نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا: میاں عامر محمود
اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا۔
پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ انہوں نے کاروباری برادری کے رہنماؤں کی گفتگو بڑی توجہ سے سنی ہے، ان کے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوام اور بزنس کمیونٹی کے قریب نہیں، اگر حکمران لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سنیں اور انہیں سمجھیں تو ان کے حل بھی زیادہ مؤثر انداز میں نکال سکتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تقریب میں موجود ہیں، انہوں نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بھرپور محنت کی اور صوبے کو بہترین انداز میں چلایا، آج وہ وفاق میں اس سے بھی زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب جیسے وسیع صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنا، ہر مسئلے کو خود دیکھنا اور ہر شہری تک رسائی حاصل کرنا ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے لیے ممکن نہیں، اسی احساس نے انہیں اس تجویز پر کام کرنے پر مجبور کیا۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان 1947 سے آج تک صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے جبکہ آبادی تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس دوران غیر ترقیاتی اخراجات تقریباً 6 ہزار 800 ارب روپے تک پہنچ گئے مگر اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ 1951 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً دو کروڑ، سندھ کی 60 لاکھ، خیبرپختونخوا کی 58 لاکھ اور بلوچستان کی صرف 11 لاکھ تھی، آج ان تمام صوبوں کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے لیکن انتظامی نظام تقریباً وہی ہے۔
.jpg)
میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی آبادی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے مگر اس کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قائم نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صوبائی حدود تبدیل نہیں کی جا سکتیں، پاکستان بننے کے بعد متعدد بار صوبائی سرحدوں میں تبدیلیاں کی گئیں، ریاست بہاولپور کو پنجاب، سابق ریاست خیرپور کو سندھ، جبکہ ریاست سوات، دیر، چترال اور امب کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا گیا، اسی طرح بلوچستان میں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران کو شامل کیا گیا، اس لیے ہر صوبے کی حدود میں ماضی میں تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ حکومتوں نے وقت کے ساتھ ڈویژنز اور اضلاع کی تعداد ضرور بڑھائی لیکن اس سے گورننس میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کی امید کی جا رہی تھی، دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ایک صوبے کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے جبکہ صرف پنجاب کی آبادی ہی 13 کروڑ کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں چین، بھارت، امریکہ اور میکسیکو میں انتظامی یونٹس کی اوسط آبادی کہیں کم ہے، اس سے واضح ہے کہ دنیا انتظامی اعتبار سے آگے بڑھ چکی ہے لیکن ہم اب بھی پرانے ڈھانچے کے ساتھ چل رہے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، جب بچوں کو مناسب خوراک نہیں ملے گی تو نہ ان کی جسمانی نشوونما مکمل ہوگی اور نہ ہی ذہنی استعداد بہتر ہو سکے گی، اس کا براہِ راست اثر مستقبل کی افرادی قوت اور قومی معیشت پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ عالمی بینک کے معیار کے مطابق یہ شرح تقریباً 48 فیصد بنتی ہے۔
.jpg)
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) انڈیکس میں پاکستان 169 ممالک میں 131 ویں اور ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 193 ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے، جبکہ گلوبل ہنگر انڈیکس سمیت متعدد عالمی اشاریوں میں بھی پاکستان نچلے درجوں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی اصلاحات کی جائیں، حکومت کو عوام اور کاروباری برادری کے قریب لایا جائے اور آبادی کے مطابق نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیئے جائیں تو نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ یہ تجویز کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے بہتر مستقبل، مضبوط حکمرانی اور مؤثر ریاستی نظام کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک قومی سروے جو ایک غیر سرکاری تنظیم نے یونیسیف کے اشتراک سے کیا اور جسے حکومت پاکستان نے بھی تسلیم کیا، اس کے مطابق تیسری جماعت کے صرف 7 فیصد بچے دوسری جماعت کی کتاب روانی سے پڑھ سکتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد بچے دو ہندسوں کے اعداد جمع کر سکتے ہیں، پانچویں جماعت کے صرف 51.4 فیصد بچے تیسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بزنس کمیونٹی کو پارلیمان میں موثر نمائندگی دی جائے: ایس ایم تنویر
میاں عامر محمود نے کہا کہ صوبائی سطح پر شرح خواندگی پنجاب میں تقریباً 66 فیصد، سندھ میں 57 فیصد، خیبرپختونخوا میں 51 فیصد اور بلوچستان میں صرف 42 فیصد ہے، بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کے قریب واقع اضلاع کے سرکاری سکول نسبتاً بہتر حالت میں ہیں جبکہ دور دراز اضلاع میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے گردونواح، راولپنڈی، جہلم اور چکوال کے سکول نسبتاً بہتر ہیں جبکہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان جیسے اضلاع میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، یہی رجحان چاروں صوبوں میں نظر آتا ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں، پاکستان صحت پر تقریباً 0.8 فیصد جی ڈی پی خرچ کرتا ہے، آج بھی دنیا میں صرف دو ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، ان میں ایک پاکستان اور دوسرا افغانستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف 29 فیصد بچوں تک حفاظتی ٹیکوں کی سہولت پہنچتی ہے، سندھ میں 49 فیصد، خیبرپختونخوا میں 55 فیصد جبکہ پنجاب میں تقریباً 80 فیصد بچوں تک ویکسینیشن پہنچ پاتی ہے، اس کے علاوہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بھی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی
میاں عامر محمود نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے مؤثر نظام انصاف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اگر انصاف میں تاخیر ہوگی تو اس کے منفی اثرات معیشت، سرمایہ کاری اور کاروبار پر بھی مرتب ہوں گے، مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد اس مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 80 برسوں میں پاکستان نے اپنے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی نہیں کی، جبکہ دنیا مسلسل آگے بڑھتی رہی، امریکہ نے 13 ریاستوں سے آغاز کیا اور آج وہاں 50 ریاستیں ہیں، بھارت نے بھی آزادی کے بعد کئی مرتبہ اپنے صوبوں کی تنظیم نو کی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئی ریاستیں قائم کیں، جس کے مثبت نتائج اس کی ترقی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کے حوالے سے سرائیکی صوبہ، بہاولپور صوبہ، ہزارہ صوبہ، پوٹھوہار صوبہ، فاٹا صوبہ، کراچی صوبہ اور پشتون صوبے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ہماری تجویز ان تمام مطالبات سے مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لسانی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ صرف انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بات کر رہے ہیں، ہماری تجویز ہے کہ ہر ڈویژن کو ایک انتظامی صوبے کی شکل دی جائے تاکہ حکومت عوام کے زیادہ قریب آئے اور خدمات کی فراہمی بہتر ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی پالیسیوں سے کاروباری برادری کو ریلیف ملا:عاطف اکرام شیخ
میاں عامر محمود نے کہا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے سے حکومتی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا لیکن ہماری تحقیق اس کے برعکس نتائج ظاہر کرتی ہے، اگر موجودہ افرادی قوت اور تنخواہوں کے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے یہ اصلاحات کی جائیں تو نہ صرف بہتر گورننس حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ سالانہ تقریباً 350 ارب روپے کی بچت بھی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اصلاحی نظام کے ذریعے عوام کو بہتر تعلیم، معیاری صحت، مضبوط انفراسٹرکچر، تیز رفتار انصاف اور زیادہ مؤثر انتظامیہ فراہم کی جا سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments