''ڈارک سوورڈ‘‘ کروڑوں فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے:ماہرینڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، وہیں سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں آئی فون صارفین ایک ممکنہ طور پر تباہ کن ''ڈارک سوورڈ‘‘ سائبر حملے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس نے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس خطرناک حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے صارفین کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ ان کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا اور نجی زندگی محفوظ رہ سکے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے آگاہی اور احتیاط بھی بے حد ضروری ہے۔سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک نئے خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے جو کروڑوں آئی فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ گوگل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق، اس مالویئر کو ''ڈارک سوورڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو ہیکرز کو آلات میں داخل ہونے اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈارک سوورڈ ''iOS‘‘ اور ''Safari‘‘ میں چھ الگ الگ خامیوں کو ایک ساتھ جوڑتا ہے، جس سے حملہ آور کسی بھی ہدف شدہ ڈیوائس پر خاموشی سے مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ خامیاں ''iOS‘‘ کے ورژن 18.4 سے 18.7 والے آئی فونز کو متاثر کرتی ہیں اور صارف کی جانب سے مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں، بس کسی نقصان دہ یا ہیک شدہ ویب سائٹ پر جانا کافی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد گروہ پہلے ہی اس ٹول کو حقیقی دنیا میں استعمال کر رہے ہیں، جن میں تجارتی جاسوسی کرنے والی کمپنیاں اور ریاستی سطح کے ہیکرز شامل ہیں۔یہ سرگرمی سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور یوکرین میں نوٹ کی گئی ہے۔ایپل کے ترجمان نے کہا کہ یہ خامیاں پرانے سافٹ ویئر کو ہدف بنا رہی تھیں، اور بنیادی خامیوں کو حالیہ برسوں میں کئی اپ ڈیٹس میں دور کر دیا گیا ہے، جو صارفین اپنے آلات کے تازہ ترین ورژنز پر چلا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا اب بھی صارفین کیلئے سب سے اہم اقدام ہے تاکہ وہ اپنے ایپل ڈیوائسز کی اعلیٰ سکیورٹی برقرار رکھ سکیں۔ماہرین نے ان صارفین کو ہدایت دی ہے جو ایسے حملوں کا ہدف بننے کا شبہ رکھتے ہیں، خاص طور پر صحافی، کارکنان یا وہ لوگ جو حساس معلومات ہینڈل کرتے ہیں کہ وہ ایپل کا لاک ڈاؤن موڈ فعال کریں۔ یہ کرنے کیلئے Settings میں جائیں، ''Privacy & Security‘‘ منتخب کریں،''Lockdown Mode‘‘ پر ٹیپ کریں اور ہدایات کے مطابق اسے آن کرکے ڈیوائس کو ری اسٹارٹ کریں۔سائبر سکیورٹی فرم Lookout، موبائل سکیورٹی کمپنی iVerify اور گوگل کے محققین نے ڈارک سوورڈ پر مربوط تجزیے شائع کیے، جن میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ آئی فونز اور Safari براؤزر میں موجود کئی چھپی ہوئی خامیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اس سے حملہ آور کسی ڈیوائس پر خفیہ طور پر مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں، جو ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فون کو اپ ڈیٹ رکھنا کتنا ضروری ہے۔کچھ معاملات میں حملہ آور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے جعلی ویب سائٹس یا ایپس بناتے ہیں، جیسے کہ Snapchat کا نقلی ورژن، جبکہ بعض میں وہ قانونی ویب سائٹس، بشمول ایک سرکاری ویب سائٹ، کو ہیک کر لیتے ہیں۔ایک بار فون متاثر ہو جائے تو ہیکرز اپنے مقصد کے مطابق مختلف قسم کے جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ان میں سے ایک ورژن، جسے ''Ghostblade‘‘ کہا جاتا ہے، بہت بڑی مقدار میں ذاتی معلومات چرانے کیلئے بنایا گیا ہے۔اس میں ٹیکسٹ میسجز، کال ہسٹری، رابطے، تصاویر، ای میلز، پاس ورڈز، مقام کی معلومات، براؤزنگ ہسٹری اور یہاں تک کہ iCloud میں محفوظ فائلیں شامل ہیں۔یہ WhatsApp اور Telegram جیسی ایپس کے پیغامات تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مالویئر کرپٹو کرنسی ایپس اور والٹس کو بھی تلاش کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل اثاثے یا حساس مالی معلومات بھی چرا سکتا ہے۔کچھ جاسوسی سافٹ ویئر کے برعکس جو طویل عرصے تک چھپا رہتا ہے، یہ مالویئر مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد خود کو حذف کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے پکڑنا اور شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔محققین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کتنے آئی فونز ڈارک سوورڈ حملوں کے لیے کمزور ہیں۔ ایپل نے بنیادی خامیوں کے لیے متعدد فکسز جاری کیے ہیں جن کا استعمال حملہ آوروں نے ڈارک سوورڈ بنانے کیلئے کیا۔اس کے باوجود، بہت سے لوگ آئی فون اپ ڈیٹس انسٹال نہیں کرتے، اور اندازاً 220 ملین سے 270 ملین آئی فونز اب بھی ایسے ''iOS‘‘ ورژنز پر چل رہے ہیں جو خطرے سے دوچار ہیں، ''iVerify ‘‘اور ''Lookout‘‘ کے مطابق، جنہوں نے یہ اعداد و شمار عوامی تخمینوں کی بنیاد پر دیے ہیں۔