میانمار میں 11 ہزار قیراط کا دیوہیکل یاقوت دریافت

ینگون: (ویب ڈیسک) میانمار میں کان کنوں نے ایک انتہائی نایاب اور بڑا یاقوت دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کا دوسرا بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔

اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ دریافت اپریل کے وسط میں روایتی نئے سال کے تہوار کے فوراً بعد منڈالے کے شمالی علاقے موگوک میں ہوئی جو قیمتی پتھروں کی صنعت کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

اس یاقوت کا وزن 11 ہزار قیراط یعنی تقریباً 2.2 کلوگرام ہے اور اسے اپنی رنگت اور معیار کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پتھر 1996 میں ملنے والے 21,450 قیراط کے یاقوت سے وزن میں آدھا ہے، لیکن اپنی خاص رنگت کی وجہ سے اس کی قدر زیادہ ہو سکتی ہے، اس کا رنگ اور معیار اسے زیادہ قیمتی بناتے ہیں۔

ماہرین نے اسے جامنی مائل سرخ رنگ کا قرار دیا ہے جس میں زرد رنگ کی جھلک بھی نمایاں ہے، اس کے علاوہ اس کی سطح انتہائی چمکدار ہے اور رنگ کا معیار بھی بہت بلند درجے کا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار دنیا کے تقریباً 90 فیصد یاقوت پیدا کرتا ہے اور یہاں قیمتی پتھروں کی تجارت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے گلوبل وٹنس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ میانمار سے قیمتی پتھر نہ خریدے جائیں کیونکہ یہ صنعت طویل عرصے سے ملک کی فوجی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں