ناسا کی نظر میں حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں
اسپیشل فیچر
سائنس فکشن فلمیں عموماً تخیل، مہم جوئی اور حیرت انگیز مناظر کا حسین امتزاج ہوتی ہیں، مگر بہت کم ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سائنسی حقائق کی درست ترجمانی بھی کریں۔ ناسا نے فلموں کی ایک حیران کن فہرست شیئر کی ہے جنہیں وہ اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست فلموں میں شمار کرتا ہے۔ یہ فلمیں تقریباً ایک صدی پر محیط سینما کی تاریخ پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں خاموش دور کی کلاسک فلموں سے لے کر جدید بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں کو اس لیے سراہا گیا ہے کہ یہ محض خیالی عناصر پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی سائنسی اصولوں کا احترام کرتی ہیں۔ ناسا اور اس سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی بالکل درست پیش گوئی کی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سائنس، سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جائے۔
''گیٹاکا‘‘ (Gattaca) اور ''جراسک پارک‘‘ جیسی فلموں کو جینیات، ڈی این اے اور پیچیدہ نظاموں کی حقیقت سے قریب تر عکاسی پر سراہا گیا۔ اسی طرح ''کانٹیکٹ‘‘ (Contact) اور ''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘ (The Day the Earth Stood Still) کو خلائی تحقیق، ریڈیو فلکیات اور ماورائے ارضی مخلوق سے رابطے کی حقیقت پسندانہ منظرکشی کے باعث فہرست میں شامل کیا گیا۔حتیٰ کہ ابتدائی دور کی سائنس فکشن فلمیں، جیسے 1927ء میں ریلیز ہونے والی ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) اور 1929ء کی ''وومن اِن دی مون‘‘ (Woman in the Moon) کو بھی راکٹ سائنس کے سماجی اور اخلاقی اثرات کو اجاگر کرنے پر سراہا گیا۔
ناسا کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں سائنس کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور ان میں جادوئی حل کے بجائے محتاط تجربات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔
''گیٹاکا‘‘(1997ء)
یہ کہانی ایک ایسے مستقبل میں ترتیب دی گئی ہے جہاں انسانوں کو ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ معاشرہ جینیاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے، جہاں ویلیڈز (Valids) یعنی جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے افراد کو مراعات حاصل ہیں، جبکہ اِن ویلیڈز (In Valids) یعنی قدرتی طور پر پیدا ہونے والے لوگ کمتر اور معمولی ملازمتوں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ فلم تقدیر اور عزم کے درمیان کشمکش اور انسانی حوصلے کی حیاتیات پر برتری جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔
''کانٹیکٹ ‘‘(1997ء)
ایک ریڈیو فلکیات دان، جس کا کردار جوڈی فوسٹر نے ادا کیا ہے، ایک خلائی سگنل دریافت کرتی ہے۔ جب سائنس دان اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فلم میں انسانیت اور ماورائے ارضی زندگی کے درمیان پہلے رابطے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ''کانٹیکٹ‘‘ کو اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست خلائی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مشہور فلکیات دان کارل سیگن کے ناول پر مبنی ہے۔ ناسا نے فلم میں ریڈیو فلکیات کی حقیقت پسندانہ عکاسی، سائنسی شکوک و شبہات اور بڑے خلائی منصوبوں کے پیچھے موجود سیاسی اور مالی مشکلات اور ماورائے ارضی سگنلز کی تلاش کے سائنسی طریقہ کار کو غیر معمولی حد تک حقیقت کے قریب قرار دیا۔
''میٹروپولس‘‘(1927ء)
یہ جرمن اظہاریت پسند سائنس فکشن خاموش فلم ایک مستقبل کے شہر میں ترتیب دی گئی ہے، جو شاندار زندگی گزارنے والے اشرافیہ اور مظلوم مزدور طبقے میں منقسم ہے۔ اپنی قدامت کے باوجود ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) کو ٹیکنالوجی، خودکاری اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں دوراندیشانہ نظریے پر سراہا گیا ہے۔ ناسا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فلم نے انسانی محنت کے متبادل مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات سے متعلق اخلاقی مسائل کو درست انداز میں پیش کیا۔
''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘(1951ء)
یہ کلاسک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ایک خلائی مہمان ''کلاٹو‘‘ واشنگٹن میں اترتا ہے، جس کے ساتھ ایک طاقتور روبوٹ ''گارٹ‘‘ بھی ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے سخت انتباہ پیش کرتا ہے کہ تشدد اور جوہری ہتھیار چھوڑ دو یا تباہی کا سامنا کرو۔ناسا نے اس فلم کی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے سنجیدہ انداز کو نمایاں کیا ہے، جس میں خلائی مخلوق کو درندوں کی طرح نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور منطقی حیثیت رکھنے والے وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
''وومن اِن دی مون‘‘ (1929ء)
یہ ایک جرمن خاموش سائنس فکشن فلم ہے جو چاند پر ایک مشن کے گرد گھومتی ہے، جس کی بنیاد چاند کے سونے کی لالچ پر رکھی گئی ہے۔فلم میں خلائی سفر کے ابتدائی دورکی منظرکشی کی گئی ہے، جیسے کاؤنٹ ڈاؤن اور صفر کشش ثقل کے مناظر۔
دی تھنگ فرام اَنادر ورلڈ (1951)
یہ ایک کلاسک سیاہ و سفید سائنس فکشن ہارر فلم ہے، جو سائنس دانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے جو ایک دور دراز آرکٹک چوکی پر ایک خونخوار، پودے نما خلائی مخلوق سے لڑ رہے ہیں، جو برف میں جمی ہوئی دریافت کی گئی تھی۔ جب یہ مخلوق پگھلتی ہے تو گروپ کو اس خطرے کو سمجھنے اور روکنے کیلئے سائنسی منطق اور تجربات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
''جراسک پارک‘‘ (1993ء)
یہ ایک انقلابی سائنس فکشن ایڈونچر فلم ہے، جسے اسٹیون اسپیلبرگ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ فلم ایک ارب پتی کے تھیم پارک کے گرد گھومتی ہے، جہاں کلون شدہ ڈائنوسارز ایک دور دراز جزیرے پر رکھے گئے ہیں، لیکن ایک سکیورٹی ناکامی کے باعث یہ مخلوق فرار ہو جاتی ہے اور لوگوں کا شکار شروع کر دیتی ہے۔اگرچہ ڈائنو سارز کی کلوننگ خیالی ہے۔
ناسا کے سائنس دانوں نے جراسک پارک کو ڈی این اے، جینیات تھیوری کی درست وضاحت کیلئے سراہا ہے۔فلم درست طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹے عوامل پیچیدہ نظاموں میں تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جو ایک حقیقی سائنسی اصول ہے۔