سیلنگ میں پاکستان کی دو خواتین نے نئی تاریخ رقم کردی
لاہور: (ویب ڈیسک) سیلنگ میں پاکستان کی دو خواتین نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار انٹرنیشنل سیلنگ جج بننے کے لیے پہلا مرحلہ مکمل کرلیا۔
زویا اسد علی اور مہناز جمیل نے تھائی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ سیلینگ کے انٹرنیشنل سیمنار میں شرکت کی اور سیمنار کے بعد دونوں پاکستانی سیلرز امتحان میں عمدہ نمبرز سے پاس ہوئیں۔
پاکستان کی پہلی بار خواتین نے ججز کا کورس مکمل کیا ہے اور ان دونوں خواتین سیلرز کا تعلق پاکستان ائیر فورس کے یاٹ کلب سے ہے۔
پاکستان کی دونوں خواتین سیلرز کو 4 سال کے اندر تین انٹرنیشنل ایونٹ میں شرکت کرنا ہوگی اور انٹرنیشنل ریس میں ان کی کارکردگی دیکھنے کے بعد انہیں انٹرنیشنل سیلینگ جج کا درجہ مل جائے گا۔
اس سے قبل سیلنگ میں پاکستان کے تین سیلرز انٹرنیشنل ججز رہ چکے ہیں 80 کی دہائی میں کیپٹن ذکا اللہ چوہدری مرحوم اور ایڈمرل ریٹائیرڈ خالد محمود اختر انٹرنیشنل سیلینگ کے ججز رہے۔
1996 میں کیپٹن ارشد نے کوالیفائی کرکے انٹرنیشنل جج کا سرٹیفیکٹ حاصل کیا اور اب وہ انٹرنیشنل ریس آفیسر ہیں، زویا اسد علی انٹرنیشنل ریس آفیسر کیپٹن ارشد کی نواسی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان سب کو معرکہ حق کی تقریب میں بلایا گیا کوئی نہیں آیا، ان کا نام نہیں لینا چاہتا جنہیں بلایا گیا۔