لاہور: چائے کا انوکھا ہوٹل جہاں صرف اشارے بولتے ہیں
لاہور : (ویب ڈیسک) چائے کا انوکھا ہوٹل، جہاں آواز نہیں، اشارے بولتے ہیں، عابد مارکیٹ کی تاریخی دکان میں ہر اتوار کو خاموش محفل سجتی ہے۔
لاہور کی تاریخی عابد مارکیٹ میں ایک ایسی منفرد چائے کا ہوٹل موجود ہے جسے لوگ ”گُونگا چائے والا“ کے نام سے جانتے ہیں، یہاں مالک سے لے کر ملازمین تک سب گونگے اور بہرے ہیں۔
یہ دکان پاکستان بننے سے بھی پہلے قائم ہوئی تھی اور آج بھی سماعت و گویائی سے محروم افراد کی ایک اہم بیٹھک سمجھی جاتی ہے۔
اس ہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں گونگے بہرے افراد بڑی تعداد میں آکر چائے پیتے، ایک دوسرے سے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے اور وقت گزارتے ہیں، یوں یہ جگہ ان افراد کے لیے ایک غیر رسمی ”کمیونٹی سینٹر“ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
ہوٹل پر آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے اتوار کے روز صبح 9 بجے اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آتے ہیں اور دوپہر تک محفل جمتی رہتی ہے، یہاں آکر دل بہل جاتا ہے کیونکہ گھر میں وقت اچھا نہیں گزرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والے بیشتر افراد سرکاری یا نجی ملازمتیں کرتے ہیں جبکہ کچھ اپنے کاروبار سے وابستہ ہیں، سب دوست ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں، اسی لیے اس جگہ پر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔
دکان کے مالک نے بتایا کہ یہ روایت کئی دہائیوں پرانی ہے اور لوگ دور دور سے صرف چائے پینے اور دوستوں سے ملنے آتے ہیں، ان کے بقول یہ چائے کا ہوٹل گونگے بہروں کی بیٹھک ہے، یہاں آکر سب اپنے دل کی بات اشاروں میں کرتے ہیں۔
ایک بزرگ شہری جو گزشتہ 40 برس سے اس دکان پر آرہے ہیں، نے پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کا ماحول زیادہ پُرسکون تھا لوگ سائیکلوں اور گھوڑا گاڑیوں پر سفر کرتے تھے، موبائل فون نہیں تھے اور بدامنی بھی کم تھی۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر گپ شپ کرنے سے وقت خوشگوار گزر جاتا ہے اور یہی اس جگہ کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔