی قائم ہے۔ اولمپیا میں ہونے والی کھدائیوں سے وہ ورکشاپ دریافت ہوئی جہاں فیڈیاس نے یہ مجسمہ بنایا تھا۔ وہاں سے کچھ اوزار اور سانچے بھی ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مجسمہ کتنا عظیم رہا ہوگا۔
زیوس دیوتا کا مجسمہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی انتہا تھا۔ اگرچہ وقت کی بے رحم موجوں نے اسے مٹا دیا لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ آج بھی عظیم عجوبے کے طور پر زندہ ہے۔
آج زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ ہمارے سامنے موجود نہیں، مگر اس کا ذکر کتابوں، تاریخی حوالوں، قدیم سکّوں اور مصوری میں محفوظ ہے۔ ماہرین آثارقدیمہ نے اولمپیا میں فیڈیاس کی ورکشاپ کے آثار دریافت کیے ہیں، جن سے اس عظیم تخلیق کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں۔ جدید دور میں اس مجسمے کی کئی تصوری تعمیرات (Reconstruction) بھی کی گئی ہیں تاکہ لوگ اس کی ہیبت اور حسن کا اندازہ لگا سکیں۔
زیوس کا مجسمہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان جب اپنے عقیدے، فن اور محنت کو یکجا کر دے تو وہ ایسی تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں بعد بھی یاد رکھی جائے۔ اگرچہ یہ مجسمہ مادی طور پر باقی نہیں رہا، مگر تاریخ کے صفحات میں اس کی عظمت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ یوں زیوس دیوتا کا عظیم الشان مجسمہ صرف ایک گمشدہ عجوبہ نہیں بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیت، عقیدت اور تہذیبی ورثے کی ایک روشن مثال ہے، جو آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین، محققین اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے۔