پاکستان کا کامیاب برآمدی شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے محروم: او آئی سی سی آئی
کراچی: (دنیا نیوز) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے آئی ٹی اور آئی سی ٹی سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا برآمدی شعبہ بیرونی سرمایہ کاری سے محروم ہے۔
او آئی سی سی آئی کے مطابق مالی سال 2021 میں پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات 2 ارب 10 کروڑ ڈالر تھیں، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 3 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی چار سال کے دوران برآمدات میں تقریباً دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چیمبر کے مطابق برآمدات میں نمایاں اضافے کے باوجود آئی سی ٹی سیکٹر غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام رہا اور اس شعبے میں صرف 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بجلی کے شعبے میں آیا، جہاں 79 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ مالیاتی شعبے میں 65 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، دوسری جانب مواصلاتی شعبے میں سرمایہ کاری کم ہو کر 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئی۔
او آئی سی سی آئی نے بتایا کہ مواصلاتی شعبے میں گزشتہ سال 37 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کا انخلا بھی دیکھنے میں آیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔
چیمبر نے زور دیا کہ آئی سی ٹی سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مستقل اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک ناگزیر ہو چکا ہے۔
او آئی سی سی آئی کے مطابق حکومت کو آئی سی ٹی سیکٹر کو سٹریٹیجک حیثیت دینا ہوگی تاکہ پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کر سکے اور عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔