’’موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘
اسپیشل فیچر
فتح علی خان بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، اُسے بار بار یاد دلاتے ''موسیقی تمہارے لئے شجر ِممنوعہ ہے، پاس مت جانا‘‘
نصرت فتح علی خان کی برسی کے حوالے سے ایک بچے کی مختصرداستان جسے قوالی سے دُور رکھا جاتا تھا
سُر کے سفر پر روانگی بہت آسان لیکن سفر بہت جان لیوا ہوتا ہے۔ ہر گانے والے کو منزل بہت نزدیک نظر آتی ہے، لیکن جب قدم بڑھا کر قریب جانا چاہتا ہے تو فاصلہ کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس بحر بیکراں کا ماہر پیراک بھی کبھی کبھی ایک معمولی لہریا موج کے بھنور میں پھنس کر دم توڑ دیتا ہے۔ موسیقی کی دنیا آئینے کا وہ نازک کمرہ ہے جہاں فنکار کی آواز ذرا بھی سر سے لاتعلقی ظاہر کرتے تو یہ کمرہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔
نصرت نے موسیقی کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا۔ پورے جسم کو کان بنا کر اس کے اصول و قواعد کو رگ و پے میں اتارا ۔ فتح علی خان نے زمین میں ہل چلا کر اسے بھر بھرا کر دیا تھا۔ مبارک علی خان اور سلامت علی خان کی تربیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔فتح علی خان اور مبارک علی خان کی وفات کے بعد اس گھرانے سے قوالی کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا۔ ان دونوں کے بعد سلامت علی خان قوالی کو لیڈکرتے تھے۔ نصرت قوالی میں شامل ہوتے لیکن ان کی حیثیت کرکٹ کے بارھویں کھلاڑی جیسی تھی۔ قوالی کے شروع میں نصرت ایک آدھ سولوپروگرام کرتے۔ اس کے بعد ان سے کہا جاتا کہ گاڑی میں جا کر سو جائو۔ قوالی تمہارے بس کا روگ نہیں، ہم خود کر لیں گے۔
نصرت اپنے نام کا مطلب جانتے تھے۔ اسے یقین تھا کہ فتح ان کی ہو گی لیکن کب ہو گی اس کا انہیں پتہ نہ تھا۔ انہیں صرف یہ پتہ تھا کہ انہیں محنت اور ریاض تیز اور طویل کردینا چاہیے تاکہ فتح کا لمحہ قریب تر ہو جائے۔ نصرت فتح علی خان استاد فتح علی خان کے بیٹے ضرور تھے لیکن انہوں نے شہرت کمانے کیلئے بہت پاپڑ بیلے۔ نصرت کے آغاز کا زمانہ دراصل غلام فرید صابری کے عروج کا زمانہ تھا۔ ہر طرف اس کا نام اور کام داد حاصل کر رہا تھا۔
نیشنل آرٹ کونسل اسلام آباد کا ''جشن امیر خسرو‘‘ قوالی کا ایک یاد گار جلسہ تھا۔ اس تقریب میں قوالی کی 700سالہ روایت کوبھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ بھٹو عہد میں ہونے والی یہ تقریب اسلامی ممالک کی کانفرنس کی طرح بڑی خوبصورت اور پروقار تقریب تھی۔ پورے ملک کے نامور قوال اس میں شرکت کر رہے تھے۔ منظور نیازی، بہائوالدین اور غلام فرید صابری ان میں پیش پیش تھے۔ نصرت فتح علی خان کو دعوت نامہ ملا مگر ذرا تاخیر کے ساتھ۔ وہ اپنی پارٹی کے ساتھ وہاں پہنچے تو عجیب سماں تھا، سب قوال پارٹیاں دو دو تین تین دن پہلے پہنچ چکی تھیں اور اپنے اپنے آئٹم منتخب کر لئے تھے۔ شرط یہ تھی کہ صرف حضرت امیر خسرو کا کلام گایا جائے۔ نصرت جس آئٹم کا نام لیتے،جواب ملتا ''یہ منظور نیازی گائیں گے‘‘۔وہ کوئی اور نام لیتے تو جواب آیا۔''یہ غلام فرید صابری گائیں گے‘‘۔ایک ایک کرکے سب آئٹم لوگوں کے حصے میں آ گئے۔ نصرت سوچ میں پڑ گئے لیکن گھبرائے نہیں۔خاندانی قوال تھے۔ یادداشت کے اوراق پلٹے۔ خاندانی ورثے کی طرف نظر دوڑائی جو بزرگوں سے سیکھا تھا اس کا جائزہ لیا۔ پرانی بندشوں کو یاد کیا اور پھر ایک ایسا گوہر نایاب سامنے رکھ دیا جو کسی قوال نے پہلے نہیں دیکھا تھا اور جو صرف نصرت فتح علی خان کے خاندان کو یاد تھا۔ یہ امیر خسرو کا ایک نایاب شاہکار تھا:
''میں تو پیا سے نیناں ملا آئی رے‘‘
بقول تقریب کے سیکرٹری ملک سجاد حیدر نصرت نے جو گایا وہ سب لوگوں اور قوال حضرات کیلئے بھی بالکل نئی چیز تھی۔ اس کے بعد نصرت فتح علی خان نے راگ ساز گیری گایا۔ ہال بے خود ہو گیا۔ لوگ نصرت کو سٹیج سے جانے نہیں دے رہے تھے، یہاں نصرت نے قوالی شروع کی تو سننے والے بے قابو ہو گئے۔ ایک روحانی اثر چاروں طرف پھیل گیا۔ امیر خسرو، موسیقی اور نصرت فتح علی خان کے انداز نے سب کو گرویدہ بنا لیا۔ اب نصرت اس منزل کے بالکل قریب آ گئے تھے جس کی طرف انہوں نے استاد فتح علی خان کے چہلم پر پہلا قدم بڑھایا تھا۔
اب ذرا نصرت کے گھر چلتے ہیں۔استاد فتح علی خان نے اس گھر کو پوری آرائشوں اور سہولتوں سے آراستہ کیا تھا۔ ہر قسم کی نعمت اپنے بچوں کو دی۔ نصرت کی چار بہنیں اور ایک بھائی فرخ (راحت کے والد جو نصرت کے ساتھ قوالی میں سنگت کرتے تھے) آرام سے رہ رہے تھے۔ فتح علی خان نے نصرت کو بار بار احساس دلایا تھا ''موسیقی تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ اس کے پاس نہ جانا، میں تمہیں گویا نہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘‘۔ نصرت نے یہ بات غور سے سنی لیکن اندر رہی اندر شجر ممنوعہ کے پھل کی لذت آرزو بن کر پروان چڑھتی رہی۔ نصرت چپکے چپکے طبلے اور ہارمونیم پر موسیقی کے ابتدائی اسباق دھراتے رہے۔ فتح علی خان بڑے بارعب انسان تھے۔ گھر میں داخل ہوتے تو ہنستے چہرے سنجیدہ ہو جاتے تھے۔ بچوں پر ان کا بڑا رعب تھا، ان کی موجودگی میں کوئی ہوں تک نہیں کرتا تھا۔ ایک دن نصرت ہار مونیم پر دل بہلا رہے تھے۔ سروں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں اس بات کا بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے والد پیچھے کھڑے سب کچھ سن رہے ہیں۔
جب کسی نے اشارے سے فتح علی خان کی موجودگی کا احساس دلایا تو نصرت ہارمونیم چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فتح علی خان کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ مچلی، بیٹے کے شوق کو سراہا۔ کبھی کبھی موسیقی سے دل بہلانے کی اجازت دی لیکن یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں، گویا نہیں۔باپ کی اجازت سے نصرت کے اندر موسیقی کے سوتے پھوٹنے لگے اور وہ فارغ وقت میں موسیقی کا ریاض کرنے لگے۔ فتح علی خان بیٹے کے اندر چھپے ذوق کو دیکھ کر اسے گاہے بگاہے کلاسیکل موسیقی کا سبق دیتے رہے اور پھر نصرت نے جی جان سے موسیقی کی طرف دھیان دینا شروع کردیا اور اپنے والد کو یقین دلا دیا کہ میں غبی نہیں۔ کچھ کرنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتا ہوں ۔
کلکتے کا ایک مشہور گائیک پنڈت وینا ناتھ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا۔ سارا پاکستان گھوم کر وہ فیصل آباد آ گیا۔ فتح علی خان سے اس کی شناسائی تھی، اس کے پاس آکر ٹھہرا۔باتوں باتوں میں فتح علی خان نے پنڈت سے پوچھا ''سنایئے پنڈت جی، کیسا رہا پاکستان کا دورہ۔‘‘پنڈت نے جواب دیا۔''بالکل فضول، بکار، سُرگلے میں تڑپ رہے ہیں، گانے کو ترس گیا ہوں۔‘‘
''کیوں پنڈت جی؟‘‘۔''ارے فتح علی خان۔ کیا گائوں، کوئی طبلے پر سنگت کی حامی بھرے تو گائوں، گانا شروع کرتا ہوں تو طبلے والا، طبلے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ بس اپنی گائیکی جیسی لایا تھا۔ واپس کلکتے لے کر جا رہا ہوں...‘‘پنڈت جی یہ کہہ کر سونے چلے گئے۔ فتح علی خاں سوچ میں پڑ گئے کہ پنڈت کیا کہہ گیا۔ وہ اسی سوچ میں گم تھے کہ نصرت سکول سے واپس آ گیا۔ فتح علی خان نے بیٹے کو دیکھا۔ بالکل اس طرح جیسے ایک مالی کیاری میں لگے پودے کو پروان چڑھتے دیکھتا ہے۔ چند لمحے اسے غور سے دیکھتے رہے۔ فتح علی خان کو پتہ تھا کہ نصرت ہار مونیم کے ساتھ ساتھ طبلے پر بھی ریاضت کرتا ہے۔ اسے قریب بٹھایا اور کہنے لگے۔ ''پنڈت دینا ناتھ کہتے ہیں کوئی طبلے والا ان کے ساتھ سنگت نہیں کر سکتا۔‘‘نصرت نے جواب دیا۔''آپ کی اجازت ہو تو میں حاضر ہوں۔‘‘
فتح علی خان کا سینہ خوشی سے پھول گیا۔ بیٹے کو دو چار گُر کی باتیں بتائیں۔ نصرت نے مشق کرکے انہیں ذہن نشین کر لیا۔ شام کو پنڈت جی سے گانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے کہا،'' مگر طبلے پر سنگت کون کرے گا‘‘ ۔فتح علی خان نے نصرت کی طرف اشارہ کیا۔ پنڈت ہنس کر کہنے لگے۔''ارے، موٹو نصرت۔‘‘۔''ہاں، ہے موٹو مگر ذہن بہت باریک ہے‘‘۔باپ نے جواب دیا۔
پنڈت نے یہ سوچ کر گانا شروع کر دیا کہ فتح علی خان کا بیٹا ہے ہاتھ چلا ہی لے گا۔ مچھلی کا بچہ پانی سے تھوڑا بہت تو واقف ہوتا ہی ہے۔ گانا شروع ہوا تو پنڈت کو محسوس ہوا کہ وہ سخت الجھن میں ہے۔ نصرت نے سوچا پہلی بار باپ نے میدان میں چھوڑا ہے ناکام ہواتو ساری عمر اعتماد قائم نہیں کر سکے گا۔ نصرت کی انگلیاں بجلی کی طرح طبلے کے پڑوں پر تھرک رہی تھیں وہ پنڈت کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ میدان میں تمہارے مد مقابل عظیم فتح علی خان کا بیٹا ہے، سنبھل کے بول پکڑنا۔ اور پنڈت گانا روک کر حیرت بھری نظروں سے نصرت کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے نصرت کو گلے لگایا، چوما، داد دی اور فتح علی خان سے کہنے لگا:
'' میں ہارا فتح علی خان۔ تیرا یہ چھوٹا سا بیٹا بڑا گُنی ہے‘‘مستقبل کے بڑے فنکار نصرت کی یہ پہلی کامیابی اور جیت تھی۔
مقبول قوالیاں و گیت
٭... اللہ ھو
٭... وہی خدا ہے
٭...میری زندگی ہے تو،
٭... کسی دا یار نا وچھڑے،
٭...تم اک گورکھ دھندا ہو،
٭... یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے،
نصرت کی گائی ہوئی غزلیں
٭...نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے(قمر جلالوی)
٭...میرے رشک قمر(فنا بلند شہری)
٭...سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا(صبا اکبرآبادی)
٭...ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے(فنا بلند شہری)
٭...ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو(فنا نظامی کانپوری)
٭...آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں(فنا بلند شہری)
٭...آج کوئی بات ہو گئی(پرنم الہ آبادی)
٭...سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا
٭...ان کی طرف سے ترک ملاقات ہو گئی(قمر جلالوی)
٭...شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں(بشیر فاروقی)
٭...پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے
٭...مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے
٭...میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیں
انعامات اور لقب
٭...1987ء میں انھیں صدر پاکستان کی طرف سے ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کا ایوارڈ ملا۔
٭...1995ء میں انھیں یونیسکو میوزک پرائز ملا۔
٭... 1996ء میں انہیں '' فوکوکا ایشین کلچر پرائز‘‘ سے نوازا گیا۔
٭...جاپان میں انھیں بڈائی یا ''سنگنگ بدھا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔
٭...1997ء میں دو گریمی ایوارڈز لوک البم اور ورلڈ میوزک البم کیلئے نامزد ہوئے۔
٭... 1998ء میں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
٭...2001ء تک ان کے پاس ''سب سے زیادہ قوالی ریکارڈنگز‘‘کا گنیز ورلڈ ریکارڈ تھا۔
٭...2005ء میں بعد از مرگ ''یو کے ایشین میوزک ایوارڈز‘‘ میں ''لیجنڈزایوارڈ‘‘ ملا۔
٭...6 نومبر 2006ء کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے شمارہ''ایشیائی ہیروز کے 60 سال‘‘میں انھیں 60 سالوں میں سرفہرست 12 فنکاروں میں درج کیاگیا۔
٭... 2010ء میں این پی آر کی 50 عظیم آوازوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔
٭...2010ء: سی این این کی 50 سال کے 20 نامور موسیقاروں کی فہرست میں شامل ہوئے۔
٭...اپنے والد کی برسی کے موقع پر کلاسیکی موسیقی پیش کرنے کے بعد استاد کا خطاب دیا گیا۔