عزم و ہمت کی نئی تاریخ رقم!
اسپیشل فیچر
معذور شخص نے پانی کے اندر سانس روکنے کا ریکارڈ قائم کر دیا
انسانی عزم، حوصلے اور ہمت کی داستانیں ہمیشہ سے دنیا کو حیران کرتی آئی ہیں، مگر بعض کارنامے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف ریکارڈ قائم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی سوچ کو بھی بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حال ہی میں ایک معذور شخص نے پانی کے اندر طویل عرصے تک سانس روک کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جس کا مقصد محض شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ معذوری سے جڑے منفی تصورات کو چیلنج کرنا تھا۔ یہ کارنامہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جسمانی کمزوری انسان کی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ مضبوط ارادہ اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہیں۔
ایک پولینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص، جو ایک کار حادثے میں اپنے اعضاء کے استعمال سے محروم ہو گئے تھے، نے معذوری سے متعلق غلط تصورات کو ختم کرنے کیلئے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایک بچے کے والد سباسٹین گورنیئک چاہتے ہیں کہ ہر کوئی یہ جانے کہ معذور افراد بھی غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔52 سالہ سباسٹین، جو ایک کوچ کے طور پر کام کرتے ہیں، نے پولینڈ کے شہر وروتسواف میں پانی کے اندر رضاکارانہ طور پر سب سے طویل وقت تک سانس روکنے (مرد) کا ریکارڈ 5 منٹ 41.9 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ اپنے نام کیا۔
''ایم پی 4‘‘(MP4 )ہماری معذوری کی درجہ بندیوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد ریکارڈ سازی کے عمل کو منصفانہ اور ہر ایک کیلئے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ سباسٹین کو ریڑھ کی ہڈی کا مرض لاحق ہے اور ''C3‘‘ پر خون کا جماؤ (ہیمیٹوما) موجود ہے، جس کے باعث وہ چاروں اعضا کے فالج (مکمل جسمانی معذوری) کا شکار ہیں۔اس ریکارڈ کو قائم کرنے کی کوشش کے پیچھے ان کی بنیادی خواہش یہ تھی کہ وہ صحت مند (نارمل) کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کریں۔
سباسٹین نے اپنے اس ریکارڈ کی تیاری کیلئے برداشت (اسٹیمنا) بڑھانے کی ٹریننگ، باکسنگ، تیراکی، وہیل چیئر ریسنگ اور سانس روکنے کی مشقیں (اپنیا ایکسرسائزز) کیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک سانس روک سکیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا رویہ ''کبھی ہمت نہ ہارنے والا‘‘ ہے اور ان کے نزدیک لوگوں کیلئے بہترین مشورہ یہ ہے کہ زندگی کے ''ہر شعبے میں‘‘ سخت محنت کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ہو جائے، اپنے مقاصد سے دستبردار نہ ہوں، خواب ضرور پورے ہوتے ہیں،کبھی تھوڑی دیر سے، اور کبھی کسی مختلف انداز میں۔
سباسٹین کا کہنا ہے کہ جب وہ پانی میں تیرتے ہوئے سانس روکے رکھتے ہیں تو وہ خود کو مکمل طور پر پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اورکسی بھی دباؤ والی بات کے بارے میں سوچنے سے گریز کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے ذاتی ریکارڈ کو مزید بہتر کرتے ہوئے 6 منٹ 22 سیکنڈ تک سانس روکنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اور اب وہ اگلا ریکارڈ برف کے نیچے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔