2050 تک خوراک کی قیمتیں غریبوں کی آمدنی کا نصف نگل سکتی ہیں
اسپیشل فیچر
دنیا میں آبادی بڑھنے، قدرتی وسائل پر دباؤ میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ خوراک کا حصول آنے والے برسوں میں کروڑوں لوگوں کے لیے مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق خبردار کرتی ہے کہ 2050ء تک دنیا کے غریب ترین افراد میں سے لاکھوں لوگوں کو اپنی آمدنی کا تقریباً نصف صرف خوراک خریدنے پر خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ صورتحال صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، رہائش، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے لوگوں کے پاس بہت کم رقم باقی بچے گی۔یہ تحقیق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے وابستہ جینیفر مورس اور ان کے ساتھی محققین نے کی ہے، جس کے نتائج تحقیقی جریدے Earth's Futureمیں شائع ہوئے ہیں۔
محققین نے مستقبل کی صرف ایک ممکنہ تصویر پیش کرنے کے بجائے تقریباً چار ہزار مختلف ممکنہ حالات کا کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیےGlobal Change Analysis Model یعنی GCAM استعمال کیا گیا جو توانائی، پانی، زمین، معیشت، آبادی اور ماحولیاتی نظاموں کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتا ہے۔اس ماڈل نے دنیا کو 32 جغرافیائی خطوں میں تقسیم کیا جبکہ ہر خطے کی آبادی کو آمدنی کے لحاظ سے مزید 10 گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس طرح محققین یہ دیکھنے میں کامیاب ہوئے کہ وسائل کی کمی یا قیمتوں میں اضافہ مختلف آمدنی والے لوگوں کو کس طرح مختلف انداز میں متاثر کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق مستقبل میں خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان سب کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
افریقہ اور جنوبی ایشیا پر زیادہ دباؤ کا خدشہ
تحقیق کے درمیانی یا median نتائج کے مطابق افریقہ کے کئی حصوں اور جنوبی ایشیا میں خوراک کے مسائل نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی، مشرقی اور جنوبی افریقہ کے غریب ترین 10 فیصد لوگوں کے لیے 2050 ء تک خوراک پر آمدنی کا تقریباً نصف خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قیمتوں میں اضافہ بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی سب سے بڑا خرچ ہوتی ہے۔اس تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مستقبل کا بحران صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں ہوگا۔ پانی اور توانائی بھی کئی علاقوں میں بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں آبادی میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی کا زیادہ استعمال پانی کی قلت کو بڑھا سکتا ہے۔
دوسری طرف مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ میں گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بعض علاقوں کا فوسل فیولز پر انحصار توانائی کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔یوں ایک غریب خاندان کو بیک وقت تین سمتوں سے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے: خوراک مہنگی ہو، پانی محدود ہو اور بجلی یا توانائی بھی مہنگی ہو جائے۔ اگر آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو خاندان کو بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کیلئے اس وارننگ کا مطلب؟
پاکستان کے لیے اس تحقیق کے نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا بنیادی کردار ہے اور گندم، چاول، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر زرعی اجناس نہ صرف ملکی خوراک کا حصہ ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار سے بھی منسلک ہیں۔اگر مستقبل میں پانی کی دستیابی کم ہوتی ہے، زرعی زمین پر دباؤ بڑھتا ہے یا موسم زیادہ غیر یقینی ہوتا ہے تو اس کے اثرات پیداوار اور خوراک کی قیمتوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندان سب سے پہلے متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی بڑا حصہ رکھتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال کا ایک اہم حل صرف زیادہ فصل پیدا کرنا نہیں بلکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار، جدید آبپاشی، بہتر بیج، فصلوں کے ضیاع میں کمی، ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات اور پانی کے مؤثر استعمال کی طرف تیزی سے بڑھنا ہے۔ اسی طرح ایسی زرعی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کسان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دیں۔
مستقبل کی پیش گوئی، انتباہ
محققین نے واضح کیا ہے کہ ان کا ماڈل یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ 2050ء میں لازماً یہی صورتحال پیدا ہوگی۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مستقبل میں آمدنی، آبادی، زمین کا استعمال، توانائی کا نظام، پانی کی دستیابی، صارفین کے رویے اور موسمیاتی پالیسی سب مل کر لوگوں کی زندگی پر اثر ڈالیں گے۔یہ تحقیق حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم انتباہ بھی ہے۔ اگر مستقبل میں خوراک کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے تو صرف خوراک کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید، پانی کے پائیدار استعمال، توانائی کے سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع اور زمین کے دانش مندانہ استعمال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک کتنی پیدا ہوگی بلکہ یہ بھی ہے کہ کون اسے خریدنے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔ اگر کروڑوں افراد اپنی آمدنی کا نصف یا اس سے زیادہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہو گئے تو خوراک کی دستیابی کے باوجود عالمی سطح پر ایک سنگین معاشی اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اسی لیے یہ تحقیق مستقبل کی ایک یقینی تصویر سے زیادہ ایک بروقت تنبیہ ہے کہ آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کی خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کا تعین کریں گے۔