آج کا دن
اسپیشل فیچر
وسطی امریکہ کی آزادی
15 ستمبر 1821ء کو گواٹے مالا سٹی میں سپین کی نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کا اعلان کیا گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے آغاز میں لاطینی امریکہ میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ 15 ستمبر کو گواٹے مالا میں سیاسی، مذہبی اور انتظامی شخصیات کا اجلاس ہوا اور آزادی کے اعلان پر اتفاق کیا گیا۔آج بھی 15 ستمبر گواٹے مالا، ایل سلواڈور، ہونڈوراس، نکاراگوا اور کوسٹا ریکا میں آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس طرح 1821ء کا یہ واقعہ نہ صرف سپین کی نوآبادیاتی سلطنت کے خاتمے کا ایک اہم مرحلہ تھا بلکہ وسطی امریکہ کی جدید سیاسی شناخت کی بنیاد بھی بنا۔
ٹینک میدانِ جنگ میں
15 ستمبر 1916ء کو پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ نے ٹینک میدان جنگ میں پہلی بارا ستعمال کئے۔ یہ واقعہ فرانس میں بیٹل آف فلیرز-کورسلیٹ کے دوران پیش آیا جو سومی کی بڑی جنگ کا حصہ تھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں مغربی محاذ پر خندقوں کی جنگ نے فوجی کمانڈروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ دونوں جانب فوجیں خندقوں میں رہتی تھیں جبکہ درمیان میں کھلی زمین، خاردار تاریں، مشین گنیں اور توپ خانے موجود ہوتے۔ پیدل فوج کے لیے دشمن کی دفاعی لائن عبور کرنا انتہائی مشکل اور جان لیوا تھا۔ اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے برطانیہ میں ایک بکتر بند، زنجیری پہیوں پر چلنے والی گاڑی تیار کی گئی جسے بعد میں ٹینک کہا گیا۔
پنسلین کی دریافت
سکاٹش سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ نے 15 ستمبر 1928ء کو پینسلین کی دریافت کی جو طب کی دنیا میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ فلیمنگ نے دیکھا کہ ایک خاص قسم کی پھپھوندی کے اردگرد موجود بیکٹیریا ختم ہو رہے تھے۔پنسلین نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوا کی مدد سے نمونیا، خون کے انفیکشن اور کئی خطرناک بیکٹیریائی بیماریوں کا علاج ممکن ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران پنسلین نے زخمی فوجیوں کے علاج میں بہت مدد کی۔الیگزینڈر فلیمنگ کی دریافت نے جدید طب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور ان کی عظیم خدمت کی وجہ سے انہیں 1945ء میں نوبیل انعام دیا گیا۔
بیٹل آف برٹن ڈے
15 ستمبر 1940ء دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان جاری بیٹل آف برٹن کا ایک فیصلہ کن دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن جرمن فضائیہ نے لندن پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جبکہ برطانوی فضائیہ نے بھرپور مزاحمت کی۔ اس دن لندن پر دن کے وقت دو بڑے فضائی حملے ہوئے ۔ جرمن قیادت یہ سمجھ رہی تھی کہ برطانوی فضائیہ شدید دباؤ میں ہے اور اس کی جنگی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن 15 ستمبر کی مزاحمت نے اس اندازے کو غلط ثابت کیا۔ اس کے بعد جرمنی نے دن کے وقت بڑے پیمانے کی فضائی کارروائیوں میں تبدیلیاں شروع کیں اور برطانیہ پر حملے کی حکمت عملی تبدیل ہوئی۔یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی مزاحمت اور جرمنی کی جنگی حکمت عملی پر ایک اہم اثر ڈالنے والا دن ثابت ہوا۔
خروشیف کا دورۂ امریکہ
15 ستمبر 1959ء کو سوویت یونین کے رہنما نکیتا خروشیف امریکہ پہنچے۔ وہ امریکہ کا دورہ کرنے والے پہلے سوویت سربراہِ حکومت تھے۔ 1950ء کی دہائی میں سرد جنگ کے باعث دنیا ایٹمی جنگ کے خدشے سے دوچار تھی، ایسے ماحول میں دونوں سپر پاورز کے سربراہوں کی براہِ راست ملاقات غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔اگرچہ اس دورے کے بعد بھی امریکہ روس اختلافات ختم نہیں ہوئے لیکن اس ملاقات نے یہ ثابت کیا کہ شدید نظریاتی اور فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں سپر پاورز کے رہنما براہِ راست مذاکرات کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 ستمبر 1959ء کو ہونے والا یہ دورہ سرد جنگ کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔