فائر فائٹر روبوٹ
اسپیشل فیچر
آگ کے شعلوں میں دو منٹ تک ڈٹا رہنے والا
ٹیکنالوجی کی دنیا میں روبوٹس کو مسلسل ایسے کاموں کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک حیرت انگیز مثال چین میں سامنے آئی ہے، جہاں ''تیان لانگ‘‘ (Tianlang) نامی چار ٹانگوں والے روبوٹ نے کھلی آگ اور شدید گرمی کے سامنے ایک خصوصی آزمائشی مشق کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ''تیان لانگ‘‘ کا مطلب ''آسمانی بھیڑیا‘‘ یا ''اسکائی وولف‘‘ ہے۔ اس روبوٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایسے ماحول میں بھی کام کر سکے جہاں انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں۔
آزمائشی مشق کے دوران تیان لانگ نے حرارت برداشت کرنے والا خصوصی حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اسے کھلی آگ اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کروایا گیا اور روبوٹ نے 500 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 932 ڈگری فارن ہائیٹ تک کی گرمی میں تقریباً دو منٹ تک اپنی فعالیت برقرار رکھی۔ عام انسان کیلئے ایسا ماحول چند لمحوں میں ہی ناقابل برداشت اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس روبوٹ نے انتہائی بلند درجہ حرارت میں ثابت قدم رہ کر یہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روبوٹک ٹیکنالوجی فائر فائٹنگ جیسے خطرناک شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ روبوٹ ''ووبا انٹیلی جنٹ‘‘ (Wuba Intelligent)نامی چینی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد محض ایک ایسا روبوٹ بنانا نہیں جو آگ برداشت کر سکے بلکہ اسے مستقبل میں فائر فائٹرز کیلئے ایک ابتدائی امدادی اور نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق جب کسی عمارت، فیکٹری، گودام یا دوسرے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھے تو فائر فائٹرز کو فوری طور پر اندر داخل کرنے کے بجائے پہلے تیان لانگ جیسے روبوٹ کو آگ کے علاقے میں بھیجا جا سکے گا۔
آگ لگنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ صرف شعلے اور بلند درجہ حرارت نہیں ہوتے بلکہ عمارت کے اندر موجود مختلف خطرناک گیسیں بھی انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔
تیان لانگ کے ممکنہ فرائض میں آگ کے شعلوں کا مقام معلوم کرنا، نقصان دہ گیسوں کا سراغ لگانا اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش شامل ہیں۔ اگر کسی عمارت میں لوگ آگ کے باعث مختلف کمروں یا منزلوں میں پھنس جائیں تو روبوٹ وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح امدادی کارکنوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ عمارت کے اندر کہاں خطرہ زیادہ ہے، آگ کس سمت میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کہاں موجود ہیں۔
چار ٹانگوں والا ڈیزائن بھی اس روبوٹ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ پہیوں والے روبوٹس کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے روبوٹس دشوار گزار اور غیر ہموار سطحوں پر نسبتاً بہتر انداز میں حرکت کر سکتے ہیں۔ آگ سے متاثرہ عمارتوں میں فرش پر ملبہ، ٹوٹی ہوئی اشیا، سیڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کا متوازن انداز میں چلنا امدادی کارروائیوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں ایسے روبوٹس کی تیاری پر توجہ بڑھ رہی ہے جو انسانوں کی جگہ خطرناک مقامات پر بھیجے جا سکیں۔ فیکٹریوں میں کیمیائی حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج، آتش زدگی، قدرتی آفات اور منہدم عمارتوں میں امدادی کارروائیاں ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹس انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی روبوٹ کو صرف بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بنانا کافی نہیں، اسے مشکل ماحول میں درست فیصلے کرنے، راستہ تلاش کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور قابل اعتماد طریقے سے واپس آنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔
تیان لانگ کا حالیہ تجربہ اسی بڑے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں دو منٹ تک رہنے کا تجربہ اس امر کی جانچ بھی ہے کہ روبوٹ کا حفاظتی نظام شدید حرارت میں کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کو مزید جدید سینسرز، کیمروں اور مواصلاتی نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ فائر فائٹرز دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے آگ کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر سکیں۔
اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو انسانی جان کا تحفظ ہے۔ فائر فائٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی انہیں ایسے کاموں میں مدد فراہم کر سکتی ہے جن میں غیر ضروری طور پر انسانی زندگی داؤ پر لگتی ہے۔ اگر روبوٹ پہلے ہی خطرناک علاقے کا جائزہ لے لے تو امدادی ٹیم زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی شروع کر سکتی ہے۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ روبوٹ فی الحال مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں ہیں۔ ہنگامی حالات میں پیچیدہ فیصلے، متاثرین سے براہ راست رابطہ اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری حکمت عملی اب بھی تربیت یافتہ انسانی ماہرین کی ضرورت رکھتی ہے۔ روبوٹ بنیادی طور پر انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
چین کا تیان لانگ اس مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں فائر فائٹرز اکیلے آگ کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ ایسے روبوٹ بھی موجود ہوں گے جو شعلوں، دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے درمیان جا کر ضروری معلومات فراہم کریں گے۔ آج جو مشق ایک تجربہ معلوم ہوتی ہے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں آگ بجھانے اور انسانی جانیں بچانے کے طریقہ کار کو بدل دے۔