عزم و ہمت کی نئی تاریخ رقم!

عزم و ہمت کی نئی تاریخ رقم!

اسپیشل فیچر

تحریر : زرق زیب


معذور شخص نے پانی کے اندر سانس روکنے کا ریکارڈ قائم کر دیا
انسانی عزم، حوصلے اور ہمت کی داستانیں ہمیشہ سے دنیا کو حیران کرتی آئی ہیں، مگر بعض کارنامے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف ریکارڈ قائم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی سوچ کو بھی بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حال ہی میں ایک معذور شخص نے پانی کے اندر طویل عرصے تک سانس روک کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جس کا مقصد محض شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ معذوری سے جڑے منفی تصورات کو چیلنج کرنا تھا۔ یہ کارنامہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جسمانی کمزوری انسان کی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ مضبوط ارادہ اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہیں۔
ایک پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص، جو ایک کار حادثے میں اپنے اعضاء کے استعمال سے محروم ہو گئے تھے، نے معذوری سے متعلق غلط تصورات کو ختم کرنے کیلئے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایک بچے کے والد سباسٹین گورنیئک چاہتے ہیں کہ ہر کوئی یہ جانے کہ معذور افراد بھی غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔52 سالہ سباسٹین، جو ایک کوچ کے طور پر کام کرتے ہیں، نے پولینڈ کے شہر وروتسواف میں پانی کے اندر رضاکارانہ طور پر سب سے طویل وقت تک سانس روکنے (مرد) کا ریکارڈ 5 منٹ 41.9 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ اپنے نام کیا۔
''ایم پی 4‘‘(MP4 )ہماری معذوری کی درجہ بندیوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد ریکارڈ سازی کے عمل کو منصفانہ اور ہر ایک کیلئے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ سباسٹین کو ریڑھ کی ہڈی کا مرض لاحق ہے اور ''C3‘‘ پر خون کا جماؤ (ہیمیٹوما) موجود ہے، جس کے باعث وہ چاروں اعضا کے فالج (مکمل جسمانی معذوری) کا شکار ہیں۔اس ریکارڈ کو قائم کرنے کی کوشش کے پیچھے ان کی بنیادی خواہش یہ تھی کہ وہ صحت مند (نارمل) کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کریں۔
سباسٹین نے اپنے اس ریکارڈ کی تیاری کیلئے برداشت (اسٹیمنا) بڑھانے کی ٹریننگ، باکسنگ، تیراکی، وہیل چیئر ریسنگ اور سانس روکنے کی مشقیں (اپنیا ایکسرسائزز) کیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک سانس روک سکیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا رویہ ''کبھی ہمت نہ ہارنے والا‘‘ ہے اور ان کے نزدیک لوگوں کیلئے بہترین مشورہ یہ ہے کہ زندگی کے ''ہر شعبے میں‘‘ سخت محنت کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ہو جائے، اپنے مقاصد سے دستبردار نہ ہوں، خواب ضرور پورے ہوتے ہیں،کبھی تھوڑی دیر سے، اور کبھی کسی مختلف انداز میں۔
سباسٹین کا کہنا ہے کہ جب وہ پانی میں تیرتے ہوئے سانس روکے رکھتے ہیں تو وہ خود کو مکمل طور پر پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اورکسی بھی دباؤ والی بات کے بارے میں سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے ذاتی ریکارڈ کو مزید بہتر کرتے ہوئے 6 منٹ 22 سیکنڈ تک سانس روکنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اور اب وہ اگلا ریکارڈ برف کے نیچے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

جدید ٹیکنالوجی، نئے خطرات!

''ڈارک سوورڈ‘‘ کروڑوں فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے:ماہرینڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، وہیں سائبر سکیورٹی کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں آئی فون صارفین ایک ممکنہ طور پر تباہ کن ''ڈارک سوورڈ‘‘ سائبر حملے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس نے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس خطرناک حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے صارفین کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے تاکہ ان کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا اور نجی زندگی محفوظ رہ سکے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے آگاہی اور احتیاط بھی بے حد ضروری ہے۔سائبر سکیورٹی ماہرین نے ایک نئے خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے جو کروڑوں آئی فونز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ گوگل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق، اس مالویئر کو ''ڈارک سوورڈ‘‘ کہا جاتا ہے جو ہیکرز کو آلات میں داخل ہونے اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ڈارک سوورڈ ''iOS‘‘ اور ''Safari‘‘ میں چھ الگ الگ خامیوں کو ایک ساتھ جوڑتا ہے، جس سے حملہ آور کسی بھی ہدف شدہ ڈیوائس پر خاموشی سے مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ خامیاں ''iOS‘‘ کے ورژن 18.4 سے 18.7 والے آئی فونز کو متاثر کرتی ہیں اور صارف کی جانب سے مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں، بس کسی نقصان دہ یا ہیک شدہ ویب سائٹ پر جانا کافی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ متعدد گروہ پہلے ہی اس ٹول کو حقیقی دنیا میں استعمال کر رہے ہیں، جن میں تجارتی جاسوسی کرنے والی کمپنیاں اور ریاستی سطح کے ہیکرز شامل ہیں۔یہ سرگرمی سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور یوکرین میں نوٹ کی گئی ہے۔ایپل کے ترجمان نے کہا کہ یہ خامیاں پرانے سافٹ ویئر کو ہدف بنا رہی تھیں، اور بنیادی خامیوں کو حالیہ برسوں میں کئی اپ ڈیٹس میں دور کر دیا گیا ہے، جو صارفین اپنے آلات کے تازہ ترین ورژنز پر چلا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا اب بھی صارفین کیلئے سب سے اہم اقدام ہے تاکہ وہ اپنے ایپل ڈیوائسز کی اعلیٰ سکیورٹی برقرار رکھ سکیں۔ماہرین نے ان صارفین کو ہدایت دی ہے جو ایسے حملوں کا ہدف بننے کا شبہ رکھتے ہیں، خاص طور پر صحافی، کارکنان یا وہ لوگ جو حساس معلومات ہینڈل کرتے ہیں کہ وہ ایپل کا لاک ڈاؤن موڈ فعال کریں۔ یہ کرنے کیلئے Settings میں جائیں، ''Privacy & Security‘‘ منتخب کریں،''Lockdown Mode‘‘ پر ٹیپ کریں اور ہدایات کے مطابق اسے آن کرکے ڈیوائس کو ری اسٹارٹ کریں۔سائبر سکیورٹی فرم Lookout، موبائل سکیورٹی کمپنی iVerify اور گوگل کے محققین نے ڈارک سوورڈ پر مربوط تجزیے شائع کیے، جن میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ آئی فونز اور Safari براؤزر میں موجود کئی چھپی ہوئی خامیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔اس سے حملہ آور کسی ڈیوائس پر خفیہ طور پر مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں، جو ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فون کو اپ ڈیٹ رکھنا کتنا ضروری ہے۔کچھ معاملات میں حملہ آور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے جعلی ویب سائٹس یا ایپس بناتے ہیں، جیسے کہ Snapchat کا نقلی ورژن، جبکہ بعض میں وہ قانونی ویب سائٹس، بشمول ایک سرکاری ویب سائٹ، کو ہیک کر لیتے ہیں۔ایک بار فون متاثر ہو جائے تو ہیکرز اپنے مقصد کے مطابق مختلف قسم کے جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کر سکتے ہیں۔ان میں سے ایک ورژن، جسے ''Ghostblade‘‘ کہا جاتا ہے، بہت بڑی مقدار میں ذاتی معلومات چرانے کیلئے بنایا گیا ہے۔اس میں ٹیکسٹ میسجز، کال ہسٹری، رابطے، تصاویر، ای میلز، پاس ورڈز، مقام کی معلومات، براؤزنگ ہسٹری اور یہاں تک کہ iCloud میں محفوظ فائلیں شامل ہیں۔یہ WhatsApp اور Telegram جیسی ایپس کے پیغامات تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مالویئر کرپٹو کرنسی ایپس اور والٹس کو بھی تلاش کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل اثاثے یا حساس مالی معلومات بھی چرا سکتا ہے۔کچھ جاسوسی سافٹ ویئر کے برعکس جو طویل عرصے تک چھپا رہتا ہے، یہ مالویئر مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد خود کو حذف کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے پکڑنا اور شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔محققین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کتنے آئی فونز ڈارک سوورڈ حملوں کے لیے کمزور ہیں۔ ایپل نے بنیادی خامیوں کے لیے متعدد فکسز جاری کیے ہیں جن کا استعمال حملہ آوروں نے ڈارک سوورڈ بنانے کیلئے کیا۔اس کے باوجود، بہت سے لوگ آئی فون اپ ڈیٹس انسٹال نہیں کرتے، اور اندازاً 220 ملین سے 270 ملین آئی فونز اب بھی ایسے ''iOS‘‘ ورژنز پر چل رہے ہیں جو خطرے سے دوچار ہیں، ''iVerify ‘‘اور ''Lookout‘‘ کے مطابق، جنہوں نے یہ اعداد و شمار عوامی تخمینوں کی بنیاد پر دیے ہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!لطیف کپاڈیا:ورسٹائل اداکار (2002-1934ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!لطیف کپاڈیا:ورسٹائل اداکار (2002-1934ء)

٭...1934ء میں بھارتی ریاست مہاراشٹر میں آنکھ کھولی، تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے آئے۔٭... کراچی یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔٭...بنیادی طور پر ایک بینکر تھے، 1952 میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور 1994 میں وائس پریزیڈنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔٭... فنی کرئیر کا آغاز 1953ء میں اسٹیج ڈرامے ''شہناز‘‘ سے کیا۔٭... ٹیلی ویژن پر اداکاری کا آغا ز علی احمد کے ڈرامے '' شیشے کا آدمی‘‘ سے کیا۔50 سے زائد ڈراموں میں اداکاری کے جوہردکھائے۔٭...وہ کوئی بھی کردار اد اکرتے ہوئے اس میں کھو جاتے تھے،انھوں نے ہمیشہ منفرد اور مختلف کردار ادا کیے۔٭...انہوں نے چند فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، ان کی انگلش فلم ''ٹریفک‘‘ برطانیہ کے چینل فور سے پیش کی گئی ۔٭...فلم ''ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ‘‘ میں بہترین کردار نگاری پر انہیں نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ ٭...2001ء میں حکومت پاکستان نے انہیں '' تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭... فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ سے ان کو گہرا لگاؤ تھا۔٭...یہ ہنستا مسکراتا چہرہ 29 مارچ 2003ء کو کراچی میں دنیا سے رخصت ہوا۔ اسٹیج ڈرامےشہناز، شمع، اجنبی، میری قسم، ایک دن کا سلطان، غلط فہمی، ذات شریف، جب تک چمکے سونا، صبح ہونے تک، نیا بخار، بڑا صلیب، گیسٹ ہائوس، کمرہ نمبر پانچ ٹی وی ڈرامےشکست آرزو، برزخ، دھوپ کنارے، ففٹی ففٹی ، نجات، آگاہی ، آپ کا مخلص، تعبیر، ایمرجنسی وارڈ، انا، کافی ہائوس، گرتو برا نہ مانے ، شوٹائم، آنگن ٹیڑھا، چاند گرہن، ستارہ اور مہر النساء ، نادان نادیہ، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیہ پونے تین، اسٹوڈیو چاربیس ، بارش، ہاف پلیٹ، روزے، فنون لطیفہ، ایک تھی صفیہ، لا سے اللہ تک، ایسا بھی ہوتا ہے

آج کا دن

آج کا دن

7ممالک نیٹو میں شامل2004ء کوبلغاریہ، ایسٹونیا، لٹویا، لیتھوانیا، رومانیہ، سلوواکیہ اور سلووینیا نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ نیٹوکو مغربی فوجی اتحاد بھی کہا جاتا ہے اور اس اتحاد میں شامل ممالک ایک دوسرے کاکسی بھی مشکل صورتحال میں دفاع کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔موجودہ روس یوکرین جنگ بھی نیٹو میں شمولیت کے معاملے پر ہی شروع کی گئی تھی ۔ نیٹو میں شامل ممالک اس کے قوائد وضوابط کے بھی پابند ہوتے ہیں۔سگریٹ نوشی ممنوعبرطانیہ اور آئرلینڈ نے پبلک ہیلتھ ایکٹ کے ذریعے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی ۔دفاتر میں بھی سگریٹ پینے کو ممنوع قرار دیا گیا۔جن جگہوں پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد کی ان میں گاڑیاں، دفاتر، کلب، ریسٹورانٹ اور کمرشل و رہائشی عمارتیں شامل تھیں۔ یہ اقدام برطانیہ اور آئر لینڈ میں سگریٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کرنے کیلئے اٹھایاگیا۔اس کے ثمرات بھی دیکھنے کو ملے، اس پر عمل کروانے کے باعث برطانیہ میں سگریٹ سے ہونے والی بیماریوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ماسکو میٹرو میں دھماکے2010ء میں ماسکو میٹرو میں رش کے دوران دوخودکش دھماکے ہوئے ۔ دونوں دھماکوں میں40منٹ کا وقفہ تھا۔یہ دھماکے میٹرو میں اس وقت کئے گئے جب لوگ صبح صبح اپنے دفاتر جانے کیلئے میٹرو کا استعمال کرتے ہیں۔اس ناخوشگوار واقع میں تقریباً40سے زائد افراد جاں بحق جبکہ100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔روسی حکام کے مطابق یہ روسی تاریخ کے بدترین دھماکوں میں سے ایک تھے۔عالمی جنگ: جرمنی کو شکست1945ء کو جرمنی کی فوج کو سوویت یونین کی سرخ فوج نے شکست سے دوچار کیا۔عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین نے پیش قدمی کرتے ہوئے جرمن افواج کو یرغمال بنایا اورآخر کار جرمنی کی چوتھی فوج کو شکست کھانا پڑی۔یہ دوسری عالمی جنگ کا وہ موقع تھا جب جرمنی کو مختلف مقامات پر پسپائی کا سامنا تھا۔ہپناٹائز قتل1951ء میں کوپن ہیگن میں دو افراد کو ہپناٹائز کر کے قتل کیا گیا،جو ناکام بینک ڈکیتی کے ملزم تھے۔قاتلوں کو بھی گرفتار کر لیاگیا۔تحقیقات کے بعد دونوں افراد کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس مقدمے میں عدالت نے ماہر نفسیات کی معاونت بھی حاصل کی جواس نتیجے پر پہنچے کہ اس قتل کیلئے ملزمان نے ہپناٹزم کا استعمال کیا ۔ تیزرفتاری کا ریکارڈ 1927ء میں آج کے روز فلوریڈا کی ڈیٹونا بیچ پر سن بیم 1000 ہارس پاور گاڑی نے تیزرفتاری کا نیا ریکارڈ قائم کیا جواپنی شاندار طاقت اور انجینئرنگ کیلئے مشہور تھی۔ ڈے ٹونا کے ریتیلے ساحل نے اس ریکارڈ کیلئے بہترین راستہ فراہم کیا، جہاں گاڑی نے حیران کن رفتار کے ساتھ دوڑ مکمل کی۔ اس کارنامے نے نہ صرف ریسنگ کے شائقین کو حیران کیا بلکہ موٹرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی ایک علامت بھی بن گیا، جو مستقبل کے رفتار کے ریکارڈز کیلئے راہ ہموار کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

روبوٹس کے انسانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہکیا آپ اپنے خاندان کے اردگرد کسی روبوٹ پر بھروسہ کریں گے؟اب جبکہ ہیومنائیڈ روبوٹس عام گھریلو کام جیسے کپڑے تہہ کرنا، برتن دھونا اور حتیٰ کہ کیتلی میں پانی اُبالنا بھی انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں، تو ممکن ہے کہ آپ انہیں اپنے گھر میں لانے کا سوچیں۔تاہم، جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو سہل بنانے کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں حالیہ واقعات نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ہیومنائیڈ روبوٹس نے غیر متوقع اور خطرناک رویہ اختیار کرتے ہوئے بچوں کو نقصان پہنچایا، بزرگوں کو خوفزدہ کیا اور عوامی مقامات پر افراتفری پھیلائی۔ ایڈنبرا نیپئر یونیورسٹی کے روبوٹکس ماہرین کارل اسٹریتھیرن اور ایمیلیا سوبولیوسکا نے اپنے ایک مضمون میں کہاکہ آئندہ دہائی میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث عوام کو اس نوعیت کے واقعات کے خطرات کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔روبوٹکس کے محققین کی حیثیت سے ہمارا ماننا ہے کہ حکومتوں نے ان خطرات پر بہت کم غور کیا ہے۔ ٹیسلا فیکٹری میں روبوٹ کا حملہٹیکساس میں واقع ٹیسلا کی گِگا فیکٹری میں ایک خطرناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک روبوٹ کی خرابی کے باعث ایک انجینئر شدید زخمی ہو گیا۔ روبوٹ، جو تازہ تیار شدہ ایلومینیم گاڑیوں کے پرزے اُٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، اچانک بے قابو ہو گیااس نے اپنے ساتھی کارکن کو دبوچ لیا، جو قریب ہی موجود دو خراب روبوٹس کیلئے سافٹ ویئر پروگرامنگ کر رہا تھا۔روبوٹ نے اپنے دھاتی پنجے اس کارکن کی پیٹھ اور بازو میں گاڑ دیے۔اس واقعے میں متاثرہ شخص کے بائیں ہاتھ پر گہرا زخم آیا۔کیلیفورنیا کے ریستوران میں روبوٹ بے قابوکیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے میں واقع ریستوران میں گاہک سکون سے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنی حرکات سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔روبوٹ ایک ڈانس پرفارمنس پیش کر رہا تھا، جس میں وہ اپنے بازو لہرا رہا اور کولہے ہلا رہا تھا،اچانک اس نے اپنے ہاتھ زور سے میز پر دے مارے۔ عملہ فوری طور پر روبوٹ کو بند کرنے کیلئے دوڑا۔اس ہنگامے کے دوران تین ملازمین نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی اور اسے گردن سے پکڑ کر وہاں سے گھسیٹ کر لے گئے۔چین :روبوٹ نے بچے کو تھپڑجڑ دیاچین کے شہانشی صوبے میں ایک فیملی فرینڈلی ڈانس پرفارمنس ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک نوجوان لڑکے کوہیومنائیڈ روبوٹ نے تھپڑ مار دیا۔21 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعہ کی حیران کن فوٹیج میں دکھایا گیا کہ یونِٹری روبوٹ اسٹیج پر گھوم رہا تھا۔ بدقسمتی سے، اس کی حرکات ناکام ہو گئیں اور روبوٹ نے ایک پل میں بچے کے چہرے کو پوری طرح پکڑ لیا۔ لڑکے نے کوشش کی کہ وہ دھاتی بازوؤں سے بچ سکے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔چین میلہ میں روبوٹ کا ہجوم پر حملہچین کے شمال مشرقی شہر تیانجن میں ہونے والے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران خوشگوار تقریب ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ہجوم کی جانب حملے کی کوشش کی۔فوٹیج میں دکھایا گیا کہ روبوٹ، جو روشن جیکٹ پہنے ہوئے تھا، باڑ کے پیچھے موجود لوگوں کی طرف جھک رہا تھا۔اس کے غیر متوقع اور بے قابو حرکات کی وجہ سے میلے کے سکیورٹی عملے کو اسے ہجوم سے دور دھکیلنا پڑا۔ایونٹ کے منتظمین نے اس واقعے کو ''سادہ روبوٹ کی خرابی‘‘ قرار دیا۔ہینڈلر پر حملہمئی 2025 میں چین کی ایک فیکٹری میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنے ہینڈلر پر حملہ کر دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ کالا روبوٹ ایک چھوٹی کرین سے جڑا ہوا تھاکہ اچانک اس نے اپنے بازوؤں کو آگے پیچھے جھلانا شروع کر دیا۔روبوٹ نے اپنے بازو ہوا میں اٹھائے اور دوبارہ نیچے مارے، یہ حرکت تیزی اور شدت کے ساتھ دہرائی۔ پھر یہ آگے بڑھنے لگا اور بظاہر آزاد ہونے کی کوشش میں اپنے اردگرد سب کو مارتا رہا۔ملازمین خوفزدہ ہو کر اپنے بازوؤں سے چہرے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے راستہ چھوڑتے گئے۔ کمپیوٹر مانیٹر گر گیا۔آخرکار، ایک شخص نے کرین کو پیچھے سے کھینچ کر تباہی کو روکنے کی کوشش کی اور روبوٹ کو قابو میں لایا۔یہ واقعہ روبوٹکس اور صنعتی مشینری میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران انسانوں اور مشینوں کے درمیان مناسب فاصلے اور حفاظتی اقدامات لازمی ہیں۔بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد روبوٹ پولیس کے ہاتھوں گرفتارچین میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کسی سائنس فکشن تھرلر کا منظر معلوم ہوتا ہے، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو ایک بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مقامی حکام کے مطابق70 سالہ خاتون کو اچانک پیچھے کھڑے روبوٹ نے خوفزدہ کر دیا۔ وائرل کلپ میں دکھایا گیا کہ خاتون چیختی ہوئی اپنے بیگ سے روبوٹ کی طرف اشارہ کر رہی تھی، جبکہ روبوٹ بار بار اپنے بازو ہوا میں اٹھا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اپنے فون کو چیک کرنے کیلئے رکئی تھیں، اور روبوٹ اس کے پیچھے رک کر انتظار کر رہا تھا کہ وہ راستہ خالی کرے۔ بزرگ خاتون روبوٹ کو خاموشی سے پیچھا کرتے دیکھ کر شدید خوفزدہ ہو گئیں۔واقعے کے بعد، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ طبی طور پر غیر صحت مند محسوس کر رہی ہیں اور انہیں علاج کیلئے اسپتال لے جایا گیا۔یہ واقعات نہ صرف ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے کے رجحان پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا ہم واقعی ان مشینوں کو اپنے گھروں اور خاندانوں کے قریب لانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر کے صحرائی علاقے میں ایک حیران کن اور تاریخی دریافت سامنے آئی ہے، جس میں اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ممکنہ دوسرا ''اسفنکس‘‘ یا وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب کے رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔ جدید اسکیننگ اور ریڈار ٹیکنالوجی نے زمین کے نیچے ایسی بڑی ساخت کو اجاگر کیا ہے جس پر تحقیق اور کھوج جاری ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے پنجوں کے درمیان واقع اسٹیل پر کندہ 3ہزار سال پرانی علامات ممکنہ طور پر خفیہ دوسرے اسفنکس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اسٹیل پر دکھائے گئے دو اسفنکس کے نقش اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مشہور یادگار کبھی اپنی جوڑی رکھتی تھی۔2025 میں اٹلی کے محققین نے ''ابوالہول‘‘ کے پلیٹو کے نیچے وسیع زیر زمین ڈھانچے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا اسفنکس ریت کے نیچے دفن ہے۔فلِپو بیونڈی نے یہ دریافت میٹ بیل لمیٹ لیس پوڈکاسٹ میں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ موجود اسفنکس تک کھینچی گئی خطوط ایک آئینہ دار مقام کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں یہ دفن شدہ ڈھانچہ موجود ہو سکتا ہے۔بیونڈی کے مطابق، سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی سے زمین کی ہلکی ارتعاشات کا تجزیہ کرنے پر یہ ڈیٹا سامنے آیا ہے کہ ایک 180 فٹ اونچی ریت کی مضبوط تہہ کے نیچے ایک بڑا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے، جو قدرتی چٹان نہیں بلکہ سخت ریت پر مشتمل ہے۔ابتدائی اسکینز میں عمودی شافٹ اور راہداریوں کی موجودگی دکھائی دی ہے جو اصل اسفنکس کے نیچے پائے گئے ڈھانچے کے مشابہ ہیں۔ ان عمودی لائنوں کو ممکنہ طور پر زیر زمین شافٹ کی مضبوط دیواریں قرار دیا گیا ہے۔بیونڈی کا ماننا ہے کہ ممکنہ دوسرے اسفنکس سے بڑھ کر، ابوالہول کے پلیٹو کے نیچے ایک وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر موجود ہے، جس کی پیمائش وہ کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب اور اس کی تعمیراتی مہارت کے راز کھولنے میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے سامنے والے پنجوں کے درمیان ڈریم اسٹیل یا سفنکس اسٹیل لگائی گئی تھی، جسے فرعون تھوٹ موس چہارم نے تقریباً 1401 قبل مسیح میں مصر کی 18ویں سلطنت کے دور میں نصب کیا۔یہ قدیم کندہ کاری، جیسے کہ نیو کنگڈم کے دوران بنائی گئی دیگر تحریریں، حکمران کے الٰہی حقِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی تھی۔روایت کے مطابق، یہ اسٹیل تھوٹ موس چہارم کے غیر متوقع تخت نشینی کو جواز فراہم کرتی ہے، اس خواب کی کہانی بیان کرتے ہوئے جس میں اسفنکس نے اسے یادگار کی مرمت کے عوض تخت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس طرح سیاسی پروپیگنڈا اور مذہبی مشروعیت کا امتزاج نظر آتا ہے اور ابتدائی مرمت کے اقدامات کی دستاویز بھی ملتی ہیں۔تاہم، فلِپو بیونڈی اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ تصویروں میں چھپے دو اسفنکس کی علامتی اہمیت سے زیادہ حقیقت ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کندہ کاری محض علامتی نہیں بلکہ یادگاروں کی ترتیب کیلئے ایک خفیہ سراغ ہو سکتا ہے۔بیونڈی نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے خفرے کے ہرم کے مرکز سے موجود اسفنکس تک ایک لکیر کھینچی، تو اس کی ترتیب نے پلیٹو پر ایک درست جیومیٹرک راستہ قائم کیا، جو دوسرے ممکنہ مقام کی شناخت کیلئے آئینہ دار حوالہ لکیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جس میں عظیم ہرم، خفرے کا ہرم، منکورے کا ہرم اور عظیم اسفنکس شامل ہیں، ایک تہہ کو ظاہر کرتی ہیں، اور بیونڈی کا ماننا ہے کہ یہ دوسرے اسفنکس کے اوپر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا اسفنکس اردگرد کی سطح کے تھوڑا نیچے کم گہرائی میں واقع ہے، ممکن ہے کہ دوسرا اسفنکس اس بلند تہہ کے نیچے چھپا ہوا ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوے تو یہ مصر کے تاریخی نقشے میں ایک نیا اور شاندار اضافہ ثابت ہو سکتا ہے، جو پرانے مصر کی عمارات اور فن تعمیر کی حیرت انگیز مہارت کو سامنے لاتا ہے۔یہ ابتدائی رپورٹ عالمی ماہرین اور محققین کیلئیے بھی ایک سنجیدہ دلچسپی کا سبب بنی ہے، جو قدیم مصر کی تاریخ اور آثار قدیمہ کی دنیا میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!روبینہ بدر فلمی دنیا کی سُریلی گلوکارہ (2006-1956ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!روبینہ بدر فلمی دنیا کی سُریلی گلوکارہ (2006-1956ء)

٭...14فروری 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔٭... گائیکی کا آغاز ریڈیوپاکستان کراچی سے کیا۔ ٭...پہلا فلی گیت نوعمری میں ریکارڈ کروایا۔ فلم ''بیٹی‘‘ کے اس گیت کے بول تھے ''ذرا بچ کے رہنا بھیا، یہ دنیا سب کو ستائے، اللہ میاں بچائے‘‘۔ ٭...موسیقار نثار بزمی نے گلوکارہ روبینہ بدر کی بہت حوصلہ افزائی کی اور کام بھی دلوایا۔ ٭...گلوکاری کے اس سفر میں روبینہ نے فلم کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کیلئے بھی گیت گائے۔ ٭...ٹی وی پر ان کا گیت ''تجھ سنگ نیناں لاگے‘ بڑا مقبول ہوا تھا۔ اس گیت کو ان کے کریئر کا اہم موڑ کہا جا سکتا ہے۔٭...ان کے گائے ہوئے گیت جن فلموں میں شامل ہوئے ان میں ''ایمان دار، چکر باز، شوکن میلے دی، حکم دا غلام، انتظار، پردہ نہ اٹھائو، عزّت‘‘ شامل ہیں۔ ٭...انھوں نے 42اردو اور پنجابی فلموں کیلئے 48 فلمی نغمات ریکارڈ کروائے۔ ٭...روبینہ بدر کا گیت ''میرے اچھے نانا پیارے پیارے نانا،جھوٹ موٹ میں تم سے روٹھوں تم مجھے منانا‘‘ کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ موسیقار نثار بزمی کا تیار کردہ یہ گیت تھا اس زمانے میں ریڈیو سے تقریباً روزانہ ہی نشر ہوتا تھا۔ ٭...روبینہ بدر نے گلوکار مسعود رانا کے ساتھ 7گیت گائے۔٭...فلمی گلوکارہ روبینہ بدر کو 28 مارچ 2006ء میں کینسر کے مرض نے زندگی سے محروم کر دیا۔٭... بوقتِ وفات ان کی عمر 50 سال تھی۔مقبول گیت(1)دنیا ریل گاڑی ، ہے سانپ کی سواری (2)میرے منے میرے لال ، جئے جئے ہزاروں سال(3)ٹوئنکل ، ٹوئنکل ، لٹل اسٹار ، ہاؤ آئی ونڈر وٹ یو آر.(4)جو ٹوٹ گئی چوڑی تو کیا ہو گا ، کھنک گئی پائل تو کیا ہو گا(5)داداجی اپنے پوتے کو سمجھائیں(6)پاک وطن کی دھرتی پیاری(7)یونہی دن کٹ جائیں ، یونہی شام ڈھل جائے(8)پیار کی اک نئی راہ پے(9)جھوم جھوم ناچیں آئو(10)ساتھی نہ چھوڑو دامن تیرا