پی آئی اے کے ملازمین کو برخاست نہیں کریں گے، کارکردگی پر فیصلہ ہوگا: عارف حبیب

کراچی:(دنیا نیوز) معروف بزنس مین عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو برخاست نہیں کریں گے، کارکردگی پر فیصلہ ہوگا۔

شہر قائد میں ہونے والی اہم بیٹھک میں پی آئی اے کےمستقبل پرگفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی کامیاب بولی کا سہرا صرف حکومتی اصلاحات کو جاتا ہے ، شرح سود میں کمی، روپے کی قدرمیں بہتری، پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پی آئی اےنجکاری کو آسان بناگئی۔

اُنہوں نے کہا کہ فوجی فرٹیلائزر سے پارٹنرشپ ناصرف کنسورشیم کو بلکہ پی آئی اے کو بھی مضبوط بنادے گی ،ایویشن انڈسٹری کے بعد میری ٹائم سیکٹر میں کنسورشیم نے سرمایہ کاری کا پلان بنایا ہے ، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پہلی بولی کی ناکامی مینجمنِٹ کی غفلت کا نتیجہ تھی ۔

معروف بزنس کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے75 فیصد شیئرز میں سے25فیصد شیئرز فوجی فرٹیلائزر کے ہوں گے، کنسورشیم میں مزید ایک نئے پارٹنر کی گنجائش موجود ہے، پی آئی اے کو 70 ارب روپے سےباآسانی چلایا جاسکتا تھا مگراس کے باوجود کنسورشیم نے125ارب روپے دیے۔

عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کو موصول 125 ارب روپے سے نئے انجن، واجبات اور آپریشنل اخراجات ادا ہوں گے ، ابتدا میں 70 ارب روپے خسارے سے چلایا جائےگا، ایک سال بعد کمپنی منافع کمائے گی جب کہ قومی ایئر لائنز کا نیا سی ای او مقامی ہوگا جب کہ موجودہ کو مشاورتی ٹیم میں شامل کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی آئی اےملازمین کو نوکریوں سےبرخاست نہیں کیا جارہا ایک سال بعد کارکردگی پر فیصلہ ہوگا، پی آئی اے کے 32 جہازوں میں سے 17 جہاز آپریشنل ہیں باقی جہازوں کو فورا ٹھیک کیا جائے گا، پی آئی اے فلائٹ آپریشن 38 جہازوں پر مشتمل ہوگا، مزید انٹرنیشنل روٹس کھولے جائیں گے۔

معروف بزنس میں نے کہا کہ پی آئی آے بزنس پلان میں کارگو فلائٹس کا خصوصی منصوبہ شامل کیا گیا ہے ، 2016 سے پی آئی اے بورڈ ممبر کی حیثیت سے حکومت کو قومی ایئرلائن کی بہتری کیلئےکئی تجاویز دیں، پی آئی اے سے ایئر کراچی کا آپریشن متاثر نہیں ہوگا، ایئر کراچی پہلے 3 جہازوں سے شروع ہو گی۔

عارف حبیب نے مزید کہا کہ حکومت نے پاکستان سٹیل مل کو فروخت کرنے کی ڈیل ختم کرکے نقصان اٹھایا ،ملک کے دیگر سرکاری اداروں کےخسارےوہاں موجود افسران کے ذاتی مفادات کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں