تنقید نگاری سے توبہ
اسپیشل فیچر
مجھے کتابوں پر ریویو لکھنے میں ملکہ حاصل ہے۔ اور میں انہیں پڑھے بغیر ہی ریویو لکھ سکتا ہوں۔ یہ خدا کی دین ہے، جس طرح بعض لوگ شاعر یا پیدائشی مختصر افسانہ نویس ہوتے ہیں۔ غالباً میں ایک پیدائشی تبصرہ نگار ہوں۔
میرا ریویو کرنے کا طریقہ یہ ہے، ''خیالِ نو‘‘ کا ایڈیٹر جو میرا دوست ہے مجھے کتابیں بھیجتا ہے۔ میں ان کو الٹ کر کسی صفحہ کو کھول کر دو تین سطریں پڑھتا ہوں، مثلاًاس نے کہا ''چائے کی پیالی پیئو‘‘،بھورے خان نے کہا ''شکریہ میں ابھی لیمن پی کر آیا ہوں‘‘اور پھر کتاب کو بند کرکے اس پرتین چار صفحے کاریویو گھسیٹ دیتا ہوں۔ اب تک یہ طریقہ بہت کامیاب رہا تھااور مجھے ادب کا ہونہار ترین نوجوان نقاد تسلیم کیا جاچکا ہے۔
چند دنوں سے تنقید نگاری کی بدولت میں ایک عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ ریویو ئنگ اتنی پر خطر بھی ہوسکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مصیبت کی وجہ سے حالات اس قدر نازک صورت اختیار کرچکے ہیں کہ کتابیں ریویو کرنا تو رہا ایک طرف، میں نے گھر سے باہر نکلنا بھی ترک کردیا ہے اور اب کراچی چھوڑ کر کسی اور جگہ کوچ کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔
مصیبت کا آغازیوں ہوا کہ ''خیالِ نو‘‘ کے ایڈیٹر نے مجھے ایک ناول ریویو کرنے کیلئے دیا۔ میں سمجھا کہ ناول اتنا اہم نہیں ہے،اس کا مصنف کوئی غیر معروف شخص تھا۔ میں نے درمیان سے ایک صفحہ کھولا اور پڑھنے لگا۔ ''میں پاگل ہوں، میں پاگل ہوں‘‘ عبد الشکور نے اپنے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اس کے دوست حکیم عبد العلی نے اس کو اس سے باز رکھنے کیلئے کشمکش کی۔
میں نے کتاب کو ایک اور جگہ سے الٹا۔ یہاں اس قسم کے نادر جواہرات جڑے تھے، اگر عبد الشکور اپنے تحت الشعور کو کسی طرح اپنے لاشعور میں مدغم کرسکتا ہے تو اس کی نفسیاتی الجھنوں کا خاتمہ ہوجاتااور اس کو ملازمت مل جاتی۔ اس کے مکان کا پچھلے دو ماہ کا کرایہ خود بخود ادا ہوجاتا اور اس کے قرض خواہ اس کی خوش طبعی سے متاثر ہوکر اپنے پچھلے قرضے مانگنے کی بجائے اسے اور قرضہ دینے پر اصرار کرتے۔ مگر افسوس کہ عبد الشکور محض دس جماعتوں تک پڑھا تھا۔ افسوس اس نے ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کی کتاب ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی تھی۔ افسوس اس نے آندرے ژید نہیں پڑھا تھا۔ افسوس وہ بصد کوشش جمیز جائس کی اولیسس کو ایک صفحے سے آگے پڑھنے میں کامیاب نہ ہوا تھا، اب وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو جائے گا۔
یہ کافی تھا اور میں کتاب کو بند کرکے اس پر ریویو لکھنے بیٹھ گیا۔پندر منٹ میں، میں نے چھ صفحے کا ریویولکھ ڈالا ۔ میں نے لکھا کہ اس ناول میں مصنف محترم ذوالفقار خان نے ایک بے کار تعلیم یافتہ نوجوان کے جذبات کی فرائڈین نقطہ نظر سے تجزیہ نفسی کرنے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتے۔ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ہوبہو عکاسی کرتے ہیں مگر ان کی رومانیت پرستی سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ابھی انہیں فعل نگارش کے متعلق بہت کچھ سیکھنا ہے اور نفسیات کی سب کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ ان کے ناول سے گمان ہوتا ہے کہ عبد الشکور نے (جو غالباً مصنف خود ہی ہے ) ابھی تک ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی، آندرے ژید نہیں پڑھا۔ مطالعہ کے بغیر وہ ہمیں کیسے کوئی ٹھوس یا جامد تخلیق دے سکتے ہیں۔ محترم ذوالفقار خان چینی کلاسیکل مصنف چنگ پھنگ پھوں سے بے حد متاثر معلوم ہوتے ہیں ( یہ نام میں نے اسی وقت فرضی گھڑلیا تھا) اور انھوں نے اپنے ناول کے پلاٹ کے سلسلہ میں مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول ''چیکو! چیکو‘‘ سے کسی حد تک استفادہ کیا ہے۔
ایڈیٹر ''خیالِ نو‘‘ کہ یہ ریویو حوالہ کردینے کے بعد میں اس کے اور محترم ذوالفقار خان کے متعلق سب کچھ بھول گیا۔جب یہ ریویو ''خیالِ نو‘‘ میں چھپا تو اس سے تین چار روز بعد مجھے محترم ذوالفقار خان کا خط موصول ہوا۔ جس میں انھوں نے میرے حوصلہ افزا ریویو کا شکریہ ادا کیا تھا اور مجھے یقین دلایا تھا کہ انھوں نے چنگ پھنگ پھوں کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ اور اگر ان کے ناول کی مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول سے کچھ مشابہت ہے تو اسے محض اتفاق پر محمول کیا جاسکتا ہے۔
میرا خیال تھا معاملہ یہیں پر ختم ہوجائے گا۔ دوسرے دن میں ابھی بستر سے نکل کر شیو ہی کر رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ منہ صابن کے جھاگ میں لتھڑا ہوا ہاتھ میں برش، اس حلیہ میں میں نے دروازے کو تھوڑا سا کھول کر محتاطِ انداز میں باہر سر نکالا۔
''کیاآپ ہی شداد پشمی ہیں!‘‘ ایک کھپے دار مونچھوں والا خطرناک شکل کا انسان دروازے کے پاس کھڑا تھا۔''ہاں! مجھے یہی کہاجاتا ہے‘‘ میں نے کہا، ''آپ کی تعریف؟‘‘۔ ''میں ذوالفقار خان ہوں اور آپ کے حوصلہ افزاریویو کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں‘‘۔
میں نے کہا ''اخاہ۔ ذوالفقار صاحب۔ آیئے آیئے اندر تشریف لائیے۔ وہ اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا اور میں ہاتھ میں برش پکڑے اس کے سامنے والے صوفے پر۔''ہاں وہ چینی کتاب ''چیکو!چیکو‘‘ آپ کے پاس ضرور ہو گی۔ آپ نے اپنے ریویو میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ وہ نہیں تو چنگ پھنگ پھوں کا کوئی دوسرا شاہکار‘‘،اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔''وہ کتاب ''چیکو! چیکو!‘‘ ہاں! مجھے یاد آیا میں کل ہی تو اسے پڑھ رہا تھا۔ ''اور پنگ پانگ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے‘‘ ذوالفقار خان نے پوچھا۔''اچھا لکھتا ہے‘‘ میں نے جواب دیا۔ اگرچہ میں نے اس کا نام کبھی نہیں سنا تھا۔
''معاف کیجئے۔‘‘ مسٹر ذوالفقار خان نے یک لخت اْٹھتے ہوئے کہا: پنگ پانگ کے متعلق آپ کے ان ارشادات کو میں یہاں کے ہر ادیب تک پہنچانے کی کوشش کروں گا خاطر جمع رکھیئے اور ویسے جاتے جاتے یہ عرض کردوں کہ پنگ پانگ ایک کھیل کا نام ہے۔