جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

جَنے :مٹی سے بنی تہذیب

اسپیشل فیچر

تحریر : دانیال حسن چغتائی


افریقہ کے مغربی خطے میں واقع ملک مالی کا قدیم شہر جَنے (Djenné) تاریخ، تہذیب اور فنِ تعمیر کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جو صدیوں سے انسانی تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی شعور کی گواہی دے رہا ہے۔ دریائے نائجر کے سیلابی میدان میں آباد یہ شہر بظاہر سادہ سا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی بنیادوں میں علم، تجارت، مذہب اور ثقافت کی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں جو اسے دنیا کے عظیم تاریخی شہروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ جَنے کو خاص طور پر اس کی مٹی سے بنی شاندار عمارتوں اور عظیم مسجد کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔
جَنے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ شہر افریقہ کے قدیم تجارتی راستوں پر واقع تھا، جہاں سے سونا، نمک، اناج اور دیگر اشیا کا تبادلہ ہوتا تھا۔ شمالی افریقہ اور صحرائے اعظم کے پار آنے والے قافلے یہاں قیام کرتے اور یوں جَنے تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ اسی تجارتی سرگرمی نے اس شہر کو خوشحالی بخشی اور اسے افریقہ کی ترقی میں مرکزی کردار عطا کیا۔
اسلام کی آمد نے جَنے کی شناخت کو ایک نیا رخ دیا۔ تیرہویں صدی میں اسلام یہاں مضبوطی سے قائم ہوا اور جَنے جلد ہی علم و دین کا مرکز بن گیا۔ اگرچہ تیمبکتو کو زیادہ شہرت ملی، مگر جَنے بھی قرآنی تعلیم، فقہ اور دینی علوم کے حوالے سے کم اہم نہ تھا۔ یہاں کے مدارس اور علماء پورے خطے میں جانے جاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
جَنے کی سب سے نمایاں اور عالمی شہرت یافتہ علامت عظیم مسجد جَنے (Great Mosque Of Djenné)ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی عمارت سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد پہلی بار تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی، تاہم موجودہ عمارت 1907ء میں روایتی طرزتعمیر کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ افریقی فن تعمیر کا ایک زندہ شاہکار ہے۔
مسجد جَنے کی تعمیر میں مٹی، بھوسے اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، جسے مقامی زبان میں بانکو (Banco) کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کے بلند مینار، لکڑی کے شہتیر اور متوازن ساخت دیکھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے بعد شہر کے تمام باشندے مل کر مسجد پر نئی مٹی چڑھاتے ہیں۔ یہ عمل صرف مرمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہذیبی روایت ہے، جو اتحاد، تعاون اور ورثے سے وابستگی کی بہترین مثال ہے۔
جَنے کا قدیم شہر بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تنگ گلیاں، مٹی سے بنے مکانات، لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کا طرز تعمیر نہ صرف خوبصورت بلکہ موسمی حالات کے عین مطابق ہے۔ گرمی میں یہ عمارتیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور سردی میں حرارت کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ قدرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی کا ایک عملی مظہر ہے۔
ثقافتی اعتبار سے جَنے مغربی افریقہ کی روایات کا امین ہے۔ یہاں کے بازار، خاص طور پر پیر کے روز لگنے والا مشہور بازار، آج بھی تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس بازار میں آس پاس کے دیہات سے لوگ اناج، مویشی، کپڑا اور دستکاری کی اشیا فروخت کرنے آتے ہیں۔ یہ منظر صدیوں پرانی تجارتی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جَنے کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ تاہم اس اعزاز کے ساتھ ساتھ تحفظ کے مسائل بھی سامنے آئے۔ موسمی تبدیلیاں، سیلاب، جدید تعمیرات اور سیاسی عدم استحکام اس شہر کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود مقامی آبادی اپنی روایت اور ورثے کو بچانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔
اخباری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جَنے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عظمت صرف پتھر اور فولاد میں نہیں بلکہ مٹی جیسے سادہ عنصر میں بھی پوشیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ شہر اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ ترقی کا مطلب جدید مواد اور بلند عمارتیں ہیں۔ جَنے کی مٹی کی عمارتیں ثابت کرتی ہیں کہ پائیدار اور ماحول دوست طرزِ زندگی صدیوں پہلے بھی موجود تھا۔
آج جَنے ایک خاموش مگر بامعنی پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اپنی جڑوں سے جڑی رہیں تو وقت کے طوفان بھی انہیں مٹا نہیں سکتے۔ علم، ایمان، تجارت اور اجتماعی شعور کا یہ امتزاج جَنے کو محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی علامت بنا دیتا ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جَنے، مالی افریقہ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ماضی اور حال کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ شہر آج بھی مٹی کی دیواروں کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سادگی، اجتماعیت اور روایت میں ہی اصل پائیدار عظمت پوشیدہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ناسا کی نظر میں  حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

ناسا کی نظر میں حقیقت سے قریب ترین سائنس فکشن فلمیں

سائنس فکشن فلمیں عموماً تخیل، مہم جوئی اور حیرت انگیز مناظر کا حسین امتزاج ہوتی ہیں، مگر بہت کم ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو تفریح کے ساتھ ساتھ سائنسی حقائق کی درست ترجمانی بھی کریں۔ ناسا نے فلموں کی ایک حیران کن فہرست شیئر کی ہے جنہیں وہ اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست فلموں میں شمار کرتا ہے۔ یہ فلمیں تقریباً ایک صدی پر محیط سینما کی تاریخ پر پھیلی ہوئی ہیں، جن میں خاموش دور کی کلاسک فلموں سے لے کر جدید بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں کو اس لیے سراہا گیا ہے کہ یہ محض خیالی عناصر پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی سائنسی اصولوں کا احترام کرتی ہیں۔ ناسا اور اس سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق سائنسی درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی بالکل درست پیش گوئی کی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سائنس، سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ ''گیٹاکا‘‘ (Gattaca) اور ''جراسک پارک‘‘ جیسی فلموں کو جینیات، ڈی این اے اور پیچیدہ نظاموں کی حقیقت سے قریب تر عکاسی پر سراہا گیا۔ اسی طرح ''کانٹیکٹ‘‘ (Contact) اور ''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘ (The Day the Earth Stood Still) کو خلائی تحقیق، ریڈیو فلکیات اور ماورائے ارضی مخلوق سے رابطے کی حقیقت پسندانہ منظرکشی کے باعث فہرست میں شامل کیا گیا۔حتیٰ کہ ابتدائی دور کی سائنس فکشن فلمیں، جیسے 1927ء میں ریلیز ہونے والی ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) اور 1929ء کی ''وومن اِن دی مون‘‘ (Woman in the Moon) کو بھی راکٹ سائنس کے سماجی اور اخلاقی اثرات کو اجاگر کرنے پر سراہا گیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں سائنس کو سنجیدگی سے لیتی ہیں اور ان میں جادوئی حل کے بجائے محتاط تجربات، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔ ''گیٹاکا‘‘(1997ء)یہ کہانی ایک ایسے مستقبل میں ترتیب دی گئی ہے جہاں انسانوں کو ان کے ڈی این اے کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ معاشرہ جینیاتی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے، جہاں ویلیڈز (Valids) یعنی جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے افراد کو مراعات حاصل ہیں، جبکہ اِن ویلیڈز (In Valids) یعنی قدرتی طور پر پیدا ہونے والے لوگ کمتر اور معمولی ملازمتوں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ فلم تقدیر اور عزم کے درمیان کشمکش اور انسانی حوصلے کی حیاتیات پر برتری جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔''کانٹیکٹ ‘‘(1997ء)ایک ریڈیو فلکیات دان، جس کا کردار جوڈی فوسٹر نے ادا کیا ہے، ایک خلائی سگنل دریافت کرتی ہے۔ جب سائنس دان اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فلم میں انسانیت اور ماورائے ارضی زندگی کے درمیان پہلے رابطے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ''کانٹیکٹ‘‘ کو اب تک بننے والی سب سے زیادہ سائنسی طور پر درست خلائی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مشہور فلکیات دان کارل سیگن کے ناول پر مبنی ہے۔ ناسا نے فلم میں ریڈیو فلکیات کی حقیقت پسندانہ عکاسی، سائنسی شکوک و شبہات اور بڑے خلائی منصوبوں کے پیچھے موجود سیاسی اور مالی مشکلات اور ماورائے ارضی سگنلز کی تلاش کے سائنسی طریقہ کار کو غیر معمولی حد تک حقیقت کے قریب قرار دیا۔''میٹروپولس‘‘(1927ء)یہ جرمن اظہاریت پسند سائنس فکشن خاموش فلم ایک مستقبل کے شہر میں ترتیب دی گئی ہے، جو شاندار زندگی گزارنے والے اشرافیہ اور مظلوم مزدور طبقے میں منقسم ہے۔ اپنی قدامت کے باوجود ''میٹروپولس‘‘ (Metropolis) کو ٹیکنالوجی، خودکاری اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں دوراندیشانہ نظریے پر سراہا گیا ہے۔ ناسا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فلم نے انسانی محنت کے متبادل مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات سے متعلق اخلاقی مسائل کو درست انداز میں پیش کیا۔''دی ڈے دی ارتھ اسٹوڈ اسٹل‘‘(1951ء)یہ کلاسک سائنس فکشن فلم ہے جس میں ایک خلائی مہمان ''کلاٹو‘‘ واشنگٹن میں اترتا ہے، جس کے ساتھ ایک طاقتور روبوٹ ''گارٹ‘‘ بھی ہوتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے سخت انتباہ پیش کرتا ہے کہ تشدد اور جوہری ہتھیار چھوڑ دو یا تباہی کا سامنا کرو۔ناسا نے اس فلم کی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے سنجیدہ انداز کو نمایاں کیا ہے، جس میں خلائی مخلوق کو درندوں کی طرح نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور منطقی حیثیت رکھنے والے وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔''وومن اِن دی مون‘‘ (1929ء)یہ ایک جرمن خاموش سائنس فکشن فلم ہے جو چاند پر ایک مشن کے گرد گھومتی ہے، جس کی بنیاد چاند کے سونے کی لالچ پر رکھی گئی ہے۔فلم میں خلائی سفر کے ابتدائی دورکی منظرکشی کی گئی ہے، جیسے کاؤنٹ ڈاؤن اور صفر کشش ثقل کے مناظر۔ دی تھنگ فرام اَنادر ورلڈ (1951)یہ ایک کلاسک سیاہ و سفید سائنس فکشن ہارر فلم ہے، جو سائنس دانوں اور فضائیہ کے اہلکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے جو ایک دور دراز آرکٹک چوکی پر ایک خونخوار، پودے نما خلائی مخلوق سے لڑ رہے ہیں، جو برف میں جمی ہوئی دریافت کی گئی تھی۔ جب یہ مخلوق پگھلتی ہے تو گروپ کو اس خطرے کو سمجھنے اور روکنے کیلئے سائنسی منطق اور تجربات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔''جراسک پارک‘‘ (1993ء)یہ ایک انقلابی سائنس فکشن ایڈونچر فلم ہے، جسے اسٹیون اسپیلبرگ نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ فلم ایک ارب پتی کے تھیم پارک کے گرد گھومتی ہے، جہاں کلون شدہ ڈائنوسارز ایک دور دراز جزیرے پر رکھے گئے ہیں، لیکن ایک سکیورٹی ناکامی کے باعث یہ مخلوق فرار ہو جاتی ہے اور لوگوں کا شکار شروع کر دیتی ہے۔اگرچہ ڈائنو سارز کی کلوننگ خیالی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نے جراسک پارک کو ڈی این اے، جینیات تھیوری کی درست وضاحت کیلئے سراہا ہے۔فلم درست طور پر دکھاتی ہے کہ کس طرح چھوٹے عوامل پیچیدہ نظاموں میں تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جو ایک حقیقی سائنسی اصول ہے۔

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

پنیر: غذائیت کا ایک مکمل خزانہ

تحقیق اور تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پنیر ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو نہ صرف پروٹین اور کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ ہضم ہونے میں بھی آسان ترین غذا میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پنیر کا اعتدال سے استعمال انسانی صحت کیلئے بے حد مفید ہے، جبکہ بے اعتدالی یا زیادہ پکا کر کھانے سے بدہضمی کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ بچوں، خصوصاً دودھ پلانے والی ماں کے بچے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کی نشوؤنما اور ہڈیوں و دانتوں کی مضبوطی کیلئے کیلشیم کی وافر مقدار ضروری ہے، جو پنیر میں موجود ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں پنیر کی اہمیت اور افادیت کو سب سے زیادہ تسلیم سوئٹزرلینڈ نے کیا ہے، جہاں ایک ''پنیر یونیورسٹی‘‘ قائم ہے، جہاں پنیر پر ڈپلومہ کورسز اور اور ڈگری بھی کروائی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک اور اٹلی بھی پنیر کی تیاری میں ممتاز ہیں۔ اٹلی کو اس صنعت میں سب پر فوقیت حاصل ہے۔ تحقیق کرنے والوں کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پنیر ہی ایک مکمل غذا ہے جو زودہضم بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ اس سے بدہضمی کی شکایت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب اسے بے اعتدالی سے کھایا جاتا ہے یا جلدی کھایا جائے۔ اسے تیار کرنے میں اگر زیادہ پکایا جائے تو یہ ربڑی کی طرح ہوجاتا ہے اور ہضم ہونے میں کافی وقت لیتا ہے جس سے بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے ۔ اس صورت میں اس کی غذائی اہمیت کم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ اپنی غذائیت کھودیتا ہے ۔ پنیر گوشت یا دیگر پروٹینز والی غذائوں کا ایک بہتر نعم البدل ہوسکتا ہے ۔ خصوصاً دودھ پلانے والی مائوں اور ان بچوں کیلئے تو بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی نشوونما کیلئے ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کی خاطر کیلشیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور پنیر میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔ پنیرکی تیاریپنیر کو بہتر طریقے سے حاصل کرنے کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ انہی میں ایک ولایتی طریقہ بھی ہے ۔ اس کے تحت کچے دودھ کو ایک برتن میں ڈال کر اس میں ایک دوائی ملائی جاتی ہے جسے ''رینیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ گولی، لیکوئیڈ اور سفوف تینوں شکلوں میں دستیاب ہے ۔ جب اسے کچے دودھ میں ملایا جاتا ہے تو دودھ فوراً جم جاتا ہے اور توڑالگ ہوجاتا ہے ۔ پھر اسے ایک صاف کپڑے میں باندھ کر کسی اونچی جگہ پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ جس کے سبب توڑے کا سارا پانی آہستہ آہستہ ٹپک کر نکل جاتا ہے ۔ اس کے بعد چھینے میں بقدر ضرورت نمک ملایا جاتا ہے ۔ پھر اسے مشین یا کسی دوسرے طریقے سے خوب دبایا جاتا ہے تاکہ اس کا باقی ماندہ پانی بھی نکل جائے۔اس کے بعد اسے کافی دیر رکھ کر سڑاتے ہیں جس سے دودھ کی چینی والا حصہ کھٹائی کی شکل میں منتقل ہو جاتا ہے اور کیسین کا جز بھی نئی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔یوں مکمل طور پر پنیر تیار ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے ۔ اس طریقہ سے تیار کئے ہوئے پنیر میں پروٹین، چربی اور نمک4.14 فیصد سے لے کر 7 فیصد اور پانی 30 سے 62 فیصد ہوتا ہے ۔

تنقید نگاری سے توبہ

تنقید نگاری سے توبہ

مجھے کتابوں پر ریویو لکھنے میں ملکہ حاصل ہے۔ اور میں انہیں پڑھے بغیر ہی ریویو لکھ سکتا ہوں۔ یہ خدا کی دین ہے، جس طرح بعض لوگ شاعر یا پیدائشی مختصر افسانہ نویس ہوتے ہیں۔ غالباً میں ایک پیدائشی تبصرہ نگار ہوں۔ میرا ریویو کرنے کا طریقہ یہ ہے، ''خیالِ نو‘‘ کا ایڈیٹر جو میرا دوست ہے مجھے کتابیں بھیجتا ہے۔ میں ان کو الٹ کر کسی صفحہ کو کھول کر دو تین سطریں پڑھتا ہوں، مثلاًاس نے کہا ''چائے کی پیالی پیئو‘‘،بھورے خان نے کہا ''شکریہ میں ابھی لیمن پی کر آیا ہوں‘‘اور پھر کتاب کو بند کرکے اس پرتین چار صفحے کاریویو گھسیٹ دیتا ہوں۔ اب تک یہ طریقہ بہت کامیاب رہا تھااور مجھے ادب کا ہونہار ترین نوجوان نقاد تسلیم کیا جاچکا ہے۔ چند دنوں سے تنقید نگاری کی بدولت میں ایک عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ ریویو ئنگ اتنی پر خطر بھی ہوسکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مصیبت کی وجہ سے حالات اس قدر نازک صورت اختیار کرچکے ہیں کہ کتابیں ریویو کرنا تو رہا ایک طرف، میں نے گھر سے باہر نکلنا بھی ترک کردیا ہے اور اب کراچی چھوڑ کر کسی اور جگہ کوچ کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔مصیبت کا آغازیوں ہوا کہ ''خیالِ نو‘‘ کے ایڈیٹر نے مجھے ایک ناول ریویو کرنے کیلئے دیا۔ میں سمجھا کہ ناول اتنا اہم نہیں ہے،اس کا مصنف کوئی غیر معروف شخص تھا۔ میں نے درمیان سے ایک صفحہ کھولا اور پڑھنے لگا۔ ''میں پاگل ہوں، میں پاگل ہوں‘‘ عبد الشکور نے اپنے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ اس کے دوست حکیم عبد العلی نے اس کو اس سے باز رکھنے کیلئے کشمکش کی۔میں نے کتاب کو ایک اور جگہ سے الٹا۔ یہاں اس قسم کے نادر جواہرات جڑے تھے، اگر عبد الشکور اپنے تحت الشعور کو کسی طرح اپنے لاشعور میں مدغم کرسکتا ہے تو اس کی نفسیاتی الجھنوں کا خاتمہ ہوجاتااور اس کو ملازمت مل جاتی۔ اس کے مکان کا پچھلے دو ماہ کا کرایہ خود بخود ادا ہوجاتا اور اس کے قرض خواہ اس کی خوش طبعی سے متاثر ہوکر اپنے پچھلے قرضے مانگنے کی بجائے اسے اور قرضہ دینے پر اصرار کرتے۔ مگر افسوس کہ عبد الشکور محض دس جماعتوں تک پڑھا تھا۔ افسوس اس نے ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کی کتاب ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی تھی۔ افسوس اس نے آندرے ژید نہیں پڑھا تھا۔ افسوس وہ بصد کوشش جمیز جائس کی اولیسس کو ایک صفحے سے آگے پڑھنے میں کامیاب نہ ہوا تھا، اب وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو جائے گا۔یہ کافی تھا اور میں کتاب کو بند کرکے اس پر ریویو لکھنے بیٹھ گیا۔پندر منٹ میں، میں نے چھ صفحے کا ریویولکھ ڈالا ۔ میں نے لکھا کہ اس ناول میں مصنف محترم ذوالفقار خان نے ایک بے کار تعلیم یافتہ نوجوان کے جذبات کی فرائڈین نقطہ نظر سے تجزیہ نفسی کرنے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتے۔ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ہوبہو عکاسی کرتے ہیں مگر ان کی رومانیت پرستی سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ابھی انہیں فعل نگارش کے متعلق بہت کچھ سیکھنا ہے اور نفسیات کی سب کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ ان کے ناول سے گمان ہوتا ہے کہ عبد الشکور نے (جو غالباً مصنف خود ہی ہے ) ابھی تک ''سائیکالوجی آف نیوراسس‘‘ نہیں پڑھی، آندرے ژید نہیں پڑھا۔ مطالعہ کے بغیر وہ ہمیں کیسے کوئی ٹھوس یا جامد تخلیق دے سکتے ہیں۔ محترم ذوالفقار خان چینی کلاسیکل مصنف چنگ پھنگ پھوں سے بے حد متاثر معلوم ہوتے ہیں ( یہ نام میں نے اسی وقت فرضی گھڑلیا تھا) اور انھوں نے اپنے ناول کے پلاٹ کے سلسلہ میں مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول ''چیکو! چیکو‘‘ سے کسی حد تک استفادہ کیا ہے۔ ایڈیٹر ''خیالِ نو‘‘ کہ یہ ریویو حوالہ کردینے کے بعد میں اس کے اور محترم ذوالفقار خان کے متعلق سب کچھ بھول گیا۔جب یہ ریویو ''خیالِ نو‘‘ میں چھپا تو اس سے تین چار روز بعد مجھے محترم ذوالفقار خان کا خط موصول ہوا۔ جس میں انھوں نے میرے حوصلہ افزا ریویو کا شکریہ ادا کیا تھا اور مجھے یقین دلایا تھا کہ انھوں نے چنگ پھنگ پھوں کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ اور اگر ان کے ناول کی مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول سے کچھ مشابہت ہے تو اسے محض اتفاق پر محمول کیا جاسکتا ہے۔میرا خیال تھا معاملہ یہیں پر ختم ہوجائے گا۔ دوسرے دن میں ابھی بستر سے نکل کر شیو ہی کر رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ منہ صابن کے جھاگ میں لتھڑا ہوا ہاتھ میں برش، اس حلیہ میں میں نے دروازے کو تھوڑا سا کھول کر محتاطِ انداز میں باہر سر نکالا۔''کیاآپ ہی شداد پشمی ہیں!‘‘ ایک کھپے دار مونچھوں والا خطرناک شکل کا انسان دروازے کے پاس کھڑا تھا۔''ہاں! مجھے یہی کہاجاتا ہے‘‘ میں نے کہا، ''آپ کی تعریف؟‘‘۔ ''میں ذوالفقار خان ہوں اور آپ کے حوصلہ افزاریویو کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں‘‘۔میں نے کہا ''اخاہ۔ ذوالفقار صاحب۔ آیئے آیئے اندر تشریف لائیے۔ وہ اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا اور میں ہاتھ میں برش پکڑے اس کے سامنے والے صوفے پر۔''ہاں وہ چینی کتاب ''چیکو!چیکو‘‘ آپ کے پاس ضرور ہو گی۔ آپ نے اپنے ریویو میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ وہ نہیں تو چنگ پھنگ پھوں کا کوئی دوسرا شاہکار‘‘،اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔''وہ کتاب ''چیکو! چیکو!‘‘ ہاں! مجھے یاد آیا میں کل ہی تو اسے پڑھ رہا تھا۔ ''اور پنگ پانگ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے‘‘ ذوالفقار خان نے پوچھا۔''اچھا لکھتا ہے‘‘ میں نے جواب دیا۔ اگرچہ میں نے اس کا نام کبھی نہیں سنا تھا۔''معاف کیجئے۔‘‘ مسٹر ذوالفقار خان نے یک لخت اْٹھتے ہوئے کہا: پنگ پانگ کے متعلق آپ کے ان ارشادات کو میں یہاں کے ہر ادیب تک پہنچانے کی کوشش کروں گا خاطر جمع رکھیئے اور ویسے جاتے جاتے یہ عرض کردوں کہ پنگ پانگ ایک کھیل کا نام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

گدو بیراج کا افتتاحصدر پاکستان سکندر مرزا نے 1957ء میں آج کے روزدریائے سندھ پر گدو بیراج کی بنیاد رکھی۔ 1962ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس کی تعمیر پر 474.8 ملین روپے لاگت آئی۔ گدو بیراج آبپاشی اور سیلاب سے بچائو کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ1355 میٹر لمبا ہے اور اس میں سے 1.2 کیوسک فٹ پانی گزر سکتا ہے۔ اس بیراج پر بنائی گئی سات میٹر چوڑی سڑک نے لا ہور سے کوئٹہ اور رحیم یار خان سے کشمور کا فاصلہ آدھا کر دیا ہے۔ ''آبی گزر گاہوں کا عالمی دن‘‘2فروری کو دنیا بھر میں ''آبی گزر گاہوں کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کی منظوری آب گاہوں کی اہمیت کے حوالے سے ایران میں منعقدہ ایک کانفرنس میں دی گئی تھی اور پہلی مرتبہ یہ دن1997ء میں منایا گیاتھا۔ آب گاہیں انسان ودیگر حیاتیاتی تنوع کو مختلف طرح سے فائدہ دیتی ہیں اور اسی نسبت سے یہ دن منا کر آب گاہوں کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے۔فٹ بال ٹیم کو ''قید‘‘ کی سزا2فروری 2000ء کو آئیوری کوسٹ کی قومی فٹ بال ٹیم افریقہ کپ کے پہلے مرحلے میں ہار گئی۔ جس کی پاداش میں ملکی آمر نے پوری ٹیم کوچند روز کیلئے فوجی کیمپ میں بند کر دیا۔ جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ٹیم نے بعدازاں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین کھیل پیش کیا۔ ٹیم2006ء سے 2014ء تک فٹ بال کے میدانوں میں نمایاں رہی، فیفا عالمی کپ میں مسلسل تین سال ملک کی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ آئیوری کوسٹ 1992ء میں افریقہ کپ کی فاتح تھی۔ برٹرنڈ رسل کا انتقال 1970ء میں آج کے روز نوبیل انعام یافتہ برطانوی ریاضی دان ، محقق اور نقاد برٹرنڈ رسل کا انتقال ہوا۔وہ 18 مئی 1876ء کوپیدا ہوئے، ان کے والد سر جان رسل انگلستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔ 1890ء میں جامعہ کیمبرج سے ریاضی کی اعلیٰ سند حاصل کی۔ پھر اسی جامعہ میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل چین، کیلیفورنیا اور دیگر ممالک کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا سلسلہ ساری عمر جاری رہا۔راجر فیڈرر کا اعزاز2004 میں سوئس ٹینس کے عظیم کھلاڑی راجر فیڈرر مردوں کی سنگلز رینکنگ میں نمبر 1 بن گئے۔ یہ رینکنگ حاصل کرنا ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل تھا، جو ان کی مسلسل محنت، مہارت اور کھیل کے تئیں لگن کا مظہر تھا۔ فیڈرر نے عالمی ٹینس میں اپنے کھیل کی اعلیٰ معیار کو ثابت کیا اور اس مقام کو ریکارڈ 237 ہفتوں تک برقرار رکھا، جو کسی بھی کھلاڑی کیلئے ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے متعدد گرینڈ سلم ٹائٹلز جیتے اور ٹینس کے عالمی منظرنامے پر اپنی حکمرانی قائم رکھی۔

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

سائنس نے ایک اور راز سے پردہ اٹھا دیااہرامِ مصر صدیوں سے انسانی عقل و فہم کو حیران کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالیہ سائنسی انکشاف نے اس حیرت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کے نیچے تقریباً چار ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک خفیہ اور وسیع میگا اسٹرکچر کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور سائنس دانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی صلاحیتیں ہمارے اندازوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ دریافت نہ صرف اہرام کے مقصد اور ساخت سے متعلق پرانے نظریات کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے اور پراسرار باب کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔جوئے روگن(Joe Rogan) کے پوڈ کاسٹ میں شریک مہمان نے ایسے متنازع اسکینز پر گفتگو کی جن میں عظیم اہرام مصر کے نیچے ایک وسیع و عریض زیر زمین ڈھانچے کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو قدیم تاریخ سے متعلق تصورات کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ اسکین اطالوی سائنس دان فلیپو بیونڈی( Filippo Biondi ) اور خفری پروجیکٹ ٹیم نے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (synthetic aperture radar)کی مدد سے کیے، جو ایک جدید سیٹلائٹ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے اور زمین کے اندرونی خدو خال کو ریڈیو لہروں کے ذریعے نقشہ بند کرتی ہے۔اٹلی اور امریکہ کی مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ 200 سے زائد اسکینز میں یکساں نتائج سامنے آئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 65فٹ قطر کے بڑے ستون موجود ہیں جو پیچ دار شکل میں لپٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 4ہزار فٹ گہرائی تک جاتے ہیں۔ بیونڈی کے مطابق یہ ستون تینوں اہرام اور اسفنکس (Sphinx) کے نیچے موجود 260 فٹ لمبے اور چوڑے مکعب کمروں پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں انہوں نے ''انتہائی بڑے چیمبرز‘‘ قرار دیا۔اسکینز میں تقریباً 2ہزار فٹ گہرائی تک جانے والی شافٹس (عمودی راستے) بھی دکھائے گئے جو 10 فٹ اونچے افقی راستوں سے جڑتے ہیں۔ اس بنیاد پر بیونڈی کا خیال ہے کہ اہرام شاید مقبرے نہیں بلکہ قدیم زمانے کے توانائی گھر (پاور پلانٹس) یا ایسی کمپن پیدا کرنے والی مشینیں ہو سکتی ہیں جو روحانی یا جسم سے باہر تجربات کیلئے استعمال ہوتی ہوں۔جو ئے روگن نے بھی ان انکشافات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقبرے نہیں ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا درست ہوا تو اہرام صرف ''برفانی پہاڑ کی نوک‘‘ ثابت ہوں گے۔بیونڈی نے ان زیر زمین ڈھانچوں کی عمر 18ہزار سے 20ہزار سال بتائی اور انہیں زیپ ٹیپی (Zep Tepi) یعنی اس اساطیری ''پہلے زمانے‘‘ سے جوڑا جب دیوتاؤں کی حکومت تھی اور تہذیب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدیم سمندری پانی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے نمکیاتی آثار کو بھی ایک عظیم طوفان کی علامت قرار دیا، جو اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ اہرام کے نیچے ایک نہایت قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔یہ کمپلیکس تین اہراموں خوفو، خفرع اور منقرع پر مشتمل ہے، جو تقریباً 4,500 سال قبل شمالی مصر میں دریائے نیل کے مغربی کنارے ایک چٹانی سطح مرتفع پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم خفرع اہرام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور ان کے نیچے ایک ایسا زیر زمین جہان چھپا ہوا ہے جسے کسی گمشدہ تہذیب نے تعمیر کیا تھا۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساکھ ہے۔ بیونڈی کے مطابق انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اطالوی فوج کیلئے خفیہ منصوبوں کے دوران تیار کی اور بعدازاں اسے موصل ڈیم اور اٹلی کی گرانڈ ساسو لیبارٹری جیسے حساس مقامات پر بھی آزمایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ شدہ، ہم مرتبہ جانچ شدہ اور نہایت درستگی کیلئے تیار کی گئی ہے، لیکن جب اس کا اطلاق ان اہرام پر کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔ معروف ماہر آثارقدیمہ ڈاکٹر زاہی حواس نے ان اسکینز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے۔بیونڈی نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اور ان کے ساتھی آرمانڈو میئی خود بھی نتائج پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک ڈیٹا روک کر رکھا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ یہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بیونڈی کے مطابق: میری رائے یہ تھی کہ یہ حقیقی نہیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ شور یا ہماری پروسیسنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے بننے والے آرٹی فیکٹس ہیں۔ بالآخر مختلف سیٹلائٹ نظاموں اور معیارات سے تصدیق ہوئی، جن میں اٹلی کے گرانڈ ساسو پارٹیکل کولائیڈر کی درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔ بیونڈی کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیٹا سیٹس میں یکسانیت ہی وہ عنصر تھا جس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ نتائج حقیقی ہیں۔ابتدا میں ٹیم نے صرف اٹلی کے سیٹلائٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا، لیکن بعد ازاں نتائج کی تصدیق کیلئے انہوں نے امریکی کمپنی ''کپیلا سپیس‘‘ (Capella Space) کے سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے بھی تجزیہ کیا، تاکہ مختلف ذرائع سے یکساں شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بیونڈی نے کہاکہ جب ہمیں امریکی سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے بھی وہی نتائج ملے اور دیگر سیٹلائٹس سے بھی ہمیشہ ایک جیسے نتائج سامنے آئے، تو ہم نے انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔مجموعی طور پر 200 سے زائد اسکینز میں ایک جیسے ساختی نمونے سامنے آئے۔جوئے روگن نے نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی دیگر مقامات پر درست ثابت ہو چکی ہے، جن میں اٹلی کی زیر زمین گران ساسو لیبارٹری کی نہایت درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

شناخت،وقار اور آزادی کا عالمی پیغامہر سال یکم فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ حجاب ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک مذہبی علامت کے تعارف یا فروغ تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے حقِ انتخاب، مذہبی آزادی، باوقار شناخت اور سماجی ہم آہنگی کا عالمی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دن کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ حجاب کسی جبر کا نام نہیں بلکہ لاکھوں خواتین کے لیے ایک شعوری انتخاب، ذاتی شناخت اور روحانی سکون کی علامت ہے۔ورلڈ حجاب ڈے کا آغاز 2013ء میں نیویارک کی ایک مسلمان خاتون نظمہ خان نے کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں حجاب پہننے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کیا تھا۔ اسی تجربے نے انہیں اس دن کے اجراپر آمادہ کیا تاکہ غیر مسلم خواتین بھی ایک دن کے لیے حجاب پہن کر اس احساس کو سمجھ سکیں کہ حجاب پہننے والی خواتین کن سماجی رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور لاکھوں خواتین اس مہم میں شریک ہوتی ہیں۔اسلامی تناظر میں حجاب کا تصور صرف لباس تک محدود نہیں۔ یہ حیا، وقار، خود داری اور اخلاقی حدود کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حجاب دراصل عورت کی شخصیت کو اس کی ظاہری نمائش کے بجائے اس کے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے پہچان دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسا پردہ ہے جو عورت کو معاشرے میں تحفظ، اعتماد اور خود اعتمادی فراہم کرتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دنیا میں حجاب کو اکثر غلط فہمیوں اور منفی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض مغربی معاشروں میں اسے خواتین کی آزادی کے منافی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آزادی کا اصل مفہوم انتخاب کا حق ہے اور اگر ایک عورت اپنی مرضی سے حجاب اختیار کرتی ہے تو یہ اس کی آزادی کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ ورلڈ حجاب ڈے انہی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مکالمے کے دروازے کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔یہ دن مسلم خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں حجاب پہننے والی خواتین کو نفرت انگیز رویوں، ملازمت میں رکاوٹوں اور تعلیمی اداروں میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ حجاب ڈے ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی کو بھی کمتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں بھی حجاب پر بحث مختلف زاویوں سے کی جاتی ہے۔ کچھ خواتین حجاب کو اپنی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں جبکہ کچھ اسے ذاتی معاملہ قرار دیتی ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ برداشت، احترام اور مکالمہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر اس دن کی مناسبت سے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ غیر مسلم خواتین کا ایک دن کے لیے حجاب پہننا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ یہ باہمی سمجھ بوجھ اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب لوگ خود کسی تجربے سے گزرتے ہیں تو تعصب کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کی خوبصورتی تنوع میں ہے۔ لباس، عقیدہ یا ثقافت کی بنیاد پر کسی کو جانچنا ناانصافی ہے۔ حجاب پہننے یا نہ پہننے کا فیصلہ ہر عورت کا ذاتی حق ہے، اور اسی حق کے احترام میں ہی حقیقی آزادی مضمر ہے۔ یکم فروری کا دن ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو سمجھیں، قبول کریں اور ایک زیادہ باوقار اور پرامن عالمی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔