انسان پر جدید سائنسی تحقیقات…1

انسان پر جدید سائنسی تحقیقات…1

اسپیشل فیچر

تحریر : روبینہ نازلی


سائنس دان عرصہ دراز تک مادی جسم کو ہی ’’انسان‘‘ قرار دیتے رہے۔ وہ صدیوں سے یہی کہتے چلے آ رہے تھے کہ مادی جسم ہی آخری حقیقت ہے۔ لہٰذا برسوں جدید سائنسی تحقیقات کا مرکز مادی جسم ہی رہا اور سائنس دان برسوں مادی جسم پر تحقیق کر کے مادی جسم کے راز افشاں کرتے رہے جس کے نتیجے میں آج مادی جسم کا ہم کافی سائنسی علم رکھتے ہیں۔ جب کہ انسان کے باطنی پہلو کو جانتے ہی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دان برسوں مادی جسم کو آخری حقیقت قرار دے کر انسان کے باطنی پہلو کو جھٹلاتے رہے اور انسان کی روح کو غیر مرئی اور غیر تجرباتی کہہ کر رد کرتے رہے۔ اور برسوں بعد بلآخر سائنس دانوں نے ہی انسان کے باطنی رُخ کا تجرباتی ثبوت فراہم کیا اور آج انسان پر سب سے زیادہ تحقیقی، سائنسی اور تجرباتی کام اسی باطنی رُخ پر ہو رہا ہے۔ اور یہ کام ڈاکٹر اور سائنس دان کر رہے ہیں (وہم پرست یا مذہبی روحانی شخصیات نہیں جیسا کہ تصور کیا جاتا ہے) اگرچہ روحانی علوم یا ماورائی علوم مشرق سے منسوب ہیں اور انسان کے باطنی‘ روحانی تشخص کی زیادہ تر معلومات بھی ہمیں یہیں سے میسر آتی ہیں لیکن جدید سائنسی تحقیقات کا مرکز مغرب ہی رہا ہے۔ لہٰذا اسی حوالے سے! یورپ میں کاپر نیکی (1535) وہ پہلا مفکر تھا جس نے انسان کو روحانی حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کی۔ گلیلیو (1562-1642)، نیوٹن (1642-1727) ، ڈارون (1882-1809) اور کیپلر نے بھی اس موضوع پر بحث کی۔ سر ولیم کرُکس وہ پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے مادی دنیا پر روحانی اثرات کا سائنسی مطالعہ و تجزیہ کیا۔ ان کی کتاب (Research in the Phenomena of Spiritualism -1874) نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ سر اولیور لاج کی کتاب (Raymond - 1861) بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ان دونوں سائنس دانوں کی تحقیق اور تجربات پر اس مسلک کی بنیاد پڑی جسے ماڈرن اسپریچولزم کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جو آج کل مغرب کی دنیا میں بڑے وسیع پیمانے پر زیر مشق ہے۔ طبعیات کے معروف سائنس دان سراولیور لاج کا کہنا تھا کہ جس طرح سائنسی طور پر تسلیم شدہ قوتیں مثلاً مقناطیسی کشش یا الیکٹرک سٹی خفیہ انداز میں کام کرتی ہیں مگر سب انہیں تسلیم کرتے ہیں اور ان کے وجود پہ ایمان رکھتے ہیں اسی طرح اس کائنات میں بہت سی قوتیں ایسی بھی ہیں جو انتہائی پوشیدگی سے اپنا کام سرانجام دے رہی ہیں۔ مگر بظاہر ان کے وجود کا سراغ نہیں ملتا محض اسی وجہ سے ان کا انکار کرنا نادانی ہوگی۔ لاج کا خیال تھا کہ اس موضوع پر ٹھوس تحقیقات کا آغاز ہونا چاہیے۔ اُس نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ سائنس اور روحانیت ابھی تک پوری طرح تعصب سے آزاد ہو سکی ہیں، میرے خیال میں ان دونوں کے درمیان ایک خفیہ ربط موجود ہے۔ لاج نے یقین ظاہر کیا کہ ایسا وقت ضرور آئے گا جب خالص سائنسی انداز میں اس پہلو پر تحقیق کی جائے گی اور اس بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے گا۔ اور وہ وقت آ گیا درحقیقت انگلینڈ کے اعلیٰ ترین اعزاز نائٹ ہڈ (Knight Hood) سے نوازے گئے معروف طبعیات دان لاج نے خود خالص سائنسی انداز میں انسان کی روحانی خصوصیات پر تحقیق کا آغاز کر دیا تھا۔ اگرچہ ان کے ساتھی سائنس دان سائنس کے بجائے انہیں روحانی چکروں میں پڑا دیکھ کر خبطی سمجھنے لگے تھے۔ جب کہ ایک اہم سائنس دان کی روحیت کی طرف بھرپور پیش قدمی کے نتائج سامنے آنے لگے اور سائنسی انداز میں اس موضوع پر تحقیق اور تجربات کا آغاز ہوا۔ لہٰذا سراولیور لاج سوسائٹی فار سائیکیک ریسرچ ان انگلینڈ Society for Psychic Research in England کے بانی ممبران میں سے سر اولیور لاج کے ہم خیال کئی اہم نام اُبھرے مثلاً ڈبلیو ایچ مائرز (Fredrick W.H. Myers) نے اس کام کو مزید آگے بڑھایا۔ مائرز نے اپنی کتاب (Human Personality and its Survival of Bodily Death) میں سینکڑوں واقعات کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جسمانی موت کے بعد انسان کی شخصیت کا وہ حصہ باقی رہتا ہے جسے ’ا سپرٹ‘ (Spirit) کہتے ہیں۔ اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔دو عالمگیر جنگوں کے بعد روحانیت پر ہزاروں کتابیں منظر عام پر آئیں اور یہ کتابیں لکھنے والے مذہبی انتہا پسند یا وہم پرست عوام نہیں بلکہ یہ سائنس دان، ڈاکٹر، فلسفی اور پروفیسرز تھے۔ لہذا ن معتبر لوگوں کی مسلسل توجہ، سائنسی تحقیق اور تجربوں سے اس علم نے عملی تجرباتی دنیا میں قدم رکھ دیا اور باقاعدہ لیبارٹریوں میں سائنسی بنیادوں پر تجربات ہونے لگے۔مادام بلاوٹسکی اور ایڈگر کیسی (ورجینیا 18 مارچ 1877) نے بھی روحانی صلاحیتوں کے عملی تجرباتی مظاہروں سے اُس وقت کے ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ جس مرض کے علاج میں میڈیکل ڈاکٹر ناکام رہ جاتے یہ روحانی معالج نہ صرف یہ کہ مرض دریافت کرتے بلکہ اس لاعلاج مریض کا علاج بھی کر ڈالتے۔ انہوں نے ماضی اور مستقبل کے واقعات کی نشاندہی بھی کی۔ خوابوں کے اثرات، رنگ و روشنی سے علاج اور مسمریزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اٹھارویں صدی کے آخر میں سائنس دانوں کو انسان کے اندر موجود مقناطیسیت سے متعارف کروایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دنیا کی سب سے لمبی چاکلیٹ ٹرین

دنیا کی سب سے لمبی چاکلیٹ ٹرین

55 میٹر کا لذیذ شاہکارمیٹھاس، فن اور تخلیقی مہارت جب یکجا ہو جائیں تو ایک عام سی چیز بھی شاہکار کا روپ دھار لیتی ہے۔ چاکلیٹ سے تیار کیے گئے مجسمے اسی تخلیقی امتزاج کی دلکش مثال ہیں، جو نہ صرف ذائقے کی دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں بلکہ فن مصوری اور مجسمہ سازی کو بھی ایک نئی جہت عطا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماہر شیفس اور چاکلیٹ آرٹسٹ محض چند بنیادی اجزاء کو استعمال کرتے ہوئے حیرت انگیز اشکال تخلیق کرتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔مالٹا کے مشہور چاکلیٹ ساز اینڈریو فیروگیا نے دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تیار کر کے اپنی تیسری گنیز ورلڈ ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مجسمہ 55.27 میٹر لمبی قدیم طرز کی ٹرین پر مشتمل ہے، جو ایک اولمپک سوئمنگ پول کی لمبائی سے بھی زیادہ اور 747 جمبو جیٹ کے پروں کے پھیلاؤ کے قریب ہے۔ یہ لذیذ تخلیق ایک انجن اور 22 بوگیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 160 کلوگرام تک ہے اور یہ مکمل طور پر چاکلیٹ سے تیار کی گئی ہیں۔اینڈریو فیروگیا نہ صرف ایک باصلاحیت چاکلیٹ آرٹسٹ ہیں جن کا کیریئر عمر بھر کی کلنری(culinary) خدمات پر محیط ہے، بلکہ وہ مالٹا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اسٹڈیز (ITS) میں کْلنری آرٹس اور چاکلیٹ میکنگ کے سینئر لیکچرر بھی ہیں۔ ITS ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو مہمان نوازی، کْلنری آرٹس اور سیاحت کے شعبوں پر توجہ دیتا ہے۔ اینڈریو 2026ء تک تقریباً 29 برس سے اس ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اینڈریو نے کہاکہ اس ریکارڈ کے ذریعے میں اپنے ادارے، اپنے ملک اور اپنے خاندان کیلئے ایک یادگار ورثہ چھوڑنا چاہتا تھا۔یہ شاندار چاکلیٹ شاہکار اٹلی کے شہر میلان میں پیش کیا گیا، جو خوراک اور خوبصورتی کا حقیقی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ اینڈریو نے فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم گزشتہ ایک دہائی کے دوران گنیز ورلڈ ریکارڈ کے دو اعزازات پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں۔ 2012ء میں، اینڈریو نے برسلز میں 34.05 میٹر طویل چاکلیٹ سے تیار کی گئی ماڈل ٹرین بنائی، جسے اس وقت دنیا کا سب سے طویل چاکلیٹ مجسمہ تسلیم کیا گیا۔دو سال بعد، انہوں نے شاندار مہارت کے ساتھ دبئی کے برج خلیفہ جو دنیا کی سب سے بلند عمارت ہے کا چاکلیٹ مجسمہ تیار کیا۔ یہ مجسمہ 13.52 میٹر بلند تھا اور اس وقت دنیا کا سب سے بلند چاکلیٹ مجسمہ بن گیا۔ بعد ازاں یہ مجسمہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں نصب کیا گیا۔اینڈریو نے بتایا کہ ایسا چاکلیٹ مجسمہ تیار کرنا ایک طویل اور محنت طلب عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم تقریباً ایک سال اس کی تیاری میں صرف کرتے ہیں۔ تاہم، اصل تیاری میں چار ماہ لگے، جس دوران تفصیلی منصوبہ بندی اور ماڈلنگ کی گئی، اور یہ محنت بالآخر رنگ لے آئی۔اگست سے اینڈریو نے ہر ٹرین کے جزو کے مٹی کے ماڈلز تیار کرنا شروع کیے، جو بعد میں بڑی مقدار میں چاکلیٹ کے ٹکڑوں میں تبدیل ہوئے۔ تقریباً اکتوبر کے مہینے میں، اینڈریو نے بتایا کہ وہ ٹرین کے اصل بنیاد پر کام شروع کر چکے ہیں، اور ہر بوگی کو برگامو میں بڑے چاکلیٹ کے سلیبس سے بنایا گیا۔ آخر میں، تمام ٹکڑے چاکلیٹ بنانے والی ایک بڑی ٹیم کے ذریعے اکٹھے کیے گئے۔اینڈریو نے کہاکہ اگر میں حساب لگاؤں تو تقریباً 5ہزار ٹکڑے تھے، سب ہاتھ سے کاٹے گئے، اور صرف بوگیوں کیلئے تقریباً 180 پہیے استعمال ہوئے۔اس ریکارڈ شکن لمبائی کی وجہ سے ٹرین کو حرکت دینا بھی مشکل تھا۔ اینڈریو کے مطابق، پورے عمل میں سب سے مشکل مرحلہ اس کا نقل و حمل تھا۔یہ شاہکار نہ صرف چاکلیٹ سازی کی مہارت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخیل اور محنت کی شاندار مثال بھی پیش کرتا ہے۔ نفیس کاریگری سے تیار کی گئی اس دیوقامت ٹرین میں انجن سے لے کر بوگیوں تک ہر جزئیات کو حقیقت کے قریب تر انداز میں ڈھالا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ تخلیق ثابت کرتی ہے کہ فن جب ذوق اور جدت سے ہم آہنگ ہو جائے تو عام چیز بھی عالمی اعزاز حاصل کر سکتی ہے۔

رمضان کے پکوان:میٹھے سموسے

رمضان کے پکوان:میٹھے سموسے

اجزا:میدہ آدھاکلو ،گھی دو چائے کے چمچ ،زیرہ ایک چائے کا چمچ ،ایک نمک چٹکی ترکیب: میدہ میں تمام اشیاء ملاکر پانی سے سخت گوندھ لیں اور ایک گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ بھرائی کے لیے : کھویا ایک پائو ، چینی آدھا کپ ، اخروٹ دوکھانے کے چمچ پسا ہوا ، سوجی ایک چائے کا چمچ ، کشمش حسب ضرورت ، پستہ دو بڑے چمچ (باریک پسا ہوا)، ان تمام اشیاء کو آپس میں مکس کرلیں۔ ترکیب : میدہ کے چھوٹے سائز کے پیڑے بنا کر باریک چپاتی بیل لیں۔ اب اس میں کھویا ڈال کر چپاتی کو موڑ کر ڈی کی شکل کے سموسے بنالیں اور تیز گرم گھی میں فرائی کریں۔ رمضان کے مہینے میں نمکین چیزیں کھانے کے بعد میٹھے سموسے مہمانوں کیلئے یقینا لطف کا باعث بنیں گے۔ بادام کا ملک شیک: غذائیت کا خزانہبادام کا ملک شیک تیار کرنے کے لیے 10 سے 12 باداموں کو رات بھر پانی میں بھگو دیں، پھر انہیں چھیل کر ایک کپ دودھ، ایک چمچ شہداور الائچی کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب پروٹین، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کو طویل وقت تک توانائی فراہم کرتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نپولین کی فرانس واپسییکم مارچ 1815ء کو یورپ کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب فرانس کا سابق شہنشاہ نپولین بوناپارٹ جلاوطنی ختم کر کے جزیرہ ایلبا سے فرانس واپس لوٹا۔ انہیں 1814ء میں اتحادی افواج کی فتح کے بعد اقتدار سے دستبردار کر کے ایلبا بھیج دیا گیا تھا۔واپسی پر عوام اور فوج کے ایک بڑے حصے نے ان کا استقبال کیا اور وہ دوبارہ اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔چائنہ کی '' یونیورسل پوسٹل یونین میں شمولیتیکم مارچ 1914ء کو چائنہ نے ''یو نیورسل پوسٹل یونین‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ ''یونیورسل پوسٹل یونین‘‘ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو دنیا بھر کے ممالک کے درمیان ڈاک کے نظام کو منظم اور مربوط بنانے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔چارلی چیپلن کی نعش چوری 1978 ء میں مشہور مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن کی نعش سوئٹزر لینڈ میں موجود ایک قبرستان سے چرا لی گئی۔ ان کی نعش کو ایک گروہ نے تاوان کیلئے چرایا تھا ۔کچھ ہفتے بعد چارلی چیپلن کی نعش جنیوا جھیل کی تہہ سے ملی اور اسے دوبارہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔چارلی چپلن کا انتقال 25 دسمبر 1977ء کو ہوا تھا۔دُنیا کا پہلا نیشنل پارک1872ء میں دنیا کے پہلے نیشنل پارک کا افتتاح کیا گیا۔ اس پارک کا نام ''ییلو سٹون‘‘ تھا۔ اس کا رقبہ 9ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یہ رقبے میں اتنا بڑا ہے کہ اس میں دنیا کے نصف گرم پانی کے چشموں کی تعداد بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس پارک میں 290سے زیادہ آبشاریں ہیں۔یہاں مچھلیوں، پرندوں ، ممالیہ اور رینگنے والے جانوروں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔بوسنیا کا اعلان آزادی1992ء میں بوسنیا نے آج کے دن آزادی کا اعلان کیا اور اور یکم مارچ کو بوسنیا میں یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔بوسنیا یورپ میں موجود وہ ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ یہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ بوسنیا کی تین اطراف سے کروشیا کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ بوسنیا کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ '' صفر امتیازی دن‘‘''صفر امتیازی دن‘‘ (Zero Discrimination Day) ہر سال یکم مارچ کو اقوام متحدہ (UN) اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک میں قانون حکمرانی اور برابری کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن سب سے پہلے یکم مارچ 2014ء کو منایا گیا تھا۔در اصل اس دن کا آغاز ''یو این ایڈز‘‘ کی طر ف سے ایچ آئی وی /ایڈزکے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

لاہور اپنی تاریخی مساجد، باغات اور مغلیہ طرزِ تعمیر کے دیگرحوالوں کے باعث برصغیر کا اہم ثقافتی مرکز رہا ہے۔ انہی تاریخی یادگاروں میں مسجد دائی انگہ ایک ایسی عمارت ہے جو اپنی دلکش ساخت، تاریخی اہمیت اور تزئینی حسن کے باوجود نسبتاً کم معروف ہے۔ یہ مسجد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مغلیہ عہد کی فنکارانہ روایت کا ایک قیمتی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔تاریخی پس منظراس مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل دور کے عروج کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کا سال 1635ء بتایا جاتا ہے جبکہ بعض کتبوں کے مطابق اس کی تکمیل 1649ء کے قریب ہوئی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ (رضاعی ماں) دائی انگہ نے تعمیر کروائی جن کا اصل نام زیب النساتھا‘ جن کا اپنا مقبرہ یو ای ٹی لاہور کے پاس واقع ہے اور گلابی چوکی کے نام سے بھی معروف ہے ۔دائی انگہ مغل دربار کی بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس مسجد کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور میں خواتین بھی مذہبی اور فلاحی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔محلِ وقوع اور شہری اہمیتیہ مسجد لاہور کے تاریخی علاقے نولکھا کے قریب، لاہور ریلوے سٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ مغل اشرافیہ اور درباری شخصیات کی رہائش گاہوں کے لیے مشہور تھا۔ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ نے اس علاقے کی ساخت کو بدل دیا مگر مسجد آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔شہر کے مصروف تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ مسجد ایک تاریخی سکون اور روحانیت کا احساس دیتی ہے، جو ماضی اور حال کے امتزاج کی خوبصورت مثال ہے۔مسجد دائی انگہ نے اپنی طویل تاریخ میں کئی ادوار دیکھے۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں اس مسجد کو بارود کے گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد برطانوی دور میں اس عمارت کی مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے رہائش گاہ اور بعد ازاں ریلوے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس بحالی نے اس تاریخی عمارت کو اپنی اصل مذہبی شناخت واپس دلائی۔مغلیہ فن کا خوبصورت نمونہمسجد دائی انگہ کا بنیادی منصوبہ مغلیہ مساجد کے روایتی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مرکزی گنبد بلند جبکہ اطراف کے گنبد نسبتاً چھوٹے ہیں جو توازن اور جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں۔یہ ترتیب مغلیہ طرزِ تعمیر میں روحانی مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مرکزی گنبد عبادت کے مقام کو نمایاں کرتا ہے۔مسجد کے سامنے ایک کشادہ صحن موجود تھا، جو اجتماعی عبادت اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ صحن میں وضو کے لیے حوض کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کو مکمل مذہبی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔کاشی کاری اور تزئینی حسنمسجد دائی انگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاندار کاشی کاری ہے۔ بیرونی دیواروں پر نیلے، زرد اور نارنجی رنگوں کی ٹائلوں کا استعمال مغلیہ فنِ تعمیر کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔پیش طاق (بلند مرکزی محرابی دروازہ) اور دیواروں پر کی گئی ٹائل موزیک آرائش اسے لاہور کی دیگر مغلیہ عمارتوں سے جوڑتی ہے۔ یہ آرائش فارسی اور مقامی فنون کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ابتدائی دور میں مسجد کے اندرونی حصے میں خوبصورت فریسکو (دیواروں پر رنگین نقاشی) موجود تھی۔ وقت گزرنے، موسمی اثرات اور مرمت کے مختلف مراحل کے باعث اصل فریسکو کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور بعد میں کچھ جگہوں پر ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔اندرونی محرابیں گہری اور نفیس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ دیواروں پر خطاطی کے آثار بھی ملتے ہیں، جو مغلیہ دور کی مذہبی آرائش کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔مینار اور بیرونی خدوخالمسجد کے اگلے حصے کے دونوں کونوں پر چھوٹے مگر خوبصورت مینار قائم ہیں جن کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور اوپر چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ خصوصیت مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔بیرونی سطح پر ٹائل ورک، محرابی دروازے اور متوازن ساخت اس مسجد کو فنِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت اہم بناتے ہیں۔یہ مسجد ایک محفوظ تاریخی ورثہ سمجھی جاتی ہے مگر شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی اثرات اور غیر پیشہ ورانہ مرمت نے اس کے اصل حسن کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس مسجد کی اصل کاشی کاری اور فریسکو آرائش کی سائنسی بنیادوں پر بحالی نہایت ضروری ہے۔مسجد دائی انگہ لاہور کی ان تاریخی یادگاروں میں شامل ہے جو اپنی خاموش عظمت میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ ایک بااثر مغلیہ خاتون کی سرپرستی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد فنِ تعمیر، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔اگر اس تاریخی مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور مستند طرز پر بحالی کی جائے تو یہ نہ صرف سیاحتی بلکہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی لاہور کے اہم تاریخی مقامات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یوں مسجد دائی انگہ محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ماضی کی شان و شوکت، فن اور مذہبی روایت کی ایک زندہ داستان ہے۔

نظر کمزوری کا مسئلہ

نظر کمزوری کا مسئلہ

ایک عام عادت کا نتیجہ ہو سکتا ہےدنیا بھر میں نظر کی کمزوری، خصوصاً مایوپیا (قریب کی چیزیں صاف اور دور کی دھندلی نظر آنا)، تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ چشم اسے صحت کا عالمی بحران قرار دے رہے ہیں۔ سائنسی جریدوں اور ویب سائٹس مثلاً ScienceAlert پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق اس اضافے کی ایک ممکنہ وجہ ہماری روزمرہ کی ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی عادت ہے: طویل عرصے تک اندرونی ماحول میں قریب کی چیزوں پر نظر جمائے رکھنا، خاص طور پر کم روشنی میں۔روایتی طور پر مایوپیا کاذمہ دار سکرین ٹائم کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کو اس مسئلے کا مرکزی سبب سمجھا گیا تاہم تازہ تحقیق ایک اہم نکتہ سامنے لاتی ہے کہ مسئلہ صرف سکرین نہیں بلکہ قریب کا کام ہے ، یعنی کتاب پڑھنا، کاپی پر لکھنا یا موبائل استعمال کرنا ، سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ سرگرمیاں طویل وقت تک اور کم روشنی میں کی جائیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق جب ہم کسی قریبی شے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو آنکھ کے عضلات سکڑتے ہیں تاکہ فوکس برقرار رہے۔ اسی دوران پتلی (pupil) بھی سکڑتی ہے تاکہ تصویر واضح ہو۔ اگر کمرے کی روشنی کم ہو تو ریٹینا تک پہنچنے والی روشنی کی مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق مسلسل کم روشنی میں نزدیک دیکھنے سے آنکھ کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو مایوپیا کے امکانات بڑھا دیں۔یہ نظریہ اس بات سے بھی تقویت پاتا ہے کہ جو بچے زیادہ وقت باہر کھیلتے ہیں ان میں مایوپیا کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی ہے۔ بیرونی ماحول میں قدرتی روشنی زیادہ ہوتی ہے اور آنکھوں کو دور کی اشیا پر فوکس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دن کی روشنی ریٹینا کو زیادہ متحرک رکھتی ہے جس سے آنکھ کی نشوونما متوازن رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔عالمی سطح پر اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق 2050ء تک دنیا کی تقریباً نصف آبادی مایوپیا کا شکار ہو سکتی ہے اور نوجوانوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تعلیمی دباؤ، مقابلے کا رجحان اور ڈیجیٹل آلات کا بڑھتا استعمال سب اس رجحان میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ شہری زندگی میں بچوں کا زیادہ وقت گھروں اور کلاس رومز میں گزرنا بھی ایک اہم عامل سمجھا جا رہا ہے۔تاہم ضروری ہے کہ اس تحقیق کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ سائنس میں کسی ایک مطالعے سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا۔ جینیاتی عوامل، خاندانی تاریخ، تعلیمی ماحول اور طرزِ زندگی سب مایوپیا کے خطرے کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ تحقیق ایک مفروضہ پیش کرتی ہے جسے مزید تجربات اور بڑے پیمانے کے مطالعوں کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دانشمندی ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کے لیے۔ چند عملی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں: مطالعہ اور سکرین کا استعمال مناسب اور روشن ماحول میں کیا جائے۔ ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی شے کو دیکھنے کی عادت اپنائی جائے (20-20-20 اصول)۔ روزانہ کم از کم ایک سے دو گھنٹے باہر کھیلنے یا چہل قدمی کا اہتمام کیا جائے۔ کم روشنی میں موبائل یا کتاب کا طویل استعمال ترک کیا جائے۔ باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے۔ مایوپیا کا بڑھتا ہوا رجحان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے اثرات ہماری آنکھوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر ہم روشنی، وقت اور فاصلہ کے تین اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو شاید اس خاموش وبا کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔ سائنس ابھی حتمی جواب کی تلاش میں ہے، مگر احتیاط اور اعتدال ہمیشہ بہترین حکمتِ عملی رہتے ہیں۔

رمضان کے مشروب وپکوان: بینز برگر

رمضان کے مشروب وپکوان: بینز برگر

اجزاء :سرخ لوبیہ دوکپ (ابال لیں )،آلو آدھا کلو (ابال لیں )،مشروم ایک کپ (باریک کاٹ لیں )،ادرک، لہسن باریک کٹے ہوئے ،مونگ پھلی آدھا کپ بھنی ہوئی(کوٹ لیں )،نمک حسب ذائقہ ،کالی مرچ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی ،ہرادھنیا آدھی گڈی ،شملہ مرچ دوعدد باریک کٹی ہوئی، سفید زیرہ ایک چائے کا چمچ ،ہری پیاز آدھا پائو باریک کٹی ہوئی ،بریڈ کرمز دوکپ ،لیموں کا رس تین بڑے چائے کے چمچ ،سویا سا تین بڑے چائے کے چمچ، انڈے دوعدد ، کوکنگ آئل دوبڑے چائے کے چمچ ،ترکیب : ایک چھوٹے فرائنگ پین میں کوکنگ آئل دو بڑے چمچ ڈال کر اس میں باریک کٹے ہوئے مشروم ڈال کر فرائی کریں۔ اب اس میں ادرک ، لہسن باریک کٹاہوا، ہری پیاز اور شملہ مرچ باریک کٹی ہوئی ڈال کر تھوڑی دیر فرائی کریں ساتھ ہی لیموں کا رس یا سویا ساس بھی ملالیں 5منٹ فرائی کریں فرائی ہرے مصالحے کو پلیٹ میں نکال لیں۔ ابالے ہوئے آلو اور ابالے ہوئے سرخ لوبیہ باریک میش کرلیں اس میں نمک، کالی مرچ، (پسی ہوئی ) سفید زیرہ ، مونگ پھلی (پسی ہوئی )اور ہرادھنیا باریک کٹا ہوا ملالیں اب اس میں فرائی ہرامصالحہ ڈال کر اتنا ملائیں کہ تمام چیزیں یکجان ہوجائے۔ اس کے گول یا چپٹے یا حسب پسند کباب بنالیں۔ انڈے پھینٹ لیں کباب کو انڈے میں ڈبو کر اور بریڈ کرمز میں رول کرلیں۔کوکنگ آئل کر سب اینڈڈرائی گرم کرلیں اس میں بینز برگرکباب ہلکی آنچ پر ڈیپ فرائی کریں جب گولڈن برائون ہوجائیں تو نکال کر ٹشو پیپر پر رکھ دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے سلاد اور کیچپ کے ساتھ ساتھ گرم گرم پیش کریں۔