53سال بعد چاند پر دوبارہ اترنے کی تیاری!
اسپیشل فیچر
ناسا کا اہم ترین خلائی مشن 6فروری کو روانہ ہو گا
ناسا نے53 سال بعد امریکی خلا بازوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشن نہ صرف خلائی تحقیق کے نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ انسانی تاریخ میں چاند اور مستقبل کے بین السیاروی سفر کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق، یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی، جدید خلائی گاڑیوں اور انسانی صلاحیتوں کے امتزاج پر مبنی ہوگا تاکہ خلا باز بغیر کسی خطرے کے چاند کی سطح پر اتر سکیں اور سائنسی تحقیق کیلئے قیمتی ڈیٹا جمع کر سکیں۔ یہ تاریخی اقدام خلائی مقابلہ اور سائنس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔
''آرٹیمس II‘‘ جو 1972ء کے بعد چاند کا پہلا انسانی مشن ہوگا، 6 فروری کو روانہ ہوگا۔ ناسا کے حکام کے مطابق ''آرٹیمس II‘‘ کیلئے باضابطہ آغاز کی ونڈو 31 جنوری سے 14 فروری تک کھلی رہے گی، اور متعدد متبادل تاریخیں بھی منتخب کی گئی ہیں۔ یہ مشن ناسا کے خلا باز ریڈ ویزمین(Reid Wiseman) ، وکٹر گلوور(Victor Glover)، کرسٹینا کوچ (Christina Koch) اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے خلا باز جرمی ہینسن (Jeremy Hansen) کو لے کر چاند کے گرد 10 دن کا سفر کرے گا اور زمین پر واپس آئے گا۔
''آرٹیمس II مشن‘‘ چاند کی سطح پر لینڈ نہیں کرے گا۔ آرٹیمس پروگرام میں پہلا قمری لینڈنگ ''آرٹیمس III‘‘ میں شیڈول ہے، جو فی الحال 2027ء میں ہونے کا امکان ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ کسی بھی دن لانچ نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تعین زمین اور چاند کی پوزیشن، راکٹ کی کارکردگی اور فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے قریب موسم کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ ممکنہ متبادل لانچ تاریخوں میں 7، 8، 10 اور 11 فروری شامل ہیں۔ اگر فروری میں کسی وجہ سے لانچ ممکن نہ ہوا تو ناسا نے مارچ اور اپریل کے ابتدائی دنوں کو بھی متبادل کے طور پر منتخب کیا ہے۔ ''آرٹیمس II‘‘ 53 سال بعد انسانی عملے والا پہلا مشن ہوگا جو کم زمین مدار سے آگے جائے گا۔
جیسے ہی 6 فروری آئے گا، خلا باز کیپ کینیورل سے اورین اسپیس کرافٹ میں روانہ ہوں گے، جو ناسا کے طاقتور اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر وہ زمین کے گرد چند چکر لگائیں گے تاکہ لائف سپورٹ آلات کی جانچ کی جا سکے، اور پھر چاند کی فلائی بائی کیلئے روانہ ہوں گے، یعنی قریب سے گزرنا لیکن چاند کی مدار میں نہ جانا اور نہ لینڈ کرنا۔ اسپیس کرافٹ چاند کی کشش ثقل کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی طرف واپس آئے گا، جسے 'فری ریٹرن ٹریجیکٹری‘ (free-return trajectory)کہا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو اضافی انجن کے بغیر محفوظ طور پر واپس آ سکتا ہے۔ مشن کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ راکٹ، اسپیس کرافٹ اور تمام نظام انسانی عملے کے ساتھ بخوبی کام کرتے ہیں، تاکہ اگلے سال ''آرٹیمس III‘‘ کے لینڈنگ مشن کی راہ ہموار ہو سکے۔
''SLS راکٹ‘‘ اور اورین اسپیس کرافٹ کو ناسا کے ویہکل اسمبلی بلڈنگ سے لانچ پیڈ 39B تک لے جایا جائے گا۔ یہ سفر تقریباً چار میل طویل ہے اور راکٹ کو لے جانے کیلئے ایک عظیم کیریئر ٹرانسپورٹر استعمال کیا جائے گا، جو مکمل ہونے میں تقریباً 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ پیڈ پر پہنچنے کے بعد ٹیمیں بجلی اور ایندھن کی لائنیں جوڑیں گی اور حتمی راکٹ ٹیسٹنگ کریں گی، اس کے بعد خلا باز فلائٹ کیلئے واک تھرو شروع کریں گے۔
جب ''آرٹیمس II‘‘ لانچ پیڈ پر پہنچ جائے گا، تو ناسا کا عملہ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ اور ''ٹینکنگ‘‘ کے طریقہ کار سے گزریں گے۔ اس دوران وہ SLS راکٹ میں7 لاکھ گیلن سے زیادہ انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن بھریں گے، جو راکٹ کو خلا میں پہنچانے کیلئے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ناسا یہاں تک کہ فرضی لانچ کا کاؤنٹ ڈاؤن بھی کرے گا، ہولڈز اور ری اسٹارٹس کی مشق کرے گا اور پھر ایندھن کے ٹینکوں کو محفوظ طریقے سے خالی کرے گا جب تک کہ اصل لانچ کا وقت نہ آئے۔ یہ ریہرسل ناسا کے فیولنگ طریقہ کار کو جانچنے اور راکٹ کے ممکنہ مسائل، جیسے ٹینک یا والو میں لیک، کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ناسا کو ممکنہ طور پر متعدد ریہرسل کرنی پڑیں گی اور لانچ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ستمبر 2025 میں سابق ناسا ایڈمنسٹریٹر شان ڈیفی نے اعلان کیا تھاکہ '' آرٹیمس II‘‘ مشن کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، ''آرٹیمس III‘‘ کے خلائی مشن کے ذریعے امریکی خلا باز چاند پر لینڈ کریں گے اور وہاں طویل المدتی انسانی موجودگی قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاند پر دوبارہ مشنز سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں امریکی خلا بازوں کو مریخ پر اتارنے کی کوششوں میں مدد کرے گا۔