پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ
اسپیشل فیچر
تحقیق اور تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پنیر ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو نہ صرف پروٹین اور کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ ہضم ہونے میں بھی آسان ترین غذا میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پنیر کا اعتدال سے استعمال انسانی صحت کیلئے بے حد مفید ہے، جبکہ بے اعتدالی یا زیادہ پکا کر کھانے سے بدہضمی کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ بچوں، خصوصاً دودھ پلانے والی ماں کے بچے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کی نشوؤنما اور ہڈیوں و دانتوں کی مضبوطی کیلئے کیلشیم کی وافر مقدار ضروری ہے، جو پنیر میں موجود ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں پنیر کی اہمیت اور افادیت کو سب سے زیادہ تسلیم سوئٹزرلینڈ نے کیا ہے، جہاں ایک ''پنیر یونیورسٹی‘‘ قائم ہے، جہاں پنیر پر ڈپلومہ کورسز اور اور ڈگری بھی کروائی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک اور اٹلی بھی پنیر کی تیاری میں ممتاز ہیں۔ اٹلی کو اس صنعت میں سب پر فوقیت حاصل ہے۔
تحقیق کرنے والوں کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پنیر ہی ایک مکمل غذا ہے جو زودہضم بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ اس سے بدہضمی کی شکایت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اسے بے اعتدالی سے کھایا جاتا ہے یا جلدی کھایا جائے۔ اسے تیار کرنے میں اگر زیادہ پکایا جائے تو یہ ربڑی کی طرح ہوجاتا ہے اور ہضم ہونے میں کافی وقت لیتا ہے جس سے بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے ۔ اس صورت میں اس کی غذائی اہمیت کم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ اپنی غذائیت کھودیتا ہے ۔
پنیر گوشت یا دیگر پروٹینز والی غذائوں کا ایک بہتر نعم البدل ہوسکتا ہے ۔ خصوصاً دودھ پلانے والی مائوں اور ان بچوں کیلئے تو بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی نشوونما کیلئے ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کی خاطر کیلشیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور پنیر میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔
پنیرکی تیاری
پنیر کو بہتر طریقے سے حاصل کرنے کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ انہی میں ایک ولایتی طریقہ بھی ہے ۔ اس کے تحت کچے دودھ کو ایک برتن میں ڈال کر اس میں ایک دوائی ملائی جاتی ہے جسے ''رینیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ گولی، لیکوئیڈ اور سفوف تینوں شکلوں میں دستیاب ہے ۔ جب اسے کچے دودھ میں ملایا جاتا ہے تو دودھ فوراً جم جاتا ہے اور توڑالگ ہوجاتا ہے ۔ پھر اسے ایک صاف کپڑے میں باندھ کر کسی اونچی جگہ پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ جس کے سبب توڑے کا سارا پانی آہستہ آہستہ ٹپک کر نکل جاتا ہے ۔ اس کے بعد چھینے میں بقدر ضرورت نمک ملایا جاتا ہے ۔ پھر اسے مشین یا کسی دوسرے طریقے سے خوب دبایا جاتا ہے تاکہ اس کا باقی ماندہ پانی بھی نکل جائے۔اس کے بعد اسے کافی دیر رکھ کر سڑاتے ہیں جس سے دودھ کی چینی والا حصہ کھٹائی کی شکل میں منتقل ہو جاتا ہے اور کیسین کا جز بھی نئی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔یوں مکمل طور پر پنیر تیار ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے ۔ اس طریقہ سے تیار کئے ہوئے پنیر میں پروٹین، چربی اور نمک4.14 فیصد سے لے کر 7 فیصد اور پانی 30 سے 62 فیصد ہوتا ہے ۔