وادی کیلاش: موت پر خوشی کا جشن منانے کی منفرد روایت قائم

چترال: (ویب ڈیسک) چترال کے شمالی علاقے میں واقع وادی کیلاش اپنی منفرد ثقافت اور روایات کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں موت کو غم کے بجائے خوشی کا موقع سمجھا جاتا ہے۔

کیلاش برادری کے مطابق مرنے والا شخص زندگی کی تمام تکالیف سے نجات پا کر ایک نئی دنیا کی طرف سفر کرتا ہے، اسی لیے اسے خوشی کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے، اس روایت کو ’چیک تہوار‘ یا جشن کا نام دیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کیلاش وادی کے لوگ موت کو اپنے آباؤ اجداد سے دوبارہ ملنے کا ایک خوشگوار مرحلہ تصور کرتے ہیں، اسی سوچ کے تحت کسی فرد کے انتقال پر تین روز تک سوگ کے بجائے رقص، موسیقی اور ڈھول کی تھاپ پر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

روایات کے مطابق میت کو کمیونٹی ہال، جسے مقامی زبان میں “جستا خان” کہا جاتا ہے، میں رکھا جاتا ہے جہاں لوگ روایتی رقص “پَلائے” پیش کرتے ہیں، اس دوران کمیونٹی اور اہل خانہ مل کر 30 سے 40 بکریاں قربان کرتے ہیں، جسے “شروگا” یعنی اجتماعی ضیافت کہا جاتا ہے، اس عمل سے غمزدہ خاندان کی مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔

اگرچہ اس موقع پر قریبی عزیز غم کا اظہار بھی کرتے ہیں، تاہم مجموعی ماحول جشن کا ہوتا ہے، جسے ماہرین غم اور خوشی کا منفرد امتزاج قرار دیتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس (2022 تا 2025) کے مطابق ماضی میں میتوں کو لکڑی کے کھلے تابوت میں رکھا جاتا تھا، تاہم آبادی میں اضافے اور قریبی مسلم آبادیوں کے اثرات کے باعث اب تدفین کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

تدفین کے دوران میت کے ساتھ ذاتی اشیاء جیسے پھل، رقم یا دیگر سامان رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی زندگی کی عکاسی ہو سکے، جبکہ بعض مواقع پر لکڑی کا مجسمہ “گنڈاؤ” بھی رکھا جاتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہ روایت بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں