جدید دور میں عید کارڈ کی خوبصورت روایت قصہ پارینہ بن گئی

لاہور: (عثمان فیاض) ماضی میں عیدالفطر کی خوشیوں میں ہاتھ سے لکھے گئے دلکش اور دل کوچھو جانے والی شاعری سے مزین عید کارڈز کا اپنا ایک خاص مقام ہوتا تھا لیکن موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی آمد نے اس روایت کو تقریباً ختم کر دیا۔

ایک وقت تھا جب رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے بازاروں میں عید کارڈز کے سٹالز سج جاتے تھے، کئی تاجر صرف اسی سیزن کیلئے عارضی دکانیں کھولتے، گلی محلوں میں بھی چارپائیوں پر کارڈز سجا کر فروخت کئے جاتے۔

جیسے جیسے عید قریب آتی سٹالز پر رش بڑھتا اور لوگ اپنے عزیز و اقارب کیلئے خوبصورت کارڈز منتخب کرتے۔

اس دور میں محکمہ ڈاک بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، ڈاک خانوں پر عید کارڈزکی بکنگ عید سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بند کر دی جاتی تھی، لوگ لمبی قطاروں میں لگ کر کارڈز اپنے پیاروں کو بھیجتے تاکہ عید کی خوشیاں بروقت پہنچ سکیں۔

عیدکارڈ موصول ہونے پر لوگوں کی خوشی دوبالا ہو جاتی تھی اور وہ اسے یادگارکے طور پر سنبھال کر بھی رکھتے تھے۔

کارڈز پر اسلامی اور تاریخی مناظر کے ساتھ دلکش ڈیزائن اور فلمی ستاروں کی تصاویر بھی ہوتی تھیں جبکہ سادہ مگر دل کو چھو لینے والے اشعار پیغام کو مزید خوبصورت بناتے تھے۔

وقت کے ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ نے اس روایت کو مٹایا، اب واٹس ایپ، ایس ایم ایس، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عید کی مبارکباد چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے، مگر عید کارڈز کے وہ دن آج بھی ایک یادگار اور خوشگوار ماضی کی طرح دلوں میں محفوظ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں