عباس عراقچی کا مصری اور ترک وزرائے خارجہ سے رابطہ، جنگ بندی پر تبادلہ خیال
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران جنگ بندی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق اس ٹیلیفونک رابطے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی نے سفارتی امور، امریکہ اسرائیل جنگ میں جنگ بندی اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور انھیں بھی جنگ بندی سے متعلق تازہ پیش رفت اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔
ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں کئی ہفتوں تک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں خلیج فارس میں امریکی و اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور 40 دنوں کے دوران 100 جوابی کارروائیوں میں بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے، ایرانی میڈیا
آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی،ان مذاکرات کے دوران ایران نے دس نکاتی تجویز پیش کی جس میں امریکی افواج کے انخلا اور پابندیوں کے خاتمے کو شامل کیا گیا تھا۔
11 اور 12 اپریل کو 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے،جہاں ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات کی بحالی امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ساتھ کل پاکستان پہنچے تھے، سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں اور اس کے بعد مسقط روانہ ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مسقط سے واپسی پر دوبارہ اسلام آباد متوقع ہے۔