یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے، منعم ظفر

کراچی: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے۔

منعم ظفر کا کہنا ہے کہ 2016 سے شروع ہونے والی فیزیبلٹی پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں لیکن منصوبہ اب تک نامکمل ہے، منصوبہ 2023میں مکمل ہونا تھا، 2026 کی نئی ڈیڈ لائن بھی مشکوک ہے، کراچی کی سڑکیں اور ادارے بدانتظامی کی نذر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر تعلیمی و تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہیں، ریڈ لائن منصوبے کے باعث اب تک چار مزدور جان کی بازی ہار چکے ہیں، شارع فیصل کے بعد اہم ترین شاہراہ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ ابہوں نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی روڈ کو فوری طور پر اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی کے ساتھ کے فور منصوبے کی آگمنٹیشن بھی مکمل نہ ہو سکی ہے، وڈیرہ شاہی کے ذریعے عوام کو غلام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کراچی میں اب اس طرز حکمرانی مزید نہیں چلے گی جبکہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

منعم ظفر نے کہا کہ کراچی کے مسائل کی جڑ کرپشن اور بدانتظامی ہے، عوام کو ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑا کریں گے۔

انہوں نے حکومت سے سخت سوال کرتے ہوئے کہا کہ شہر سے کچرا کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟، ریڈ لائن منصوبے کی موجودہ لاگت کیا ہے، کوئی جواب دینے والا نہیں، اس منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ کیا ہوگی؟۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے، شہر میں حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں، اپریل 2026 میں کریم آباد انڈر پاس کی صرف ’’سوفٹ اوپننگ‘‘ کی گئی ہے، کیا کریم آباد انڈر پاس کی افتتاحی تقریب بھی گھر بیٹھے کی جائے گی؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام خود دیکھ سکتی ہے کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے، ہمارا وژن تعمیر و ترقی اور مزاحمت ہے، یہی ہمارا ایجنڈا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں