آج کا دن
اسپیشل فیچر
میکسیکو کی تحریکِ آزادی
16 ستمبر 1810ء کو میکسیکو کی آزادی کی وہ تحریک شروع ہوئی جس نے بالآخر میکسیکو کو سپین کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزاد کرایا۔ اس دن کی صبح پادری میگوئل ایدالگو و کوستیّا نے شہر دولوریس میں چرچ کے لوگوں کو جمع کیا اور سپین کے خلاف بغاوت کی اپیل کی۔ ان کی اس تاریخی پکار کو گریتو دے دولوریس یعنی دولوریس کی پکار کہا جاتا ہے۔ اس اعلان نے مقامی باشندوں، خصوصاً مقامی اور مخلوط نسل کی آبادی میں آزادی کے لیے ایک بڑی تحریک پیدا کی۔ باغی فوج تیزی سے بڑی ہوتی گئی اور چند ہی ہفتوں میں اس نے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ ایدالگو کو 1811ء میں گرفتار کرکے قتل کر دیا گیا لیکن آزادی کی جنگ جاری رہی۔ تقریباً گیارہ سال کی جدوجہد کے بعد 1821ء میں میکسیکو نے سپین سے آزادی حاصل کی۔
می فلاور کا امریکہ کا سفر
16 ستمبر 1620ء کو مشہور بحری جہاز می فلاور انگلینڈ کے شہر پلائموتھ سے شمالی امریکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس جہاز پر تقریباً 102 مسافر سوار تھے۔ ان لوگوں کا مقصد امریکہ میں نئی زندگی شروع کرنا تھا۔ می فلاور اس سے پہلے ایک دوسرے جہاز سپیڈ ویل کے ساتھ سفر شروع کر چکا تھا لیکن سپیڈ ویل میں خرابی پیدا ہونے کے باعث اسے واپس آنا پڑا۔ آخرکار می فلاور اکیلا ہی امریکہ روانہ ہوا۔ تقریباً 66 دن کے سفر کے بعد مسافر شمالی امریکہ کے علاقے کیپ کاڈ پہنچے۔ می فلاور کا سفر امریکی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے شمالی امریکہ میں انگریزی آبادکاری کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوا۔ اسی سفر کے دوران می فلاور معاہدہ بھی وجود میں آیا جسے بعد کی جمہوری سیاسی روایت کے اہم ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جنرل موٹرز کا قیام
16 ستمبر 1908ء کو امریکہ میں جنرل موٹرز کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کمپنی کے قیام میں کاروباری شخصیت ولیم سی ڈیورنٹ کا بنیادی کردار تھا۔ اس وقت امریکہ میں گاڑیوں کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی تھی لیکن بہت سی چھوٹی چھوٹی کار ساز کمپنیاں الگ الگ کام کر رہی تھیں۔ ڈیورنٹ کا خیال تھا کہ مختلف کار ساز کمپنیوں کو ایک بڑے کاروباری گروپ کے تحت اکٹھا کیا جائے تو زیادہ مضبوط اور کامیاب کمپنی بنائی جا سکتی ہے؛ چنانچہ انہوں نے جنرل موٹرز کو ایک ایسی مرکزی کمپنی کے طور پر قائم کیا جو مختلف گاڑی ساز اداروں کو اپنے تحت شامل کر سکے۔ جنرل موٹرز نے امریکی گاڑیوں کی صنعت کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور کئی دہائیوں تک دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیوں میں شامل رہی۔
پاپوا نیو گنی کی آزادی
16 ستمبر 1975ء کو پاپوا نیو گنی نے آسٹریلیا سے آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ملک بن گیا۔ اس سے پہلے پاپوا نیو گنی کے مختلف علاقے آسٹریلوی انتظام کے تحت رہے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہاں سیاسی اور انتظامی خودمختاری کی طرف پیش رفت شروع ہوئی۔ 1970ء کی دہائی میں مقامی سیاسی قیادت نے مکمل آزادی کی طرف قدم بڑھائے۔ سر مائیکل سومارے اس عمل کی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے اور انہیں پاپوا نیو گنی کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آزادی کے موقع پر آسٹریلوی پرچم اتارا گیا اور پاپوا نیو گنی کا اپنا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اسی دن ملک نے باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست کی حیثیت اختیار کی۔
صابرا شتیلا قتل عام
16 ستمبر 1982ء کو بیروت کے فلسطینی مہاجر کیمپوں صبرا اور شتیلا میں تاریخ کا بدترین قتلِ عام ہوا۔ تین دن (16 تا 18 ستمبر) تک جاری رہنے والے اس ہولناک سانحے میں 3500 سے پانچ ہزار تک نہتے فلسطینی اور لبنانی شہری شہید کیے گئے اور گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ لبنان کی عیسائی ملیشیا نے ان کیمپوں میں گھس کر قتل عام کیا جبکہ اسرائیلی فوجی اِن کیمپوں کو گھیرے میں لیے رہے۔ صبرا و شاتیلا کا سانحہ آج بھی فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کی ایک دردناک علامت سمجھا جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قتلِ عام کو نسل کشی کا واقعہ قرار دیا تھا۔