لبنان پر حملے ناقابل قبول، اسرائیل کو امن معاہدے کا احترام کرنا ہوگا، وینس
واشگنٹن: (دنیا نیوز) امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، اسرائیل کو امن معاہدے کا احترام کرنا ہوگا۔
امریکی نائب صدر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت اور آئندہ مذاکراتی عمل سے متعلق متعدد اہم نکات پر روشنی ڈالی، انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد طے شدہ 60 روزہ مدت جمعرات سے باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کے گرد قائم بحری ناکہ بندی کے باوجود کم از کم 12 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی اور ایران کی جانب سے کسی بحری جہاز کو نشانہ بھی نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایک ہی رات میں تقریباً 1 کروڑ 25 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جسے انہوں نے عالمی توانائی کی ترسیل کے استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت ایک عبوری فریم ورک ہے، اہم اور پیچیدہ معاملات آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ اس عرصے کے دوران فریقین حتمی مذاکرات کریں گے جس کے بعد معاہدے کی شرائط طے کی جائیں گی۔
لبنان سے متعلق سوالات کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی کی ذمہ داری لبنانی حکومت سنبھالے اور وہاں ریاستی ادارے قانون نافذ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے لبنان سے متعلق نکات پر واشنگٹن کی توقع ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں گے۔
بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ اس مدت کے اختتام کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقہ کار کیا ہوگا، اس پر جے ڈی وینس نے جواب دیا کہ امریکا کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اس اہم آبی گزرگاہ کو بغیر کسی محصول یا رکاوٹ کے کھلا رہنا چاہیے۔
پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، یہ معاہدہ امریکا اور اسکی عوام کی فتح اور دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، اس پورے عمل کے دوران اگر ایران نے مثبت رویہ اپنائے رکھا تو اسے پابندیوں میں کمی سمیت مزید معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔