جَنے :مٹی سے بنی تہذیب
اسپیشل فیچر
افریقہ کے مغربی خطے میں واقع ملک مالی کا قدیم شہر جَنے (Djenné) تاریخ، تہذیب اور فنِ تعمیر کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جو صدیوں سے انسانی تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی شعور کی گواہی دے رہا ہے۔ دریائے نائجر کے سیلابی میدان میں آباد یہ شہر بظاہر سادہ سا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی بنیادوں میں علم، تجارت، مذہب اور ثقافت کی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں جو اسے دنیا کے عظیم تاریخی شہروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ جَنے کو خاص طور پر اس کی مٹی سے بنی شاندار عمارتوں اور عظیم مسجد کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔
جَنے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ شہر افریقہ کے قدیم تجارتی راستوں پر واقع تھا، جہاں سے سونا، نمک، اناج اور دیگر اشیا کا تبادلہ ہوتا تھا۔ شمالی افریقہ اور صحرائے اعظم کے پار آنے والے قافلے یہاں قیام کرتے اور یوں جَنے تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ اسی تجارتی سرگرمی نے اس شہر کو خوشحالی بخشی اور اسے افریقہ کی ترقی میں مرکزی کردار عطا کیا۔
اسلام کی آمد نے جَنے کی شناخت کو ایک نیا رخ دیا۔ تیرہویں صدی میں اسلام یہاں مضبوطی سے قائم ہوا اور جَنے جلد ہی علم و دین کا مرکز بن گیا۔ اگرچہ تیمبکتو کو زیادہ شہرت ملی، مگر جَنے بھی قرآنی تعلیم، فقہ اور دینی علوم کے حوالے سے کم اہم نہ تھا۔ یہاں کے مدارس اور علماء پورے خطے میں جانے جاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
جَنے کی سب سے نمایاں اور عالمی شہرت یافتہ علامت عظیم مسجد جَنے (Great Mosque Of Djenné)ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی عمارت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد پہلی بار تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی، تاہم موجودہ عمارت 1907ء میں روایتی طرزتعمیر کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ افریقی فن تعمیر کا ایک زندہ شاہکار ہے۔
مسجد جَنے کی تعمیر میں مٹی، بھوسے اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، جسے مقامی زبان میں بانکو (Banco) کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کے بلند مینار، لکڑی کے شہتیر اور متوازن ساخت دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد شہر کے تمام باشندے مل کر مسجد پر نئی مٹی چڑھاتے ہیں۔ یہ عمل صرف مرمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہذیبی روایت ہے، جو اتحاد، تعاون اور ورثے سے وابستگی کی بہترین مثال ہے۔
جَنے کا قدیم شہر بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تنگ گلیاں، مٹی سے بنے مکانات، لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کا طرز تعمیر نہ صرف خوبصورت بلکہ موسمی حالات کے عین مطابق ہے۔ گرمی میں یہ عمارتیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور سردی میں حرارت کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ قدرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کا ایک عملی مظہر ہے۔
ثقافتی اعتبار سے جَنے مغربی افریقہ کی روایات کا امین ہے۔ یہاں کے بازار، خاص طور پر پیر کے روز لگنے والا مشہور بازار، آج بھی تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس بازار میں آس پاس کے دیہات سے لوگ اناج، مویشی، کپڑا اور دستکاری کی اشیا فروخت کرنے آتے ہیں۔ یہ منظر صدیوں پرانی تجارتی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جَنے کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ تاہم اس اعزاز کے ساتھ ساتھ تحفظ کے مسائل بھی سامنے آئے۔ موسمی تبدیلیاں، سیلاب، جدید تعمیرات اور سیاسی عدم استحکام اس شہر کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود مقامی آبادی اپنی روایت اور ورثے کو بچانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔
اخباری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جَنے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عظمت صرف پتھر اور فولاد میں نہیں بلکہ مٹی جیسے سادہ عنصر میں بھی پوشیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ شہر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ ترقی کا مطلب جدید مواد اور بلند عمارتیں ہیں۔ جَنے کی مٹی کی عمارتیں ثابت کرتی ہیں کہ پائیدار اور ماحول دوست طرزِ زندگی صدیوں پہلے بھی موجود تھا۔
آج جَنے ایک خاموش مگر بامعنی پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اپنی جڑوں سے جڑی رہیں تو وقت کے طوفان بھی انہیں مٹا نہیں سکتے۔ علم، ایمان، تجارت اور اجتماعی شعور کا یہ امتزاج جَنے کو محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی علامت بنا دیتا ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جَنے، مالی افریقہ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ماضی اور حال کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ شہر آج بھی مٹی کی دیواروں کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سادگی، اجتماعیت اور روایت میں ہی اصل پائیدار عظمت پوشیدہ ہے۔