’’اوبسکور‘‘
اسپیشل فیچر
بیماریوں کی قبل از وقت پیشگوئی کرنے والا نظام متعارف
سائنسی دنیا میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی صحت کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں ماہرین نے ایک ایسا جدید اور انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ٹائپ2 شوگر، سٹروک اور مختلف اقسام کے کینسر جیسے مہلک امراض کے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حیرت انگیز پیش رفت نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص کو ممکن بنائے گی بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی مدد دے گی، جس سے لاکھوں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، یہ ایجاد طبی شعبے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ان افراد کی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
کوئین میری یونیورسٹی آف لندن (QMU) اور برلن انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (BIH) کے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو موٹاپے یا زائد وزن کے باعث پیدا ہونے والی 18 بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کینسر کی روک تھام کے قابل وجوہات میں موٹاپا دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ پہلے نمبر پر تمباکو نوشی ہے۔ نام نہاد ''موٹاپے کی وبا‘‘ نے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انگلینڈ میں تقریباً 28 فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ ٹائپ 2 شوگر اور دل کی بیماریوں کے علاوہ، اضافی وزن کے باعث سٹروک، آرتھرایٹس، ہائی بلڈ پریشر اور جگر کے امراض جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب محققین کا ماننا ہے کہ انہوں نے ''اوبسکور‘‘ (OBSCORE) نامی ایک نئے آلے کے ذریعے موٹاپے سے جڑی پیچیدگیوں میں اضافے کو روکنے کا ممکنہ حل تلاش کر لیا ہے، جسے ماہرین نے ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ نظام ''یو کے بائیو بنک‘‘ کے 2لاکھ شرکاء کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا، جس میں رضاکاروں کی طبی معلومات محفوظ ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے محققین نے 2ہزار سے زائد صحت کے اشاریوں، جن میں خون کے ٹیسٹ، جسمانی پیمائشیں اور طرزِ زندگی کے عوامل شامل ہیں کا تجزیہ کیا۔اس تحقیق کے نتیجے میں ٹیم نے 20 اہم عوامل کی نشاندہی کی، جو 18 موٹاپے سے متعلق بیماریوں کے خطرے کی درست پیش گوئی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان عوامل میں عمر اور جنس جیسی بنیادی خصوصیات، طرزِ زندگی سے متعلق عادات جیسے تمباکو نوشی اور مجموعی صحت یا دیرینہ بیماریوں سے متعلق خود فراہم کردہ معلومات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینے میں درد، پیٹ میں درد اور جوڑوں کے درد جیسی علامات، نیز دل کی بیماری کی خاندانی تاریخ کو بھی خطرے کی پیش گوئی میں اہم قرار دیا گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ خون کے ٹیسٹ اور روزمرہ کی طبی پیمائشیں جیسے خون میں شوگر کی سطح، کولیسٹرول، جگر اور گردوں کی کارکردگی، یورک ایسڈ، بلڈ پریشر اور جسم میں چربی کی تقسیم بھی نہایت اہم ثابت ہوئیں۔
محققین نے ہر عامل کا سنگین پیچیدگیوں سے تعلق کا جائزہ لیا، مثلاً سینے کا درد کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے، اور پھر ان تمام خطرات کو یکجا کر کے ''OBSCORE‘‘ نامی آلے میں شامل کیا۔ اس کے ذریعے کسی فرد میں 18 مختلف بیماریوں کے اگلے 10 سال میں پیدا ہونے کے امکان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ تمام عوامل مل کر کسی شخص کی صحت کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جبکہ صرف موٹاپے پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ ایک ہی جیسا موٹاپا رکھنے والے افراد میں بیماری کا خطرہ مختلف ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بہت سے ایسے افراد جو وزن کے باعث پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے میں تھے، وہ موٹے نہیں بلکہ صرف زائد وزن کے حامل تھے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رہنما اصولوں میں، جو زیادہ تر بی ایم آئی پر مبنی ہیں، انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک عالمی موٹاپے کی وبا کا سامنا کر رہی ہے۔ OBSCORE آلہ ہمیں موٹاپے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ایک اوپن ایکسس ٹول ہے جو پالیسی سازوں، ماہرین صحت اور محققین کو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ اسے کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔محققین نے یہ بھی تجویز کیا کہ OBSCORE آلہ یہ فیصلہ کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ کن افراد کو وزن کم کرنے والی ادویات تک ترجیحی رسائی دی جائے۔
پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ اس کی طویل مدتی طبی پیچیدگیوں سے بچاؤ صحت کے نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اور تفصیلی صحت کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیٹا پر مبنی فریم ورک تیار کیے جا سکتے ہیں جو زیادہ خطرے والے افراد کی نشاندہی کریں اور موٹاپے کے بہتر انتظام میں مدد دیں۔
اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ماہرین نے نتائج کو مثبت مگر محتاط انداز میں دیکھا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آلہ طبی لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیق میں بیان کردہ کئی خطرے کے عوامل پہلے ہی معروف ہیں۔موٹاپے سے جڑی بیماریاں نہ صرف صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں بلکہ بعض مطالعات کے مطابق یہ افراد کو روزگار سے بھی باہر کر دیتی ہیں، جس سے فلاحی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
حال ہی میں محققین نے اشارہ دیا کہ زائد وزن 61 عام اور جان لیوا بیماریوں جن میں گردوں کے امراض، آرتھرائٹس اور ٹائپ 2 شوگر شامل ہیں کا بڑا سبب ہے۔موٹاپا کم از کم 13 اقسام کے کینسر سے منسلک ہے اور برطانیہ میں اس بیماری کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ 2 شوگر کے کیسز میں 39 فیصد اضافے کا باعث بھی بنا ہے۔